کون کہتا نہیں خدا کو خدا

کون کہتا نہیں خدا کو خدا
  • 16
    Shares

٭ غلام نبی صدیقی

کون کہتانہیں خدا کو خدا

ہم نے جب کہہ دیا تو سزا پائی

عنوان بالا کا یہ شعر مولانا سعد الدینؒ مرحوم امیر جماعت اسلامی کا کہا ہوا ہے۔ سعد الدینؒ صاحب کی طبیعت شعرگوئی کی طرف بھی راغب تھی۔ چھوٹے چھوٹے بولوں میں شعر کہتے تھے۔ عام طور پر شعر گوئی کا رواج ان کی پسندیدہ چیز نہیں تھی۔ البتہ ان کی فکری وشعوری طورپر شاعری کی جانب میلان تھا۔ اس طرح شعر گوئی کے ذریعے انہیں کچھ آسودگی حاصل ہوجاتی تھی۔ عام طور پرجب وہ ماحول پر بے دین اثرات کی چھاپ کو محسوس کرتے تھے تو شعر کہتے تھے۔ شاعری کی اصطلاح میں ان کو” آمد“ کہیں گے” آورد“ نہیں۔ ان کی شعر گوئی پر اسلام کے اثرات زیادہ نمایاں ہوتے تھے لیکن عام شاعری محفلوں کا حصہ بننا اُن کی طبیعت کے خلاف تھا۔ صرف جماعت اسلامی کے اجتماعات میں اگر محفل مشاعرہ کا انعقاد ہوتا تھا تو اس میں حصہ لے کر اپنی شعر گوئی سے حاضرین کو محظوظ کرتے تھے ۔اُن کے اشعار میں فنِ شعر کا حسن نمایاں طور پر نظر آتا تھا۔نثر نگاری کے فن سے اچھی طرح واقف تھے ۔ نہایت اچھی اردو لکھ کر اپنی اردو نوازی کا ثبوت دیتے تھے۔اب ان کی زندگی کے دوسرے پہلو پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ وہ عنوان بالا میں جو میں نے لکھا ہے ”کون کہتانہیں خدا کو خدا….ہم نے جب کہہ دیا تو سزا پائی“یہ ان کی طبیعت پر دینی اثرات کے غلبے کا نتیجہ ہے۔۵۴۹۱ئ میں پٹھان کوٹ میں جب مولانا مودودیؒ نے اجتماع خاص بلایا اس میں اونچے درجے کے علماءنے حصہ لیا۔ اس اجتماع میں مولانا مرحوم نے اسلام پر روایتی نظر سے بچ کر نظریاتی طور پر اپنا جو مقالہ پیش کیا وہ یقینا روایتی ترجیحات سے ہٹ کر اُس اصل کا جامع نقشہ تھا جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں بالعموم اور خلفائے راشدین کے عہد میں ایمان وعمل کا وہ نقشہ زیر کار تھا جس کی طرف قرآن کی رہنمائی اور ترغیب معمول بنا ہوا تھا۔ مولانا مودودیؒ نے وہی تصور اسلام پیش کرکے اس اجتماع میں جونمایاں ثاثر پیش کیا، تجدید دین اور اس کے نظریاتی پہلو کے عین مطابق پاکر اُس وقت کے علماءدین نے اسے اپنی ہی بھولی ہوئی چیز سمجھ کر قبول کرکے اسے تحریک کے طور پر آگے بڑھانے کا جو راستہ بنایا وہی اس اجتماع کا مطلوب اور مقصود تھا۔ہمارے سعد الدین صاحب ؒمرحوم کا ذہن بھی اس اجتماع کے اثر سے جدیدیت کا آئینہ بنا اور اس طرح ان کے خاندانی روایات میں جو پیران طریقت کا ماحول بنا ہوا تھا اس سے ہٹ کر وہ اس موڑ پر آگئے جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دور تھا۔ یہ اب کشمکش حیات کا وہ سلسلہ بنا جو مسلمان کے روحِ حیات کا ایک لازمی حصہ ہے۔سعد الدین ؒصاحب کو اب اپنے خاندانی روایت اور پیران طریقت کے ماحول اور ان کے اثرات کو تبدیل کرنے کا ایک وہ راستہ بنا جسے جہاد کے نظریے سے بدلنا مقصود تھا مگر خاندانی روایات اور اپنے بھائیوں کی تکرار زحمت سے خاندانی روایات اور ترغیبات کو بدلانے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ یہ ہوا کہ ان کے بھائیوں نے انہیں الگ گذر بسر کرنے پر مجبور کیا، چنانچہ انہوں اپنی حیثیت کے مطابق دو کمروں پر مشتمل ایک گھر بسایا اور اس طرح اپنے خاندان سے بے تعلق ہوکر علاحدگی میں اپنا دینی کام جاری رکھا۔محکمہ تعلیم میں اپنی ملازمت کے دوران میں بھی اِدھر اُدھر اپنی تبدیلی کا شکار ہوئے۔ایک موقعہ پر شیخ محمد عبداللہ نے اپنی وزارت کے دوران اُستادوں کا ایک اجتماع بلایا۔ اس اجتماع میں شیخ صاحب نے اپنی نظریاتی زندگی کے پہلو سے سیکولرازم اور اس کی روایات کو قبولنے کی طرف اشارہ بھی کیا اور اصرار بھی۔ سعد الدین صاحب نے سیکولرازم کو قبولنے کے بجائے دین فطرت یعنی اسلام کو قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ شیخ صاحب نے سنا تو برہم ہوگئے اور اپنی جماعت کے لوگوں سے کہا کہ اسے اس اجتماع سے باہر نکالو۔ فوراً کچھ آدمی اُٹھے لیکن سعد الدین صاحب نے انہیں کہا کہ وہ خود ہی نکلیں گے اور نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ چنانچہ اُٹھے اور اجتماع سے باہر ہوگئے۔ یہ طاغوت کی طرف سے ان کے نظریاتی تصور دین پر پہلا حملہ تھا۔اس طرح جگہ جگہ انہیں تنگ کیا گیا اور آخرمیں اُنہیں سزا کے طور پر بانڈی پورہ سے جموں تبدیل کیا گیا لیکن اُنہوں نے جموں جانے کے بجائے نوکری کو ہی خیر باد کہہ دیا اور جماعت میں بحیثیت ہمہ وقتی کارکن کے شامل ہوگئے۔یہی اُن کی زندگی میں وہ سزا ہے جس کی جانب اُنہوں نے متذکرہ بالا شعر میں اشارہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.