نومبر 1947ء: جب جموں میں انسانیت شرمسار ہوئی

نومبر 1947ء: جب جموں میں انسانیت شرمسار ہوئی
  • 38
    Shares

توصیف حسین آہنگر/کشتواڑ

اُردوزبان و ابدب کے نامور نقاد حسن عسکری کا مشہور قول ہے ” تقسیم ہند کے بعد رونما ہوئے فسادات نے اُردو افسانے کو چھپڑ پھاڑ کرموضوعات دیے۔“یہ ایسے موضوعات تھے کہ جن پر جب قلم چلا تو رُکنے کا نام نہیں لیا اور محض چند برسوں میں وافر مقدار میں نثری ادب تحریر ہوا۔ اگرچہ اُردو ادب کو اِن واقعات سے ترقی حاصل ہوئی لیکن بیک وقت ہی مکر و فریب اور حیوانی صفا ت کے حامل انسانوں کا بھانڈا پھوٹ گیا اور وحشت، خوف اور دکھ درد سے بھری ایسی داستانیں رقم ہو گئیں کہ آج بھی انسانیت اُنھیں یاد کر کے ماتم اور محوِ حیرت ہوتی ہے۔چشمِ فلک نے فرقہ وارانہ فسادات میں سینکڑوں نہیں ، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میںبے گناہ اور معصوم انسانوں کو انتہائی بے دردی سے قتل ہوتے ہوئے دیکھا ۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ہندوستان میںفرقہ وارانہ فسادات میں ۶ لاکھ سے زائد انسان قتل ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں اور معصوم بچے یتیم کئے گئے۔ اِن فسادات میں جموں کے مسلم کش فسادات کو نہیں بھلایا جا سکتا جس میںایک منصوبہ بند طریقے سے مسلم آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی اور مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق ۳ لاکھ مسلمانوں کو جموں شہر کے مختلف علاقوں میں قتل کیا گیا۔یہ ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے آج بھی جب یاد کیا جاتا ہے تو درد مند اور باضمیر لوگوں کی روحیں کانپ جاتی ہیں۔

1947ءمیں بٹوارے کے وقت موجودہ ہندوستان اورموجودہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے جن میں لاکھوں انسان بڑی بے دردی سے قتل کئے گئے ۔تقسیم ہند کا بنیادی اصول یہی تھا کہ ہندو اکثریت والے علاقوں کے لوگ ہندوستان کے ساتھ اور مسلم اکثریت والے علاقوں کے لوگ پاکستا ن کے ساتھ اپنا مستقبل اُستوار کریں گے۔اِس اصول پر ہندوستان اورپا کستا ن کے رہنماﺅں کے مابین اتفاق رائے بھی ہوا تھا۔ چنانچہ 14اور15 اگست1947ءکو پاکستان اور ہندوستان بالترتیب معرض وجود میں آئے ۔ لیکن اِس کے فوراًبعد لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کے عمل میں سرگرم ہو گئے اوراِس عمل کے دوران مختلف جگہوںمیںفرقہ وارانہ فسادات کی آگ رونما ہوئی ۔ صوبہ جموں میں بھی جہاں1947ءمیں مسلمانوں کی شرحِ آبادی 37فی صد تھی لیکن ایک منصوبہ بند طریقے سے مسلم آبادی کی بیخ کنی کرکے اِس کی آبادی کو10 فی صد بنا دیاگیا ۔رپورٹس کے مطابق 123 مسلم گاﺅں کی آبادی کو مکمل ختم کر کے اُنھیں ہندو اور سکھ اکثریت میں تبدیل کر دیا گیا۔مختلف حربوں سے مسلمانوں کوجموں شہر کے مختلف علاقوں میں جمع کر کے اُن پر شب خون مارا گیا۔ انسانیت کے دشمن گھات لگا کر انسانیت کو شرمسار کرنے والے تھے۔5 اور 6 نومبر 47 19ءکومسلم عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو پاکستان بھیجنے کے بہانے 100 سے زائدٹرکوں میں بھر کر جنگلوں میں لے جایا گیا جہاں انتہا پسند مصلح فوج اِن نہتوں پر درندوں کی طرح ٹوٹ پڑی اور ہزاروں کی تعداد میں اِنھیں قتل کیا اور خواتین کی عصمت دری کی ۔ عفت مآب خواتین نے اپنی عصمتوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان دینا گوارا کی۔ چناچہ کئی خواتین نے دریاﺅں میں چھلانگ لگا کر موت کو گلے لگا لیا۔ مختلف ذرائع سے حاصل شدہ رپورٹس کے مطابق اس قتل و غارت میں 3 لاکھ مسلمانوں کوانتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا۔فسادات کے بعد جموں کے کئی علاقوں کے نام تک تبدیل کر دئے گئے۔ اُردو بازار کا نام راجندر بازار کر دیا گیا،اسی طرح سے اسلامیہ اسکول ہری سنگھ ہائی سکول بن گیا۔اِس تمام قتل و غارت کی سرپرستی انڈین آرمی کر رہی تھی جو اُس وقت تک جموں وکشمیر کے ایک وسیع علاقے پر قابض ہو چُکی تھی۔ اِن تمام باتوں کا انکشاف متعدد اخبارات اور صحافیوں نے کیا ہے۔

