اذان۔۔۔۔ دین حق کا داعی

اذان۔۔۔۔ دین حق کا داعی

٭شیخ جاوید ایوب

ماہنامہ اذان نہ صرف جماعت اسلامی جموں و کشمیر کا ترجمان تھا بلکہ وہ دین حق کا داعی بھی تھا، جماعت اسلامی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب بھی ہے جو نہ صرف جماعت اسلامی کی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک بہت ہی اہم ذریعہ ہے بلکہ اسکے نصب العین کا ایک ذبردست وکیل بھی تھا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس تاریخ ساز رسالہ کی تاریخ کو صحیح انداز سے مرتب نہیں کیا گیا ہے۔ جنہوں نے بھی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی تاریخ پر اپنا وقت اور اپنے قویٰ صرف کیے ہیں انہوں نے نہ صرف ’اذان‘ کی تاریخ اشاعت کو غلط درج کیا ہے بلکہ اپنی غلطی پر قائم بھی رہے ہیں۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی تاریخ پر مستند کتاب کی سند حاصل کرنے والی کتاب تاریخ تحریک اسلامی جموں و کشمیر‘ مانی جاتی ہے جسے محترم عاشق کشمیری صاحب نے قلمبند کیا ہے۔ یہ کتاب تین الگ الگ ایڈیشنوں میں شائع ہو چکی ہے۔ ۱۹۸۴ءکے ایڈیشن میں”اذان کا اجرا“ کے عنوان کے تحت محترم عاشق صاحب لکھتے ہیں کہ ’غالباَ‘ سال۱۹۸۴ءمیں تحریک اسلامی کو اپنے ایک رسالہ کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ ایک تحریک کو آگے لے جانے اور لا دین سماج تشکیل دینے والے افراد و افکار کی تردیدکے لیے اس کا ہونا ناگزیر تھا۔ اگر رسالہ چلانے کیلئے سرمایہ کی کمی تھی تاہم اﷲ پر بھروسہ کر کے رسالہ کی اجرا ءکی اجازت کیلئے درخواست دی گئی اور باقی ناموں کے ساتھ فہرست پر’ اذان ‘کا نام بھی درج کر دیا گیا۔ حکومت نے ”اذان “کے نام کو منظور کر کے اجازت دے دی اور اسطرح اس بتکدے میں”اذان“ گونجنے لگی۔ اذان سے پہلے دو اور پرچے ”شہادت“ اور” اقامت“ کے نام سے بھی اجرا کئے گئے تھے۔ لیکن اب باقاعدہ ماہوارا”اذان“ ہاتھ میں تھا“ (جلد ۲، ص، ۴۱)۔ ۱۹۹۱ءکا ایڈیشن (اس ایڈیشن میںپروفسر الف الدین ترابی صاحب نے ترمیم و اضافہ کئے ہیں) میں آپ لکھتے ہیں کہ ’بالآخر۱۹۸۴ءکے اوآخر میں محض اﷲ کے بھروسے پر ایک ماہنامے کے ڈیکلریشن کےلئے درخواست دے دی گئی۔ اس ماہنامے کیلئے تجویز کردہ ناموں میں ایک نام ”اذان“ بھی تھا، اور حسن اتفاق سے اسی کی منظوری ملی اور یوں ماہنامہ ”اذان“ منصہ شہود پر آگیا (جلد ۲، ۲۴)۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی نے ’اقامت ‘ اور ’شہادت‘ کے نام سے دو پرچے شائع کئے تھے(ایضاََ، نیز عاشق کشمیری ۲۰۱۵، ص،۳۴۱)۔

