غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘… ایک علمی کتاب

عرصہ دراز سے جیل میں مبحوس کشمیری لیڈر محمد قاسم ایک علمی شخصیت ہیں، جاوید احمد غامدی کے نظریات پر اُنہوں نے ایک علمی و تحقیقی کتاب ترتیب دی ہے، کتاب کے حوالے سے ابوسلیقہ کی گزارشات قارئین اذان کی پیش خدمت ہیں۔

غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘… ایک علمی کتاب
  • 12
    Shares

٭…ابوسلیقہ

برصغیر میں انگریزوں کی آمد اور اُن کے ناجائز تسلط کے خلاف جب مسلمانوں نے محاذ کھول کر جہاد کے ذریعے سے انگریزوں کے ناک میں دم کردیا تو پریشان حال انگریزوں نے مسلمانوں کو میدان جنگ کے بجائے دوسرے میدانوں میں پچھاڑنے کی سازشیں رچائی۔ جب اُن کے پاؤں ہندوستان میں جم گئے تو انہوں نے انگلستان سے پادریوں کی ایک کھیپ درآمد کی، جنہوں نے یہاں قرآن و اسلام پر رکیک حملوں کا آغاز کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کیچڑ اُچھالا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علماء جو اب تک جہاد کے محاذ پر تھے ، اس سے ہٹ کر مناظرے کے میدان میں آگئے اور صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔اس طرز عمل سے انگریز مسلمانوں کی توجہ میدان جہاد سے ہٹاکر مجادلے کی جانب لے آنے میں کامیاب ہوگئے۔ ایک اور مسئلہ انگریزوں کے سامنے یہ تھا کہ کس طرح مسلمانوں کی ملی وحدت کو پارہ پارہ کیا جاسکے۔اس کی سبیل یہ نکالی گئی کہ بعض نئے فرقوں کو جنم دیا گیا، اُنہیں پروان چڑھایا گیا۔ ان فرقوں نے حق پرست علماء کے خلاف اعلان جنگ کردیا، دین کے احکامات و معاملات میں شک و شکوک پیدا کرنے کی کوششیں کی۔جب 1901 ء میں افغان مجاہدین نے سرحد کے اضلاع کو پنجاب سے علاحدہ کر کے صوبہ بنادیا تو معروف انگریز مصنف ڈاکٹر ہنٹر نے اپنی کتاب’’ مسلمانانِ ہند‘‘ میں لکھا کہ ’’ وہ ان علاقوں میں مذہب کے دیوانوں کو سر نہیں کرسکتے اور نہ انہیں گھر وں میں واپس لا سکتے ہیں۔ ان میں جہاد کا شعلہ سرد نہیں ہوا۔ ان پر مذہبی دیوانوں اور جہادی ملاؤں کا اثر نہایت قوی ہے اور وہ کسی لحظہ بھی ان کے جذبات کا آتش کدہ بھڑکا سکتے ہیں۔‘‘اس سے چار دہائیاں قبل 1860 کے آس پاس برٹش پارلیمنٹ کے ممبروں ، بعض انگلستانی اخبارات کے ایڈیٹروں اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے’’ ہندوستانی عوام میں وفاداری کیوں کر پیدا کی جاسکتی ہے اور مسلمانوں کے جذبۂ جہاد کو سلب کرکے اُنہیں کس طرح رام کیا جاسکتا ہے‘‘ کے موضوع پر ایک رپورٹ بعنوان’’ ہندوستان میں برطانوی سلطنت کی آمد ‘‘ اپنے سرکار کے سامنے پیش کی ہے۔اس رپورٹ میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو سلب کرنے کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ:’’ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹالک پرافٹ( حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی مفادات کے لیے مفید کام لیا جاسکتا ہے۔‘‘پھر اسی رپورٹ کے تناظر میں برطانوی سامراج نے سیالکوٹ ( پنجاب) کی کچہری میں معمولی تنخواہ پر کام کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی کو کھڑا کرکے اُسے جھوٹا نبی بنادیا۔مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے نے مسلمان علماء کو جھنجھوڑ کررکھ دیا اور اُنہوں نے اپنی تمام تر توجہ مرزا قادیانی کی کذب بیانی کی پول کھول دینے پر صرف کردی۔حتیٰ کہ کئی نامور مخلص علماء کرام نے جہاد کی تبلیغ نہ کرنے کا انگریزوں کے ساتھ معاہدے کیا اور اس کے بدلے میں اُنہیں مرزا قادیانی کا پیچھا کرنے اور اُنہیں کذاب ثابت کرنے کی اجازت دے دی گئی۔