اولاد کی تربیت والدین کی ذمہ داری۔۔۔۔۔ طس رمضان حرہ

اولاد کی تربیت والدین کی ذمہ داری۔۔۔۔۔ طس رمضان حرہ

معاشرہ ،ماحول اور سماج یہ ایسے الفاظ ہیں جو خواندہ اور ناخواندہ لوگ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔خصوصاً اس وقت جب انسان حیائ،اصول و آدابِ دین،فطرت اور اپنے مزاج و ذوق کے خلاف کوئی چیز دیکھے تو جٹ سے کہتا ہے کہ ماحول خراب ہو گیا ہے، معاشرہ تباہ ہوچکا ہے، معاشرہ برباد ہوا ہے،سماج بگڑ چکا ہے وغیرہ وغیرہ۔
معاشرہ کیا ہے ؟ ابنائے آدم کے ایک ساتھ رہنے سہنے کا نام۔ معاشرہ انسانوں کا ہوتا ہے جانوروں کا نہیں۔جہاں انسان نہ ہوں اسے جنگل، بیاباں، صحرائ، سمندر خلا جیسے نام دئے جاتے ہیں لیکن کوئی اسے معاشرہ نہیں کہتا۔ اگر چہ وہاں کی آب و ہوا کتنی ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو،لیکن لفظ ”معاشرہ “ اس پر صادق نہیں آتا ہے۔
انسان ایک دوسرے سے بے تعلق نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ ان کی زندگی کا لطف وسرور مل جل کر رہنے میں ہی ہے۔انسان کی فطرت ہے کہ یہ میل جول کو پسند کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی پیدائش کا جو نظام اللہ تعالی نے رکھا ہے اس کے لیے بھی ایک انسان کو دوسرے انسان کی ضرورت ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب ایک فرد معاشرہ کے خراب ہونے کا تذکرہ کرتا،تو اس کا اشارہ لوگوں کی طرف ہوتا ہے کہ لوگوں کا عمل خراب ہوگیا ہے۔
معاشرے کی اصلاح کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟اس سوال کا جواب تحریر کرنے سے پہلے میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اصلاح کے حوالے سے جو باتیں قلمبندکی جارہی ہیں، وہ کسی سیاسی پس منظر میں بیان نہیں کی جارہی ہیں۔ قارئین حضرات یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ پتا نہیں کس دنیا میں رہ کر باتیں کررہا ہے۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں ایک متنازعہ اور محکوم فضا میں رہ رہا ہوں، لیکن اس ماحول میں رہ کر ایک انسان کس قدر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکتا ہے، وہ ہر ایک جانتا ہے۔ جس کام کے کرنے پر ہم کسی خارجی دباو¿ کا شکار نہیں ہیں بلکہ صد فی ہمارے اپنے اختیار میں ہے ،جس طرح سے چاہیں ہم وہ کام انجام دے سکتے ہیں، ہمیں اس ماحول میں جتنی آزادی حاصل ہے اس کے متعلق کل قیامت والے دن ہم سے باز پرس ہوگی۔
اصلاح معاشرہ :
انسانی معاشرے کی شروعات ایک گھرسے ہوتی ہے۔ ایک بچہ جب اس دنیا میں جنم لیتا ہے تو اس کے لیے معاشرہ اس کے والدین سے ہی شروع ہوتا ہے۔انسان کی شخصیت دو طرح کے ماحول میں پرورش پاتی ہے، ایک گھریلو ماحول دوسرا گھر سے باہر کا ماحول۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی شخصیت موروثی عوامل اور بیرونی عوامل سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔
ماحول میں جو چیز سب سے پہلے انسان کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے، وہ اس کے والدین کا کردار ہے۔اسی حقیقت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے عیسائی، یہودی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
دراصل یہ والدین ہی ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی میں سب سے پہلے رول ماڈل کے طور پر سامنے ہوتے ہیں، بچے اپنے معصوم تخیل میں والدین کو اونچی مسند پر دیکھتے ہیں،ان کی کائنات ہی گہوارہ¿ والدین ہوتا ہے۔ماں باپ کی ہر بات بچوں کے لیے اہم ہوتی ہے اور ان کا عمل تو گویا بچوں کے لیے قابل تقلید اورنمونہ¿ عمل ہوتا ہے۔
اس لحاظ سے میاں بیوی کے باہمی برتاو¿ اور میل جول کے اثرات براہ راست بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ میاں بیوی جس طرح گھر میں رہتے ہوں گے، اس رہن سہن کی چھاپ بچوں پر پڑتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اکثر اسے اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔حالانکہ اس حساس اور اہم ذمہ داری کی طرف قرآن و حدیث میں جابجا واضح احکامات دیئے گئے ہیںاور اولاد کی تعلیم و تربیت کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگروالدین نے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کی تو یہ بڑے خطرے کی چیز ہے۔ اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے اور ذمہ داری والدین پرہوگی ۔چناچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو(جہنم کی) آگ سے بچاو¿“(التحریم6) اسی طرح ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم سب ”راعی“ ذمہ دار ہو اور اپنی رعیت کے ذمہ دار ہو۔
