بليو ويل گيم۔۔۔۔۔۔۔۔ ايك مرتى تہذيب

بليو ويل گيم۔۔۔۔۔۔۔۔ ايك مرتى تہذيب

عرفان شکور

بليو ويل كو ايك قاتل گيم كے طور پر جانا جارہا ہے جس نے 150 سے زائد بچوں كى جان لے لى ہے۔ ماہرين نفسيات اور ماہرين تعليم والدين كو بچوں كو اس سے بچانے كے مشورے دے رہے ہيں ليكن ايسا تو ہونا ہى تھا وہ مغرب جس نے ٹيكنالوجى ميں كائنات كى وسعتوں كو چھوُ ليا۔ ايٹم اور ڈى اين اے تك كو كھنگال ليا۔ ليكن انسان كى روح كو نہيں جان سكے۔ انسان كے احساسات‘ جذبات اور خيالات يعنى ما بعد الطبيعات كو بھى ايك مادہ كے طور پر ليا۔ جس كے نتيجے كے طور پر مغرب كا معاشرہ اندورنى توڑ پھوڑ كا شكارہے۔ سب سے زيادہ نفسياتى بيمارياں مغربى معاشرے ميں ہيں۔ دنيا بھر كے مذہبى مفكرين نے مغربى اندرونى زوال كى ايك عرصہ سے پيشن گوئى كى ہوئى ہے۔ بليو ويل بھى بيمار مغرب كا ايك ناسور ہے۔ بظاہر يہ ايك نفسياتى بيمارى ہے ليكن دراصل يہ مغرب كا ايك بہت بڑا الميہ ہے۔

تاريخى انسانى ميں كھيل فالتو وقت كو گزارنے اور ماہرين نفسيات كے مطابق خوشى كا ايك ذريعہ رہا ہے۔ طب كے ماہرين اسے ذہنى اور جسمانى نشوونما كے لئے ضرورى قرار ديتے رہے ہيں۔ دور حاضر ميں مغرب نے ٹيكنالوجى كے ذريعے ويڈيو گيمز كى بھرمار كردى اور ورچول رئيليٹى كے ذريعے اس ويڈيو گيمز كے كھيل كو بھى اس كى انتہاء تك پہنچا ديا۔

بليو ويل كھيل:

بليو ويل گيم دراصل ساحل سمندر پر آئى ہوئى ان ويل مچھليوں سے منسوب ہے جن كے بارے ميں ماہرين آبى حيات كا خيال ہے كہ وہ خود كشى كرتى ہيں۔اگرچہ مغرب ايسے فكرى اور معاشرتى افلاس كا شكار ہے كہ وہاں Suicide Groupsتك بنے ہوئے ہيں۔ ٹيكنالوجى كى اعلٰى كوالٹى كى چيزيں بنانے والے جاپان ميں خودكشى كى شرح دنيا ميں سب سے زيادہ ہے جہاں خودكشى كرنا باقاعدہ ايك آرٹ ہے اور اس كے لئے باقاعدہ Consultant Companiesہيں ليكن خودكشى كو بليو ويل نامى ايك كھيل كے طور پر متعارف كرانا يہ پہلا واقعہ ہے۔ يہ كھيل روس كے ايك طالب علم Philipp Budeikin نےشروع كيا۔ جس كے بارے اس كے سكول كے اساتذہ كا كہنا تھا كہ وہ نفسياتى مريض ہے۔

اس كھيل كا طريق كاردرج ذيل ہيں۔

1۔ بليو ويل دراصل ورچول رئيليٹى سے ايك قدم آگے بڑھ كر حقيقى زندگى ميں كھيلا جانے والا كھيل ہے۔

2۔ كسى سكول يا كالج ميں اساتذہ جيسے بچوں كو كوئى چيلنجنگ ايكٹيوٹى ديتے ہيں يا روايتى كھيلوں ميں بھى جيسے مخالف كھلاڑى ياٹيم كو چيلينج ديا جاتا ہے بليو ويل اسى طرح كا ايك چيلينجنگ كھيل ہے۔

3۔ اس كھيل ميں دراصل نفسياتى طور پر بليك ميل كركے زندگى ختم كرنے پر مجبور كيا جاتا ہے۔

4۔ يہ ايك ٹاسك اورينٹڈ كھيل ہے۔ جو كہ 50 حصوں يا راؤنڈز  پر مشتمل ہے۔

5۔ كھيل شروع ہونے سے پہلے كھيلنے والے كى سارى معلومات ايڈمن لے ليتا ہے۔

6۔ كھيل ميں ايك دفعہ حصہ لينے كے بعد كوئى چھوڑ نہيں سكتا۔

7۔ كھيل ميں حصہ لينے سے متعلق رازدارى ركھنے كا عہد ليا جاتا ہے۔

8۔ ہر حصے ميں ايك چيلنج ديا جاتا ہے۔ جوكہ بازو يا پاؤں پر بليڈ سے نام لكھنا يا ويل كى تصوير كھودنا۔ صبح 4:20 پر اٹھنا۔ رات ميں ڈراؤنى فلميں ديكھنا۔ كسى اونچى بلڈنگ كى چھت كے كنارے پر كھڑا ہونا۔ اونچى كرين سے لٹكنا وغيرہ

9۔ كھيل كا اختتام كھيلنے والے كى خودكشى پر ہوتا ہے۔انكار پر اس كے عزيزو اقارب كو نقصان پہنچانے كى دھمكى دى جاتى ہے۔

سوشل ميڈيا كے مختلف گروپس ميں اس كے سدباب كے لئے مختلف تجاويز دى جارہى ہيں۔ كہيں زندگى سے پيار ‘ امنگ اور مثبت سرگرميوں كى طرف توجہ دلائى جارہى ہے ليكن اصل مسئلہ خدا پر ايمان ہے۔خالق  كو ماننا ہى ايسى بيماريوں كا علاج ہے۔ ايمان بالغيب كى ضرورت ہے جسے روس زار نے بھى خدا كا انكار  كركے اپنى زندگى سے نكال ديا اور مغرب نے بھى مادہ پر ايمان لاكر اور خدا كو جھٹلا كر۔

ايسے ميں مسلمان والدين كو بھى اپنے بچوں كے ايمان كى فكر كرنى چاہيے۔  ايمان پر ان كى تربيت كريں۔ كوئى واضح  مقصد زندگى ناں ہونے كى وجہ سے مغربى معاشرے ميں ڈپريشن ’ ٹينشن  ’سٹريس’ ہم جنس پرستى  اور خود كشى جيسى نفسياتى بيمارياں بڑھ رہى ہيں۔ ايمان باللہ پر  قائم معاشرے ہى ايسى بيماريوں سے محفوظ رہ سكتے ہيں۔اللهمَّ إنِّي أعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.