مصر کی جیل سے مشہور اخوانی عالم ڈاکٹر صلاح سلطان کی ایمان افروزتحریر

(یہ پیغام اسلامی فقہ اکیڈمی کے حالیہ چھبیسویں سیمینارکے لیے ۲۰؍ فروری۲۰۱۷ء کو لکھا گیا، اس خط میں فقہ اکیڈمی کے سلسلے میں نیک جذبات،اعلی خواہشات اور مفیدمشورے بھی شامل تھے، جنہیں طوالت سے بچنے اور پیغام کی عمومیت برقرار رکھنے کی خاطر حذف کردیا گیا ہے۔مترجم)

مصر کی جیل سے مشہور اخوانی عالم ڈاکٹر صلاح سلطان کی ایمان افروزتحریر
  • 186
    Shares

ترجمہ: محی الدین غازی
جیل کی تاریک کوٹھری سے میرا یہ پیغام سرزمین ہند کے ہر بزرگ او ر ہر نوجوان عالم کے نام ہے۔ جیل کا ذکر قرآن مجید میں دس مرتبہ ہوا ہے، اور ہر مرتبہ صرف اور صرف مصر کی جیل کا تذکرہ ہوا ہے۔ اور جب بھی ہوا ہے کھلے ہوئے ظلم کی علامت کے طور پر ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ جیل کے اندر میں اور میرے ساتھی ہولناک ترین اذیتوں سے گزر رہے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ہماری تصویر مسخ کرنے کی ساری کوششیں کی جارہی ہیں، یہاں تک کہ میرے بارے میں ان لوگوں نے یہ بھی پھیلادیا کہ میں ان دس لوگوں میں ہوں جنہیں دنیا ہی میں جہنمی ہونے کا پروانہ مل چکا ہے، (اللہ کی پناہ)۔پر خدا ئے ذوالجلال کی قسم، جس سے مجھے اتنی محبت ہے کہ میری زندگی اور زندگی کی ساری امنگیں اس کی محبت سے معمور ہیں، اس وقت میں اپنے پیارے رب کی مدد سے خود کو دنیا کی ساری طاقتوں اور سارے مجرموں سے زیادہ طاقتور پاتا ہوں۔ جب میری پیٹھ پر کوڑے برستے ہیں تو مجھے یہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے ’’اور پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو، اور اگر تم مومن ہو تو غالب رہو گے‘‘ ۔ میرے خلاف پھانسی کی سزا کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے، سالہا سال سے مجھے تاریک کوٹھری میں رکھا گیا ہے۔’’اور انہوں نے ان پر محض اس وجہ سے ستم ڈھائے کہ وہ خدائے عزیز وحمید پر ایمان لائے‘‘مگر اس سب کے باوجود میری اپنے مہربان رب سے قربت، علم کے سمندرمیں غواصی، خودی کی بلندیوںمیں پرواز اور اللہ کی رضا اور جنت کی طرف اڑان میں اضافہ ہی ہوا، امت کو قرآن وسنت کے پرچم تلے جمع کرنے، انسانوں اور دیسوں کو غیر اللہ کی بندگی سے پاک کرنے، صہیونی غاصبوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سارے اسلام دشمنوں سے مسجد اقصی، قدس اور فلسطین کو آزاد کرانے کی سمت قدم ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ میرے دل میں گہرا یقین ہے کہ اللہ ہم سے کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ ’’تو ہم نے ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے جرم کیا، اور اہل ایمان کی نصرت ہم پر لازم ہے‘‘۔
میں اس وقت آپ لوگوں کے نام یہ پیغام لکھ رہا ہوں، جبکہ مجھے صرف چالیس سینٹی میٹر کی جگہ ملی ہوئی ہے، سخت ٹھنڈک سے میرا جسم تھر تھر کانپ رہا ہے، میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے کچھ بھی گرمی کا احساس مل سکے، تاہم میرے پاس اللہ کی محبت ہے، اور اللہ واسطے کی آپ لوگوں سے محبت ہے، قلب اور روح کی گرمی کے لیے یہ کافی ہے۔سرزمین ہند کے میرے عزیز ترین اور پروقار علماء کرام، میں تین بار اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس روئے زمین پر غزہ کے میرے بھائیوں کے بعد اگر کسی سرزمین کے لوگوں سے مجھے ملنے کاشدید اشتیاق رہتا ہے تو وہ آپ لوگ ہیں، یہاں کے بزرگ اور نوجوان علماء کی صحبت میں سعادت کا جو احساس ملتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ میرے پاس اس تعلق خاطر کے بہت سے ثبوت ہیں، میں دو ثبوت پیش کروں گا۔
