مجدد دوراں۔۔۔۔۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی

مجدد دوراں۔۔۔۔۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی

٭حافظ محمد ادریس

برصغیر میں اسلامی ترکش کا آخری تیر ” ترکش ما را خدنگ آخریں “ ٹیپو سلطانؒتھا ،جسے اقبالؒنے جاوید نامے میں خراج تحسین پیش کیا۔ اگر ہم اورنگ زیب کو خدنگ آخریں کہہ لیں تو یہ بھی چنداں غلط نہ ہو گا۔ اورنگ زیب عالمگیر اٹھارویں صدی کے آغاز میں نوے سال کی عمر میں فتوحات کے عظیم الشان ریکارڈ قائم کر کے حیدر آباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں آسودہ خاک ہو گیا۔ اس کے بعد باستثنائے چند ترکش خالی ہو گیا اور انگریزوں نے مغلیہ سلطنت پر قبضہ جما لیا۔ اورنگ زیب ایک دور کا نمائندہ تھا جو تلوار کا دور تھا۔ وہ واقعی ناقابل شکست صاحب سیف تھا۔ اس کے بعد کا دور قلم اور فکر کا دور ہے۔ اس دور میں اللہ نے عالمگیر کی وفات کے دو سو سال بعد اسی شہر اورنگ آباد میں ایک نابغہ ¿ ر وز گار کی پیدائش سے امت کا خالی دامن بھر دیا۔یہ فرزندِ اسلام دور جدید میں جو قلم و فکر کا دور تھا ”ترکش مارا خدنگ اولین “ ثابت ہوا۔ یہ خاندان مودود کا عظیم سپوت سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ تھا جو ستمبر 1903 ءمیں پیداہوا۔ سید اسی ماہ اپنی پیدائش کے چھہتر76 سال بعد عالم جاودانی کو سدھار گیا۔ یہ 1979 ءکی بات ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کو دنیا سے رخصت ہوئے 38 سال بیت گئے ہیں ، مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ دنیا میں ہر انسان عارضی وقت کے لیے آتاہے۔ یہ دنیا راہ گزر ہے ، جائے قرار نہیں ہے۔ یہاں ہر لمحہ کوچ کا نقارہ بجتاہے، یہاں کسی متنفس کے لیے کوئی قیام نہیں۔ یہ مسافر خانہ ہے اور یہاں سے بے شمار مسافران عدم گزرے ، گزر رہے ہیں اور گزرتے رہیں گے۔ کچھ مسافر تو اس احساس ہی سے محروم ہوتے ہیں کہ وہ مسافر ہیں ، منزل کا شعور تو دور کی بات ہے۔ کچھ مسافر سفر کا شعور رکھتے ہیں مگر منزل کا پتہ نہیں۔ کچھ سفر کے ساتھ منزل سے بھی باخبر ہوتے ہیں مگر کشاں کشاں خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں۔ منزل تو آ جاتی ہے ، ان کے لیے وہاں کچھ نہیں ہوتا۔ ایک اور قسم کے مسافر سفر ، منزل ، تیاری ، زاد راہ ہر چیز سے باخبر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق تمام تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں۔ یہ خوش قسمت مسافر ہیں مگر اپنی ذات کی حد تک !

بہت قلیل تعداد میں سہی مگر تاریخ کی گزرگاہوں میں وہ مسافر بھی نظر آتے ہیں جو محض اپنا ذاتی سفر بخیریت کٹ جانے کی فکر و کاوش سے بہت بالا ، اپنے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے مسافروں کے ہجوم میں تنہا نہیں ، دوسروں کو ساتھ لے کر،اپنے ہی لیے زاد سفر نہیں ، دوسرو ںکو بھی اس سے مالا مال کر کے قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ کہنے کو وہ بھی ایک فرد ہوتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر ان کا انفرادی حیثیت ہی میں استقبال ہوتاہے مگر ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ ” چلو تو زمانے کو ساتھ لے کے چلو۔ “ اصل خوش بختی تو انہی معدودے چند لوگوں کا مقدر ہے۔ سید مودودی ؒ (ستمبر1903 ءتا ستمبر 1979 ئ) ایسے ہی خوش قسمت مسافر تھے۔

جیسا کہ آغاز میں عرض کیا گیا ہے مولانا مودودی ؒ ایک سید گھرانے میں اورنگ آباد دکن (ہندوستان)میں پیدا ہوئے۔ خاندانی نجابت و شرافت کے ساتھ اللہ نے انہیں ذاتی و انفرادی خوبیوں سے مالا مال کر رکھاتھا۔