یہی انگریز چاہتے بھی تھے اور وہ اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب بھی ہوگئے۔یہ ہماری تاریخ ہے اور آج ڈیڑھ سو سال بعد تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ البتہ آج نوعیت بدل چکی ہے۔ آج نبوت کا دعویٰ کرنے کی کسی میں جرأت نہیں ہوگی البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ہدایات کو مسخ کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اسلامی احکامات اور عقائد کی من مانی تاویلات کرکے بعض اہم احکامات کو موجودہ زمانے میں منسوخ ثابت کیا جارہا ہے۔
موجودہ زمانے میں انگریزوں اور دیگر غیر مسلم اور اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم روا رکھ کر مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو بیدار کردیاہے۔ اسلام کے نام لیواؤں میں دین کے لیے سرگرم عمل ہونے کا رحجان کافی بڑھ چکا ہے اور مسلمان عالمی سطح پر کم تر وسائل کے باوجود اپنے دشمنوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہورہے ہیں۔جہاں ایمانی قوت ہو تو وہاں دشمن پر خوف طاری ہونا لازمی امر ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی توجہ دوسری جانب مبذول کرانے اور اُنہیں درون خانہ کنفوژن کا شکار کرنے کے لیے اغیار نے منصوبہ بندی کرنی شروع کردی ہے۔ کھلے عام مسلمانوں کی صفوں میں ایسے افراد کو چھوڑا گیا ہے جو دین اسلام کی بے بنیاد اور غلط طریقے سے تشریح کرکے اُمت کے سواد اعظم کو گمراہ کرنے کا گھناؤنا کام کررہے ہیں۔جو لوگ اسلام دشمن طاقتوں کا یہ کام کررہے ہیں اُنہیں خود بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کن کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ اُنہیں دین کے معاملات میں بے جا تاویلیں کرنے اور دین کے بعض اہم معاملات کو منسوخ قرار دینے کے لیے ہر طرح کا سپورٹ فراہم کیا جارہا ہے۔موجودہ زمانے میں جب پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کے خلاف صہیونی و صلیبی طاقتوں کے ساتھ ساتھ کچھ علاقائی طاقتیں بھی یک جٹ ہوچکی ہیں، جہاں وہ اُن تحریکات کی افرادی قوت کو نیست نابود کرنے کی ناکام کوششوں میں مگن ہیں وہیں ان تحریکات کی فکر ہر آنے والے دن کے ساتھ پروان ہی چڑھتی جارہی ہے۔اس صورتحال نے اسلام دشمن طاقتوں کو ذہنی طور پر مفلوج کررکھا ہے۔ اس لیے اسلام کے نام لیواؤں کی صفوں میں ہی روش خیال اور لبرل مسلمانوں کو تخلیق کیا گیا، اُن کو فکری و علمی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے کئی شخصیتوں کو آگے لایاگیا جن میں امریکہ میں مقیم ترکی کے رہنے والے فتح اللہ گولن، ملیشیا میں قیام پذیر پاکستانی جاوید غامدی اور ہندوستان کے وحید الدین خان قابل ذکر ہیں۔برصغیر ہندو پاک میں آج کے دور میں جن دو شخصیات سے دینی معاملات کی من مانی تشریح کرکے لاکھوں نوجوانوں کو کنفوژن کا شکار کردیا ہے وہ مولانا وحید الدین خان اور جاوید غامدی ہیں۔ فی الوقت الجھن کے شکار لوگوں میں جاوید غامدی کے افکار کا خوب چرچا ہے۔ پروپیگنڈا یہ کیا جارہا ہے کہ جاوید احمد غامدی کے افکار جدید ذہن کو متاثر کررہا ہے ،حالانکہ سچائی یہ ہے کہ جاوید غامدی نے شکست خوردہ، دنیا پرست ، عیش کوش اور دینی احکامات پر عمل کرنے سے راہ فرار اختیار کرنے والوں کو اپنی بے عملی کا جواز فراہم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
