برما : ظلم و جبر کی انتہا ہو گئی

برما : ظلم و جبر کی انتہا ہو گئی

پرویز احمد میر  کپواڑہ

برما بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے درمیان ایک خطہِ زمین کا نام ہے۔ اس کا نیا نام میانماررکھا گیا ہے۔ اس کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ بودھ مت کے پیروکاروں کا ہے۔ میانمار کے شمال میں مغربی صوبہ راکھنیا ہے، جس کا پرانا نام اراکان ہے اور یہاں رہنے والے اہلِ ایمان روہنگیائی کہلاتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں صد ی عیسوی میں یہاں مسلمانوں کے آباد ہونے کے کام کا آ غاز ہوا تھا۔1430 ء سے 1636ء تک برما میں مسلمانوں کی حکومت رہی ،لیکن جوں ہی حکومت اُن کے ہاتھ سے نکل گئی تو اس کے بعد مسلمانوں کے لئے اُتنی وسیع زمین ہونے کے باوجود تنگ کر دی گئی۔ یاد رہے برمی سلطنت 1055ء میں انادرتھر نامی بادشاہ کے دور میں وجوود میں آئی ہے۔ مسلمانوں کے قتلِ عام کا اصل سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب اورنگ زیب عالم کا بھائی شجاع اپنے بھائی کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد زمینِ ہند اپنے اوپر تنگ پا کر اسی صوبہ آراکان میں آکر آباد ہوئے۔ 2012 ء میں دو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا لیکن جب بدھسٹوں(buddhists)نے ان لڑ کیوں کو اسلام سے پھیرنے کے لئے کہا تو انہوں نے صاف انکار کیا۔ بدھسٹوں نے دونوں لڑکیوں کو خود قتل کیا اور یہ افوہ پھیلائی کہ مسلمانوں نے ان نو مسلم لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی اور بعد میں ان کو قتل کیا۔ اس بات کو بہانہ بنانے کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے قتلِ عام کی راہ ہموار کر دی۔ مسلمانوں مردوں، عورتوں، بزرگوں اور بچوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔ برما کی سر زمین کو بے قصور و مظلوم مسلمانوں کے خون سے لالہ زار کیا گیا۔
ستمبر 2017ء کے رواں مہینے میں ایک طرف مسلمان بقرہ عید کی خوشیاں منانے میں مصروف تھے وہی دوسری جانب برمی مسلمانوں کو پھر ایک بار گاجر مولی کی طرح کاٹنے کا کام شروع کیا گیا ۔ سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر آئے روز برما کے مسلمانوں کے ویڈیوز ، جن میں اُن کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے کو دیکھ کر جسم کے رونگھڑے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ بزرگوں، جوانوں اور بچوں کو سخت عذاب دے کر اُن کا قتلِ عام کیا جاتا ہے۔ معصوم بچوں کو جن کے بارے میں حضور ؐ نے فرمایا ہے کہ ’ بچے جنت کے پھول ہیں‘ کو آگ کے حوالے کیا جاتا ہے۔ برما کی مسلمان بہنوں کو برہنہ کر کے درختوں سے باندھا جاتا ہے اور اُنہیں زندہ جلایا جاتا ہے۔سمند رمیں تیرتی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ برما کے مسلمانوں کو ہر طرح کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ برِ اعظم ایشیا کا سب سے غریب ملک ہونے کے باوجود یہاں کی حکومت سب سے زیادہ خرچہ فوج اور سیکورٹی فورسز پر کرتی ہے۔ یہی فوج اور سیکورٹی فورسز بعد میں دھشت گرد بدھسٹوں کے ساتھ مل کر مظلوم برما کے مسلمانوں کا قتلِ عام کرتے ہیں۔تاریخ میں وہ بات بھی درج ہے جب ایک طرف برمی مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا تھا اور دوسری طرف میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ آن سانگ سوچی کو دنیا امن کا نوبل پرائز دے دہی تھی۔ میانمار میں جمہوریت کے لئے طویل جدو جہد پر انعام پانے والی آنگ سانگ سوچھی خود جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ ہے کیوں کہ آج اُن کی آنکھوں کے سامنے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی وہ اس ظلم اور قتلِ عام کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کر تی ہے۔ برما میںجو قتلِ عام ہو رہا ہے اُس میں وہ برابر کی شریک ہے۔ برما کے مسلمان اب دہشت گرد بدھسٹوں اور برمی فوج کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، لیکن دوسری طرف بنگلہ دیشی ڈائن جس کے ہاتھ تحریکِ اسلامی کے بزرگ و عمر رسیدہ لیڈٖروں کے خون سے رنگے ہیں اُن لٹے پٹے برمی مسلمانوں کو بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ بنگلہ دیشی فوج کے ذریعے اُن مظلوموں کو واپس دھکیلا جارہاہے۔ گذشتہ دنوں تُرکی کی حکومت کی طرف سے بنگلہ دیش کو پیسوں کا لالچ دینے کے بعد اب صو رتحال یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دو لاکھ سترہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ تُرکی حکومت نے بنگلہ دیش کی حکومت سے کہا تھا کہ اگر وہ برمی مسلمانوں کو اپنے ملک یعنیٰ بنگلہ دیش میں آنے کی اجازت دے تو تُرکی تمام اخراجات برداشت کرے گی۔ بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ دار ہے کے وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی کچھ دن پہلے میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و جبر ڈھائے جانے پر حوصلہ افزائی کے لئے گئے۔
برما میں بدھ مت کے مذہبی پیشوا آشن وراتھو مسلمانوں کے قتلِ عام میں ایک انتہائی اہم کردا رادا کر رہے ہے۔ واضح رہے کہ یہ شخص بدھ مت کے ماننے والے مقامی لوگوں کو اپنی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف اکساتا ہے اور عالمی طور پر اب وہ بدھ مت کے مذہبی دہشت گرد کی شہرت اختیار کر چکا ہے۔ اپنے آپ کو گوتم بدھ کے پیروکار کہنے والے خود آج بدھ مت کی تعلیمات کو اپنے پیروں تلے روندتے نظر آرہے ہیں۔ بدھ مت ایک آہنسائی مذہب ہے۔ بودھ کے احکام ِ عشرہ میں سب سے پہلا تاکیدی حکم یہ ہے کہ’’ کسی جاندار کو ہلاک نہ کرو‘‘، جو بھکشو عمداََ کسی جاندار چیز کو اس کی زندگی سے محروم کر ے وہ اس کے قانون میں ناقابلِ عفو جرم کا مرتکب ہے(vinaya texts vol 1, p. 46) ۔ بودھ نے کسی جاندار حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے کیڑے کو بھی عمداََ ہلاک کرنے سے پرہیز کی سخت تاکید کی ہے۔ اگر جان کا احترام بودھ مت میں اس قدر بڑا ہے تو بدھسٹوں کو ایک ا یسے عمل کو شدید نفرت کی نظر سے دیکھنا چاہے جس میں کیڑوں کی نہیں بلکہ ہزاروں جانیں قربان کی جاتی ہیں۔ آئے روز ہم سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیںکہ کس طرح برمی بدھسٹ لوگ سفاکیت اور بربریت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ شورش کے دوران تین ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا ہے۔
برما کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کچھ سوشل، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے تمام مسلمان ممالک کے حکمران دیکھ رہے ہیں،لیکن سوائے چند غیرت مند مسلمان حکمرانوں کے سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انہی مفادات کے لئے سعودی عرب قطر پر پابندیاں عائد کر گیا ہے، اس الزام کے ساتھ کہ قطر دہشت گرد ی کا پشت پناہ ہے۔ علامہ یو سف القرضاوی کو دہشت گرد کہا جاتا ہے اور حسن البناؒ، سید قطب ؒو مولانا مودودیؒ کی تصانیف پر پاندی عائد کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی عرب میں دہشت گردی اور انتہا پسندی ابھارنے والے لٹریچر کے خلاف مہم کا حصہ ہے، لیکن افسوس ان عرب حکمرانوں کی غیرت پر جنہیں برما میں ہورہی برمی فوج اور بدھسٹوںکی دہشت گردی نظر نہیں آرہی ہے۔ جو مسلمان حکمران آرام طلبی، عیش کوشی اور تن آسانی کی زندگی گذار رہے ہیں، انہیں تُر کی کے صدر رجب طیب اردگان سے سبق حاصل کرنا چاہے۔ یہ وہ واحد لیڈر ہے جو برما کے مسلمانوں کا مسئلہ عالمی سطح پر پوری آن بان اور شان کے ساتھ اُٹھا رہے ہیں۔ یہی وہ لیڈر ہے جس نے اسلامی ممالک کے سربراہان کوفون کر کے برما کے مسلمانوں کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور برما کے مسلمانوں کے لئے امدادی سامان بھی بھیج دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے آخری حکمران عبدالحمید کو 1909 ء میں منصفِ خلافت سے دست بردار ہونے پر مجبور کردیا گیا اور برطانیوی سیکرٹری خارجہ نے ببانگِ دہل امتِ مسلمہ کے جذبات کو یہ کہہ کر بری طرح مجروع کر دیا کہ ’’ ترکی کو تباہ کر دیا گیا اور اب وہ کھبی اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال نہیں کر سکتی کیوں کہ ہم نے اس کی روحانی طاقت، خلافت اوراسلام کو تباہ کر دیا ہے‘‘۔