پہلا ثبوت: آخری دفعہ جب اپنی عزیزفقہ اکیڈمی کے مدراس میں ہونے والے پروگرام میں شرکت کرکے واپس لوٹا تو میرے ایک عزیز نے فون کرکے پوچھا، کیا ڈاکٹر صلاح ہندوستان سے واپس آگئے ہیں، میری اہلیہ نے جواب دیا، ابھی مسجد نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں، تھوڑی دیر بعد ان سے بات ہوسکے گی، ویسے وہ ہندوستان سے واپس آئے نہیں ہیں، ان کا دل ابھی وہیں پر ہے، وہ صرف جسم کے ساتھ آئے ہیں، ان سے ملاقات کے وقت ان کی اس کیفیت کا خیال رکھنا۔دوسرا ثبوت: سب سے پہلی بار جب اپنی عزیزفقہ اکیڈمی کے پروگرام میں ہندوستان جانا ہوا، تو چالیس گھنٹوں کا سفر کرکے واشنگٹن سے دہلی پہنچا تھا، موسم کی خرابی کی وجہ سے سفر کی طوالت بھی بڑھ گئی تھی، اورتکان بھی۔ لیکن جب میں وہاں پہنچا اور علماء اور نوجوانوں کے ذوق وشوق کو دیکھا، تو ساری تکان دور ہوگئی، اور جب میں اسٹیج پر پہنچا تو میرا جسم میرا دماغ اور میرا دل سب تازہ دم تھے، غرض ایسی بہت سی قیمتی یادیں ہیں، دلی، دار العلوم دیوبند، دار العلوم ندوۃ العلماء سے کیرلا تک جو دل کو بہت لطف دیتی ہیں۔سرزمین ہند کے میرے پیارے بزرگ اور نوجوان علماء کرام، مجھے اجازت دیں کہ میں ان فکروں اوران امنگوں میں آپ کو شریک کرسکوں، جنہوں نے مجھے بے چین اور بے تاب کررکھا ہے، ان سب کو سمیٹنا چاہوں تو سارا مدعا اس میں سمٹ آتا ہے، کہ من أنصاری الی اللہ ’’کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا دست وبازو بنے ‘‘ اور انہیں پھیلاؤں تو تفصیل اس طرح ہے:
پہلی فکر: انفرادی سطح پر ہر ایک عالم کے لیے
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری راتیں تہجد اور ہمارے دن حصول علم کی جدوجہد سے آباد رہیں، ذکر وشکر، گریہ وزاری، دعا واستغفار، اور خوف ورجا کی کیفیت سے ہمارے شب وروز رنگین رہیں ۔’’وہ لوگ جنہیں اس کے پہلے سے علم ملا ہوا ہے جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار، بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ شدنی تھا۔ اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور یہ ان کے خشوع میں اضافہ کرتا ہے‘‘۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ سے لو لگانے والا دل ہو، اللہ کا ذکر کرنے والی زبان ہو، جدت وتخلیقیت والا دماغ ہو، ہمارے اخلاق محسنین والے ہوں ، ہمارے جسم مجاہدین والے ہوں، ہماری خاموشی غوروفکر والی ہو، ہمارے پاس دیدہ عبرت نگاہ ہو، اور ہماری گفتگو ذکر سے عبارت ہو، ہم چاہتے ہیں کہ ہم مقربین کے مقام پر فائز ہونے کے لیے کوشاں رہیں، تاکہ ہماری زندگی ان مسلمانوں کے لیے نمونہ بن جائے جو اصحاب الیمین کے زمرے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں شامل ہوجائیں جن کے لیے رب کریم نے یہ الفاظ چنے ہیں: وَقَالَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِیْمَان۔ کونوا ربانیین۔ رحمۃ وعلما، حکما وعلما۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے ہم بے نیاز ہوجائیں، اور اس کا حق ادا کرنے کی فکر کریں جو رب دوجہاں نے ہمیں عطا کیا ہے۔’’اللہ ان لوگوں کے ، جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، مدارج بلند کرے گا‘‘۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری سیرت وشخصیت میں قرآنی اخلاق اور رسول پاک کی سیرت کا پرتو دیکھیں، ہم ان کے لیے قابل تقلید نمونہ بن جائیں۔’’اور ہم نے اسے ایک روشنی بخشی جسے لے کر وہ لوگوں میں چلتا ہے‘‘۔ ہم بے سمت اور بے ہدف مطالعات کے بجائے منظم سنجیدہ اور بامقصد مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں، چھلکوں سے سرسری واقفیت تک محدود رہ جانے کے بجائے جڑوں کا گہرا علم حاصل کریں۔ تاکہ ہم وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ کا مصداق ہوجائیں۔ہم اس مقام پر پہنچ جائیں جس کا ذکر اس ارشاد رسول میں ہے کہ ۔’’اللہ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر موسلا دھار بارش ہوئی ہو، اس زمین کا ایک حصہ زرخیز پانی قبول کرلے اور وہاں خوب خوب چارہ اگ جائے‘‘ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو وحی کو قبول کرلیتا ہے، اور دماغ کی جولانیوں کو وحی کی رفعتوں کے ساتھ ہم آہنگ کردیتا ہے، تو پھر حکمت ومعرفت کے درخت نشونما پاتے ہیں، پھول کھلتے ہیں اور پھل آتے ہیں۔ تجدیدی کوششیںہوںیا تخلیقی کاوشیں ہوں ان کی اصل بنیاد وحی الٰہی کو ہونا چاہیے، جس طرح زندگی کی اساس پانی ہے۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء کُلَّ شَیْْء ٍ حَيٍّ۔
دوسری فکر، خاندان کی سطح پر
ہم بھرپور کوشش کریں کہ ہم میں سے ہر عالم دین اس ارشاد رسالت کا پیکر بن جائے، کہ’’ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہترین میں ہوں‘‘۔ ہر لحاظ سے بہترین رویہ اختیار کریں،دل کی محبت ہو، ذہن کی ہم آہنگی ہو، یا جسم کی قربت ہو، ضروری ہے کہ ہم سب سے بہتررہیں۔ ہم آگے آئیںعورتوں کو انصاف دلانے کے لیے اور انہیں عزت ورفعت والا مقام دلانے کے لیے نہ کہ محض زیادہ طاقت و قوت والا مقام کہ سیکولرزم کے علم برداراور اقوام متحدہ کے ادارے جس کے داعی اورعلم بردار ہیں۔ ہم سب لوگوں سے زیادہ کوشش کریں اس بات کی کہ عورتوں کو ان کے مادی، معنوی اور علمی تقاضوں اور ان کی جسمانی صحت کے لحاظ سے ایک سازگار اور باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل رہے۔ ہم اس دل دہلا دینے والی شرمناک صورت حال کو بدلنے کے لیے آگے آئیں، جس کا اعتراف پندرہ دسمبر۲۰۰۶ء کو ملک کے وزیر برائے امور اطفال ونسواں نے کیا تھا کہ گزشتہ بیس سالوں کے درمیان ایک کروڑ لڑکیاں اپنے والدین کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتاری جاچکی ہیں۔ ہندوستان کے علماء کو چاہیے کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر لڑکی کو پیدائش سے پہلے ہی زندہ درگور کرنے کے ظالمانہ رجحان کے خلاف آہنی دیوار بنیں،وہ جہیز کی غلط رسم کو ختم کرنے کا تہیہ کریں، کیونکہ اس کی کوکھ سے بہت سے خطرناک قسم کے خلاف شرع امور جنم لیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم سب سے آگے بڑھ کر آواز بلند کریں کہ عورتوں کو بحیثیت انسان کے سارے حقوق حاصل ہوں، یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ مرد کا مقام بھی مجروح نہ ہو، مرد بحیثیت قوام شورائیت کے ماحول میں اپنی ہر ذمہ داری ادا کرے، نہ تو کوئی کسی پر بوجھ بنے اور نہ کوئی کسی پر اپنی برتری اور خدائی جتائے۔
