آسان نہیں مٹانا نام ونشان ہمارا۔۔۔۔۔۔ علامہ یوسف القرضاوی

آسان نہیں مٹانا نام ونشان ہمارا۔۔۔۔۔۔ علامہ یوسف القرضاوی

مترجم : مولانا سعد الدین تاربلیؒ

الامة ” کسی کلمے پر ”ال“ لگانے کا مطلب اہل عرب کے نزدیک یہ ہے کہ اسے کلمہ کے متعلق ذہن، فکر اور قلب میں جو چیز بھی موجود ہوسکتی ہے وہ اس کلمہ میں سماجاتی ہے ”الامة“ بھی اسی طرح کا ایک کلمہ ہے اور مسلمان اس کو اپنے سے الگ کوئی شئے نہیں سمجھتا تو وہ اسکی منتہا کی طرف جاتا ہے۔ اسی سے عزت حاصل کرتا ہے اور اسکی بقا وفضیلت میں کوشان رہتا ہے۔ ہمارا مطلب امت الاسلام سے ہے۔
بےشک یہ ایک وحدت ہے۔ اس کا ایمان رب واحد پر ہے جو اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کا ایمان واحد کتاب پرہے اور وہ قرآن ہے اور اس کا ایمان رسول یکتا پر ہے اور وہ محمد علیہ الصلوٰة والسلام ہےں۔ یہ وحدت شب وروز میں پانچ دفعہ ایک ہی قبلہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور وہ ہے کعبہ بیت اللہ الحرام۔
یقیناً ممالک اور بستیوں میں اس کے شعوب قبیلے ہیں لیکن باوجود اس کے یہ امت ایک وحدت ہے۔ اسکی اساس اس کا عقیدہ ہے اور اس کے مابین رابطہ کا ذریعہ شریعت حقہ ہے۔ اس کا ذوق، مشرب اور ادب اسلامی ہے اور اس طرح ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم ”امم اسلامیہ“ کہہ دیں بلکہ ہم امت واحدہ کو شعوب اسلامیہ کہہ دیں گے جو امت واحدہ بناتے ہےں۔
حقیقت میں یہ ایک امت واحدہ ہے۔ بنیاد اور غایت کی رو سے، فکر وفہم کے لحاظ سے، شعور اور احساس کی بنیاد پر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وحدت کا تصور اس طرح دیا ہے۔ انہوں نے امت کو ایک جسم واحد فرمایا ہے اگر اس جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو بخار اور شدتِ تکلیف سے سارا جسم چیخ اٹھتا ہے۔
یہ امت دوسروں سے عمدگی اور خالص کی وجہ سے ممتاز ہے اور اس کی خاص خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُمت ”ربانی“ امت ہے۔
اس کے حق میں وحدت کے لئے صرف مصارف ایک ہی ملک میں ہونا لازمی نہیں یا یہ کسی خاص عنصر سے متعلق نہیں جیسے بعض اُمتیںہوتی ہے۔ نہ یہ ایک فرد کی خواہش کی پیداوار نہ کسی پارٹی، کسی طبقہ ، کسی مجلس شوریٰ یا مجلس منتخبہ کی رہین منت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تاکہ اپنا پیغام دنیا میں بیج دے۔ ”وکذالک جعلنا کم امة وسطاً“ (البقرہ: ۳۴)
اس کے خصائص میں جیسے کہ اس آیت میں آیا ہے اسکی ”وسطیت“ ہے۔ ہر چیز میں اس کے ہاں اعتدال ہے تصور اور اعتقاد میں، عبادت اور خود سپردگی میں، راست بازی اور اخلاق میں،عمل اور سلوک میں، شرع ونظم میں، سیاست اور اقتصادیات میں، داخلی اور خارجی تعلقات میں۔ یہاں مادہ روح پر بھاری نہیں اور نہ روح مادہ پر،فرد اجتماع کےلئے وجہ طغیانی اور فساد نہیں اور نہ ہی اجتماع فرد کے لئے باعث ذلت وفساد۔ یہاں تو ہر طرف حق رسانی اور حق دہی ہے۔ اور فساد وبغاوت کے بغیر حق کا مطالبہ پورا کئے جانے کا بندوبست ہے۔ اس حالت پر خدائے قدوس کا ارشاد ہے:
”اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈھنڈی نہ مارو۔“(الرحمٰن: ۸۔۹)