بچے کی اچھی تعلیم و تربیت کے ذریعہ اچھا سماج تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ آج سماجی الجھنیں تعلیم و تربیت کی خامیوں کی مرہونِ منت ہیں۔ موجودہ سماج میں دنیاوی تعلیم پر توجہ دی جارہی ہے لیکن اسلامی اخلاق و تربیت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے تعلیم یافتہ سماج ظلم، نا انصافی اور حق تلفیوں کے گھناو¿نے مرض کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی باپ نے اپنے بچے کو کوئی عطیہ اورتحفہ میں ادب یعنی اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا (رواہ الترمذی)۔ دوسری جگہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے ”اپنے بچوں کا اکرام کرو اور انہیں اچھی تربیت دو“۔ بچوں کے اکرام کا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کو پیار دیں ،ان کو تعلیم دینے کے لیے ادب سے بلائیں تاکہ وہ والدین کی جانب سے کسی توہین کا احساس نہ کریں۔
والدین چونکہ پہلی درسگاہ ہوتے ہیں، اسی لیے ان کا باعمل، بااخلاق اور مضبوط کردار کاحامل ہونا نہایت اہم ہے۔بچہ چند ابتدائی سال والدین کی زیرنگرانی تربیت حاصل کرتا ہے، اس عرصے کے دوران والدین کو چاہیے کہ بچے کی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنالیں۔اپنی ہر مصروفیت، تمام مشاغل کو ایک طرف رکھ کر بچوں کی بہترین تربیت کی خاطرسنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
آپ بچوں کو بڑوں کے ادب پر کئی لیکچرز دیں، وہ کبھی بھی اچھے آداب کو ملحوظ نظر نہیں رکھیں گے اگر آپ خود اُن کا خیال نہیں کرتے ہوں گے۔ آپ والدین کے حقوق پر اسلام کا نقطہ¿ نظر بالکل واضح کر دیں مگر وہ کبھی آپ کے حقوق ادا نہیں کریں گے اگر انھوں نے آپ کو آپ کے اپنے والدین کی حق تلفی کرتے دیکھا ہوگا۔ آپ بڑی رقم خرچ کرکے بچے کو بڑے قاری سے تعلیم دلوائیں مگر اس کے دل میں قرآن سے محبت و انسیت شاید ہی پیدا ہو پائے، اگر وہ آپ کو قرآن کے ساتھ وقت گزارتے نہیں دیکھتے ہوں گے ۔آپ بچوں کو کتنی بھی نماز کی تلقین کیجئے، لیکن اگر آپ خود نماز کے پابند نہیں آپ کی تلقین بے اثر ثابت ہوگی۔ بچے آپ کے عمل کو دیکھتے ہیں نہ کہ آپ کی باتوں کو۔ آپ بچوں کے سامنے نماز پڑھیں آپ دیکھیں گے کہ وہ بھی آپ کی حرکات کی نقل کریں گے۔
آپ گھر میں کسی کی غیبت کرتے ہیں تو وہ بھی ان ساری برائیوں کو دیکھ لیتے ہیں اور آگے چل کر وہ بھی وہی حرکات کرتے ہیں جو وہ اپنے گھر میں دیکھ چکے ہوتے ہیں۔غرض بچے کی زندگی میں ہر وہ چیز غیر اہم رہے گی جو والدین کی زندگی میں غیر اہم ہے اور ہر وہ چیز اہم رہے گی جو والدین کی زندگی میں اہم ہے۔لہٰذا ہر ذی شعور، صاحب فہم وفراست و عقل ودانش پر ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی نہج کے مطابق کرے تاکہ اولاد ان کے لیے دنیا اور آخرت میں فائدہ مند ثابت ہوں اور معاشرے میں اپنے والدین کے لیے باعث عزت ہوں نہ کہ ذلت کا باعث بنیں۔ یاد رہے کہ بچے خالی الذہن صاف ورق کی مانند ہوتے ہیں اور اپنے ماحول سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ان کے ذہنی ورق پر جو بھی رنگ چھاپ دیا جائے وہ اسی میں رنگ دئیے جاتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ماحول و معاشرے کے حوالے کرنے سے پہلے ان کی نظریاتی تربیت کرنا اہم ہے۔ ممکن ہے آپ بچوں کو گھر پر برائی سے بچائیں مگر وہی چیز بچہ سکول میں، یا کسی دوسری جگہ دیکھ لے، تب آپ اسے بچانے کے لیے وہاں موجود نہیں ہوں گے، اسی لیے بچوں کو اچھائی، برائی کا حکم دینے کے ساتھ، اس پر عمل اور اس حکم کی حکمت اور فوائد بھی سمجھائیں، بلکہ عملًا ملنے والے فائدے بھی دکھائیں۔اچھائی اور برائی کی بنیادی تمیز راسخ کریں، تاکہ وہ کسی معتبر شخص کو بھی برائی میں مبتلا پائیں تو اس برائی کو برا ہی سمجھیں، نہ کہ وہ ایسے کمزور ذہنیت کے حامل ہوں کہ ان کا نظریہ انسانوں کے ساتھ بدلتا رہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان نرم ونازک شاخوں اور کونپلوں کا رخ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول کی طرف موڑ دیںاور ان کے تناور ہونے کا انتظار نہ کریں تاکہ کل قیامت کو ہمارے لیے صدقہ¿ جاریہ رہیں۔بچوں کو معاشرے کے حوالے کرنے سے قبل ان کے اندر اسلام اور خیر و شر کے بنیادی نظریات راسخ کیجیے۔ مگر اس کے لیے آپ کے اپنے اندر خیر و شر کی تمیز اور اس پر یقین کا ہونا ضروری ہے۔
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸

Leave a Reply

Your email address will not be published.