جموں وکشمیر کی انتظامیہ مفلوج،لوگ پریشان۔۔۔۔۔ابو سلیقہ

جموں وکشمیر کی انتظامیہ مفلوج،لوگ پریشان۔۔۔۔۔ابو سلیقہ

٭…ابو سلیقہ
جموں وکشمیر ایسا واحد خطہ ہے جہاں زندگی کے کسی بھی شعبے میں لوگوں کو اطمینان حاصل نہیں ہے۔ آئے روز اخبارات عوامی مسائل سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ کہیں سڑکوں کی خستہ حالت کا رونا رویا جاتا ہے تو کہیں بجلی کی عدم دستیابی سے عام لوگ پریشان حال ہیں۔ عوامی سطح پر دو شعبوں کو کافی اہمیت حاصل ہوتی ہے، اور دنیا بھر میں بھی جن ممالک نے ترقی کی بلندیوں کو چھوا ہے اُنہوں نے ان ہی دو شعبوں پر تمام تر توجہ مرکوز کرکے اپنی ترقی کے دروازے وا کیے۔ تعلیم اور صحت ترقی پسند دنیا کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ۔ ہماری ریاست میں گورنمنٹ تعلیمی سسٹم اس حد تک خستہ ہوچکا ہے کہ اب اس کے سدھرنے کا کوئی امکان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ہیں لیکن نظام ایسا کہ اِن اساتذہ کی ذہنیت اور قابلیت کوئی چمتکار نہیں دکھا سکتی۔ محکمہ صحت میں بھی اعلیٰ ترین دماغ کام کرتے ہیں، کشمیری نژاد ڈاکٹر جب یہاں سے باہر جاکر کام کرنے لگ جاتے ہیں تو اُن کی قابلیت کا دنیا کو اعتراف ہوتاہے اور وہ اپنی محنت و لگن سے ثابت کردیتے ہیں کہ اُن کا تعلق دنیا کی کسی ذہین قوم سے ہے۔ لیکن جب ہم اپنے یہاں کے محکمہ صحت کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کی ایک بھی کل سیدھی نہیں پاتے ہیں۔
محکمہ تعلیم کا پورا سسٹم نہ صرف فرسودہ ہوچکا ہے بلکہ سب سے زیادہ سیاسی مداخلت اِسی شعبے میں ہوتی ہے۔ انسانیت کو تعمیر کرنے والا یہ شعبہ ٹریڈکلچر کا شکار ہوچکا ہے۔ اساتذہ صاحبان میں وہ لگن اور محنت کا جذبہ مفقود نظرآتا ہے جو ایک زمانے میں کشمیری قوم کی شان ہوا کرتی تھی۔ ریاست کے ہر خطے سے یہ شکایات موصول ہوتی ہیں کہ اساتذہ کرام یا تو اپنی ڈیوٹی سے ہی غائب رہتے ہیں یا اگر آبھی جاتے ہیں تو درس و تدریس سے اُن کی دلچسپی کا حال یہ ہوتا ہے کہ ہر وقت اُن کی نظر گھڑی پر ٹکی رہتی ہے کہ کب چار بج جائیں اور وہ ادارے سے رفو چکر ہوجائیں۔ اس میں قصوراِن اساتذہ کا نہیں ہے بلکہ یہاں کا سیاسی نظام ہی اس حد تک کرپٹ ہوچکا ہے کہ اب کسی کوجواب دہی کا احساس ہی نہیں رہا ہے۔ ڈریکٹوریٹ آف ایجوکیشن سیاسی چاپلوسوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ پرائیوٹ اسکولوں کی رجسٹریشن کے لیے گیٹ سے لے کر اندر تک ہر ایک کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے لوگ دوسروں کو دیانت داری کا درس دیا کرتے تھے لیکن آج حالت یہ ہے کہ یہاں اب اکثر جگہوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بچوں کے مڈڈے میل پر بھی ہاتھ صاف کیا جاتا ہے۔
شہر کے جتنے بھی بڑے ہسپتال ہیں اُن میں بھی تعیناتی کے لیے اقربا پروری کا چلن عام ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے بارے میں عام شکایات یہ ہیں کہ جعلی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ یا تو اُن کی سانٹھ گانٹھ ہے یا پھر یہ کمپنیاں ہی اُن کے اپنے عزیر و اقارب کی ملکیت ہیں۔ یہاں انتظامیہ میں موجود لوگ جونیئر ڈاکٹروں کو غیر ضروری ادوایات لکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اور جو ڈاکٹر انکار کرتے ہیں اُنہیں طرح طرح سے تنگ کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک قابل ڈاکٹر نے جب اپنے باس کے بیٹے کی کمپنی کا غیر معیاری دوا مریضوں کو لکھنے سے صاف انکار کردیا تو اِس کے نتیجے میں باس نے اُنہیں پی جی کے امتحان میں فیل کردیا۔ باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری ڈاکٹروں کی ڈرگ مافیا کے ذریعے سے ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے سامنے درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ مختلف شعبوں میں ماہر ڈاکٹروں کا یہاں قافیہ حیات اس حد تک تنگ کیا گیا کہ وہ نوکری کو ہی چھوڑ کر ریاست سے بھاگ کھڑے ہوئے اور پھر اُن کے حوالے سے یہاںیہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ زیادہ پیسوں کی لالچ میں بیرون دنیا کام کرنے چلے جاتے ہیں۔
