جھوٹ تمام خرابیوں کی جڑ

جھوٹ تمام خرابیوں کی جڑ

٭حافظ محمد مشتاق ربانی

حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ہر چیز سچ ہوگی یا جھوٹ، ہر قول و فعل ان دو کے گرد ہی گھومتا ہے۔ جھوٹ سچ کا (متضاد) ہے۔ جھوٹ ہر برائی کی جڑ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس میں کئی برائیاں تھیں۔ آپنے اسے صرف جھوٹ بولنے سے منع کیا۔ جھوٹ نہ بولنے کی وجہ سے وہ تمام برائیوں سے چھٹکارا پاگیا۔ قرآن مجید میں جھوٹ کی بہت مذمت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ سورہ آل عمران میں آپسے فرمایا گیا کہ نصاریٰ اگر آپ کی طرف سے پوری وضاحت کے بعد بھی کٹ حجتی کا مظاہرہ کریں تو پھر آپ انہیں مباہلہ کی دعوت دیں: ”پھر ہم سب مل کر دعا کریں اور لعنت کریں اللہ کی ان پر کہ جو جھوٹے ہیں۔“ {آل عمران }

سچ اور جھوٹ کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ”تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“ {صحیح مسلم}

ایک مرتبہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا مسلمان بزدل ہوسکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں ہو سکتا ہے۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا وہ بخیل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہو سکتا ہے۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ ظہور نبوت سے قبل تاجدارِ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم الصَّادق والامین کے لقب سے مشہور تھے۔ ہرقل، روم کا بادشاہ تھا، اس نے قریش کے سردار ابو سفیان سے اس وقت پوچھا جب وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اسلام کے مخالفین میں بہت نمایاں تھے: ”(جو شخص اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں) کیا انہوں نے تم سے کبھی جھوٹ بولا؟“ ابوسفیانؓ نے بتایا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔ گویا یہ وہی بات ہوئی: ”فضیلت اور خوبی وہ ہے جس کا دشمن بھی اعتراف کریں۔“ دشمن آپ کے سچ بولنے کے معترف ہوئے۔ آپکی انہی فضیلتوں کی وجہ سے آپ کے بہت سے دشمن دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

جھوٹ کے مختلف پہلو ہیں۔ ملاوٹ بھی جھوٹ ہے، چوری بھی جھوٹ ہے، بہتان بھی جھوٹ ہے، الیکشن میں دھاندلی بھی جھوٹ ہے۔ بعض لوگ نقصان سے بچنے اور فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے جھوٹ بولتے ہیں اور بعض فائدے کے لیے سچ بولتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں سچ اس لیے بولنا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ بولنے کا حکم دیا ہے اور جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے۔

جھوٹ کی تین اقسام ہیں: افعال میں جھوٹ، اقوال میں جھوٹ اور نیتوں میں جھوٹ۔ افعال میں جھوٹ کے لیے مثال حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کی ہے کہ وہ خون آلود قمیص لے کرآ گئے، حالانکہ انہوں نے حضرت یوسف کو کنویں میں پھینک دیا تھا۔ اقوال میں جھوٹ خلافِ حقیقت بات کرنے کو کہتے ہیں۔ نیتوں میں جھوٹ کی مثال کے لیے وہ حدیث ذہن میں لائیں جس میں قیامت کے روز تین لوگوں یعنی شہید، سخی اور عالم کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کیا جائے گا۔ ان تینوں سے باری باری پوچھا جائے گا کہ میرے لیے کیا لائے ہو؟ وہ سب اپنے اپنے کام بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی بات کو رد کردیں گے اور فرمائیں گے کہ تمہارا جنگ میں شرکت کرنا، مال خرچ کرنا اور دین کی باتیں کرنا سب ریا کاری اور دکھلاوے کے لیے تھا۔ وہ سب تم نے اپنے لیے کیا اورتمہارے پیش نظر میری رضا نہیں تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کی بنا پر ان تینوں کو جہنم میں پھینک دیں گے۔

جھوٹ پریشانی اور سچ اطمینان کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”شک والی چیز کو چھوڑ کر شبہے کے بغیر والی چیزوں کو اختیار کیا کرو‘ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔“ {سنن ترمذی و مسند احمد}

جھوٹ بولنے سے انسان باطنی طور پر کھوکھلا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ جھوٹ سے انسان اپنے کردار کی مضبوطی کھو دیتا ہے۔

