شادیاں اور رسومات بد…. ذمہ دار کون؟

شادیاں اور رسومات بد…. ذمہ دار کون؟

غازی سہیل خان/ بارہمولہ

دنیا میں ہر بار انسانیت کی رہبری و رہنمائی کے لئے انبیاءو رسل مبعوث کئے گئے جنہوں نے الٰہی احکامات کے مطابق راہ ِراست سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو صحیح راستے پر لانے کی کوشش کی ۔انہوں نے اپنے قول سے ہی انسانیت کی رہبری ور ہنمائی نہیں کی بلکہ اللہ کے یہ برگزیدہ بندے اپنے فعل سے بھی یہ کام مسلسل نجام دیتے رہے ۔ انبیاءو رسل کے بعد یہ کام تابعین،تبع تابعین ،بزرگان ِدین اور پھراہل علم کے ہاتھوں میں آ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ کوئی بھی انسانی معاشرہ طاقت اور ڈنڈے کے بل بوتے پر سکون حاصل نہیں کر سکتا ۔یا ہم یوں کہیں گے کہ سماج میں کوئی بھی بُرائی ، غیر اسلامی رسم و رواج ،گندے اور غلیظ کام دعوت کے بغیر ختم نہیں ہوسکتے ۔مگر اس کے لیے ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ جو بھی کوئی فرد انسانیت کو غیر اسلامی رسوم و رواج اور بُرے کاموں سے دور رکھنے کا بیڑا اُٹھانے کی ٹھان لے گا وہ سب سے پہلے خود ایسے کام سے دور رہے۔ پہلے اس کو خود غیر اسلامی رسوم و رواج سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اس کی بات میں اثر ہوگا اور انسانیت امن و سکون حاصل کر پائے گی ۔ ا سی حوالے سے اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ آیت نمبر ۴۴ میں فرماتے ہیں کہ ”تم دوسروں کو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو ،مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟حالانکہ تم کتا ب کی تلاوت کرتے ہو ،کیا تم عقل سے بالکل بھی کام نہیں لیتے؟“اسی طرح سورہ الصف آیت نمبر ۲ میںاللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟“یعنی اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند فرمایاہے کہ انسان کوئی بات بولے اور خود اس پر عمل نہ کرے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت ہمارا معاشرہ بُرائی اور بے حیائی ،رسم و رواج کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ ہر طرح سے غیر اسلامی رسم ورواج کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاںواعظین اور علمائے کرام کی ایک اچھی تعداد کے علاوہ ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو دین کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہمارے معاشرے میں بُرائیاں، بے حیایاں اورغیر اسلامی رسوم فروغ پارہے ہیں۔ایسا کیوں ؟اسلامی تعلیمات کے فروغ میں کہاں کمی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم اور ہمارے علماءکرام