10 اگست 1948 ءکو لندن کے ایک مشہور اخبار”The Times“ نے ایک رپورٹ شائع کی جو اخبار کے ایک خصوصی نمائندے نے مرتب کی اور جو ہندوستان میں برطانوی سرکار کے ایک اہم عہدے پر فائز رہ چُکا تھا۔ اُس نے لکھا” اکتوبر1947 ءمیں جموں شہر میں 2,37,000مسلمانوں کو ایک منصوبہ ¿ طریقہ سے مہاراجہ(ہری سنگھ) اور اُس کی ڈوگرہ فوج اور ہندوﺅں اور سکھوں نے قتل کیا یہاں تک کہ وہ پاکستان میں پناہ گزین ہو گئے “۔علاوہ ازیں مذکورہ اخبار نے ہی ” جموں میں مہاراجہ ہری سنگھ کی زیرِ نگرانی میں مسلمانوںکا صفایا“ جیسی شہ سرخی اپنے اخبار میں چھپوا کرمسلمانوں کی قتل و غارت کو منظر عام پر لایا۔Statesman نامی اخبار کے ایڈیٹر نے بھی اپنی کتاب “Horned Moon” میں لکھا ہے کہ 47 ءمیںجموں میں موسمِ خزاں کے آخر تک 200,000 سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا جا چُکا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ فسادات کیونکر رونما ہوئے؟ کیا اِس فسادات کو روکنے کے لئے اسباب پیدا کیے جا سکتے تھے؟آیا یہ فساد ایک منصوبہ کے تحت برپا کیے گئے تھے یا یونہی افراتفری کے نتیجے میں رونما ہوئے تھے۔ کتابوں کے مطالعہ اور تجزیہ نگاروں کے تجزیے پڑھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اِن فسادات اور قتل و غارت کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔اول تو یہ کہ جموں کی مسلم آبادی کو ختم کر کے اِسے ہندو اکثریت خطہ بنایا جانا تاکہ مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنے کے لیے ماحول سازگار بنایا جائے۔ دوم یہ کہ ہندوستان میں ہندﺅ ں کے قتل عام کا بدلہ جموں کے ہندﺅں نے مسلمانوں کے قتل کر کے لیناچاہا۔ اِس کے علاوہ بھی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق یہی دو اہم اور قوّی بنیادیں تھیں جن کی بنا پر خطہ جموں کو خونِ مسلم سے نہلایا گیا۔ایان کوپلینڈ اپنی کتاب ”The Master and the Maharajas: The Sikh Princes and the East Punjab Massacres of 1947“ میں ان فسادات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” ۸ لالکھ مسلم آبادی پاکستان کے لیے ہجرت کے لئے تیار ہوئی اور اِن میں سے 237,000 کو ایک منصوبہ بند طریقے سے مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج اور شدت پسند ہندﺅں اور سکھوں نے قتل کیا۔

