ایک یاد گارسفر کی کچھ پیاری یادیں۔۔۔۔۔غلام قادر وانی

ایک یاد گارسفر کی کچھ پیاری یادیں۔۔۔۔۔غلام قادر وانی
  • 29
    Shares

آج سے پورے پچاس سال پہلے اکتوبر۱۹۶۷ئ کی بات ہے۔ جماعت اسلامی ضلع ڈوڈہ کا ایک سالانہ اجتماع پورے خطہ¿ چناب کے صدر مقام ڈوڈہ میں تین دن کے لیے منعقد ہونے جارہا تھا۔ میں اُن دنوں اُبھرتا ہوا نوجوان تھا۔ شوق ہوا کہ اس اجتماع میں شریک ہوجاوں۔ مولانا احرارؒ کا میں بڑا چہیتا تھا اُن سے اپنے شوق کا اظہار کیا۔ مولاناؒ خوشی سے اُچھل پڑے اور مجھے گلے لگا کر فرمایا:” تمہاری خواہش پورا کرنے ساری جماعت خوشی محسوس کرے گی۔“ جماعت کی مرکزی قیادت کو ایک دن پہلے ہی سرینگر سے روانہ ہونا تھا۔ اس لیے روانہ ہونے کی تاریخ سے پہلے ہی مجھے شب کے لیے مرکز جماعت پر حاضر ہونے کو کہا گیا۔ یہ وہ ایام تھے جب جماعت اسلامی کو اختیار کرنا دہکتے انگاروں کو منہ لگانے کے برابر تھا۔ میرے والدین( اللہ ان کی مغفرت فرمائے) جماعت اسلامی کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ میں بغیر اجازت لیے گھر سے روانہ ہوا او رمرکز جماعت واقع مائسمہ پر حاضر ہوا صبح طلوع آفتاب سے پہلے اس پیارے پیارے چھوٹے سے حجم والے دفتر سے نکل کر آٹھ افراد پر مشتمل کارواں میں شامل ہوا۔ بس میں سوار ہونے سے پہلے پیرو مرشد محترم سعد الدین صاحبؒ امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے فرمایا” ساتھیو! اپنے میں سے کسی کو امیر سفر مقرر کرکے سفر شروع کرو۔“ سبھی ساتھیوں نے اتفاق رائے سے پیرو مرشدؒ کو امیر سفر بنایا۔ اس چھوٹے سے کاروان میں مرشدؒ محترم کے علاوہ جناب قاری سیف الدین ؒ صاحب، جناب احرارؒ صاحب، جناب سید علی گیلانی صاحب زادمجدہ¾، شیخ محمد عبداللہ صاحب مرحوم پلوامہ، محترم محمد عبداللہ میر صاحب پلوامہ اور راقم شامل تھا۔ کارواں میں گوناگوں طبیعت کے افراد شامل تھے۔ قاری سیف الدینؒ بات بات پر مِزاح و مذاق کے عادی تھے، لیکن کیا مجال کہ مرشدؒ محترم کی باوقار اور سنجیدہ شخصیت کی موجودگی میں غیر ضروری کلام فرماتے۔ مرشدِ محترم پر نظر پڑتے ہی سب لوگ شرم و حیا کی چادر میں ڈھک جاتے تھے۔ سفر میں ہر شخص اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرتا ہے۔ اور ہمارے مرشدؒ بھی بے شک ایک بہترین سوٹ (شیروانی ٹایپ کا کوٹ اور پاجامہ) پہنے ہوئے تھے جو دیکھنے والوں کو بہت اچھا لگتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ سوٹ تھا جو آپؒ نے سرکاری ملازمت میں بنوایا تھا۔ یہی ایک سوٹ ہر محفل اور ہر ضرورت میں تاعمر پہنا کرتے تھے۔ پورے دن کے بس کے سفرکا اختتام ٹھیک نماز مغرب کے وقت بھدوارہ میں ہوا۔ایک مقامی رفیق( جو بعد میں جماعت اسلامی چھوڑ گئے) ہاتھ میںروشنی لے کرکے اس کارواں کا انتظار کررہے تھے۔ رات اُن کے دولت خانہ پر گذاری۔ انہوں نے بڑی محبت سے خاطر تواضح کی۔ اگلی صبح کو ناشتہ ہوا تو مرشدؒ کی قیادت میں نکل پڑے اور ہمارے قدم اونچائی یعنی پہاڑی کی طرف اُٹھ رہے تھے۔ کچھ مشقت کے بعد ہم بھدرواہ سب جیل کے سامنے پہنچے۔ پیرومرشد نے فرمایا: ہم جس منزل کے متلاشی ہیں اُس منزل میں قدم قدم پر ایسے پڑاو¿ آتے ہیں اس لیے اجتماعی طور پر اس پڑاو¿ ( یعنی جیل) کے دیدار کرنا ضروری ہے۔ یہ فرماتے ہوئے ان کی سنجیدگی اور تبسم کی ملی جلی کیفیت واقعی دیکھنے لائق تھی۔