جاوید غامدی نے اپنی تاویلات و تشریحات سے دین کی پوری عمارت کو منہدم کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔غامدی صاحب دین کے ہر معاملے میں جمہور علماء کے برخلاف ایک ایسی رائے قائم کرلیتے ہیں جو مغرب اور اسلام دشمنوں کے من موافق ہوتی ہے۔ اُن کی تعبیرات و تشریحات جہاد جیسے مقدس اسلامی فریضے کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ موصوف دینی عالم سے زیادہ مغرب سے مرعوب دکھائی دے رہے ہیں۔ان کے فاسد نظریات کا برصغیر کے علمائے کرام نے بروقت توڑ کیا ہے البتہ جو لوگ غامدی صاحب سے متاثر ہیں وہ علمی دلائل سے قائل ہونے والے نہیں ہیں کیونکہ اُن کی روز مرہ زندگی میں اسلامی مطالبات سے راہ فرار اختیار کرنے کا یہ بہترین موقع فراہم ہوا ہے۔
گزشتہ بیس برس سے زندان خانوں میں شب و روز گزارنے والے ریاست جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کے ایک اہم لیڈر ڈاکٹر محمد قاسم جن کی درجن بھرکتابیں پہلے ہی علمی حلقوں میں اپنا نام منوا چکی ہیں نے بھی جاوید غامدی کے فاسد نظریات پرایک اہم اور تحقیقی کتاب تصنیف کی ہے۔ ’’غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ نام کی یہ 469 صفحات پر مشتمل ہے۔سات ابواب پر مشتمل اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے علمی انداز میں اسلام کے بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی ہے اور فتنہ انکارِ حدیث کی تاریخ بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب وقت کے فرعونوں او رنمردوں نے ایسے لوگوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے منکر حدیث بن کر اسلام کے واضح احکامات سے انکار کردیا ہے اور بے شمار لوگ ایسے لوگوں کی وجہ سے گمراہ ہوچکے ہیں۔جاوید غامدی کے انکار حدیث کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عرب ادیان پر اسلام غالب کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے، ‘‘یعنی دنیا میں اب دین غالب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوتا ہے‘‘، اُن کا یہ بھی مؤقف ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کی حفاظت اور تبلیغ و اشاعت کا کوئی اہتمام نہیں کیا ‘‘، گویا احادیث دینی احکامات کا حصہ نہیں ہیں، اُن کا یہ بھی ماننا ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص نہیں کرسکتے ہیں‘‘۔ غامدی صاحب کا عقیدہ یہ ہے کہ ’’جنت کے لیے اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے،اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے والے کافر نہیں ’’غیر مسلم ‘‘ ہیں۔‘‘موصوف سنت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:’’ سنت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قوم و فعل نہیں ابراہیم علیہ السلام کی روایت ہے۔‘‘جاوید غامدی کے ان عقائد کے حوالے سے ڈاکٹر محمد قاسم صاحب کتاب کے صفحہ نمبر 77 پر رقمطراز ہیں کہ:’’ مسیلمہ کذاب اور غلام احمد قادیانی سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار نہیں کرتے تھے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں اپنے آپ کو شریک ٹھہراتا تھا اور غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ مہر رسول اللہ ہی سے غیر تشریعی نبی ہیں۔ جاوید احمد غامدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار تو نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی مدعی نبوت ہیں مگر وہ جو رسالت محمدیﷺ کا اقرار بھی کرتے ہیں تو اس اقرار میں کیا رکھا ہے؟‘‘
