خوابیدہ اے انسان اٹھ ذرا

خوابیدہ اے انسان اٹھ ذرا

٭ہلال احمد تانتر ے……کپواڑہ

موجودہ دنیا مفروضوں اور گھڑے ہوئے پروپیگنڈوں کی بنیادوں پر چل رہی ہے ۔ حقائق و شواہد کا کوئی پاس و لحاظ ہی نہیں رکھا جاتا ہے۔ حکمرانوں کو یا تو اپنی ذاتی چودھراہٹ قائم کرنے کی فکر ہے یا اپنے قومی تعصب میں عوام کو بہکانے کی۔ ذات و قوم پرستی میں عوام کوبھی اِس اندھی دوڑمیں ایک خاص و مذموم مقصد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دوڑایا جاتا ہے۔ عوام کو مفروضوں اور پروپیگنڈوں میں اس طرح جکڑلیا جاتا ہے کہ اُن کا مستقبل انہی مفروضوں کے محور میں گھومتا رہتا ہے، جب کہ اُن کی حقیقی زندگی سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے انسا ن کو کوئی دقیق یا ضخیم کتابیں پڑھنے یا انفارمیشن کا انبار حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کو سمجھنے کے لئے انسان تسلسل سے اپنی ذاتی زندگی سے لے کر اقوام کی موجودہ صورتحال کی طرف نظر دوڑا کے جانکاری حاصل کر سکتاہے۔ بہت سی جگہوں پر انسان جب حقیقی حالات و واقعات سے اُکتا جاتا ہے اوراُن کا سامنا کرنے کے بجائے منہ موڑ لیتا ہے کہ شا ید راہ فرار اختیار کرنے سے حالات میں کچھ تبدیلی وقوع پذیر ہو جائے۔ بعض مقامات پر انسان اپنے آ پ کو جھوٹی تسلیاں بھی دیتا ہے یا کچھ ایسا سین (scene) تخلیق کر لیتا ہے جس سے دوسروں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دھوکہ دینا مقصود ہوتا ہے۔
بعینہ یہی صورتحال ہم اپنی ریاست میں دیکھ سکتے ہیں۔ آئے روز یہا ں یکے بعددیگرے پروپیگنڈے کو مفروضے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال کے عوامی انتفادے کے تناظر میں اقوامِ عالم کو کئی ایک مفروضوں میں بہکایا گیا۔ عوامی احتجاجی لہر اٹھتے ہی اُس سے دہشت گردی کا لباد ہ پہنایا گیا۔ ’دہشت گردی ‘ سے کچھ حاصل نہ ہونے کے بعد کہا گیا کہ اس کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔اُس بے جا کوشش میں بھی صفر حاصل ہونے کے بعد اوڑی کے فوجی بیس کیمپ پر حملہ کی کارروائی کی گئی کہ کسی طرح سے عوامی انتفادے کو شوشے کی نذر کیا جائے۔ جس کے بعد سرجیکل اسٹرائک کا ہنگا مہ گڑ کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ۔ اُس سے بھی جب عوامی لہر تھم نہ گئی تو پھر پاکستانی زیرِ انتظام بلتستان کو میڈیا ٹرائل میں ایک فتنے کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اُس سے بھی جب عوامی ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ رک نہ سکا تو پھر ملازمین طبقہ کو مختلف بہانوں سے پھانسنے کی کوشش کی گئی۔ اُس میں بھی ناکامی حاصل ہونے کے بعد آل پارٹی ڈیلی گیشن (All Party Deligation) کا راگ دہرایا گیا، جنہوں نے مزاحمتی قائدین کے گھروں تک سفر ِ خندان کیا، لیکن وہاں سے بھی خالی ہاتھ لوٹنے کے بعد مزاحمتی قائدین کے خلاف میڈیا کی عدالتیں بٹھا دی گئیں ، جس میں اُن کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی گئی۔ وہاں سے بھی جب نامرادی ہی ہاتھ لگی تو بعدمیں شبانہ چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا گیا کہ کیسے عوامی مبنیِ برحق احتجاجی لہر کو دبایا جائے۔ وہاں سے بھی کچھ ہاتھ نہ آنے کے بعد متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ چلایا گیا۔ کسی نے کہا کہ یہ95 فیصد اور 5فیصد کی رسہ کشی ہے، وہیں کسی نے ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ لوگوں کا حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں مرنا بر حق ہے کیوں کہ وہ وہاںدودھ اور ٹافیاں لینے کے لئے نہیں جاتے۔ اس کے بعد ایسے انسانوں کو کشمیریوں کے لئے بطورِرول ماڈل کے پیش کیا گیا جنہوں نے بھارت کی دیش پریمی اور دیش کی سیوا کرنے کے لئے ایک کشمیری ہونے کے باوجود ’لیپ ٹاپ ‘ و ’کیریر‘ کی راہ اختیار کی ہے۔ اس سے بھی جب اُن کے ہاتھ ناکامی کے سوا کچھ نہیں آیا تو پاکستان کے ساتھ جنگ کے مفروضے کو پیش کیا گیا۔اس مفروضے نے لوگوں کو اتنا بہکایا کہ بارڈر اور اس کے ملحقہ دیہات میں زیرِ زمین سرنگین کھودی گئیں کہ جنگ کے دوران جان کی حفاظت کی جائے گی۔اسی سلسلے کے چلتے اِس وقت این آئی اے (NIA) کو میدان میں لاکر آزمایا جارہاہے۔
اگر بھارت کی سیاسی بھاگم بھاگ پر نظر دوڑائی جائے تو وہاں پر اس بات میں کوئی قیل و قال کی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ بھارت اور وہاں کی سیاسی و معاشی بد حالی ایک مفروضے کی نظر ہو چکی ہے۔ نریندر مودی کے تختہِ وزارتِ عظمیٰ پر آنے کے بعد عوامی ردِ عمل کو’ خوشحالی‘ اور’ اچھے دن‘ کے خواب دِکھا کر ایک اندھیری و کال کوٹھری میں دھکیل دیا گیا۔ پاکستان کے نام سے نفرت کا عوام کو عندیہ دینا ، دہشت گردی کا غیر حقیقی بیانیہ، اسرجیکل اسٹرائک (surgical strike) کا ڈھونگ ، مختلف فلاحی اسکیموں کے پھیلاﺅکا دھوکہ ، نوٹ بندی (demonitization) کا مشہور و معروف تماشا، گﺅ رکشا کے نام پر قتل وغارت، ہندوتوا کے غیر معقول نعرے وغیرہ اِس وقت کے بھارتی عوام کا عمومی ردِ عمل پرویا اور عملایا جارہا ہے۔ جب کہ حقیقی و علمی بنیادو ں پر اِن چیزوں کا عوامی مفاد سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ اس میں وہاں کے میڈیا کو بھی بطور آلہ(tool) استعمال کیا جاتا ہے، جو اپنی ذہنی انا رکی و تعصب کے سبب کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔اس صورتحال میں اگر کوئی سچ کہنے والا اُبھرتا بھی ہے تو اس کو ناسمجھ گردانہ جاتا ہے، اس کی بات کو آگے آنے نہیں دیا جاتا ہے، اس کی مخلصی کو میڈیا میں کوئی جگہ ہی نہیں دی جاتی ہے، بالفاظِ دیگر اُ س کو کسی کسمپرسی کے حوالے کیا جاتا ہے یا تو زَر کے عوض خریدا ہی جاتا ہے۔
بھارت سے نکل کر اگر عالمی حالات و واقعات پر ایک سرسری نظر دوڑائی جائے تو وہاں پر بھی اس چیز میں کوئی شک نہیں کہ اقوامِ ِ عالم کے بین الاقوامی بیانیے (international narrative) کو بھی اِسی مفروضے و پروپیگنڈے کی نذر کیا جارہا ہے۔ وہاں پر جو حقیقی و سنگین مسائل اس وقت دنیا کو درپیش ہیں اُن کا کسی کو خیال ہی نہیں ہے۔ اِس وقت ہر سوں چھائے ہوئے مسئلے میں نمایاں مسئلہ روہنگیا مسلمانوں کی کسمپرسی و مظلومی کا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ اسی انسانی بحران کے بیچ جب اقوامِ متحدہ کا ۲۷ واں اجلاس منعقد کیا جارہا ہے وہاں پر کچھ اور ہی مسئلوں پر مصنوعی طور رویا جارہا ہے۔ فلسطین، کشمیر، مشرقِ وسطیٰ اور باقی جگہوں پر مظلومیت ، غریبی، کسمپرسی، مسکینی، لاچاری، بیماری، بے روزگاری و عدم توجہی کے شکار لوگوں سے ایک منصوبے اور بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنے آپ کو امن کے متوالے کہنے والے عالمی راہنما نظریں چرا کے اپنے ہی کچھ گھڑاوئے ہوئے مفروضوں و خود ساختہ مسئلوں کی طرف عالمی ردِ عمل کو موڑنا چاہتے ہیں اور جس میں وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔
عالمی پسِ منظر میں اِس وقت جن مسئلوں پر مصنوعی تشویش کی جاتی ہے ان میں دہشت گردی، موسمی بدلاﺅ، ایٹمی طاقتوں کا اُبھرنا اور پچھلے کئی سال سے ایک نئے پیدا کئے گئے شمالی کوریا کے خود ساختہ بیانیے کو نحوست اور موجودہ وقت کے سب سے بڑے مسائل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ بِلا شبہ یہ بڑے مسئلے ہیں، لیکن اِن مسئلوں کا موجودہ وقت کے ساتھ کون سی مطابقت ہے ، جس سے یہ انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟ اس سوال کی کھوج کرنے سے ایک بات جو مترشح ہو جاتی ہے یہ ہے کہ اِن سب مسئلوں کو یا تو تخلیق کیا گیا ہے یا یہ ایسے مسئلے ہیں جن کا حقائق کی دنیا سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ اِن مسئلوں کو تخلیق کرنے کے بعد عالمی ایوانوں میں بحث کرنے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے کہ لوگوں کی توجہ اُن کے حقیقی مسئلوں سے پھیر کر اِن مفروضوں کے حوالے کیا جائے۔ دنیا میں امن، ترقی و آشتی کے سب سے بڑے دعوے داراامریکہ کی کارستانیوں پر اگر ایک سرسری نظر دوڑائی جائے تو وہاں سے صرف ایک ہی بات آشکار ا ہو جاتی ہے کہ موجودہ وقت کے مسئلوں کی اصل جڑاسرائیل امریکی گود میں پل رہا ہے۔ 9/11کا رونا جو ابھی تک رویا جارہا ہے، اس پر پچھلی ایک دہائی سے جو تحقیق ہو ری ہے وہ اگر کسی کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہے وہ خود امریکہ ہی ہے۔ اس معاملے کو خود ترتیب دے کر دنیا کا ردِعمل اپنی ہمدردی کی خاطر موڑنا اور اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اس کا اہم اور بنیادی مقصد تھا۔ یہی اسٹریٹجی وہ زمانے سے استعمال کرتا چلا آرہا ہے، جس کی رو سے آج کل وہ عراق و افغا نستان سے لے کر ایران پہنچنے کے بعد ہزیمت اُٹھا کراب شمالی کو ریا کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ وقتی سروق کے اتار چڑھاﺅ کو لے کر باطل کے پروپیگنڈے حق کو نیچا دِکھا نے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں، لیکن بالآخر حق کو ہی غالب ہونا ہے، لیکن سوچنے کا مقام ہے کہ حق خود بہ خود غالب نہیں ہو گا۔ اُس کو غالب کرنے کے لئے تاریخ کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ جہا ں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تاریخ کا رخ حق و صداقت اور عدل و انصاف کی طرف موڑنے کا کام اسی دنیا کے باسیوں نے ہی کیا ہے۔ جن کے پاس حکمت و حالات کی صحیح شناسائی تھی، جو کسی کے گھڑے ہوئے مفروضے یا شوشے کی نذر نہیں ہوتے، جن پر طرح طرح کے پروپیگنڈو ں کے پنتھرے استعمال کیے گئے لیکن حقیقت شناسی سے وہ چٹان کی طرح چمٹے رہے اور جن کے پاس اپنے مقصد کو لے کو غیر متزلزل یقین تھا۔ وقتِ حاضر ، جس پر لٹیروں، چوروں، احمقوں، بے شرموں، چاپلوسوں اور رزیل ترین خصائل کے حامل انسانوں کا دبدبہ غالب ہے حق کے نام لیواﺅں سے بے یار و آس صدائیں لگا رہا ہے کہ کب و ہ غفلت کی نیند سے بیدار ہو کے اُس سے باطل کی خون ریزی، چاپلوسی، نا جائز منافع خوری، غاصبانہ آوارا گردی و منفی پروپیگنڈے سے نجات دلواکر حق کے حسین و جمیل لباس سے زیب تن کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.