جیل کی عمارت کے دیدار کرنے کے بعد ڈوڈہ کی طرف روانگی ہوئی۔ جہاں سالانہ اجتماع کا اسی روز سہ پہر کو آغاز ہونا تھا۔ ڈوڈہ پہنچے کچھ چائے پانی اور استراحت کے بعد اجتماع گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُن دنوں ڈوڈہ کا مرکزی عیدگاہ (موجودہ) ایک چھوٹا سا کھلا میدان تھا۔ اس کے تین اطراف ڈھلوان پہاڑی زمین تھی۔ اسی جگہ کو صاف کرکے اجتماع گاہ مقرر کیا گیا تھا۔ ہم اجتماع گاہ پہنچے تو موجود سبھی رفقاءنے پرتپاک سواگت کیا۔ ڈوڈہ کے باسیوں کو کشمیری بھائیوں سے جو فطری محبت ہے اس کا بھر پور مظاہرہ ہورہا تھا۔ ہم سب کو ڈائس پر بٹھایا گیا تاکہ نظریں آمنے سامنے رہیں۔
اجتماع کا آغاز ہوا تو ایک صاحب بحیثیت ناظم اجتماع مائیک پر آگئے۔ انہوں نے اجتماع کی اہمیت ، ضرورت اور خصوصیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ صاحب جماعت اسلامی کے دیرینہ کارکن ہیں۔ انداز بیان بھی بڑا دلکش تھا۔ یہ حضرت تھے مولانا عطاءاللہ سہروردی مرحوم جو محاذرائے شماری کے چوٹی کے لیڈر تھے۔ جماعت اسلامی کے ناظم اجتماع اور سیاسی لیڈر، یہ عجیب حیرانی تھی۔ میری حیرانگی اس وقت دور ہوئی جب پتہ چلا کہ سہروردی صاحب مرحوم میرے آئیڈیل مردِ آہن احرارصاحبؒ سے بہت متاثر تھے۔
اجتماع کے دوسرے دن نماز عشاءکے بعد آدھی رات سے زیادہ وقت تک سوال جواب کا پروگرام پیش ہوا۔ سوالات آڈینس کی طرف سے اور آخر پر جوابات مرشدِ ؒ محترم کی طرف سے دئے گئے۔ یہ پروگرام بہت ہی عجیب سا تھا۔ میں اِس پورے وقت میں خوف محسوس کررہا تھا۔ واضح رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب پوری ریاست جموں وکشمیر کے عام مسلمان” خوش اعتقادی“ کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے اور اجتماع کی اس مجلس میں بہت زیادہ سوالات اسی سلسلے میں کیے جارہے تھے۔ اجتماع گاہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور دیگر پروگراموں کے مقابلے میں بہت بھیڑ نظر آرہی تھی۔ سایلوں کے سوالات کو نوٹ کردیا گیا اور آخر پر پیرو مرشدؒ نے ایک ایک سوال کا جواب دیا۔ میں حیران تھا کہ جواب دینے والے نے نصِ صریح سے مدد لیے بغیر بے ہودہ سوالات کے جوابات ” تکلمو الناس علیٰ قدر عقولھم“ کے اصول کے تحت بڑی حکمت اور تدبر سے پیش کیے۔ میں سوچ رہا تھا کہ جوابات نص صریح کی بنیاد پر سامنے آئیں گے اور ہجوم مشتعل ہوکر ہم پر ٹوٹ پڑے گا لیکن جناب سعد الدینؒ کے جوابات آرہے تھے اور میں عش عش کرتا جاتا تھا۔ ایک سوال کا ذکر کرنا بطور مثال قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ سوال یہ تھا:” ہمارا عقیدہ ہے کہ جب مسلمان مرتا ہے تو قبر میں پہنچتے ہی اللہ کے خاص بندے میت کے پاس آتے ہیں اور اس کو بڑے تزک و احتشام سے جنت میں پہنچاتے ہیں۔ کیا جماعت اس عقیدے سے اتفاق کرتی ہے۔“ اس کے جواب میں مولانا سعد الدینؒ نے فرمایا:” ہر شخص کی طرح مجھے بھی مرنا ہے، جب میں مرجاوں گا تو میں عالم برزخ میں جو صورت حال دیکھوں گا۔ آپ تک پہنچانے کے لیے دوبارہ لوٹ آنے کی اجازت طلب کروں گا۔ اگر اجازت ملی تو ضرور اس سلسلے میں آپ کو بتاوں گا۔“
