قصہ گل بکاولی کا۔۔۔۔۔مشتاق کاشمیریؔ

قصہ گل بکاولی کا۔۔۔۔۔مشتاق کاشمیریؔ

دنیا کے اس مظلوم خطے میں فی الوقت ایک ملکۂ بے قلمداں تخت نشین ہے۔ موصوفہ نے اسلام دشمن قوتوں کی پش پنابی میں ظلم و جبر و استبداد روا رکھا ہے۔ اس ستم گر خاتون نے سینکڑوں معصوم بچوں کو بینائی سے محروم کیا، لاتعداد بچوں کو عمر بھر کے لیے اپاہچ کرکے رکھ دیا۔ اس بربریت کے عوض اپنے آقاؤں سے آشر واد حاصل کرتی رہی۔ اس کا بدترین دور تاصبح قیامت یاد کیا جاتا رہے گا۔
اس ملکۂ بے اختیار کی ملاقات ملکِ شام کے بڑے مفتی سے ہوئی۔ مفتی صاحب دورۂ کشمیر پر آئے یا اُن کو لایا گیا۔ اخبارات میں اس ملاقات کی بڑھا چڑھا کر تشہیر کی گئی۔ ریڈیو اور ٹی وی نے ملکہ کشمیر کی عظمت کے گیت گائے۔ ملاقات کے دوران مفتی صاحب نے ملکہ موصوفہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ صاحبہ آپ تو عالم اسلام کے لیے مثالی کردار کی مالک ہے اور میرے لیے اپنے ملک شام کی خواتین کے لیے ایک قابل تقلید مثال۔
مفتی صاحب کو بھلا کون کہے کہ ارے مولوی صاحب ملکہ صاحبہ ایک روایتی پیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ پیر صاحباں کی ریت رہی ہے کہ وہ نادار و کم علم لوگوں کو خرافات کے دلدل میں پھنساتے ہیں اور ان سے نذرانے وصول کرتے ہیں ان کی اولاد کی اُٹھان اور نشود نما اسی کمائی پر ہوتی ہے۔ دین سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا بلکہ دین کے چہرۂ زیبا پر یہ اور اس قماش کے لوگ داخ سیاہ بنے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نماز، روزہ اور دیگر ارکان دین سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔
ہم کشمیر ی مسلمان کی گردنوں پر اللہ کی نافرمانیوں کی پاداش میں ستر سال سے خدا بیزار اور ناہنجار منافقین سوار ہیں اور فی الوقت ملکۂ صاحبہ بھی ہیں۔ مفتی صاحب عقل حیراں ہے کہ آپ نے ایک ظالم اور انتہائی بے رحم سنگدل خاتون کو نہ معلوم کیوں کر عالم اسلام کے لیے رول ماڈل بننے کا فتویٰ دے دیا۔ علمائ کو نائب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا ہے۔ اسلام کے بارے نہایت احتیاط سے بات کرنا پڑتی ہے۔ یہ اللہ کا دین کوئی بے رحم جمہوریت کا نظریہ نہیں۔ آپ نے ملکۂ کشمیر کو شام آنے کی دعوت دی ہے تو ٹھیک ہے آپ کے ملک کی خواتین کے لیے اس کو ایک قابل تقلید مثال قرار دینا وہاں کے لوگوں کا کام ہے۔ میری گزارش ہے کہ آپ توبہ کریں ورنہ اللہ کے حضور آپ کو پچھتانا پڑے گا جہاں مفتی اعظم ہونے کی کوئی سند کام نہ آئے گی۔
رابطہ:9596167104

Leave a Reply

Your email address will not be published.