آج اِس واقعہ کو گزرے ہوئے 71سالہ ایک طویل عرصہ ہو گیا ۔ لیکن مسلم حلقوں خصوصاً نوجوان طبقہ کو تاریخ کے اس بد ترین قتلِ عام سے کوئی آشنائی حاصل نہیں۔ نوجوان طبقہ کو پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کی قتل و غارت کے اعداد و شمارازبر ہیں ۔ ہندوستان کی انگریزی سامراج کے خلاف تحریک آزادی کے دوران جلیان والا باغ میں انگریز افسر جنرل ڈائر کی بربریت اور سفاکیت سے ایک ہزار ہندوستانیوں کے قتل عام کا علم ہے ۔لیکن جموں میں3 لاکھ مسلمانوں کے خون کی ندیوں کو بہانے کا علم اُنھیں حاصل نہیں۔ کشمیر کے چند مسلم رہنماﺅں بشمول مرحوم شیخ محمد عبد اللہ نے اُس وقت مسلمانوں کے اس قتل عام پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کی آواز دب گئی تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ اِس واقعہ کو مابعد تحریروں اور تقریروںمیں کم ہی جگہ ملی۔

آج صوبہ جموں کے موجودہ حالت و کوائف پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہمیں اِس بات کا خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں 47ءکے واقعہ کو پھر سے دہرایا جا سکتا ہے اور اِس خدشے کی بنیادیں اِتنی مضبوط اور قوی ہیں کہ کسی بھی ذِی حس کو اِس سے انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اوّل تو یہ کہ تحریک آزادی جموں و کشمیر اِس وقت عروج پر ہے اور صوبہ جموں میں اِس تحریک کو لیکر ہندوﺅں اور مسلمانوں میں ایک نمایاں تفریق نظر آتی ہے۔ ہندوﺅں کی اکثریت بشمول سکھ برادری ہندوستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو لیکر مطمئن ہیںاور وہ آزادی پسند طبقہ کو”انٹی نیشنل“قرار دیتے ہیں۔ لیکن مسلم برادری اقلیت میں ہونے کے باوجود تحریک آزادی جموں و کشمیر کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اول روز سے اپنی لازوال قربانیوں سے اس بات کو ثابت کرتی آئی ہے ۔صوبہ جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں حالیہ منعقد کی گئی آر ایس ایس ریلیوں سے بھی اِس خدشے کو تقویت ملتی ہے۔علاوہ ازیں بی جے پی جیسی شدت پسند تنظیم کے اقتدار میں ہونے سے بھی فسادات کو ہوا لگ سکتی ہے اور جس طرح 47 ءکے فسادا ت کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی ، عین اُسی طرح اس بار بھی حکومتی سرپرستی میں یہ خونین کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے آخری کلام قرآن مجید میں انسانوں کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے (سورة المائدہ آیت 32) اور اولاد آدم کو تلقین کی گئی ہے کہ انسانی جانوں کا اکرام کیا جائے(الاسرا، آیت 70)۔ یہ اسلام کی آفاقی تعلیمات کی وہ روشن قندیلیں ہیں جس سے اولاد آدم کی جان کی قدروقیمت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔چاہے ہندو قتل ہو یا مسلمان، سکھ قتل ہو یا بودھ ، عیسائی قتل ہو یا کسی اورمذہب کا پیروکار ، اسلام کی رو سے یہ تمام انسانیت کا قتل ہے ۔لہٰذا سنگین سے سنگین ترحالات پیدا ہونے سے قبل ہی مسائل کے حل کے لیے سنجید گی کے ساتھ مثبت رویہ اپنایا جانا بے حد ضروری ہے۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.