یہ امت ایک عالمی پیغام کی حامل ہے۔ نہ یہ اقلیم میں محدود ہے اور نہ قومیت میں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو تمام انسانوں کے لئے رہبری کے مقام پر کھڑا کیا ہے تاکہ عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ بنے۔
خدا نے فرمایا ہے:
”اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ”امت وسط“ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو۔“(البقرہ: ۳۴ا)
”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“( آل عمران: ۰۱۱)
اس امت کی وحدت زمین سے پیدا ہونے والے جنس کی طرح نہیں ہے اور نہ شیاطین کی قائم کردہ وحدت ہے جیسے کہ بعض لوگ وحدتوں کو جنم دےتے ہےں۔ اس کو ایک اگانے والے نے اگایا ہے اور نکلانے والے نے نکالا ہے اور وہ خدا ہے۔ یہ وحدت نہ نفس پر پابندی ڈال کر اور نہ اسکو عیش وعشرت کی لذتوں میں پھنسا کر اور حدود کو روند تے ہوئے قائم ہوئی ہے۔ یہ وحدت تمام انسانیت کے لئے بنائی ہے خواہ سرخ ہوں یا سفید، عربی ہوں یا عجمی، دولت مند ہوں یا فقیر ومحتاج۔ یہ امت ہے جو تمام عالم کے لئے مبعوث کی گئی ہے جیسے اس کی کتاب تمام عالم کے لئے ہدایت کا صحیفہ اور اس کا پیغمبر رحمة اللعالمین بنا کر بھیج دیا گیا ہے اس امت کی بعثت ایک رحمت ہے۔ عالم انسانی کے لئے آسانی ہے نہ کہ سختی، ذلت اور تنگی۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ تم آسانیاں لے کر آئے ہو نہ کہ سختیاں لے کر۔ اصحاب رسولﷺ نے یہ معنی پالئے اور انہوں نے یہ جانا کہ وہ زمین میں امتوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ہےں اور ان میں سے ایک صاحب یعنی ربیع بن عامرؓ نے اس بات کو فارس کے رستم کے سامنے واضح اور روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم کو خدا نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ انسان کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدائے واحد کا بندہ بنائےں۔ اسے دنیا کی تنگی سے نکال کر اسکی وسعتوں میں لے آئےں اور مختلف ادیان کے ظلم وستم سے چھڑا کر اسلامی عدل سے روشناس کریں۔
اس امت کی صفات میںاس کا ثبات ایک اور صفت ہے۔ اس کا پیغام دائمی اور اسکی کتاب دوامی ہے۔ شب وروز میں اسکی حیثیت دائمی ہے۔ دنیا میں قرآن کی تلاوت کو دوام ہے اور جب قرآن اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں محفوظ ہے تو پھر قرآن پر مبنی امت قرآن کے دوام سے دوامی ہے۔
خدائے تعالیٰ نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ اس امت کو کسی اےسے ہلاکت کے سامان کے حوالہ نہیں کرے گا جیسے کہ ماضی میں اُمتوں کے ساتھ کیا گیا ان پر قدرتی عذاب آئے۔ آسمانی بلائےں نازل ہوئی۔ وہ طوفان، حسف، مسخ، باد صر صر اور ایسی دوسری آفتوں سے ہلاک ہوئے۔ ایسی باتوں سے ہلاک نہ کئے جانے کی ضمانت اگر چہ ملی اور اس اُمت کےلئے غیروں کو جو ان کے دشمن ہوں، اس پر مسلط نہیں کیا جائے گا جو ان کی جڑیں کھودے اور ان کو نیست نابود کرے۔ اس اُمت کی ہلاکت آپس میں گردن مارنے اور ایک دوسرے کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور اس کا مزہ چکھانے ہی میں رکھ دی گئی۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اس امت کے محافظ رہنے اور اسے آفات سے ہلاک نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس کے جسمانی وجود کی ضمانت دی ہے۔ اس طرح اس کے معنوی وجود کو بھی اس بات سے بچانے کا اعلان کیا ہے۔ کہ یہ ساری کی ساری اُمت کبھی ضلالت کا شکار نہیں ہوسکتی۔ حدیث میں وارد ہے ”خدا میری اُمت کو ضلالت پر کبھی جمع نہیں کریگا۔ “
اس میں رازیہ ہے کہ یہ آخری امت ہے اسی طرح جس طرح اس کا پیغمبر پیغمبروں میں آخری پیغمبر ہے اسکی کتاب کتابوں میں آخری کتاب ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جیسے کوئی رسول نہیں اور قرآن کے بعد کوئی کتاب ہدایت نہیں۔ اسی طرح اسلام کے بعد کوئی شریعت اور اس امت ”الاسلام“ کے بعد کوئی اُمت نہیں تو اگر اس امت سے پہلی امتیں گمراہی پر جمع ہوگئی بھی لیکن بشارت کی رو سے اس اُمت کو اس کا کوئی خطرہ نہیں اور امتیں تو مکاں وزماں کے لحاظ سے محدود تھیں اور اُمت وسط کی وہ بات نہیں۔ یہ عالمی اُمت ہے اور جب تک شرق وغرب قائم ہےں یہ اُمت بھی باقی ہے۔ اور اس کی ہمیشگی مکان کے اعتبار سے ہے اور بحیثیت زمان اس کا وجود قیامت تک موجود ہے۔ اگر یہ امت ساری کی ساری گمراہی پر جمع ہوجائے تو اس کا مطلب عالم انسانی کی گمراہی ہوگی۔ اس معاملہ کو الگ رکھ کر کہ یہ تبدیلی کس نوع کی ہوگی ۔۔۔۔ حق یہ ہے اس کے بعد کوئی نہ ہوگا جو لوگوں میں ہدایت حق پیش کرے۔
یہ خدائے تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس اُمت میں وہ لوگ ہوئے جو حق میں جئے اور حق پرمرے۔ یہ وہ گروہ ہے جو مخلص ہے ۔ یہی توازن کا محافظ اور یہی بنیادی امور پر ثابت قدم ہے۔ اس کے متعلق فرمایا ہے
”ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔“(الاعراف: ۱۸۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اُمت سے حق پر قائم ایک طائفہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ ان کے مخالف ان کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ آخری دم تک وہ لوگ حق پر ہی قائم ہوں گے“
یہی طائفہ مسافران حق کے لئے نور کا منارہ اور حق کے اندر محو حیرت لوگوں کے لئے دلیل بنتا ہے۔ ضعیفوں کا یہی دستگیر ہے اور برھان لے کر یہی لوگ اللہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوتے ہےں اور علی الوجہ بصیرت اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دےتے ہےں۔ اللہ کا پیغام آگے بڑھاتے ہےں۔ اسی سے خوف کرتے ہےں اور کسی اور کے خوف کو اپنے ہاں کوئی مقام نہیں دیتے سوائے اللہ تعالیٰ کے خوف کے یہ ہر شئے سے بے خوف ہےں۔
یہی وہ ”غربائ“ ہےں جو لوگوں میں فساد کو صلح سے بدل دےتے ہےں اور ان چیزوں کا تدارک کرتے ہےں جو عالم میں فساد کا باعث ہوں۔ یہی ”ناجی “ فرقہ ہے ہلاکت زدوں کے درمیان اور راہ ہدایت کے پیرو ہونے والوں کے درمیان۔ اس کو اسی کی لگن اور اسی چیز کو یہ زندہ کرنے مین کوشاں ہے۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضوان اللہ علیہم قائم تھے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ ایسا طبقہ¿ مختار ومو¿کل عوام کے لئے وہ باقی رکھا کرتا ہے۔ یہ جہاں کو تعلیم دیتا ہے اور گمراہوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ غافلوں کو یاد دہانی کرنا اس کا کام ہے۔ مومنین کے لئے تذکیر نفع رسان ہے۔
”وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں) ہم نے کچھ ان لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہے۔“(الانعام : ۹۸)
اس امت کے دوام پر یہ بات شاہد ہے کہ اس کو حوادث اور نکبتیں نہ مٹاسکتی ہےں۔ اور نہ قتل کرسکتی ہےں بلکہ یہ اس امت میں متعارمت اور ثبات کی روح کو زندہ کرتی ہےں۔ دیکھا گیا ہے جب اس پر ہلاکت خیز مصیبتیں آئیں جو اسکی قوت کے مقابلہ میں گراں تھیں اور اس کی برداشت سے باہر تھیں اور لوگوں میں اندیشے اور وسوسے سے پیدا ہوگئے اور دشمن اسکی موت کو قریب سمجھے فطرتاً اور قدرتاً اپنی داخلی قوت سے یہ کمزوری کے اسباب پر غالب آئی اور قریب وبعید کے لوگوں نے دیکھا کہ کمزوری کے بعد یہ قومی ہوگئی ہے۔ عاجزی کو قوت سے بدل دیا گیا ہے اور انتشار کے بعد اجتماع کی صورت پیدا ہوگئی ہے اور موت جیسی بے حسی اور جمود کے بعد زندگی اور حرکت نمودار ہوگئی ہے۔
یہ چیز اسلام کے ابتدائی دور میں ہم نے ملاحظ کی۔ جب جنگ وجدل کا دور مانعین زکوٰة نے کھڑا کردیا۔ وحشی تاتاریوں کے حملوں میں مشرق سے اٹھ کھڑے ہوئے جو گویا یاجوج ماجوج تھے یا جو تباہ کن آندھی کے مانند تھے اور اُمت متفرق تھی۔ ہم نے یہی دیکھا۔
صلیبی جنگوں میں جو مشرق پر یورپ کے عیسائیوں کے حملوں کی وجہ سے ہوئےں اور جس میں انہوں نے فریب، مکاری اور چالاکی سے کام لے کر مارنے، جلانے، فساد کرنے اور کچل دےنے سے گریزنہیں کیا جیسا کہ تاریخ کے واقف خوب جانتے ہےں ہم نے یہی چیز دیکھی۔
ذاتی قوتِ کا ملہ جو امت میں موجود ہے کے بل بوتے پر ان تاریخی واقعات میں امت نے پشت نہیں پھیر دی، صلیبیوں کے زور کو حطین میں توڑا۔ بیت المقدس کو فتح کیا۔ جب وہ نوے سال دوسروں کے ہاتھ میں اسیر تھا اور لوئس ششم فرانس کا بادشاہ دار ِ ابن لقمان میں داخل ہوا اور فاتح بن کر تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دی اور اس کے بعد لوگ اسے گمان کرنے لگے کہ وہ ناقابل تسخیر بادشاہ ہے۔ یہاں تک کہ اس کا قول بھی عام ہوگیا کہ اگر کہا جائے کہ تاتار اس امُت کو مٹادینگے تو میں اس کی تصدیق نہیں کرسکتا۔
اور اس زمانہ میں ملت کے مجاہد ہر جگہ استعمار پسندوں کے خلاف مشغول پیکار ہےں۔ فرانسیسیوں کے خلاف عبدالقادر جزائری، اسپین میں عبدل الکریم خطابی، اٹلی میں عمر المختار، انگریز اور یہودیوں کے مقابلہ میں عزالدین القسام …. عمر المختار، انگریز اور یہودیوں کے مقابلہ میں ،عزالدین القسام فرانسیسیوں کے خلاف الجزائر کے مجاہد اور فلسطین میں وہاں کے معرکہ آرا صہیونیت کے خلاف مشغول پیکار ہےں۔ آج ہم دیکھتے ہےں کہ اسلامی ممالک مدت کے رکور اور رقود کے بعد سرگرم ہوئے ہےں۔ افغانستان، اری ٹیریا، فلپائین، مصر، شام ، ترکی میں ملت کے نوجوان قوت حاصل کرنے میں جدوجہد کررہے ہےں اور مشرق ومغرب میں اسلام کی طرف قدیم رسموں کے اور جدید فتنوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہےں۔ یہ ایمان میں قوی اور قوت میں مستحکم ہےں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اُمہ دائمی ہے وھن اور ہزل کے باوجود اسکی قوت اور اس کی اصالت موجود ہے۔