تیسری فکر، سماجی سطح پر:
ہمارے سماج میں ایک دوسرے سے قربت بڑھے، اور سماج کا شیرازہ مضبوط ہو، اس کے لیے جدوجہد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے تعلقات اپنے عزیزوں رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ نمونہ کی حد تک مضبوط ہوجائیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ ہمارے تعلقات کے لیے یہ ارشاد باری سدا ہمارے سامنے رہے، ۔’’اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتاجنھوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالاہے۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے‘‘۔یاد رہے کہ کائنات کا نظام تین بنیادوں پر چل رہا ہے، ایک دوسرے کو سہارا دینا، ایک دوسرے کو صلہ دینا اور ایک دوسرے کی حفاظت کرنا۔ زمین کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور سورج یہ ضرورت بلا معاوضہ پوری کرتا ہے، اس میں سبق ہے کہ اسی طرح مالدار لوگ محتاجوں کی کفالت کریں، دوسری طرف پودوں اور انسانوں میں سامان زندگی کا تبادلہ ہوتا ہے، انسان کا جسم ان سے آکسیجن لیتا ہے تو بدلے میں انہیں ڈائی آکسائڈ کاربن دیتا ہے، ہمارے درمیان بھی لین دین کی بنا عدل پر ہونی چاہیے۔
یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیادیا
پھر ہم یہ بھی دیکھیں کہ اس کائنات میں تمام زندہ اشیاء ضرر رساں چیزوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا کام بھی کرتی ہیں، تو ہم پر بھی واجب ہوتا ہے کہ ہم ہر ظالم کا ہاتھ پکڑیں، اور ہر سرکش کا راستہ روکیں۔’’بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کااور روکتا ہے بے حیائی ، برائی اور سرکشی سے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو‘‘۔ تکافل، تبادل اور تدافع۔ ان تینوں بنیادوں کے بنا معاشرے کی عمارت استوار نہیں ہوسکتی ہے۔
چوتھی فکر، امت مسلمہ اور پوری دنیا کی سطح پر
ہم قرآن وسنت کی صراحت کے مطابق ایک امت ہیں، وکونوا عباد اللہ اخوانا ’’اور اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ‘‘ ۔اسے یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا رشتہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی اسلامی امت سے قائم اور مضبوط رہے ، اسلام کی حیثیت مسلمانوں کے درمیان ایک رشتے کی ہے، جس سے سارے مسلمان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم بچپن سے یہ اشعار دوہراتے رہے ہیں:
یا أخي فی الھند أو فی المغرب أنا منک أنت مني أنت بي
لا تسل عن عنصري عن نسبي انہ الاسلام أمي وأبي
’’میرے بھائی ، تم ہندوستان کے ہو یا مراکش کے، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔میری نسل اور میرے نسب کے بارے میں مت پوچھو، میں اسلام کا بیٹا ہوں،وہ میری ماں اور میرا باپ ہے‘‘