یہاں پر ایک بات قابل توجہ ہے کہ پہلے ایڈیشن میں عاشق کشمیری صاحب نے ”غالباَ “ کا لفظ لکھ کر’اذان‘ کی تاریخِ اشاعت کے قطعی نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا تھا مگر باقی کی دو ایڈیشنوں میں آپ نے ۸۴۹۱ءکی تاریخ کومستند کہہ کر مہر ڈال دی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی تاریخ کو دہرایا گیا ہے۔ خاکی محمد فاروق صاحب نے بھی اسی تاریخ کو ’اذان ‘ کے اجرا ہونے کی تاریخ بتایا ہے (خاکی محمد فاروق، جماعت اسلامی: جموں و کشمیرکی مختصر تاریخ، ص،۵۲، نیز جماعت اسلامی کی چنداہم شخصیات، ص ۴۲) محترم عاشق صاحب۱۹۸۱ءمیں ’اذان‘ کے ایڈیٹر بنے اور تب تک اس عہدے کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے جب تک کہ جماعت اسلامی پر پابندی نہ لگ گئی۔ آپ اذان مورخہ ۹ جنوری تا ۶۲ جنوری ۶۸۹۱ءمیں لکھتے ہیں کہ آج ہفت روزہ اذان اپنی ۳۷ ویں سالانہ گردش مکمل کرنے کے بعد ۳۸ ویں سال کے آغاز سے ہمکنار ہو کر آگے بڑھنے کا عزم کر رہا ہے(ص، ۱)۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آپ ’اذان ‘ کی پہلی اشاعت کو دسمبر ۸۴۹۱ءقرار دیتے ہیں ۔مجھے نہیں معلوم کہ ان کی اس بات کو کس طرح ثابت کیا جائے تاکہ اسے صحیح مان لیا جائے کیونکہ انہوں نے کسی ماخذ کا حوالہ نہیں دیا ہے۔

لیکن جب اذان کی تاریخ کو ہم خود ’اذان ‘سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اپنی تاریخ کچھ یوں دہراتا ہے۔ ہجری سنہ کے مطابق ذی الحجہ1371 یعنی اگست ۲۵۹۱، ستمبر۱۹۵۲ءمیں جماعت اسلامی نے ”اذان “ اور” شہادت“ کے نام سے دو پرچے سلسلہ مطبوعاتِ اسلامی کے تحت دارالمطالعہ اسلامی سے جاری کئے۔ اسی دوران جماعت نے ایک مستقل پرچے کی رجسٹریشن کیلئے بھی درخواست دی اور حکومت ِ وقت نے صفر ۱۳۷۱ھ مطابق اکتوبر، نومبر۱۹۵۱ءکو جماعت اسلامی کو ایک پرچہ اجرا کرنے کی اجازت دی۔ E.P.884 رجسٹر نمبر کے تحت ’اذان رجسٹر ہوا اور ماہنامہ کی صورت میں شائع ہونا شروع ہو گیا(اذان، محرم و صفر، ۱۳۸۲، مطابق جنوری ۱۹۵۳ ، ص، ۱)۔

یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ دو تاریخوں میں بھی ایک تضاد ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ جماعت اسلامی نے دو پرچے ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ بمطابق اگست ستمبر ۱۹۵۲ء،  جو کہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے، میں نکالے تو کیسے ممکن ہے کہ پھر صفر ۱۳۷۱ھ بمطابق ۱۹۵۱ئ، جو کہ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہوتا ہے ،میں ’اذان‘ رجسٹر ہوکرماہنامہ کی صورت میںشائع ہونے لگا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ماہنامہ ’اذان ‘ محرم و صفر ۱۳۷۲ھ میں درج ان تاریخوں کو درج کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ صحیح ترتیب یہ دکھائی دیتی ہے کہ پہلے دو پرچے یعنی’ اذان‘ اور’ اقامت ‘ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ میں نہیں بلکہ ذی الحجہ ۱۳۷۰ھ بمطابق ستمبر ۱۹۵۱ءمیں چھپے ہیں صفر ۱۳۷۱ھ میں ’اذان‘ ماہنامہ کی شکل میں شائع ہونا شروع ہو گیا۔ اس بات کی تصدیق ماہنامہ ’ اذان‘ کے ربیع الاول ۱۳۷۲ ہجری ،بمطابق نومبر، دسمبر ۱۹۵۲ءکے شمارہ میں محترم سعد الدین صاحب کے لکھے گئے اُس بیان سے ہوتی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ” ماہنامہ’ اذان ‘کو معرض وجود میں آئے ہوئے یہ دوسرے سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ گذشتہ اشاعت سال اول کے آخری ماہ اور سال دوم کے ماہِ اول پر مشتمل تھی جس میں اذان کے نصب العین کو واضح کی گیا تھا (اذان ۱۳۷۱ھ، ص، ۲)۔ محترم سید علی گیلانی صاحب نے بھی لکھا ہے کہ ’ اذان ‘ پچاسویں دہائی میں ماہوارارسالہ کی حیثیت سے اجرا ہوا۔(ولر کنارے، حصہ اول، ص،۵۲۱۔