سید مودودیؒ کی شخصیت ہر لحاظ سے جامعیت کے ہر معیار پر پوری اترتی ہے۔ علم و حلم اور فکر و عمل، ہر میدان میں انہوں نے اپنا لوہا منوایا اور سکہ جمایا۔ ان کی زندگی کے تمام پہلو اس قابل ہیں کہ ہر ایک پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی جائے اور دور جدید میں طلبہ و طالبات ان پر جومتنوع مقالہ جات لکھ رہے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ مولانا نے بہت چھوٹی عمر میں ایک ایسی معرکہ آرا کتاب لکھی جس کو آج بھی اہل علم و اصحاب نظر اس موضوع پر بہترین دستاویز قرار دیتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاد دنیا کی بحث و نظر کا مرکزی نقطہ ہے۔ اسے کس رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، اس کا حلیہ بگاڑنے اور اس کا روشن چہرہ مسخ کرنے کی کس قدر جسارت کی گئی ہے ، اس سے ہر مسلم و غیر مسلم بخوبی واقف ہے۔ جہاد فی الحقیقت ہے کیا ، اس سوال کا جواب اگر کوئی متلاشی حق معلوم کرنا چاہے تو سید مودودی ؒکے عنفوان شباب میں لکھی گئی ان کی کتاب ” الجہاد فی الاسلام “ اس کا شافی جوا ب دیتی ہے۔

ان کا وسیع ومتنوع لٹریچر ہر موضوع اور انسانی زندگی میں انفرادی و اجتماعی دائروں میں پیش آنے والے جملہ مسائل کا احاطہ کرتاہے اور محض فکری و نظری نہیں، قابل عمل حل پیش کرتاہے۔ قرآن جو الہامی کتابوں میں سے سب سے آخری پیغام ہے اور جو دنیا میں واحد کتاب ربانی ہے جس میں کسی بھی نوعیت کا ردوبدل ، ترمیم و اضافہ اور حکّ و تحریف نہیں ہوئی ، انسانیت کے لیے واحد اور حقیقی دستور حیات ہے۔ اس دستور حیات کی تشریح جس دل نشین ، عام فہم مگر علمی وقار و معیار کو ملحوظ رکھ کر سید مودودی ؒ نے کی ہے وہ بھی لاجواب ہے اور اہل علم کے لیے انمول اور بے بہا خزینہ ہے۔” تفہیم القرآن “کو اللہ نے جو مقبولیت عطا فرمائی ہے وہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ قرآنی تفاسیر کے درمیان تفہیم کا مقام اہل علم و نظر کے نزدیک بہت بلند ہے۔ان کی علمی و محققانہ تصانیف میں سے جملہ احادیث ِ رسول کو جمع اور مدون کر کے آٹھ ضخیم جلدوں میں جو کتاب ” تفہیم الاحادیث “ کے نام سے منظر عام پر آئی ہے ، علم حدیث کے طلبہ و اساتذہ کے لیے بے مثال راہ نمائی کاذریعہ ہے۔

سید مودودی ؒ کا کمال یہ ہے کہ وہ محض کتابی دنیا ہی کے شاہ سوار نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی انہوں نے ناقابل فراموش کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل جدوجہد آزادی میں مولانا مودودی نے بلاشبہ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار نہیں کی ، نہ مسلم لیگ کے طریق کار سے انہیں اتفاق تھا ، مگر دو قومی نظریہ جسے قیام پاکستان کی بنیادکا درجہ حاصل ہے علمی و فکری اور استدلال کی دنیا میں مولانا مودودی کی پر زور اور موثر تحریروں ہی سے اجاگر ہوا۔ مولانا کی کتاب ” آزادی ہند اور مسلمان “ اس کا واضح ثبوت ہے۔ یہ ان مضامین پر مشتمل ہے جو مولانا نے تحریک آزادی کے دوران ماہنامہ ” ترجمان القرآن “ میں بالاقساط ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش “ کے عنوان سے مسلسل کئی سال تک لکھے اور جن میں سے بعض مضامین کتابچوں کی صورت میں مسلم لیگ کے پبلسٹی سیل نے اس دور میں افادہ عام کے لیے چھاپے اور تقسیم کیے تھے۔ کتاب کے ان حصوں کو پڑھتے ہوئے آج بھی قاری بخوبی اندازہ لگا سکتاہے کہ ان میں دو قومی نظریے کو ثابت کرنے کے لیے کس قدر مضبوط استدلال اور اثر انگیزی پائی جاتی ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد مطالبہ دستور اسلامی مولانا کا ایک اور عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی قدر و قیمت پاکستان کا ہر وہ طالب علم بخوبی جانتاہے جو اس کی دستوری تاریخ سے واقف ہے۔ اسی عرصے میں مولانا کی پہلی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، جو سیاسی زندگی کا حصہ ہے۔ مولانا کو قائد اعظم ؒ کی وفات کے بعد سے لے کر دور ایوبی تک ہر حکومت نے جیل یاترا کرائی۔ اسی عرصے میں انہیں پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی۔