اچھی طرح سمجھ لیں، کہ امت کے مسائل کا اصل محور جس کے گرد سارے مسائل گھوم رہے ہیں، وہ مسجد اقصی،قدس اور فلسطین کا ایشو ہے، اس ایشو پر جھوٹ کی دھول تہہ در تہہ بٹھائی جارہی ہے، تاکہ حقیقت پروپیگنڈے کے شور میں گم ہوجائے، اس دھول کو ہٹانے کے لیے سوچا سمجھا علمی رویہ اوراپروچ اختیار کرنا لازم ہے، امت کی قوت ادراک سن ہوگئی ہے، اسے بیدار کرنا ضروری ہے، دل کے اندر ایمانی بنیادوں کو تازہ کرتے رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ اللہ کی مدد صرف اہل ایمان کے لیے آتی ہے، ہمدردوں اور مددگاروں کو اکٹھا کرنا اور ان کی تعداد بڑھانا بھی مطلوب ہے۔ ’’وہی ہے جس نے اپنی نصرت سے اور مومنین کے ذریعے سے تمہاری مدد کی‘‘ میڈیا کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جائے، تاکہ ہم ہر اس مسلمان بلکہ ہر اس انسان تک پہنچ جائیں جو حق اور انصاف کی خاطر اٹھنے کے لیے آمادہ ہو، ارض مقدس کی بازیابی کے لیے، جہاں سے ساٹھ لاکھ فلسطینی باشندوں کو ملک بدرکردیا گیا، مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے جو قبلہ اول اور حرم ثالث ہے، اس مقصد کے لیے سیاسی محاذوں پر بھی اپنی موجودگی کو بڑھایا جائے، تاکہ اس قضیہ کو بین الاقوامی سطح کے ہر فورم میں اٹھایا جاسکے۔اس سب کے ساتھ جہاد وشہادت کے مقامات بلند پر پہنچنے کے لیے بھی خود کو تیاررکھیں، کیونکہ بیت المقدس کی آزادی کا ایک ہی راستہ ہے، وہی راستہ جسے صلاح الدین ایوبی، سیف الدین قطز اور سلطان العلماء العز بن عبدالسلام نے اختیار کیا تھا۔ میں آپ سے خدا واسطے التجا کرتا ہوں کہ مسجد اقصی اور اس کی آزادی کا ایشو ہر تقریر ہر کانفرنس ہر گفتگو اور ہر محاضرے میں شامل رکھیں۔ ہر مجلہ، ہر اخبار اور ہر چینل پہ اس پر چرچا ہو، تاکہ مسجد اقصی کی آزادی کے متوالوں سے اور ان کی گونج سے ساری دنیا بھرجائے، اس کام کے لیے آگے بڑھنا ایک عظیم شرف ہے، جس کے لیے اللہ اپنے خاص بندوں کا انتخاب فرماتا ہے، پس ہندوستان کے عوام اور ہندوستان کے علماء سب آگے بڑھیں اور بیت المقدس کے بچوں اور عورتوں کی پکار، غزہ اور رام اللہ کے مردوں کی ندا اور قید میں اسیر مسجد اقصی کی صدا پر سب سے آگے بڑھ کر لبیک کہیں۔
پانچویں فکر، علمی اکیڈمیوں اور تحقیقی اداروں کی سطح پر
میری تمنا ہے کہ ہندوستان میں اسلامی فقہ اکیڈمی اور اس جیسے دیگر علمی اور تحقیقی ادارے درج ذیل محاذوں پر خاص توجہ دیں:نمبر ایک: اسکولوں کے بچوں سے لے کر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات تک ہر جگہ اعلی صلاحیت کے دماغوں کو تیار کیا جائے کہ وہ ان اداروں کی صورت میں ان ربانی اور نورانی سلسلوںکے سچے امین بنیں، جن کے آغاز کی توفیق اللہ نے ان کے خوش نصیب بانیوںکوعطا کی۔شاعر کی زبان میں:
اذا سید منا خلا قام سید
قؤول لما قال الکرام فعول
’’ہمارے درمیان سے ایک سردار کی جگہ خالی ہوتی ہے، تو دوسرا سردار آجاتا ہے، عظیم لوگوں جیسی باتیں اور ان کے جیسے کارنامے انجام دینے والا‘‘