سبحان اللہ! کیا حاضر جوابی تھی اور کیا حکمت تبلیغ! اس صابر و شاکر مرشد پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔ اجتماع کا تیسرا اور آخری دن تھا۔ وقفہ عصرانہ ہوا۔ ہم تین ساتھیوں نے جو پلوامہ سے تعلق رکھتے تھے مشورہ کیا کہ ہم کشتواڑ جاکر وہاں رات گذاریں اور اگلی صبح کو واپس کشمیر لوٹیں گے۔اس سلسلے میں امیر سفرؒ سے اجازت لینا ضروری تھا اور مجھے یہ اجازت حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ میں جناب مرحوم سے یہ اجازت حاصل کرنے کے لیے اُن سے ہمکلام ہوا تو مرشدؒ نے فرمایا: ” آپ لوگ اپنی مرضی سے آئے ہیں، اپنی مرضی سے جاسکتے ہیں۔ اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے!“ جواب پاکر میری شرمندگی دیکھنے لائق تھی۔ مجھے اتنا افسوس ہوا کہ دیر تک ذہنی تناوکاشکار رہا۔ دو اورسینئر ساتھیوں سے دیر تک کوئی بات نہ کرسکا۔
دوران اجتماع بارہ ایک بجے رات کے بعد استراحت شب کا وقفہ ہو جاتا تھا۔ کشمیری مہمانوں کے لیے ایک ایک دو دو کی تعداد میں مختلف آرام گاہوں میں جانے کا انتظام تھا۔ مجھے اور میرے شفیق آئیڈیل مولانا احرارؒ کو ایک ایسے کمرے میں جگہ ملی جس کا فرش لکڑی کے موٹے تختوں کا بنا تھا۔ یہ تختے اوپر نیچے تھے جس پر لیٹنا کیا بیٹھنا بھی بہت مشکل تھا۔ میں نے مولاناؒ کی توجہ اس مشکل کی طرف پھیر دی تو آپ نے فرمایا:”مناسبِ حال اچھی آرام گاہ ہے۔ ہم جس میدانِ عمل کے مسافر ہیں اس کے لیے تربیت کے ایسے ہی مقام ہوتے ہیں۔“
اجتماع اختتام پذیر ہونے کے بعد اگلے دن پیر و مرشد ؒ نے ہمیں کشتواڑ لے لیا۔ ہم چھ افراد تھے۔ باقی حضرات ڈوڈہ سے ہی واپس ہو گئے۔کشتواڑ نماز مغرب کے موقع پر پہنچے۔ نماز کے بعد آپؒ نے ہمیں ایک تنگ کوچے کی رہنمائی کرتے ہوئے چند منٹ کا سفر کرایا۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ کہاں لیے جارہے ہیں۔ کوچہ کے اگلے سرے پر پہنچے تو ہم شاہ اسرار الدینؒ کے مزار پر پہنچ چکے تھے۔ ہم نے سوال کیا حضرت یہاں کیوں؟ فرمایا:” اس ولیؒ خدا کی قبر کی زیارت اور دعائے مغفرت کرنے کی سعادت حاصل کرنا۔“
یہاں سے لوٹ کر ہم ایک گھر میں چلے گئے۔ یہ گھر ایک صاحب، جن کو کچلو صاحب کہتے تھے کا تھا۔ کچلو صاحب اُن دنوں سرینگر میں بحیثیت بیسک ایجوکیشن آفیسر تعینات تھے۔ آپ نے عشائیہ کی دعوت کا انتظام کیا تھا۔ ہم سب تھکے ہارے تھے اور بھوک بھی لگی تھی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی مرشدؒ محترم نے کھانا منگایا۔فوراً دستر خواں بچھایا گیا۔ پانی کے گلاس آئے۔ پھر سالن کے مختلف اقسام سجائے گئے اور آخر پر پکے ہوئے چاول آگئے۔ سب اشیائے دعوت سامنے تھیں۔ کورمہ، رِستے، روغن جوش، ساگ کی سبزی وغیرہ۔ میرے تو منہ میں پانی بھر آرہا تھا۔ کشمیری طرز کے پکوان پانچ چھ دن کے بعد سامنے تھے۔ سب اس انتظار میں تھے کہ مولانائے محترم ؒ بسم اللہ کریں۔ آپؒ سب کچھ بھانپ رہے تھے۔ کچلو صاحب کو بلوایا اور اُن سے مخاطب ہوکر فرمایا:” یہ سب کھانا واپس اُٹھائیں۔ آپ نے اسراف کی حدوں کو چھوا ہے ہم ہرگز یہ کھانا نہیں کھائیں گے۔“محترم کچلو صاحب نے پہلے بڑی لجاحت سے غرض کی کہ انہوں نے اسراف نہیں کیا ہے لیکن مولاناؒ کو قایل نہیں کرسکے۔ آخر کچلو صاحب نے ہار مانتے ہوئے بڑی منت سماجت سے کام لیا۔ معافی کی درخواست کی اور آئندہ اس معاملے میں محتاط ہونے کا وعدہ کیا۔ مولاناؒ نے فرمایا” میرے ساتھی بہت تھکے ہوئے ہیں۔ سب کو بہت بھوک لگی ہے اس لیے آپ کا عذر قبول کرتے ہوئے کھانا کھائیں گے۔“ آپ ؒ نے بسم اللہ کہا اورہم سب نے کھانا کھایا۔ میرا تو مزہ ہی کرکرا ہوا۔ رات کو آرام کیا اور صبح سویرے واپس کشمیر کی طرف چل دئے۔ امیر سفرؒ اور دوسرے قائدین کا انداز کیا ہی پیارا تھا! اور مربیانہ بھی!….اللہ کرے، اس سفر کے تربیتی پہلوو¿ں سے ہم سب کو مستفید ہونے کی سعادت حاصل ہو۔آمین۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.