’اذان ‘ کی اشاعت اول میںہی ’اذان ‘کے نصب العین کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا ”اذان “کے جاری کرتے وقت ایک خصوصی چٹھی کے ذریعہ اور پھر ’اذان‘ کے ایڈیٹوریل کے ذریعہ حسب ذیل مقاصد کو ’اذان‘ کیلئے مخصوص کر دیا گیا تھا:

انسانی فکر کو عام کرنے اور اس پر نئی فعال سوسائٹی تعمیر کرنے میں ایک ماہنامہ کس قدر کا ر آمد ہو سکتا ہے بالکل عیاں ہے لیکن کارگاہ حیات میں تخریب و تعمیر کے مختلف پروگرام لیکر روزناموں ، ماہناموں اور سالناموں کی جو فراوانی ہے اگر اس کو سیلاب سے تشبیہ دی جائے تو ماہنامہ اذان اس سیلاب میں ایک تنکے کا ہی درجہ رکھ لے گا۔الا توفیق الٰہی سے اگر کل یہ ایک صحیح ، تفکر اور بلند مرتبہ رسالہ ثابت ہو جو سیلاب کے رخ کو بدلنے اور حالات کو پلٹ کر اپنی طرح دی ہوئی راہ پر ڈالنے کیلئے بلالی عزم و جزم کا حامل ہو، فضل خدائے اکبر سے یہ بھی بعید نہیں(اذان، ۱۳۷۲ھ، ص، ۱)’اذان‘ کے شمارہ ۱۳۷۱ھ میں اس رسالہ کے مقاصدکو واضح کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’اذان‘ ’معروف‘ کے معنیٰ کو سمیٹ کر اسے سجدہ اور درونِ خانہ کی چند ایک نیکیوں میں محدود نہیں کرتا بلکہ جیسا کہ ’معروف‘ کے با ہمت اور جوانمرد داعیوں نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کہ اس کا دائرہ ایک شخص کی ذات سے شروع ہو کر پوری ملت بلکہ نسل انسانی کے سارے اداروں تک جا پھیلتا ہے، اس سے باہر نہ تعلیم رہ جاتی ہے نہ تجارت، نہ عدالت رہ جاتی ہے نہ حکمت ، نہ سیاست رہ جاتی ہے نہ معیشت کیونکہ یہی دین حق کا طرزعمل ہے۔ (بحوالہ، اذان ۱۳۷۲ھ)