آنے والی نئی نسلیں اپنی بزرگ نسلوں کے علم وفضل سے اچھی طرح فیض یاب ہوں، شرعی نصوص کا فہم، زمانے اور حالات سے آگاہی، شرعی نصوص سے اپنے حالات میں رہنمائی لینے والا شعور وتفقہ، خاص احکام کے خاص دلائل اور شریعت کے عام مقاصد واہداف کے درمیان ہم آہنگی کی جستجو، حال کو دیکھنے اور مستقبل کو بھانپ لینے کی صلاحیت، ترجیحات کا شعور اور نفس انسانی سے واقفیت، اور پھر جدید ترین اور تیز ترین وسائل سے آگاہی کہ جن کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام کی رسائی ہوسکے۔کُ۔’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے سامنے تیار کی گئی ہے، معروف کا حکم دیتے ہومنکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔
نمبر دو: اسلامی فقہ، اس کے اصول، اس کے قواعد اور اس کے مقاصد کو ان کے اصل مقام یعنی ایمان واخلاق کی آغوش میں لوٹانا ہے، ایسا لگے کہ گویا یہ سب چھوٹی بڑی کشتیاں ہیں جو اللہ کی محبت، اس کی خشیت، اس کے احکام کی تعظیم، اور اس کے مقام کی تقدیس کی ندیوں دریاؤں اور سمندروں پر رواں دواں ہیں۔مکمل جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پورے دین میں کوئی ایک بھی فقہی حکم ایسا نہیں ہے جو ایمان کی گرمی اور اعلی اخلاق کی خوشبو سے خالی رکھا گیا ہو۔ کسی چیز میں اختصاص کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے باقی سب سے کاٹ کر بالکل الگ تھلگ کردیا جائے، ایک طبیب کسی عضو کا علاج اسے جسم سے بالکل الگ کرکے نہیں کرتا ہے، بلکہ وہ عضو اپنی ساری رگوں کے ساتھ جسم سے جڑا رہتا ہے، بالکل اسی طرح فقہ کا ایمان واخلاق سے رابطہ اور اتصال پوری طرح برقرار رہنا چاہیے۔ اور اسی بنا پر فقہ کے اصول، اس کے قواعد اور اس کے مقاصد کے میدان میں بھی وسعت لانا ضروری ہوجاتا ہے، تاکہ اس علم کے تحت صرف فقہی احکام والی نصوص ہی نہ رہیں بلکہ دین وشریعت کی ساری نصوص اس میں شامل ہوجائیں۔ اصول فقہ کے مناہج ہی ان شدید ضربوں سے امت کی حفاظت کرسکتے ہیں، جنہوں نے امت کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے، اور ہمیں ایسا بنادیا ہے کہ ہمارا سارا زور آپس ہی میں ایک دوسرے پر چلتا ہے۔ میں نے جیل کی زندگی میں ہی اس سلسلے میں کچھ علمی کام کرلیے ہیں، میری ایک تازہ کتاب ہے سورہ یوسف کی اصولی اور مقاصدی تفسیر، اور دوسری کتاب ہے حضرت کعب کی حدیث کی اصولی اور مقاصدی تشریح۔
نمبر تین: ضروری ہے کہ فقہ وفکر، اصول ومقاصد اور تحریک ودعوت کے تمام مکاتب ومشارب کے درمیان علمی رابطے کو مضبوط کیا جائے، ’’تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کرتے ، جبکہ وہ ان کی طرف لوٹتے کہ وہ بھی احتیاط کرنے والے بنتے‘‘ کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے، ہمارے علمی اور تحقیقی ادارے اس بات کے داعی بن جائیں کہ معرفت کے دائرے کو وسیع کیا جائے، اتنا کہ فقہ وفکر کے تمام مسالک اور تحریکی ودعوتی حلقوں سے وابستہ تمام بڑے علماء کی اجتہادی کوششوں کی صحیح قدر ہوسکے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی، شیخ ندوی اور شیخ قاسمی کے علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ اہل علم وتحقیق کے سامنے علامہ شاطبی، شیخ طاہر بن عاشور، شیخ قرضاوی، شیخ غزالی، شیخ علوانی، شیخ ریسونی، شیخ شنقیطی، شیخ بن باز اور شیخ زرقا کی کوششیں بھی رہیں، اور شیخ افغانی، شیخ محمد عبدہ، شیخ حسن البنا، شیخ سید قطب، شیخ مالک بن نبی، اور شیخ مودودی کی کاوشیں بھی رہیں۔ غرض ہر مکتب فکر اور ہر فکری جہت کے اہل علم کی علمی تحقیقات سے ہم بھر پورطرح سے فیض حاصل کریں۔ اس وقت اسلام کے خلاف شدید قسم کی معرکہ آرائی کے لیے مشرق ومغرب کے سارے طائفے یک جٹ ہوگئے ہیں، ایسے میں اور زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہماری ایک وحدت ہو، اور ہم فکری اور تحریکی ہر دو سطح پر ایک دوسرے سے قریب سے قریب تر ہوجائیں، یہ ایک شرعی فریضہ تو ہے ہی، حالات کا ضروری تقاضا بھی ہوگیا ہے، اس سلسلے میں اللہ کے سامنے سب سے پہلے ان ارباب قیادت کو جواب دینا ہوگا جن کے ہاتھوں میں امت اسلامیہ کی علمی فکری اور تحریکی باگ ڈور ہے۔’’اور آپس میں تفرقہ نہ کرو، کہ تم ناکام ہوجاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے اور ثابت قدم رہو۔ بے شک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے‘‘۔میرے بہت عزیز اور بہت عظیم علماء کرام، میں معافی چاہوں گااگربات طویل ہوگئی ہو، واقعہ یہ ہے کہ جب شوق کے جذبات امنڈ کر آتے ہیں، تو ہزاروں صفحات کم پڑجاتے ہیں، اور تکلیفیں جتنی بڑھتی ہیں امیدیں بھی اتنی ہی کروٹیں لیتی ہیں۔
جتنی جتنی ستم یار سے کھاتا ہے شکست
دل جواں اور جواں اور جواں ہوتا ہے
میرے اور آپ کے درمیان کئی طویل برسوں سے دوریاں حائل ہیں، لیکن مجھے قوی امید ہے کہ جلد ہی اللہ کے حکم سے ظلم کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور زنداں کے دروازے کھلیں گے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ کسی قریبی سیمینار یا مجلس میں ہماری ملاقات ہوگی،اس وقت میری گفتگو کاایجنڈا وہ دو موضوعات ہوں گے جو مجھے دن رات مشغول اور بے چین رکھتے ہیں۔اول: اصول اور مقاصد کے علم کی تجدید، اور اس کے لیے پہلے تطبیقی کاوشیں اور آخر میں نظریہ سازی کے ذریعہ اس علم کی تکمیل۔دوم: فلسطین،القدس، مسجد اقصی اور سارے قیدیوں کی رہائی، ان مردان کار کے ذریعہ جن کے بارے میں کہا گیا ہے:۔’’وہ مرد جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کردکھایا‘‘، شاعر کے الفاظ میں:
قالوا نزال فکنت أول نازل
وعلام أرکبہ اذا لم أنزل
’’انہوں نے پکارا ، اترو میدان میں، تو سب سے پہلے اترنے والا میں تھا، اور اگرمیدان میں اترنے کا جذبہ نہیں ہوتا تو گھوڑے پر سوار ہی کیوں ہوتا‘‘
اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے،اس کی امان میں کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی، اور آپ سے التماس کرتا ہوں کہ زمین وآسمان کے رب کے حضور بہترین دعائیں اور پاکیزہ تمنائیں کرتے رہیں، کہ وہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کرے، قید وبند کا خاتمہ ہو اور خوشیوں کا دور چلے، امت پر سے کمزوری اورمحکومی کا موسم خزاں رخصت ہو اور شوکت واقتدارکی بہاریں لوٹ آئیں، غاصبوں کے تسلط کی سیاہ رات ہر جگہ سے ختم ہو، اور عزت وسربلندی کی صبح طلوع ہو۔۔ اور ہم سب اللہ کے وعدے کے سزاوار ہوجائیں۔’’اللہ کا وعدہ ہے تم لوگوں سے ، جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو متمکن کردے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا‘‘۔ْ ۔’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا؟ کہہ دو کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو‘‘۔
والسلام
آپ سب سے اللہ کی خاطر محبت کرنے والا
صلاح الدین سلطان

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.