دوسری طرف اُمت کے مستشرقین سے اور سائنس کے علماءسے مختلف مقامات پر ہم دینی خصائعیں اور دوسری طاقتوںکا ذخیرہ بڑھا رہے ہےں وہ امہ کے لئے ہزار طرح سے سوچتے ہےں اور دشمن ان باتوں کے مستقبل میں لاگو ہونے سے کانپ رہے ہےں۔
(پروفیسر گب، اپنی کتاب ، وجھة الاسلام) The Cause of Islam یا Islamic pictures میں لکھتے ہےں ”اسلامی تحریک دنیا میں ڈٹ نہیں سکتی اِلایہ کہ دین میں جدت پیدا کیا جائے“۔
اور جرمنی کے ”اشمید“ نے ایک خاص کتاب اسی موضوع پر لکھی ہے۔ کتاب کا نام ”اسلام کل کی قوت ہے“ یہ ۶۳۹۱ءمیں لکھی گئی اور اس میں اس نے کہا ہے:
”مشرق میں اسلام کی قوت کا انحصارتین باتوں پر ہے“ :
(۱) اسلام بحیثیت دین کے اور اعتقادات کے قوی ہے۔ صورت برادری، رنگ اور ثقافات کے لحاظ سے اس میں قوت ہے۔
(۲) مشرق میں وہ حصے جہاں اسلام ہے طبعی دولت سے مالا مال ہےں۔ ان حصوں میں بحیرہ¿ روم سے مراکش تک مغرب میں اور مشرق میں بحر ہند سے حدود انڈونیشیا تک شامل ہےں۔
ان معدنیات میں لوہے ہےں۔ یہ حصے خود کفیل ہےں اور مسلمانوں کو ضرورت نہیں کہ ان کے لئے یورپ کے دست نگر ہوجائےں اگر وہ آپس میں تعاون اور یک جہتی پیدا کریں۔
(۳) تین میں سے آخری وجہ جو ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں افراد کی عددی تعداد ہے یہ ان کی مزید قوت ہے۔
پھر لکھا ہے کہ اگر یہ تینوں باتیں جمع ہوگئےں پھر مسلمان وحدتِ عقیدہ اور توحید الٰہی پر ایک ہوگئے اور طبعی طور پر ان کی تعداد بڑھ گئی پھر اسلام کا خطرہ یہ ہے کہ یورپ اس کے مقابلہ میں فنا کے گھات اتریگا اور عالمی سیادت اسی حصہ عالم کے ہاتھ آئیگی۔
ان عوامل پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد اشمید رسمی طور پر بغیر اس کے کہ وہ اسلام کے عقیدہ کی اصلیت کو جانے تاریخ المسلمین اور ان کے اتفاق وقربت سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ مغرب کی مسیحیت اور مغربی قومیں پھر صلیبی جنگوں کا اعادہ کریں گے لیکن اس کو غلط طریقے پر نافذ کریں گے۔
”رابرٹ بین“ نے اپنی کتاب “Sacred Sword” میں لکھا ہے:
”ہم پر واجب ہے کہ عرب کے علم اور افکار کو حاصل کریں کیوں کہ گذشتہ زمانے میں دنیا پر حکمرانی کی ہے اور قریب ہے کہ وہ دوسری دفعہ بھی ایسا کریں۔ جو روشنی حضرت محمدﷺ نے روشن کی ہے وہ زور اور جبر سے بجھائی نہیں جاسکتی اور اس نے یہ کتاب لکھی ہے تاکہ پڑھنے والے عرب کی اصلیت سے واقف ہوجائےں۔ “
اگر چہ ان کی تحریر میں حقد و حسد موجود ہے لیکن اسے ان پر ضرور اسلامی قوت کی نشاندہی ہوتی ہے اور وہ اس عظیم حقیقت کی تائید کرتے ہےں کہ یہ اسلامی اُمت کمزور توہوسکتی ہے لیکن مر نہیں سکتی۔ یقینا اس کو اللہ تعالیٰ نے دوام بخش دیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.