معاشرے کو بدل نہیں پاتے ؟ آخرکیا وجہ ہے ہم آئے روز مغربی رسوم و رواج کے دلدادہ بنتے جا رہے ہیں ؟
چونکہ آج شادیوں کا سیزن اپنے جوبن پر ہے ۔اس حوالے سے جب ہم اپنے معاشرے میں ہو رہی شادیوں کا حال دیکھتے ہیں تو ایسا ہر گز نہیں لگتا کہ یہ اُمت محمد ﷺ کا طریقہ کار ہے ۔ہمارے معاشرے میں شادیو ںکو ایسے انجام دیا جا رہا ہے کہ جیسے عمر بھر کی کمائی کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ہمیں زندگی میں ایک بیٹے یا بیٹی کی شادی بڑے ہی دھوم دھام کے ساتھ انجام دینی ہے اور وہ مقصد آج پورا ہوگیا۔ہر طرف سے فضول خرچی،بینڈ باجے ،چراغاںکا بڑے ہی دھوم سے اہتمام ہوتا ہے ۔یہ سارے کا م تو شیطانی ہیں لیکن ان کا اثر براہ راست ہمارے معاشرے کے غریب اور مفلو ک الحال لوگوں پر بھی پڑتا ہے ۔نہ جانے ہمارے سماج میں ایسی کتنی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جو ابھی بھی اپنے ہاتھوں میں مہندی لگنے کا انتظار کرتی ہوں گی اور نہ جانے کتنی مائیں اور پدران اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے خواب سجا ئے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔مگر وائے افسوس !ہمارے سماج کے بے رحم صاحب ثروت لوگوں نے اپنی شادیوں میں ایسے گندے اور شیطانی عمل داخل کئے ہیںجن کی وجہ سے غریب سماج کی بہنیں اور بیٹیاں بس خواب سجائے ہی بیٹھی ہیں ۔اب اگر کوئی ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ بھی کر لے تو اس کو ایسے عمل خیر کے لیے بہت پاپڑبیلنے پڑتے ہیں۔
اگر عصر حاضر میں اہل علم اتنا کام سماج کی بہتری کے لیے کرتے ہیں تو ہمارے سماج میں ایسے رسومات کیوں ختم نہیں ہوتے؟ کیا وجہ ہے کہ اب مغرب میں شادیاں آسان اور امت محمدﷺ کی شادیاں مہنگی ہو نے لگی ہیں ؟ ہمارے سماج کے سرمایہ دار لوگ اپنی بیٹیوںکو گاڑیاںجہیز میں دے کر غریب عوام کی مفلوک الحالی کے لگے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں اب تو ہمارے سماج میں شادیوں پر لین دین والوں ہی کے ساتھ دوستیاں اورہمدردیاں رکھی جاتی ہیں۔ ایک قابلِ افسوس واقعہ کا میں عینی گواہ ہوں کہ ہماری برادری میں ایک شادی ہوئی اور اس میں کسی وجہ سے ایک رشتہ دار شرکت نہیں کرسکا۔ اس کے بعد سے جس کی شادی تھی اس نے ان کے ساتھ رابطہ کر کے خیریت پوچھنے کے بجائے اُن سے کہا کہ آپ کو دو ہزار روپے لین دین میں دینے تھے اور آپ نے ۰۰۵ روپے ہی واپس کئے ہیں اس کے جواب میں اس نے کہا کہ جناب ہم اس دن گھر میں نہیں تھے اور وہ ایک ہمارا بچہ خود سے ہی ۰۰۵ روپے لیکر دعوت پر آگیا۔ اس کے جواب میں شادی والے جناب نے فرمایا کہ ہم نے اپنے کے یہاں دو ہزار روپیوں کا لین دین کیا تھا اگر آپ لوگوں کو برادری کا خیال ہے تو آپ چار ہزار روپے دیں اور اگر رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے تو ہمیں اپنی ہی رقم واپس کریں ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ” نبی کریم ﷺ نے فرمایا’اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایساہے جیسا اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا،“(صحیح بخاری ) یعنی جس کسی نے بھی کسی کو کوئی تحفہ اس نیت سے دیا کہ وہ مجھے واپس کرے گاوہ ایسے ہے جیسے کسی نے قے کی اور پھر اس کو چاٹناہو۔کیا شادی بیاہ کے موقعوں پر اس نیت کے ساتھ لین دین کرنا کہ کل کو یہ سب دوگنا کے حساب سے واپس آجائے گا اس حدیث کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔
یہ افسوس ناک باتیں اور واقعات میرے ساتھ ساتھ نہ جانے اور کتنے لوگوں کے اذہان میں گردش کرتے ہوں گے ۔آخر وعظ و نصیحت کے بعد بھی ہمارا سماج ایسے قبیح رسومات سے خلاصی کیوں نہیں پاتا؟اس کی ایک بڑی وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ کہ ہمارے سماج کے مصلح اور واعظ یا داعی حضرات لوگوں کو ایسی چیزوں سے دور ر ہنے کی نصیحت اور تلقین تو کرتے ہیں لیکن اپنی باری پر ان سارے رسومات کا عملی حصہ بن کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔حال ہی میں میرے مشاہدے میں ایک اور افسوس ناک بات آئی کہ ایک صاحب جو کہ واعظ اور داعی بھی ہیں اور جمعہ کے موقعہ پر تقریر کے دورا ن زور سے گرج کر لوگوں کوزبر دست طریقے سے بُرائیوں اور غیر اسلامی رسومات سے دور رہنے کی تلقین بھی کرتے ہیں، بہت بار انہوں نے شادیوں میں فضول خرچی پر زور دار تقریریں بھی کیں لیکن افسوس جب ان ہی صاحب کے اپنے گھر میں ان کی بیٹی کی شادی کا موقعہ آیا تو میں یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ جتنی فضول خرچی ان کی بیٹی کی شادی میں ہوئی شائد ہی اس علاقہ میں ایسی فضول خرچی اس سے قبل ہوئی ہوگی۔اس کے بعد وہاں کے عام لوگوں کا تاثر اس حوالے سے یہی تھا کہ اب ہمیں کوئی نہیں روک سکتا جب ہمارے مصلح ،ہمارے خطیب حضرات ہی ایسی رسومات بد کا م انجام دیں گے تو ہمیں کون روک سکتا ہے۔حالانکہ علماءحق اور علماءسو ءکو ہم ایک ہی ترازو میں نہیں تول سکتے ہیں ۔ اللہ تعالی اس بات کو ناپسند فرماتے ہیںکہ ایک شخص کوئی بات بولے اور خود اس پہ عمل نہ کرے۔
سماج کے حساس طبقے اور علمائے حق سے ادباًگزارش ہے کہ وہ اس نازک گھڑی میں آگے آ کر سماج کو ان غیر اسلامی رسومات اور نا م نہاد ”واعظان و داعیان سے قوم و ملت“ کو بچائیں جو مساجد کے منبر و محراب کی حرمت کو پامال کرکے کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ۔تب ہی جا کر ہمارے سماج کے غریب اور مفلو ک الحال عوام سکون و چین کی زندگی گزار کر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے ہاتھ میں مہندی سجا کراپنے خوابوں کو حقیقت میںبدل سکتے ہیں ۔

********

Leave a Reply

Your email address will not be published.