آج ہم پوری دنیا میں بالخصوص عالم اسلام میں آمریت، ظلم و جبریت اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کاجو منظر دیکھتے ہیں اس سے بعض لوگوں کو خوف آنے لگتاہے مگر مولانا شدید ترین ابتلا سے گزرے اور کمال عزم و استقامت اور خندہ پیشانی سے ہر منزل سر کرتے چلے گئے۔ مولانا کا یہ بھی کمال ہے کہ اسی جدوجہد کے دوران انہوں نے سول لبرٹیز کے نام سے ایک تنظیم قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس اتحاد میں ہر ذہن اور خیال کے لوگ حتیٰ کہ کیمونسٹ اور غیر مسلم بھی شامل تھے۔ آنجہانی پروفیسر ایرک سپرین عیسائی اور بائیں بازو کے اہم فکری ستون تھے۔ اس تنظیم میں وہ بھی شامل رہے۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے والد محمود علی قصوری مرحوم بھی اس تنظیم کے اہم رکن تھے۔ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ایک نہایت اہم اور نوبل فریضہ ہے۔ مختلف الخیال عناصر کو اس پلیٹ فارم پر جمع کرنا جہا ں مولانا کی دور اندیشی اور وسیع القلبی کا بین ثبوت ہے وہیں سیاسی و جمہوری اقدار کو ان کے صحیح تناظر میں پرکھنے اور اس میدان میں جدوجہد کی مسدود راہوں کو کھولنے کے لیے عملی نقطہ نگاہ پروان چڑھانے کی دلیل بھی ہے۔

آمریت کےخلاف جدوجہد کرنے والوں کو ساری دنیا میں مشکلات ، قید و بند اور دارو رسن کی منازل سے گزرنا پڑتاہے۔ اس پہلو سے بھی سید مودودی کی زندگی مثالی نمونہ ہے۔ مولانا کی پہلی گرفتاری ۴ اکتوبر ۸۴۹۱ ءکو عمل میں آئی جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کی وفات صرف تین ہفتے قبل ۱۱ ستمبر۸۴۹۱ءکو ہوئی۔شام کے وقت مولانا درس قرآن دے رہے تھے کہ اس دوران ایک ڈی ایس پی صاحب درس میں شریک ہوئے اور درس کے بعد انہوں نے مولانا سے علیٰحدگی میں بات کی۔ مولانا کھاناکھانے اور تیار ہونے کے لیے اندر چلے گئے جبکہ درس میں شریک تمام لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس دوران مولانا کا بستر باہر لا کر رکھ دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد مولانا بھی ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ نمودار ہوئے۔ برآمدے کے کنارے پر کھڑے کھڑے فرمایا ”ڈبیہ کہاں ہے ، آخری پان کھا لیا جائے “ پوچھا گیا آخری کیوں ؟ ہنستے ہوئے فرمایا” بس اب طلاق دے رہا ہوں۔“ کسی رفیق نے پوچھا جیل کے بعد بھی یہ طلاق جاری رہے گی تو فرمایا ” نہیں یہ طلاق رجعی ہے مغلظ نہیں۔“پھر دوستوں سے ہنستے مسکراتے ہاتھ ملایا اور مسلح پہرے میں پولیس کی جیپ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ اس قید سے بیس ماہ بعد رہائی ہوئی۔

(بحوالہ مولانا مودودی ، ایک تعارف از نعیم صدیقی)

دوسری مرتبہ قادیانیت کے خلاف ختم نبوت کی تحریک کے دوران مولانا کو ۸۲ مارچ ۳۵۹۱ ءکی صبح منہ اندھیرے گرفتار کر لیا گیا۔اسی کیس کے دران میں مولانا کو ایک خصوصی فوجی عدالت کے ذریعے سے قادیانیوں کے خلاف کتاب لکھنے کے الزام میں” سزائے موت “سنا دی گئی۔ اس ظالمانہ اور غیر عدالتی فیصلے پر مولانا نے جس عزیمت کا مظاہرہ کیا اس نے سلف صالحین کی سنہری تاریخ کو زندہ کر دیا۔ حکومت نے معافی نامہ داخل کر کے رہا ہو جانے کی شرط پیش کی تو اسے یکسر ٹھکرا دیا۔ آخر ۸۲ اپریل ۵۵۹۱ ءکو حکومت کو مجبوراً اس بے گناہ قیدی کو رہا کرنا پڑا جس کے استقبال کے لیے جیل کے دروازے پر جمع ہجوم مسلسل ایک نعرہ لگا رہا تھا ” فاتح تختہ دار ، مولانا مودودی زندہ باد۔“ واضح رہے کہ اس قید کے دوران ملتان جیل میں مولانا نے تفہیم القرآن لکھنے کا کافی کام مکمل کر لیا۔