’اذان‘ مورخہ ستمبر ۱۹۵۸ءکے اشاعت خاص کے شمارے میں(خصوصی شمارہ اس لئے کیونکہ اس خصوصی اشاعت میں شیخ احمد سرہند مجدد الف ثانیؒ اور جناب سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم کشمیرؒ کی سوانح حیات اور ان کی خدمات کو بیان کیا گیا ہے ) ماہنامہ ’ اذان‘ کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے مولانا سعد الدین صاحب لکھتے ہیں کہ ’اذان ‘ دین حق کا داعی اور اس پر نظام حیات قائم کرنے کے سلسلہ میںجدو جہد کا ایک ذریعہ ہے۔ ان عظیم شخصیات کا حوالہ دے کر سعد الدین صاحب لکھتے ہیں کہ ان پاک اور مقدس ہستیوں نے بھی انفرادی اور اجتماعی صورت میں اپنے دور میں اقامت دین کے مقصد کو اپنایا ہے اور اسی درخت کی آبیاری کی ہے جس کو اﷲ کے تمام دوست اور اس راہ کے تمام راہی سیراب کرتے رہے ہیں۔ کوئی کتنا ہی قلیل کام انجام دے اور اس کے کام میں طریق کار کے لحاظ سے کتنی ہی غلطیاں ہوں لیکن جب منزل و مقصد ایک ہو تو وہ تنظیم جومنظم صورت میں یہی کام انجام دے رہی ہو اور اپنے وسائل و ذرایع کی کمی اور ہمت کی پستی سے ہر روز دو چار ہوتی ہو، ایسے مقدس حضرات کا ذکر خیراپنے لئے اور اس راہ کے راہیوں کیلئے مشعلِ راہ سمجھتی ہے۔ ایک ایسی مشعل جس سے کہیں ثبات و عظم کا سبق حاصل ہوتا ہے تو کہیں صبر و شکر کا۔ یہ مشعل کہیں غیروں کی بیدردانہ مخالفت اور اپنوں کی بے پروا رفاقت کے مرحلوں میں ایک سہارا دیتی ہے اور ایک قدم آگے بڑھاتی ہے۔ یہ سرمایہ صرف ایک منظم تحریک کے حاملین کیلئے ہی ایک مختصر سیرت اور واقع نگاری کا تحفہ نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص جو اس مقصد کو اپنائے اس تحفہ کا وارث ہے۔ ’اذان‘ اس تحفہ کوعام کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور یہی خدمت انجام دیتا ہے(ص، ۷،۸)۔ادارہ اذان کسی بھی صورت میں اسلامی طریقہ کار کے خلاف نہیں جا سکتا۔ اسلئے تمام غیر مہذب اخلاق عالی سے ناآشنا اور عام طور پر رسائل کو مقبول بنانے کے عام طریقے نا جائز ہیں۔(اذان محرم و سفر، ۱۳۷۲ھ، ص، ۱)

کبھی ’اذان‘ جماعت اسلامی کی دعوت کو لوگوں تک پہچانے کیلئے ان الفاظ کا استعمال کرتا ہے کہ اگر ” آپ لادینیت کے بدلے حاکمیتِ رب، حکومتِ جمہور کے بدلے خلافتِ جمہور اور قوم پرستی کے بدلے اخوتِ انسانی کی بنیادوں پر دنیا میں نیا نظام تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کے نصب العین کا ساتھ دیجیے۔ یہ جماعت ہدایتِ حق کی روشنی میں دنیا کے اندر انقلاب پیدا کرنے کیلئے انسان کو خدا کی اطاعت کی طرف بلاتی ہے، اسکے سامنے مقامِ خلافت واضح کرتی ہے اور اسے انسانی اخوت کی شان کو واضح کرنے کی عملی دعوت دیتی ہے۔ اس کی تنظیم الحاد کے بدلے خدا پرستی، عوامی راج کے بدلے خلافتِ جمہور اور قوم، وطن و فرقہ پرستی کے بدلے اخوتِ انسانی کی بنیادوں پر قائم ہے“۔ اور خود ’ اذان‘ اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ ” اذان اس انقلاب کا داعی، اس تعلیم کا حامل اور اس تنظیم پر شاہد ہے“( اذان ذی قعدہ، ذی الحجہ، ۱۳۷۲ھ) ۔ ایک اور جگہ ’ ماہنامہ اذان‘ اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ ” ماہنامہ اذان اسلامی نظامِ حیات کے تمام پہلو نمایاں کرنے کی خدمت انجام دے رہا ہے اور اس نظام پر تعمیر ہونے والی سوسائٹی کے مختلف پہلو مثلاََ علم و ادب، حکمت و سیاست، معیشت و معاشرت سے بنی نوع انسان کو روشناس کرنے کے ساتھ ساتھ خدا پرستی، حق پسندی اور اخوتِ انسانی کے عملی پروگرام کو پیش کرتا ہے “ (اذان، رجب ۱۳۷۲ھ)۔

