واقعۂ کربلاکا نظریاتی پسِ منظر ۔۔۔۔۔۔فہیم محمد رمضان

واقعۂ کربلاکا نظریاتی پسِ منظر ۔۔۔۔۔۔فہیم محمد رمضان

٭… فہیم محمد رمضان

اس نکتۂ نظر سے دیکھا جائے تو واقعہ کربلا کا پس منظر بہت پیچھے…حضرت آدمؑ و ابلیس کی کشمکش سے شروع ہوتا ہے جب خلاق ِ ازل نے آدم و حوّا علیھما السلام اور ابلیس ملعون کو جنت سے اتر کر زمین پر آباد ہونے کا حکم دیا تو ارشادفرمایا: (ترجمہ) پھر ہم نے حکم دیا، تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گذر بسر کرنا ہے‘‘( البقرہ:۳۶) چنانچہ قرآن مقدس کی یہ آیت گواہ ہے کہ زمین کی اس عارضی قرار گاہ پر آدمؑ و ابلیس کی کشمکش وقتاً فوقتاً بھیس بدلنے کے ساتھ ساتھ جب سے اب تک جاری و ساری ہے۔ اسی نکتے کو شاعرِ مشرق حضرت حکیم الامت جامع انداز میں یوں بیان کرتا ہے ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؑ سے شرازِ بولہبی
اور ؎
موسیؑ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوتِ از حیات آید بدید
اس کشمکش کی داستان اتنی ہی قدیم ہے جتنی زمین پر خود انسان کے اترنے کی تاریخ پرانی ہے، اگر چہ دونوں قوتوں کے علمبردار چہرے اور میدان ہائے کشمکش وقت کی رفتار کے ساتھ بدلتے رہے اور ستیزہ کاری کی کیفیات بھی بدلتی رہیں ؎
نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی، نہ حریفِ پنجہ لگن نئے
وہی فطرتِ اسد اللہی، وہی مرحبی ، وہی عنتری!
اس نکتہ ٔ نظر سے دیکھا جائے تو کربلا کی تاریخ اِسی نظریاتی ستیزہ کاری کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ یہ ایک ایسا باب ہے جس میں وقت کا نمردو و فرعون کفر کا عریاں روپ دھارن کرکے نہیں بلکہ نفاق و فسق کا جامہ پہن کر حق اور علمبردارانِ حق کے مد مقابل آکھڑا ہوتا ہے۔ مگر ایسا کرنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔ تاریخ نے اس قبیل کی کئی مثالیں اس سے قبل پیچھے چھوڑی ہیں۔ مثلاً موسیٰؑ کے مقابلے میں قارون کی دغا بازی، عیسیٰؑ و یحییٰ ؑ کے مقابلے میں وہ یہود جو بزعم خویش اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں ( ابراہیم، اسحٰق ویعقوب علیھم السلام) کے اصلی وارث تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول۔ غور کیا جائے تو دی گئی مثالوں کے ان مخالف کرداروں اور یزیدی کردار میں حد درجہ مماثلیت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ کے دین کو چند مراسم عبادت تک بسروچشم قبول کرنے کے لیے نہ صرف تیار تھے، بلکہ اُن کا دعویٰ تھا کہ ہم کسی سے کم دیندار نہیں ہیں۔مگر جب موسوی و شبیری کردار کے علمبرداروں نے’’ اقتدار اللہ کے لیے اور خلافت بشر کے لیے‘‘ کا نعرہ لگایا تو یہی ’دیندار‘ اس نعرے کے راستے کا روڑا بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا کا معرکہ ہرگز پیش نہ آتا اگر امام عالی مقام رضی اللہ عنہ یزید کی ملوکیت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے۔ یہ ہے واقعہ کربلا کا نظریاتی پس منظر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.