الحمدللہ آج طیب اردگان کی قیادت میں پھر سے ترکی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ ملک عالمِ اسلام کی قیادت کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ اردگان کی غیرت زنگ آلود نہیں ہوئی ہے۔ وہ تلواروں کو رقص کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتے۔ دنیا کے کم از کم ستاون مسلم ممالک کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے؟ کہ وہ اِن مظلوم برمی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ او آئی سی(OIC) مسلمانوں کی بین الاقوامی سطح پر ایک تنظیم ہے لیکن اس تنظیم کی طرف سے بھی اس حولے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ حقوق البشر کے عالمی اداروں کو آگے آکر اپنی ذمہ داری کو انجام دینا چاہے تھا لیکن اُن کا رول بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ مسلم ممالک کی وہ اتحادی فوج اِس وقت نظر ہی نہیں آرہی ہے، پتا نہیںکیا وجہ ہے؟
برما کے مسلمانوں کے ساتھ بھکشوں کا غیر انسانی سلوک اور پھر اُن کو زندہ جلانے کے واقعات سے سورہ بروج کے اصحاب الاخدود(the makers of the pit of fire) کاواقعہ ذہنوں میں تازہ ہو جاتا ہے۔ اس واقعہ کے متعلق پڑھنے کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کیسے گڑھے والوں نے ،مراد وہ لوگ جنہوں نے بڑھے بڑھے گڑھوں میںآگ بھڑکا کر ایمان لانے والے لوگوں کو اُن میں پھینکا اور اپنی آنگھوں سے اُن کے جلنے کا تماشا دیکھا تھا۔ ان نیک اور صالح مومنین میں سے جب بھی کوئی جوان مرد یا جوان خاتون ، ننھے بچے یا بزرگ حضرات ، طفلِ شیر خوار یا پیرِکہن آگ میں جھونکا جاتا ، تو یہ سرکش لوگ بہت ہی خوش ہو جاتے تھے۔ سورہ بروج میں ہی اللہ تعالیٰ ا ن آگ کے گڑھوں میں جلنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں، ’’ اوراُن اہلَ ایمان سے اُن کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبر دست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے‘‘(البروج: ۸-۹)۔
برما کے مسلمانوں کا بھی یہی جرم ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اسی لئے ان کو اتنا ستایا جارہا ہے۔ جب مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہوں تو باقی دنیا کے مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہونا چاہے کہ وہ بیٹھے ان کی مظلومیت اور قتلِ عام کا تماشا دیکھتے رہیں۔ حضرت سہل بن سعد ساعِدی آپ ؐ کا یہ ارشاد روایت کرتے ہیںکہ ’’گروہِ اہلِ ایمان کے ساتھ ایک مومن کا تعلق ویسا ہی ہے جیسا کہ سر کے ساتھ جسم کا تعلق ہوتا ہے، وہ اہلِ ایمان کی ہر تکلیف کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سر جسم کے ہر حصے کا درد محسوس کرتا ہے‘‘(مسندِ احمد)۔ ایک اور حدیث میں آپ ؐ کا یہ ارشاد منقول؛ ہے کہ ’’ مومن ایک دوسرے کے لئے ایک دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے تقویت پاتا ہے‘‘(بخاری و مسلم)۔
دنیا بھر میں لوگوں نے میانمار میں روہنگیا ئی مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جو کہ واقعی ایک قابلِ تعریف عمل ہے، لیکن سب سے زیادہ اہم کردار اِس وقت مسلمان ممالک کے سربراہان ادا کر سکتے ہیں، جس کی کمی پائی جارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان مسلکی اور مکتبی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ اجائے۔ مسلمان حکمرانوں کو چاہے کہ مغرب کے پیچھے پیچھے چلنے اور مغربی تنظیموں پر زیادہ بھروسہ کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں اور آپس میں اتحاد پیدا کریں۔ جب دنیا بھر کے مسلمان اور مسلمان حکمران اپنے اندر یہ چیزیں پیدا کریں گے تو پھر کھبی بھی کوئی ظالم حکومت یا اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے ساتھ آنکھیں ملانے کی جرات نہیں کریں گے ا ور دشمنوں کے مقابلے میں اُن کی کیفیت سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی سی ہونی چاہے۔
9622920083
٭٭٭

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.