محترم سعد الدین صاحب لکھتے ہیں کہ جب ’اذان‘ معرضِ وجود میں آیا، اس وقت جماعت اسلامی کے پاس کیا تھا؟ کیا کوئی بڑی رقم تھی جس پر بھروسہ کر کے اس نے’ اذان‘ اسی شان سے پیش کیا کہ گویاکہ اس پر تجربہ و تنظیم کے سال ہا سال گزر چکے تھے؟ یا اس کے پاس کوئی اہل فن کا کوئی ترتیب یافتہ گروہ تھا جو اخبار نویسی کے نشیب و فراز سے واقف تھا اور اس میدان میں بخوف و خطر کود رہا تھا۔ سرمایہ ہوتا تو دوسری چیز کی کمی پوری کی جاتی ۔اور دوسری چیز ہوتی تو پہلی چیز پر فتح پاتے۔ مگر یہاں صرف جذبہ عمل، خلوص نیت، عزم بالجزم اور توکل علی اﷲ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس ان آخری ہتھیاروں کے بغیر اور کچھ تھا ہی نہیں اور اس بات کا نتیجہ یہ تھا کہ ’اذان‘ نکلا، آگے بڑھا اور نئی نئی منزلیں طے کرتا گیا(اذان ذی قعدہ ۱۳۷۲ھ، ص، ۲)۔ ’ اذان‘ کو نہ صرف مالی چلینج کا سامناتھا بلکہ ان تما م عوامی حلقوں سے بھی تھا جو ’ اذان‘ کو مودودی جماعت کا ”فتنہ“ بتا کر لوگوں کو اس کے مطالعہ سے دور رکھنے کی بھر پور کوششیں کرتے تھے۔ قاری سیف الدین صاحب لکھتے ہیں کہ مالیت کی قلت کی وجہ سے ’ اذان‘ ماہنامہ کی صورت میں چھپتا تھامگر مضامین کی دلکشی نے آہستہ آہستہ مقبول بنایا۔ اگرچہ لوگوں کو تلقین کی جاتی تھی کہ مودودیوں کا یہ رسالہ نہ خریدیں لیکن ’ اذان‘ ان سب مزاحمتوں کو عبور کر کے آگے بڑھا اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں میں بھی مقبول ہوتا گیا۔ (اذان، ۱۱ تا ۱۷ جون، ۱۹۸۷ئ، ص، ۲)

’اذان ‘ کی سال بھر کی کارکرگی پر تبصرہ کرتے ہوئے محترم سعد الدین صاحب لکھتے ہیں کہ ’اذان ‘ کے سال بھر کے مطالعہ کے بعد ا گر قارئین میں ذہن کی تبدیلی کے ساتھ عمل میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے تو اذان اپنی اشاعت کے وسیع دائرہ کے باوجود اپنے آپ کو نصب العین کے حصول کے بارے میں ناکام سمجھتا ہے اور اس ناکامی کی ایک جھلک اسے جماعت اسلامی کے ۶۱، ۱۷، ۱۸ اکتوبر۱۹۵۲ءکے سالانہ اجتماع میں نظر آئی کیونکہ اس اجتماع میں اس ذہین طبقے کی شمولیت کم دیکھنے کو ملی تھی جو سال بھر’اذان ‘ کے مطالعہ سے مستفید ہوئے تھے۔ (اذان، ربیع الاول ۱۳۷۲ھ، ص، ۲)