ایجوکیشن اور ہیلتھ کے بعد یہاں پولیس محکمہ ہے۔ سب سے زیادہ افرادی قوت کا حامل اور جدید آلات سے لیس اس محکمہ کا بنیادی کام یہ تھا کہ یہ سماج میں پنپ رہے جرائم کا خاتمہ کریں، سماج کو مختلف خوف اور ڈر سے چھٹکارہ دلاکر وہ کام کریں جو دنیا بھر کی پولیس کرتی ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ بجٹ کا زیادہ تر حصہ پولیس پر خرچ ہونے کے باجود پولیس اپنی بنیادی ذمہ داریاں انجام دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس نے فوج کا کام کرنا شروع کردیا ہے۔ پولیس اپنی اصل ذمہ داریوں کو نبھانے کے بجائے وہ کام کررہی ہے جو فوج کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے عوام دن بدن پولیس سے خوف زدہ ہوتی جارہی ہے اور جرائم پیشہ افراد سماج کے لیے ناسور بنتے جارہے ہیں جس کی واضح مثال آج کل گیسو تراشی کے بڑھتے واقعات ہیں۔ گزشتہ پندرہ روز سے ایک سو کے قریب ایسے شرمناک واقعات پیش آئے ہیں اور ابھی تک پولیس کسی ایک بھی ملوث فرد کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ بالفرض اگر عسکریت یا سنگ بازی سے جڑا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے تو پولیس چند ہی گھنٹوں میں معاملے کو سلجھانے کا دعویٰ کرتی ہے، پولیس نہ صرف ملوثیں کا نام ظاہر کرتی ہے بلکہ اُن کی پوری پلاننگ کو بھی منظر عام پر لاتی ہے لیکن یہاں کی معزز خواتین کے بال کاٹے جارہے ہیں، دن کے اُجالے میں واقعات پیش آرہے ہیں اورہر قسم کی سہولیات سے لیس کشمیر پولیس کہتی ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہورہا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ایسا کیوں کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ محکمہ پولیس اپنے اصل کام کو یاتو بھول چکی ہے یا پھر اُنہیں جان بوجھ کر دوسرے کاموں میں الجھایا گیا۔
کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، یہاں جو بھی حکومت ہوتی ہے اُس کا بنیادی کام انتظامی اُمور کو احسن طریقے سے چلانا تھا مگر افسوس کا مقام ہے کہ یہاں جو بھی مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتا ہے وہ انتظامی امور کو یک سر نظر انداز کرجاتے ہیں، عوامی مفادات سے لاتعلق ہوکر دلی کے لیے یہاں راستہ صاف کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ یہاں کا ہر وزیر سیاسی بیان بازی کررہا ہے، کسی کو تعمیر ترقی اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی فکر ہی نہیں ہے۔ آئے روز بڑے بڑے پروجیکٹوں کا اعلان ہوتا ہے، کروڑوں اور اربوں روپے کی باتیں ہوتی ہیں لیکن یہ سب کاغذی گھوڑے ثابت ہوجاتے ہیں۔ عملی میدان میں نہ ہی بنیادی ڈھانچہ کسی ڈھنگ کا ہے اور نہ ہی انتظامیہ میں شامل بیروکریسی سے لے کر چھوٹے بڑے ملازمین میں کوئی اس کوشش میں دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے عوام کا بھلا کرے۔سرکاری خزانے کی بندر بانٹ ہوتی ہے۔ حال یہ ہے کہ ایک منسٹر صاحب کے بلاک صدر ، جوخود ہیری پھیری کرکے اپنے علاقے کا سرمایہ دار شمار ہوتا ہے نے بلاک آفس میں موجود غریبوں کے لیے کسی اسکیم کے تحت آئے پچیس لاکھ میں سے چوبیس لاکھ اپنی جیب میں ڈالے ۔محکمہ دیہی ترقی کی کسی اسکیم کے تحت غریب لوگوں کو سرکار گائے کے لیے چالیس ہزار فراہم کرتی ہے، اُن صاحب کے بلاک میں ایک گائے کے لیے رقم آئی تھی جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام نکلوائی ۔ یہ کام سرکار اور سرکاری لوگ ہر جگہ کرتے ہیں اور آئے روز جو یہ اربوں اور کھربوں روپے کی باتیں ہوتی ہیں یہ اِن ہی لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔
یہاں عوام پر ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی پامالی ہوتے دیکھ کر چپ نہ سادھ لیں۔ موجودہ دور میڈیائی زمانہ ہے، ہر ایک سوشل میڈیا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سرکار میں موجود راشی اور کرپٹ لوگوں اور اُن کے مقامی کارندوں کی لوٹ مار پر چپ نہ رہیں بلکہ آواز بلند کریں۔ یہ سرمایہ عوام کا ہوتا ہے، عام لوگوں کے ٹیکس کا یہ پیسہ ہوتا ہے ، چند لوگ اس کو ناجائز طریقے سے ہڑپ کریں اور عام انسان تماشہ دکھیں یہ بزدلی بھی ہے او رگناہ بھی!عوامی بیداری سے ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ لوگ اپنا جائز حق پالیں بصورت دیگر ہم یونہی شور مچاتے رہیں اور یہ کرپٹ لوگ لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.