راجناتھ سنگھ کے پانچ سی

راجناتھ سنگھ کے پانچ سی
ایس احمد پیرزادہ
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ چارروزہ دورہ ٔجموں وکشمیر کے تیسرے دن سرینگر میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ’’ مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد 5C پر مشتمل ہے۔ 5 سی کی نئی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہاکہCompassion (ہمدردی)، Communication (روابط)، Co-existence (بقائے باہم)،Confidence Bulding (اعتماد سازی) اورConsistency (استحکام)ایسے نکات ہیں جن میں مسئلہ کشمیر کا حل پنہاں ہے۔حال کے دنوں میں سرخیوں میں رہنے والا مسئلہ دفعہ35A؍ کے حوالے سے اُنہوں نے سرینگر کی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’مرکزی حکومت، کشمیری عوام کے جذبات کے برعکس کوئی بھی کام نہیں کرے گی، بلکہ اُن کے احساسات کو عزت وتوقیر دی جائے گی۔‘‘ جب کہ اس معاملے کے حوالے سے اگلے ہی دن جموں میں اخباری نمائندوں سے کہا ’’یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس معاملے پر مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، آگے جو ہوگا اس کی آپ کو جان کاری ملتی رہے گی۔‘‘یوں سرینگر کی پریس کانفرنس کے دوران الفاظ کے اُلٹ پھیر کچھ اس انداز سے کئے گئے کہ سننے والے سمجھ ہی نہیں پائے کہ مسٹر راجناتھ سنگھ 35A؍ کے معاملے میں کشمیر یوں کے عندیے کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت لیکن جموں کی پریس بریفنگ کے دوران اُنہوں نے بی جے پی کے ارادوں کو کھلے ڈھلے طریقے سے واضح کردیا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور عدالتی فیصلے سے ریاستی باشندوں کو آگاہ کیا جائے گا۔ دنیا جانتی ہے کہ 35A؍ کے معاملے کو کورٹ تک لے جانے اور اس کو ملکی سطح کا مسئلہ بنانے کے پورے پروسس میں جو طریقہ کار اپنایا گیا ،اُس میں مرکزی سرکار کا کس قدر اہم کردار رہا ہے، اب یہاں آکربھارتی وزیر داخلہ نے اگرچہ 35A ؍کے پورے مسئلے کو بڑی ہی مہارت کے ساتھ گول کرنے کی کوشش کی ، تاہم ریاست کی سرمائی اور گرمائی راج دھانیوں میں ایک ہی مسئلہ کو لے کر دو متضاد بیانات سے عوام پر واضح ہوگیا کہ دلی میں قائم بی جے پی سرکار کی دفعہ35A کے حوالے سے نیت صاف نہیں ہے۔
جہاں تک بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد5″C” پر مشتمل قرار دینے کی بات کا تعلق ہے، اس حوالے سے ہمدردی، روابط، بقائے باہم، اعتمادسازی اور استحکام کے جو نکات پیش کیے گئے ہیں وہ مسئلے کو سلجھانے کے بجائے کشمیری قوم کو اُلجھانے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دے رہاہے۔یو ٹیوب پر بھارتی وزیر اعظم کے سیکورٹی صلاح کار اجیت دول کی وہ تقریر ابھی بھی موجود ہے، جو انہوں نے کشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت سے نپٹنے کے سلسلے میں 2010 ء میں بنگلور میں کی تھی۔ اس تقریر میں اجیت دول نے اُس وقت کی حکومت ہندکو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری قوم، اُن کی قیادت اور پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ پالیسی اختیار کریں۔ اُن کی رائے میں کشمیری قوم کو اُن کی تحریک حق خود ارادیت کے تئیں اس قدر نااُمید کرنے کی ضرورت ہے کہ اُنہیں اپنی کامیابی کے دور دور تک آثار ہی نظر نہ آئیں، اُن کی جدوجہد میں اتنے کنفیوژن پیدا کئے جائیں کہ وہاں کسی کو یہ سمجھ ہی نہ آئے کہ وہ چاہتا کیا ہے۔ ہر ’’بیانیہ‘‘ہندوستان اور اُس کی ایجنسیاںگھڑا کرے گی اور کشمیریوں کو بحث و مباحثہ میں الجھایا جائے گا۔ اُنہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیںکشمیر مسئلہ کو انتظامی بدنظمی، نوکریوں کی عدم دستیابی، تعمیر و ترقی کا فقدان ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کی آنے والی نسلوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ جو سیاسی لڑائی گزشتہ کئی دہائیوں سے لڑ رہے ہیں ،وہ دراصل ریاست میں قائم کرپٹ حکومتی سسٹم کے خلاف ہے، وہ انتظامی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف ہے۔ اجیت دول کے یہ خیالات’’دول ڈاکٹرائن‘‘ کے نام سے معروف ہیں اور اب جب کہ اجیت دول ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے سیکورٹی مشیر ہیں، اُن کے اس ڈاکٹرائن پر من و عن عمل کیا جارہا ہے۔مختلف بہانوں کی آڑ میں پاکستان سے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کیا جارہا ہے۔ کشمیری عوام کو طاقت کے بل پر زیر کرنے کے لیے ہر طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔حریت قیادت کی اعتباریت کو ختم کرنے کے لیے اُنہیں مختلف کیسوں میں پھنسایا جارہا ہے، عوامی ایجی ٹیشن سے جتنی بھی ٹریڈ انجمنیں جڑی ہوئی ہیں ،اُن کے ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں اور ظلم و جبر کو نمایاں کرنے والے صحافیوںکے پیچھے ایجنسیوں اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو لگا دیا گیا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ مسئلہ کشمیر کی اصل ہیئت کو ہی تبدیل کرنے کے لیے نت نئی اصطلاحیں ایجاد کی جارہی ہیں۔ بی جے پی جنرل سیکریٹری رام مادھو سے لے کر راجناتھ سنگھ تک ہر کوئی کہتارہا ہے کہ کشمیر کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے جس کا حل لوگوں کی ناراضگی کو دور کرکے نکالا جائے گا۔اور لوگوں کی ناراضگی دور کرنے کے لیے نرالے طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔ آوپشن آل آوٹ وغیرہ کو ’’ناراضگی‘‘ دور کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔دول ڈاکٹرائن کا ہی نتیجہ ہے کہ دلی کی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریوں پر جوردعمل سماج کے ہر طبقہ کی جانب سے دیکھنے کو ملنا چاہیے، وہ نہیں ملا۔دلی سرکار کی مذکورہ ایجنسی کے نشانہ پر تحریک حق خود ارادیت تھی نہ کہ وہ افراد جنہیں گرفتار کیا گیا ہے یا پھر پوچھ تاچھ کے لیے دلی طلب کرلیا گیا ہے مگر بدقسمتی سے یہاں عوام کی اکثریت کے ساتھ ساتھ سماج سے جڑے مختلف طبقوں نے ان گرفتاریوں کو اس انداز سے نہیں لیا جس انداز سے لینے کی ضرورت تھی۔فوٹو جرنلسٹ کی گرفتاری پر صحافتی برادری نے احتجاج کیا، تاجروں نے اپنی برادری سے جڑے لوگوں کی گرفتاری پر غم و غصے کا اظہار کیا، وکلاء بار صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو دلی طلب کرنے پر اُٹھ کھڑے ہوگئے، حالانکہ یہ مشترکہ قومی کاز تھا، اس میں شروع سے ہی پریس بیانات سے اوپر اُٹھ مضبوط اور مربوط انداز سے جمہوری اور مدبرانہ طریقوں پر اپنا احتجاج درج کرنے کی ضرورت تھی، جو اب تک نہیں کیا گیا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ اجیت دول ڈاکٹرائن کا اثر ہمارے اجتماعی معاملات میں دکھائی دے رہاہے۔
 وزیرداخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ نے اپنے دورے سے قبل کہا تھا کہ وہ ’’کھلے ذہن‘‘ کے ساتھ ہر ایک فرد کی بات سننے کے لئے جموں وکشمیر جارہے ہیں۔  بہت اچھا ہوتا اگر واقعی کشمیر کے درد کو جاننے اور اس گتھی کو سلجھانے کے لئے کھلے ذہن سے دونوں جانب کام لیا جاتا مگر اُن کا یہ بیان محض خوش کلامی تھی اور اس کا زمینی حقائق میں کھلا تضاد صاف نظر آرہا تھا۔ متحدہ مزاحمتی قیادت کے تقربیاً سب لیڈران یا تو جیلوں میں بند ہیں یا پھر اپنے اپنے گھروں میں خانہ نظر بند ہیں۔ جن سے بات کرنی تھی اُنہیں مختلف کیسوں میں پھنسا کرجیل خانوں میں ڈالا گیا ہے، اس لئے خالی کھلا ذہن کونسا چمتکار کر دکھاتا۔ وزیرموصوف نے جن وفود سے ہندوستانی ملاقاتیں کیں، وہ اپنے ذاتی اغراض و مفادات کے لیے پہلے سے ہی ہند نواز خیمے میں ہیں، توپھر بات چیت اور مذاکرات کا راگ الاپنا پوری دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیری قوم کے ساتھ ایک مذاق کے مترادف ہے۔ اس میں دورائے نہیں کہ دلی میں برسراقتدار بی جے پی سرکار روزاول سے کشمیر میں اپنی سخت گیر پالیسی پر عمل پیرا ہے، ایک جانب کشمیر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں قتل و غارت گری کا سلسلہ برابر جاری ہے، فوج اور نیم فوجی دستوں کا جماؤ روز بروز بڑھایا جارہا ہے،مسلسل کریک ڈاونوں اور چھاپوں سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا جارہا ہے ، دوسری جانب دنیا کو لال قلعہ سے یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ کشمیریوں کو گولیوں او رگالیوں سے نہیں بلکہ گلے لگا کر رام کیا جائے گا۔ اگر عملی طور اس پالیسی بیان کو عملاتے ہوئے کشمیریوں کا دیر ینہ حل طلب مسئلہ افہام وتفہیم اور مذاکرات سے حل کیا جاتا توبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تاریخ ایک ناقابل فراموش ہیرو کے طور خود گلے لگانے کے لئے خود ان کے چوکھٹ پر آکر دست بستہ کھڑی ہوجاتی ، امن پسند قوتیں ان پر عش عش کرتیں، برصغیر ان کی مہربانی کا احسان مند رہتا کہ انہوں نے کشمیر حل کے لئے تینوں فریق کو ایک جمع کر کے بصیرت وتدبر سے کام لیا تاکہ برصغیر کو ممکنہ جوہری جنگ سے نجات ملے اور ملک و قوم میں تعمیر وترقی اور مفاہمت و یگانگت کا سنہری باب رقم ہو ، مگر دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کو گلے لگانے کی سیاسی ترکیب اسی طرح ایک تقریری ڈائیلاگ بازی بن کر رہی جس طرح سابق وزیراعظم نرسمہا راؤ نے برکنا فاس سے کشمیر حل کے لئے ’’سکائی از دی لمٹ ‘‘ باجپائی نے’’انسانیت کا دائرہ ‘‘اور جگموہن نے’’نرسنگ آرڈرلی‘‘ جیسی تراکیب وضع تو کی تھیں مگر ان میں عمل کا خون دوڑایا اور نہ کو ئی پیش قدمی کی۔ اسی طرز سیاست کی پیروی کرتے ہوئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے 5 سی کی بات کہہ کرکشمیری قوم کو لبھانے اور بیرونی دباؤ سے مکتی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے سال ۲۰۱۶ء کی عوامی ایجی ٹیشن کے تھمتے ہی پہلے ہی بھارتی حکمرانوں میں سے کسی نے 3 ماہ اور کسی نے ایک سال کی مدت کے دوران وادی میں’’ حالات سدھارنے ‘‘کا نشانہ مقرر کر رکھا ہے، اس نشانے کو پانے کے لیے زمینی سطح پر کیا کچھ کیا جارہا ہے، عام کشمیری بہرحال سرکی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کاش حالات میں سدھار کا سرشتہ کشمیر حل سے جوڑا جاتا تو کوئی بات بنتی ۔ اس لئے زبان سے میٹھی میٹھی بے معنی باتیں کرکے ایک تو دنیا بشمول اہل کشمیر کو یہ تاثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ کشمیر مسئلے کو ایڈریس کیا جارہا ہے، دوسرا ان لایعنی بیانات سے مسئلہ کشمیر کے اہم فریق پاکستان کو نظرانداز کرکے گویا ’’میں نہ مانوں‘‘ کی ضدم ضدا پر اصرار کیاجارہاہے۔ یوں کمال ہوشیاری کے ساتھ درونِ خانہ اور باہری دنیا میں بیک وقت مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں الجھائے رکھنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اس کے لیے پاکستان پر سرحد پار’’دہشت گردی‘‘ کی حمایت کرنے کا الزام ہی وہ آزمودہ تیر ہے جس کی رَٹ لگاکر اسلام آباد پر نہ صرف دباؤ بڑھا یا جارہاہے بلکہ اسے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حاشیہ پر رکھا جارہا ہے ۔ایک بار پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنی فریقانہ پوزیشن سے لاتعلق ہوجاتا ہے تو پھر کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد ازخود گویا انتظامی مسائل کی جدوجہد بن جائے گی اور ایسی جدوجہد کو نوکریوں کے معمولی پیکیج یا سڑکوں نالیوں کی تعمیرو مرمت سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہی دلی کے پالیسی ساز چاہتے ہیں اور اسی پر وہ عمل پیرا بھی ہیں۔
پارٹی مفادات اور لیلیٰ ٔ اقتدار کی پرستش میں سرینگر سے دلی تک ہند نواز سیاسی طاقتوں نے ہمیشہ بد نیتی سے کام لیا اور آج بھی لے رہی ہیں۔مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے جس اخلاص اور نیک نیتی کی ضرورت ہے وہ دلی نواز سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں سرے سے ہی مفقود ہے۔کشمیری عوام کے جذبات کو دبانے اور اُنہیں اپنی جدوجہد سے نااُمید کرنے کی جو منظم اور حوصلہ شکن کوششیں آج ہورہی ہیں ،ان کا تجربہ بھارت کی مختلف سرکاروں نے گزشتہ سات دہائیوں سے کیا ، لیکن اُنہیں دائمی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔مستقبل میں بھی ایسی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوں گی کیونکہ جو جدوجہد حق اور صداقت پر مبنی ہوتی ہے، جس جدوجہد میں کسی قوم نے بیش بہا قربانیاں دی ہوتی ہیں، اُس کو منطقی انجام کو پہنچانے تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج کی نہیں تو آنے والی نسلیں ضرور اُٹھ کھڑا ہوجائیں گی اور جس عالمی سپورٹ کے بل پر بھارت اپنی کشمیر پالیسیوں میں غیر حقیقت پسندانہ ہوتا جارہا ہے ،وہ رویہ خودغرضانہ عالمی سپورٹ کی خوارک ہر ہمیشہ زندہ رہنے والا نہیں ہے۔ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی ہے، جو عالمی طاقتیں اس وقت کشمیر کے مسئلے میں بھارت کی پشت پناہی کررہی ہیں، وہیں آنے والے وقت میں کشمیریوں کی تحریک حق خودرادیت کو سپورٹ کرنے والوں کی پہلی صف میں کھڑی ہوسکتی ہیں۔وقت بدل جائے گا اور اس کا اندازہ کشمیری مسلم قوم کو بخوبی ہونا چاہیے۔ سختیوں اور زیادتیوں کا یہ دور ٹل جائے گا، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں حق وصداقت کی طرف داری میں چٹان کی طرح ڈٹ جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری جدوجہد کا بہار ضرور دکھائے گا۔ ان شاء اللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.