’اذان‘ نے جب اپنا سفر شروع کیا تویہ ایک سادہ سا ٹائٹل پیج لے کے قارئین تک پہنچ جاتا تھا۔ ٹائٹیل پیج پر ’اذان‘ کا رجسٹر نمبر اور ’دفتر ماہنامہ اذان کشمیر سرینگر‘ لکھا ہوا ہوتا تھا۔ کوئی بھی فرد سالانہ تین روپیہ دے کر ’اذان‘ کا خریدار بن سکتا تھے یا فی پرچہ پانچ آنے دے کر اس کو خرید سکتا تھا۔ ٹائٹل پیج کا اندرونی حصہ فہرست مضامین سے آراستہ ہوتا تھا جس کے اوپر علامہ اقبالؒ کی ضرب کلیم سے لیا گیا شعر نہ صرف اسکی زیب و زینت میں اضافہ کرتا تھا بلکہ خود ’اذان‘ کے مشن کی وکالت بھی کرتا تھا اور اس کے کام پر دلالت بھی۔ اس شعر کا انتخاب کاروان سخت جان سے جھڑے جانفروشوں کی وسعت ِعلم اور ان کی وسعتِ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ شعر ہے:

اگرچہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں

مجھے ہے حکمِ اذان لا الٰہ الا اﷲ

جماعت اسلامی نے اپنے موقف کوشعر کے ان الفاظ میں واضح کر دیا کہ اگرچہ مسلمانانِ کشمیر کے دل و دماغوں میں مختلف اقسام کے بت پوشیدہ ہیں، اور وہ توحید کی حقیقت سے بیگانہ ہو چکے ہیں لیکن وہ اسلام کے اس آفاقی پیغام کوبرادرانِ کشمیر اور خصوصاَ مسلمانِ کشمیر تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور نہ کبھی اس مشن سے دستبردار ہو گی۔ جماعت اسلامی کی اس دعوت کی زد میں تمام احبار و رہبان آگئے جن کو لوگوں نے خدا کے مقام پر لا کھڑا کر دیا تھا۔’اذان‘ نے جماعت اسلامی کا ترجمان ہونے کے ناطے یہ اعلان کر دیا کہ:

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آزری

’اذان‘ کی اشاعت سے وابستہ افراد روزِ اول سے ہی اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کر رہے تھے کہ ’اذان‘ نہ صرف معیار میں بلکہ تمام خوبیوں میں نمایاںحیثیت کا حامل ہو۔ اس ضمن میں ۱۳۷۱ھ کے ایڈیٹوریل میں لکھا گیا تھا کہ”ادارہ تحریر ماہنامہ کی خامیوں اور کمیوں کا پورا احساس رکھتا ہے۔ اپنے قلمی معاونین کا تعاون حاصل کرنے پر اسکو ایک اعلیٰ پایہ کا رسالہ بنانے کا خواہاںہے۔ اعلیٰ مضامین، بہتر کاغذ، اچھی کتابت و طباعت اور دیدہ زیب ٹائیٹل سے مزین کرنے کی سکیم پیش نظر ہے“(بحوالہ اذان، محرم و صفر، ۱۳۷۲ھ)۔ان مقاصد کو اولین فرصت میں ہی عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی اور ’اذان‘ کے حجم، کاغذ و کتابت کو معیاری بنایا گیا۔ خصوصاََ ٹائیٹل پیج کو یقینی طور دیدہ زیب بنایا گیا۔ اس ٹائیٹل پیج پر’اذان‘ ’دین حق کا داعی بن گیا‘ یعنی یہ سطر بھی ’اذان‘ کے ساتھ جڑ گئی۔ ساتھ میں علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر بھی اس ٹائیٹل پیج کی زینت بن گیا:

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود

ہوتی ہے بندہ مومن کی اذان سے پیدا

علامہ اقبال کا یہ شعراذان کی پہچان بن گیا۔

جماعت اسلامی کے جولائی ۱۹۵۳ءمیں سوپور میں منعقد سہ ماہی اجتماع میں ’اذان‘ کو منزل در منزل ترقی سے ہمکنار کرنے کیلئے ایک الگ نشست بلائی گئی جس میں ’ماہنامہ اذان‘ کے بارے میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا اور آخر میں طے پایا کہ’اذان‘ کی اشاعت زیادہ سے زیادہ ہو اور آئندہ تین ماہ کے اندر اندر کم سے کم آج کی نسبت اس کا حلقہ اشاعت دوگنا ہو۔ اس منزل کے حصول کیلئے جس بات پر زیادہ زور دیا گیا وہ ’اذان‘ کا امیر کبیر نمبر شائع کرنے پر تھا۔ اس منزل کو ’ماہنامہ اذان‘ کی پہلی منزل سے تعبیر کیا گیا۔ ’اذان کا یہ خصوصی شمارہ ذی الحجہ ۱۷۳۲ھ، بمطابق اگست، ستمبر ۱۹۵۳ءمیں شائع ہوا اور اس طرح یہ پہلی منزل طے پائی۔ اس منزل کو پار کر کے ’اذان‘ ماہنامہ سے پندرہ روزہ اور پندرہ روزہ سے ہفتہ وار اور ہفتہ وار سے روزانہ اخبار کے مقام تک لے آئیے۔  (اذان، ذی قعدہ ،۱۳۷۲ھ، ص، ۳)

سال ۱۹۷۳ءتک آتے آتے ’ اذان ‘ ماہنامہ سے ہفتہ روزہ کی صورت میں منظر عام پر آگیا تھا۔ قارئین کی شدت مطالبہ کو پیش نظر رکھ کر ’اذان ‘ کو ۱۹۷۳ءمیں روزنامہ کی شکل میں سامنے لایا گیا (اذان، ۱۹۷۸ء، ص، ۳) ۔ لیکن ۱۹۷۵ءمیں ہندوستان ایمرجنسی کی زد میں آگیا۔ ریاست جموں و کشمیرمیں بھی ایمر جنسی نافذ کردی گئی۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پابندی عائد کر دی گئی اور جہاں جماعت اسلامی کے باقی شعبے متاثر ہو گئے وہاں ’اذان‘ کی اشاعت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ ’اذان ‘مسلسل انیس ماہ تک قارئین کی نگاہوں سے اوجھل رہا۔ اٹھارہ ،انیس ماہ کے بعد جب امرجنسی سے چھٹکارا نصیب ہوا تو ادارہ’اذان‘ نے بھی نئی سانس لی۔ چونکہ جماعت کو الیکشن کے مرحلے سے گزرنا تھا اسلئے اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا کہ ’اذان‘ کو روزنامہ کی شکل میں شائع کیا جائے۔ اگر چہ جماعت اسلامی کے مالی حالات اس بات کی قطعاَ اجازت نہیں دے رہے تھے مگر دوسری طرف جماعت کو جن حالات میں نظریاتی اور سیاسی محاذ میں حصہ لینا تھا اس محاذ پر جماعت اسلامی روزنا مہ کو ہی ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتی تھی۔ اس بات کے پیش نظر رکھ کر ’اذان‘ کو روزنامہ کی شکل میں شائع کیا گیا۔ لیکن مالی حالت نے اس کوشش کو زیادہ دیر قائم رہنے نہیں دیا اور صرف کچھ مہینوں کیلئے ہی ’اذان‘ روزنامہ کے طور شائع ہوتا رہا اور پھر دوبارہ سے ہفتہ روزہ کی حیثیت میں منظر عام پر آگیا(اذان،۱۲ نومبر۱۹۷۸ء، ص، ۳)۔ جون ۱۹۸۸ءتک ’اذان ‘ ہفت روزہ ہی شائع ہوتا رہا اور پھر جولائی ۱۹۸۸ءسے تب تک روزنامہ کی صورت میں شائع ہوتا رہا جب تک کہ جماعت اسلامی پر پابندی نہ لگ گئی۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.