میرے اِس درد دل کا دوا کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ داوؤد ابن نذیر(ہندواڑہ)

میرے اِس درد دل کا دوا کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ داوؤد ابن نذیر(ہندواڑہ)

(خود کلامی)
آسمان کی بلندی سے قدرت کی رحمت گلستان کو سیراب کر رہی تھی۔ مدھم مدھم برستی بارش کے سریلے نغمے پوری کائینات کو اپنی آغوشِ محبت میںسُلا رہے تھے۔ ہر ایک ذی حس و ذی جان پر سکون و اطمینان طاری تھا۔ اردگرد کا ماحول وہ چاروں طرف سبز گہنوں میں اپنے آپ کو سجائے اور سنوارے قیام میں ٹھہرے وہ قدرت کے پہرہ در اور اُن پر اس کے بے شمار شاہد۔ جو اپنے مالکِ حقیقی کے ساز میں سُر ملانے میں مگن تھے۔ ارض و سموات کے ہر ایک صاحب ادراک کو ہولے ہولے یہ عجیب سکون و چین اور یہ سریلی فضا ذہن کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبولینے کے ساتھ ہی حال سے لے کر ماضی کے حالات و واقعات کی سیر پر لے گئی۔ زخموں سے چور شہر غم کا مکین بھی سر بہ زانو تھا۔ یہ شہر جس کو فلک نے تاراج ہوتے دیکھا ہے۔ اس شہر کے باسی نے جب ماضی و حال کے بحر بیکراں میں غوطہ زنی کی تو کیا دیکھتا ہے۔
وہ فلک بوس پہاڑ اور وہ سبزہ زار وادیاں جہاں کبھی ایسے نغمے اور گیت بلند ہوتے تھے۔ جو ہر بے سکون دل کو سکون و اطمینان عطا کرتے تھے اور جو پوری عالم انسانیت کے درد کا مداوا ہوا کرتے تھے۔ لیکن وا حسرتا! آج ان فلک بوس پہاڑوں اور ان حسین وادیوں میں ایسی پرسوز و پر درد صدائیں اور ندائیں سنائی دے رہی ہیں کہ جس سے فرش سے لیکر عرش تک ایک سوگوار فضا قائم ہوتی ہے۔
وہ سمندر و دریا وہ جھیل و آبشار جہاں کبھی “آب حیات” جاری ہوتا تھا۔ آج یہ کیا ہوگیا ہے ؟ یہ جہلم و ڈل اپنی گود میں سرخی لیے ہوئے اپنی خاموش لہروں پر حْزن وملال اور حیرانی و پریشانی کے عالم میں بالکل ساکت اور منجمد ہوکر رہ گئے ہیں۔ آب حیات کے لیے ترستے اور تڑپتے اپنوں کو بھی آخر یہ پلانے سے قاصر کیوں ہیں ؟
پھولوں کی وادی میں آج کانٹوں اور خاردار جنگل کا نظارہ ! پھول کھلتے ہی مرجھا جاتے ہیں۔ باغ یہ خزاں رسیدہ ہوگیا ہے۔
واہ ! میری ماضی کا وہ تابناک البم دیکھتے ہو۔ جب اہل علم و ہنر اور اصحاب خیر میرے گلستان کی خوبصورتی دوبالا کرتے تھیں۔ لیکن آج کا سماں آج نگر نگر گداگروں اور سوداگروں کی بہت بڑی فوج ! لاچاروں مصیبت زدوں اور بے کسوں کی آماجگاہ یہ شہر بدنصیب۔
میرے مسکن کی سبز مخملی قبا جو ازل سے ہی قدرت نے اسے زیب تن کی تھی۔ آہ ! یہ بھی آج سْرخی بارش سے تر بہ تر ہے۔ میرا باغ یہ کتنا وسیع و عریض تھا کہ غیروں نے یہاں پرورش پائی تھی۔ لیکن آج یہ اتنا سکڑ کر زنداں کیوں بن گیا ہے ؟
ایک زمانہ تھا یہاں اعلان برات ہوا کرتے تھے۔ خوشی کے پیغام جاری ہوتے تھے لیکن آج سکوت کیوں ! میں چیختا چِلاتا مدد کو پکارتا لیکن “غار بے نام” سے میری فریاد بھلا کون سن سکتا ہے۔ میں دیکھتا پوری دنیا کا نظارہ کرتا۔ اپنی اجڑی بستی کے کھنڈرات ہی دیکھتا میں۔ اپنی خون آلودہ خاک کا چشم نم سے نظارہ کرتا۔ اپنوں کے بے گوروکفن لاشوں کے انبار دیکھتا۔ میں دیکھتا گمنام قبروں کے لہلہاتے وسیع و عریض مزاروں کو دیکھتا۔ ماؤں کے اْن ہزاروں اور لاکھوں گمشدہ شہزادوں کو دیکھتا۔ یتیموں اور بیواؤں کے اْن لاکھوں سہاروں کو دیکھتا جو صبح نکلے تھے لیکن ابھی تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔ جو اکلوتے بھائی آرام چھوڑ کر اپنی بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے محنت مزدوری کرنے نکلے تھیں۔ میں انہیں بتاتا کہ تمہاری بہنیں ادھیڑ عمر کو پہنچیں اور تم ابھی آئیں نہیں ! میں ان سب کو ڈھونڈتا لیکن میں میری آنکھوں پہ کالی پٹی باندھ کر مجھے اندھا بنا کر اذیت خانے کا مہمان بنادیا گیا ہے۔ میرا انگ انگ کاٹ کر مجھے اپاہچ بنادیا گیا ہے۔
سْریلی بارش کے مست نغمے جب آہستہ آہستہ خاموش پڑھتے گئے۔ تب سفر کے ان ہولناک شعاؤں سے چور “شہر غم” کا مکین اپنی جونپڑی کے ایک کونے میں پڑا ہوا آب آب تھا۔ اِدھر اْدھر چاروں طرف نظریں دوڑاتا خوف و ڈر سے کپکپاتا اس کا پورا وجود خشک لبوں سے دھیمی آواز میں گویا ہوتا ہے۔ میں کہتا
اور لکھتا بھی ! ضرور لکھتا میں وادء عذاب کے ہر عذاب سے دنیا کو باخبر کراتا لیکن آہ ! میرا قلم بھی مجھ سے چھین گئے یہ۔ مجھے قسم ہے میں اپنی انگلیاں اپنے خون جگر میں ڈبو کر اپنی داستانِ غم و الم رقم کرتا لیکن میرا خون پانی کی نذر کر دیا گیا اور میں بے حِس و بے جان ہو کے پڑا ہوں۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.