بعض لوگ مذاق میں جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مذاق میں جھوٹ بولنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ احادیث مبارکہ میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے منع کیا گیا ہے۔ مزاح کی حس قابل تعریف ہے، لیکن اس میں جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں۔ بعض لوگ مسکراہٹ کی آڑ میں جھوٹ بولتے ہیں کہ مسکراہٹ ان کے جھوٹ پر پردہ ڈال دے گی، لیکن اللہ تعالیٰ تو جو کچھ سینوں میں ہے، اس کو بھی جاننے والاِ ہے۔ مزاح میں جھوٹ بولنے کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ملاحظہ ہو۔ بہز بن حکیم بواسطہ اپنے والد کے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاح کے طور پر جھوٹ بولنے والے شخص پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنے بیان میں جھوٹ بولے۔ ہلاکت ہے اس کے لیے، ہلاکت ہے اس کے لیے!“ {سنن ترمذی و ابوداود}

زندگی کے چند ایک امور ایسے ہیں جن میں جھوٹ بولنے کی معمولی گنجائش موجود ہے۔ ایسے امور جہاں جھوٹ بولنے کی چھوٹ ہے وہاں ہم بڑی بہادری سے سچ بولتے ہیں۔ اگر جھوٹ بولنے سے فریقین میں صلح ہورہی ہو تو وہاں جھوٹ کا سہارا لیا جا سکتا ہے، لیکن اس مقام پر عموماً سچ کو اختیار کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں مصالحت نہ ہو سکے۔

سچ انبیاءکرامؑ کا وصف ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکے بارے میں ارشادہے: ”بیشک وہ سچے نبی تھے۔“ (مریم) حضرت اسماعیل کے بارے میں آیاہے: ”بیشک وہ وعدے کے سچے تھے۔“ (مریم) سیدنا ابوبکرؓ ”صدیق“ کے لقب سے سرفراز ہوئے۔ صدیقیت ایک اعلیٰ مرتبہ ہے جو ہمیشہ سچ بولنے اور سچ کا ساتھ دینے کی صورت میں نصیب ہوتاہے۔ ہمیں سچ بولنے میں حضرات انبیاءؑ کی پیروی کرنی چاہیے اور کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ مختلف ممالک کو بھی ایک دوسرے سے سچائی کا معاملہ اختیارکرنا چاہیے۔ سچ سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور جھوٹ سے تعلقات ٹوٹتے ہیں۔ بہتر حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے سچ پر مبنی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کو ذمے داریاں سونپنی چاہیے جو جھوٹ سے کنارہ کش رہتے ہوں۔ میڈیا سے وابستہ افراد کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کے سامنے سچ لائیں اور جھوٹ سے قطعاً گریز کریں۔ سنی ہوئی بات بغیر تحقیق کے آگے بیان کرنا جھوٹ شمار کیا گیا ہے۔ اسلام میں تحقیق کے لیے کی جانے والی کوشش کو حسن نظر سے دیکھا گیا ہے۔ صحافت، وکالت اور عدالت سے وابستہ لوگوں پر بھاری فریضہ عائد ہوتا ہے کہ سچ کا ساتھ دیں اور اس کو اختیار کریں تاکہ معاشرے میں امن وسکون کو فروغ حاصل ہو۔ علمائے کرام کو بھی چاہیے کہ اگر دینی امور میں کسی دوسرے کی رائے بہتر ہو تو اس کو اختیار کریں، اس میں اپنے مسلک پر ہٹ دھرمی کے ساتھ ڈٹے رہنا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ لوگ باہم رشتے کرتے ہوئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، اسی لیے رشتے قائم ہونے کے بعد بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں، کیونکہ ان میں جھوٹ بولا گیا ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو سچ کی تاکید کرنی چاہیے اور اس کے لیے ان کے سامنے سچائی کا عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ اگر ہم خود سچ بولیں تو وہ بھی سچ بولنے کی کوشش کریں گے۔

اسلام ہی سچ ہے اور اسلام کے علاوہ تمام موجودہ ادیان باطل ہیں۔ اسلام کے پیغمبر الصادق والمصدوق ہیں، لہٰذا سچائی میں آپکی پیروی کرنی چاہیے۔ الغرض سچ وہی ہے جسے آپنے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپنے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور امن کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی لاتا ہے۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.