“جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے”کانرمل سنگھی فارمولہ

“جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے”کانرمل سنگھی فارمولہ

اداریہ

ریاست جموں وکشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے جموں وکشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی یہ رپورٹ سامنے آجانے کے بعد کہ فاروق احمد ڈار نے پارلیمانی الیکشن کے دوران ووٹ ڈالا تھا اور وہ کسی سنگ بازی میں ملوث نہیں تھا دلی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ فاروق ڈار نہ صرف سنگ باز تھا بلکہ سنگ بازوں کا رِنگ لیڈر بھی تھا۔ اُنہوں نے میجر گوگوئی کی جانب سے فاروق ڈار کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنانے کے عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ” جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے”۔ حال ہی میں ریاستی کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی ریاستی سرکار کو ایک حکم نامے میں فاروق احمد ڈار کو جرم بے گناہی میں انسانی ڈھال بنانے کے لیے معاوضے میں اُنہیں دس لاکھ روپے ادا کرنے کے لیے کہا ہے اور اب جموں وکشمیر پولیس نے بھی اس بات کی تصدیق کردی کہ فاروق ڈار کوئی سنگھ باز نہیں تھا ، بلکہ اُس وقت جب سارا کشمیر الیکشن بائیکاٹ کررہا تھا فاروق ڈار نے ووٹ ڈالا تھا۔ جس کا صلہ اُنہیں جیپ سے باندھ کر دیا گیا۔محکمہ پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم فاروق ڈار کو بے گناہ قرار دیتی ہے، سرکار کی جانب سے قائم کردہ ریاستی ہیوم رائٹس کمیشن اُنہیں کلین چٹ دے دیتا ہے لیکن حکومت میں شامل بی جے پی کے سینئر لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ اہم ریاستی اداروں کی رپورٹوں کو خاطر میں نہ لاکر اس بات پر بضد ہیں کہ فاروق ڈار سنگ باز تھا۔ یہاں یہ ذہنیت ظاہر ہورہی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے بھارتی فوج جو کچھ بھی کرے وہ جائز ہی ٹھہرایا جانا چاہیے۔ یہ سوچ صرف بی جے پی کی ہی نہیں ہے بلکہ بھارتی میڈیا اور اداروں نے اس سوچ کو ٌپورے بھارت میں پروان چڑھایا ہے۔ بھارتی فوج کو لاڈلا بنایا گیا ہے اور اُن کے ہر جرم کی نہ صرف پردہ پوشی کی جاتی ہے بلکہ انسانیت کو شرمسار کردینے والے جرائم میں ملوث اہلکاروں اور افسران کو ترقیوں سے نوازا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ مژھل فرضی انکاونٹر کا معاملہ ہو یا پھر پتھری بل میں پانچ بے گناہ کشمیریوں کو موت کی گھاٹ اُتار دینے کا سانحہ ہو، کنن پوش پورہ میں درجنوں عزت مآب خواتین کی عصمت دری میں ملوثین کی بات ہو یا پھر درجنوں مقامات پر بے گناہ احتجاجیوں کے سینوں کو چھلنے کردینے والے وردی پوشوں کے جرائم کا سوال، ہر جگہ انسانیت کی قبا چاک کردینے والے وردی پوشوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا گیا بلکہ اُن کے ان گھناونی حرکات پر اُنہیں اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جرائم کی پشت پناہی کرکے بی جے پی یا ہر دور میں بھارت کی برسر اقتدار لوگ اپنے ملک کا کوئی بھلا نہیں کرتے ہیں۔ دیش بھگتی کے نام پر اُن کی یہ پشت پناہی بھارت کے مجموعی سماج کو جرائم پیشہ بنا رہا ہے، اس کا اندازہ آج کل بخوبی ہوجاتا ہے۔ دلی جنسی زیادتیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین شہر تصور کیا جاتا ہے، معمولی نوک جوق پر انسانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ یہی صورتحال رہی تو آنے والے زمانے میں ہندوستانی سماج کا ہر طبقہ جرائم پیشہ ہی ہوگا۔ جرائم یہاں کی پہچان ہوگی، پارلیمنٹ میں موجود لوگوں کے کریمنل ریکارڈ کو دیکھ کر اس صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نرمل سنگھ کی یہ بات کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے، غیر ذمہ دارانہ بیان ہے اور اس کے لیے اُن کی شدید الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے ۔ اور اس سے لوگوں کے ان الزامات کو بھی تقویت پہنچ جاتی ہے کہ آج کل شمال و جنوب میں پراسرار طور پر معصوم لڑکیوں اور خواتین کے بال کانٹے کی کارروائیوں میںمبینہ طور پر فوج ملوث ہے، اگر محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے والا اصول ہی یہاں کام کررہا ہے تو عجب نہیں کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اور لوگوں کو اپنی سیاسی آواز سے توجہ ہٹانے پر مجبور کرنے کے لیے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال میں لائے جارہے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.