مولانا مودودی کا سیاسی موقف بالکل واضح تھا اور وہ یہ کہ حکمرانوں کو عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اگر حکمران یہ حقوق دینے سے انکار کر دیں تو انہیں حاصل کرنے کے لیے جدوجہد جمہوری ، آئینی اور قانونی دائروں کے اندر رہ کر کی جائے۔ انہوں نے اپنی اس فکر کو” جماعت اسلامی “کے ”دستور “ میں بھی سمودیا اور کارکنان جماعت کی تربیت کے ذریعے ان کے ذہنوں میں بھی راسخ کر دیا۔ جماعت اسلامی ہمیشہ ظلم و جبر اور آمریت کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ اس کے کارکنان سے لے کر قائدین تک جھوٹے مقدمات میں قید و بند کے مراحل سے گزارے گئے ہیں مگر جماعت نے کبھی کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا۔ نہ ہی ان شا ءاللہ کبھی ایسا کرے گی۔

اکتوبر 1963 ءمیں لاہور میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع عام پر حکومتی سرپرستی میں مسلح حملہ کیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں ایک کارکن اللہ بخش صاحب شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ اس انتہائی اشتعال انگیز ماحول میں بھی مولانا نے کارکنان جماعت کو صبر و تحمل کی تلقین فرمائی اور حکومت کی اس سازش کو ناکام بنا دیا جو وہ جماعت کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے تیار کر چکی تھی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں ایک جانب کارکنان کو نظم و ضبط کا پابند بنانا اور دوسری جانب عزم و ہمت کا بے مثال مظاہرہ سید مودودی جیسی جامع شخصیت ہی سے ظہور پذیر ہو سکتاتھا۔ سٹیج پر کھڑے چوہدری غلام محمد مرحوم نے از راہ احتیاط کہا ” مولانا آپ بیٹھ جائیے ، مناسب یہی ہے “ سید صاحب نے جواب میں ایک فقرہ کہاکہ جو صبر و استقامت ، عزیمت و عظمت کی بیسیوں داستانوںپر بھاری ہے۔ ” چوہدری صاحب میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا ؟ “ (بحوالہ قافلہ سخت جان از سید اسعد گیلانی ص 337 )

مولانا مودودی نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کیا کہ سیاسی جدوجہد میں جلد بازی ، گھبراہٹ ، بزدلی اور اشتعال انگیزی میںآکر کوئی اقدام سلامتی کا راستہ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کو دہشت گرد قرار دینے کی باتیں احمقانہ اور حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہیں۔ جماعت آج بھی اپنے اس راستے پر پورے اطمینان کے ساتھ گامزن ہے۔ ہم نہ انتہا پسند ہیں نہ خفیہ طریقوں سے کوئی کارروائی جائز سمجھتے ہیں۔ہم ظلم و جبر اور ناانصافیوں کے خلاف قانونی ، عدالتی ، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔

مولانا کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ طاغوت سے زندگی بھر پنجہ آزمائی کرتے رہے۔ اس کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور قانون کی حدود میں رہ کر اپنی جدوجہد کے خدو خال واضح کیے۔ اس وقت پھردنیا بھر اسلام دشمن طاقتیں اسلام پسندوں بالخصوص جماعت اسلامی کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جماعت کی آج بھی سوچی سمجھی پالیسی یہ ہے کہ ہم نہ باطل سے مصالحت کریں گے نہ اس کے سامنے گھٹنے ٹیکیں گے اور نہ ہی اشتعال انگیزی کے جواب میں کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی راستہ اختیار کریں گے۔ ہم حق و صداقت کے علمبردار ہیں۔ ہمارے پاس مضبوط دلائل موجود ہیں۔ پھر ہم کیوں غیر قانونی حرکت کریں گے ؟ہمیں امید ہے کہ اللہ ہمیں اپنے مشن میں سرخرو کرے گا۔ان شاءاللہ۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.