کشمیر کے ”شام“ بننے کا خدشہ یا دھمکی؟۔۔۔۔۔۔۔۔عارف بہار

کشمیر کے ”شام“ بننے کا خدشہ یا دھمکی؟۔۔۔۔۔۔۔۔عارف بہار

سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل کشمیر کے مشترکہ مزاحمتی فورم کے تینوں قائدین نے ایک اجلاس کے بعد بھارتی حکومت کی طرف سے مذاکرات کار کے تقرر اور مذاکرات کو کلی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ان لیڈران نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف مذاکرات کار کا تقرر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے ہے۔ ہمارا ہدف اندرونی خود مختاری نہیں بلکہ مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کار کا تقرر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ جو مودی اندرونی خود مختاری دینے کو تیار نہیں وہ مسئلہ کشمیر کیا حل کرے گا۔ کشمیر کی حریت قیادت اس وقت مقتل میں کھڑی ہے۔ یہ کشمیریوں کی اجتماعی سوچ کی ترجمان اور شارح ہے اور دنیا اس حیثیت کو مانے یا نہ مانے مگر کشمیر کی صورت حال اسی حقیقت کی مظہر ہے۔ مزاحمتی قیادت کے اعلان سے کشمیر میں نبضِ زندگی رکتی بھی ہے اور رواں بھی ہوتی ہے۔ کشمیری عوام انہی پر اعتماد اور اعتبار کرتے ہیں۔ اس لیے بھارتی مذاکرات کار کے تقرر کو انہوں نے مسترد کر کے بھارتی کوشش کو بے معنی بنا دیا ہے۔
بھارتی حکومت کو مذاکرات کار کے تعین کے لیے سابق انٹیلی جنس افسر دینشور شرما کے سوا کوئی نہیں ملا۔ خود مسٹر شرما نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے نہیں امن کے لیے کام کریں گے اور کشمیری نوجوانوں کو سمجھائیں گے کہ اسلام اور آزادی کی باتیں کشمیر کو شام بنا دے گی۔ لیبیا، شام دنیا کے خطرناک ملک بن چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ بھارت میں ایسا ہو۔ ان خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسٹر شرما کشمیر کو شام بنانے کی ملفوف دھمکی دے رہے ہیں اور ان کا کام کشمیریوں کی جائز خواہشات پر بات چیت کرنا نہیں کشمیری نوجوانوں کو بھارت کی وفاداری کا سبق پڑھانا ہے۔ اگر بھاشن دینے کا یہ کام ہی کرنا مقصود تھا تو یہ کام کسی سادھو، پنڈت اور سنیاسی سے لیا جا سکتا تھا۔ اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حریت قیادت نے مذاکرات کار کے تئیں اپنی سرد مہری دکھاکر دراصل یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں اور بھارت ان کی خواہشات کو کس طرح حیلوں بہانوں سے پیروں تلے روند کر خطے کو کشیدگی کی نذر کیے رکھنا چاہتا ہے۔


متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھارت کی طرف سے آئی بی کے سابق سربراہ دینشور شرما کو کشمیر کے لیے مذاکرات کار نام زد کرنے کے جواب میں مذاکرات کی تین شرائط عائد کی ہیں۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر کو متنازع تسلیم کرے، کشمیریوں کو تیسرا فریق تسلیم کیا جائے اور حریت کانفرنس سے بات چیت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے۔عسکری کمانڈرکی طرف سے عائد کی جانی والی یہ تین شرائط ستر برس پرانے اور الجھے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے کامیاب بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ کشمیریوں کا تجربہ یہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کو وقت گزاری اور مطلب برآری کے لیے استعمال کیا ہے۔ جب بھی پاکستان یا کسی عالمی طاقت نے دباو ڈالا بھارتی قیادت مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئی جونہی یہ ماحول بدل گیا بھارت کی سوئی بھی واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے۔ بھارت گزشتہ تین سال سے کشمیرکے مسئلے کو روایتی اور گھسے پٹے طریقوں سے حل کر نے کی کوشش کر تا رہا۔ نریندر مودی نے ترغیب وتحریص کی روایتی چال چلتے ہوئے پہلے کشمیر کے لیے آٹھ ارب کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج کے تحت کشمیری نوجوانوں کو نوکریوں کا جھانسا دیا گیا مگر کشمیری قیادت اور سماج نے اس پیشکش کو مسترد کیا تو بھارت پوری فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کی راہ پر آیا۔ مسلم افواج نے عسکریت پسندوں کی تلاش اور تعاقب کے نام پر ظلم وستم کا بازار گرم کیا۔ جس کے ردعمل میں کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مذاکراتی ڈراموں سے بددل ہوچکے ہیں حالانکہ اس مسئلے کا حل بالآخر مذاکرات کے ذریعے سے تلاش کرنا ہوگا۔ بھارتی پالیسی ساز نوجوانوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے محابا استعمال کررہا ہے ۔ ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، ہزاروں نہایت مہلک ہتھیاروں سے شہید اور زخمی ہوئے۔ جانوروں اور درندوں کے لیے بنائی جانے والی چھروں والی بندوقوں کو معصوم اور ٹین ایجر بچوں پر آزما کر ان کی بینائی چھین لی گئی۔ کشمیر کے ہسپتال زخمیوں سے اٹ گئے، جیلیں بھر گئیں مگر جدوجہد برائے حق خود ارادیت کی شمع کی لو کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی گئی۔ کشمیر میں بھارت کے کردار سے اس کی حمایت کرنے والے مغربی ملک بھی شرمسار ہیں اور تین سال بعد بھارت کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا احساس دلایا گیا تو کشمیری قیادت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی واضح شرائط عائد کی ہیں۔ بھارت صرف کشمیر کو متنازع ہی تسلیم کرے تو برصغیر کے عوام کے سروں پر منڈلاتے ایٹمی جنگ کے بادل بڑی حد تک چھٹ سکتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.