’’غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ موجودہ وقت میں اہم ترین علمی کارنامہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فرار کی راہیں تلاشنے والے ’’غامدیت‘‘ کو نہ صرف خود گلے لگا رہے ہیں بلکہ عام اور معصوم نوجوانوں کو بھی اس جانب مائل کرنے کے لیے ایڑی چھوٹی کا زور صرف کررہے ہیں نیز باطل قوتیں بھی اُن کی کوششوں کو ثمر آور بنانے کے لیے اپنی جانب سے ہر طرح کا سپورٹ میسر رکھتے ہیں یہ کتاب ذہنوں کی پراگندگی کو دور کرنے کے لیے نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ جہاں تک ریاست جموں وکشمیر کا تعلق ہے یہاں غامدیت کا ایسا ٹولہ وجود میں آچکا ہے جو دوسروں کو ’’عدم برداشت ‘‘ کا شکار ہونے کا طعنہ تو خوب دیتے ہیں لیکن خود اس حد تک ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ کھلے عام اُن دینی جماعتوں اور علماء کرام کے خلاف لن ترانیاں کرتے رہتے ہیں جو غامدی صاحب کے باطل نظریات کا توڑ کرتے ہیں۔ایسے میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب جرأت مندانہ اقدام بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد قاسم صاحب کی کتاب کا معیاراور موضوع جہاں عالمی سطح کی ذہنیت کو اڈریس کرنے کا ہے وہیں ’’حرف چند‘‘ کے عنوان سے تقریظ لکھنے والے محترم شکیل احمد صاحب کی ایک بات نے اس کتاب کو ایک چھوٹے سے تاریک دائرے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔شکیل صاحب نے ایک معروف دینی جماعت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ تعجب ہوتا ہے اُن لوگوں پر جنہوں نے دین کو سیاسی تعبیروں سے سمجھا ہے، وہ کیسے ان مسائل کو فروعی قرار دے رہے ہیں۔ لے دے کے ان کو غامدی کے جملہ نظریات میں ایک بات قابلِ گرفت نظر آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غلبۂ دین کی کوشش دین میں نیا اضافہ ہے۔ باقی تمام مسائل سے انہوں نے نہ صرف آنکھیں موند لیں بلکہ اُن کے حلقوں میں غامدی نظریات تیزی سے پھیل رہے ہیں۔‘‘غامدی نظریات کے خلاف اگر تنظیمی اور تحریکی سطح پر کسی جماعت نے یہاں مؤقف اختیار کیا ہے تو وہ یہی جماعت ہے ج کے وابستگان کے بارے میں شکیل صاحب نے لکھا ہے کہ وہ ’’غامدیت ‘‘کو فروعی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ شکیل صاحب نے اپنے اردگرد چند عام فہم لوگوں کی رائے کو ایک بڑی تنظیم کے مؤقف سے جوڑ دیا ہے، ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے یا پھر یہ یہاں کی مجموعی ذہنیت کا اثر ہے کہ بلاجواز ہی سہی اُس جماعت کو دو چار الٹی سیدھی باتیں سنا کر کچھ نہیں تو کم از کم اپنے جلے دل کو سکون ہی بہم پہنچایا جاسکے۔ڈاکٹر صاحب نے ایک دینی جماعت پر اس طرح کے بے جا الزام کو کیسے نظر انداز کردیا ہے ، یہ بہرحال ڈاکٹر صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔ البتہ مجھے یہ الزام ایک بڑے علمی خزانے کی رونق مانند کرنے والا محسوس ہوا ہے۔
جہاں تک ریاست جموں وکشمیر کا تعلق ہے یہاں جو تحریک گزشتہ سات دہائیوں سے جاری ہے اُس کو ختم کرنے کا ہر حربہ ناکام ہوچکا ہے اب نئی راہوں کے تحت فکری سطح پر کشمیریوں کی تحریک کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ یہ عالمی ایجنڈا کا حصہ ہے، اس کا تجربہ مغرب گزشتہ دو دہائیوں سے خصوصی طور پر کررہا ہے اور اب بھارت کشمیر میں کرنے جارہا ہے۔ اس لیے آئے روز نظریاتی اور فکری سطح پر مختلف نعرے بلند کرنے والے لوگ سامنے آرہے ہیں۔ جاوید غامدی صاحب کے نظریات کو بھی کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کی جڑیں اُکھاڑیں کے لیے استعمال میں لایا جارہا ہے۔ اس پر خوب سرمایہ کاری ہورہی ہے اور بڑے بڑے نام ان نظریات کو پروان چڑھانے کے لیے سامنے لائے جارہے ہیں۔ یہاں علماء دین کی ذمہ داریاں دوبالا ہوجاتی ہیں۔ اُنہیں سامنے آنا چاہیے اور ان فتنوں کا علمی سطح پر مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.