تذکیہ نفس۔۔۔۔ حافظ محمد مشتاق

تذکیہ نفس۔۔۔۔ حافظ محمد مشتاق
  • 9
    Shares

اپنے اندر کو پاک وصاف کرنا اور اچھائیوں سے مزین کرنے کو تزکیہ نفس کہتے ہیں۔ اسلام میں تزکیہ نفس پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ مختلف حضرات نے تزکیہ نفس کا مفہوم پیش کیا ہے۔ تزکیہ نفس کی جتنی بھی تعریفیں سامنے آئی ہیں ان سب میں تقریباً اشتراک پایا جاتا ہے۔ سورة الشمس میں فرمایا گیا:”وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے اندر کو پاک کرلیا اور وہ ناکام ہوگیا جس نے اپنے آپ کو آلودہ کرلیا“۔

انسانی شخصیت کے دو پہلو ہیں ایک ظاہر اور ایک باطن۔ ان دونوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اپنے ظاہر کو سنوارتے ہیں لیکن باطن کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ باطن کو صاف رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ظاہر کو صاف رکھنے کی اہمیت ہے بلکہ ایک اعتبار سے باطن کو زیادہ اجلا رکھنے کی اہمیت ہے کیونکہ تمام اعمال کا انحصار باطن پر ہے۔ اگر نیت اچھی ہوگی تو نیک اعمال کا اجر ملے گا اور ایک نیک عمل چاہے کتنا بڑا کیوں نہ ہو، اگر اس کے پیچھے حسن نیت نہیں تو وہ عمل الٹا نقصان دہ ثابت ہوگا۔

شاید لوگوں کے ذہن میں یہ بات آتی ہو کہ باطن کو کن اعمال سے آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔ وہ بہت سے برے اعمال ہیں جن سے باطن کو بچانا چاہیے جیسے حسد کینہ، بغض، نفرت، تکبر، ریا کاری وغیرہ۔ بہت سے اعمال ہیں جن سے اپنے قلب کو مزین کرنا چاہیے۔ اپنے قلب کو اللہ اور اس کے رسول خاتم النّبیین کی محبت سے آراستہ کرنا چاہیے۔ اگر قلوب میں محبت رسول موجود ہے اور ظاہر میں اطاعت و اتباع رسول ہے تو ہم تزکیہ نفس سے مالا مال ہیں۔ اپنے نفس کی ناجائز خواہشات پر نہ چلیں۔ حدیث مبارکہ ہے: مجاہد وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔

بعض لوگ تزکیہ حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کی ریاضتیں کرتے ہیں، جو شریعت کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ ایسی ریاضتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ دین اسلام میں تزکیہ کا بڑا آسان طریقہ ہے یعنی نماز قائم کی جائے، زکوٰة دی جائے، قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، ذکر میں اپنے آپ کو مشغول رکھا جائے، خلوص کے ساتھ مکمل دین کی دعوت دی جائے، اللہ تعالیٰ کے را ستے میں جہاد کیا جائے، حقوق العباد کا خیال رکھا جائے، اخلاق حسنہ سے اپنے آپ کو مزین کیا جائے، رزق حلال کے لیے کسب کیا جائے۔

تزکیہ نفس ہر ایک مسلمان کی ضرورت ہے۔ اس وقت مسلمان حبّ دنیا کے فتنے کا شکار ہیں۔ انہیں چاہیے کہ مال ودولت سے محبت ایک حد تک رکھیں۔ یہ دنیوی محبت اللہ اور اس کے محبوب کی محبت سے تجاوز نہ کرے۔ بسا اوقات ہم دنیا کی اس قدر مذمت کرتے ہیں کہ توازن کھو دیتے ہیں اور اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی دنیا ہے جس کو آقا علیہ السلام نے آخرت کی کھیتی قرار دیا ہے۔

تزکیہ نفس صرف صوفیا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر ایک مسلمان کی ضرورت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مرتبہ احسان پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ ولی اور صوفی ہونے کا حق صرف مخصوص لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے یہ باب کھلا ہوا ہے۔ ولی کے لیے ضروری نہیں کہ اس سے کرامات کا ظہور ہو۔ ولی کے لیے ہدایت اور صراط مستقیم پر چلنا شرط ہے۔ عوام الناس اس بات سے نابلد ہیں کہ ولی سے خطائیں بھی سرزد ہوسکتی ہیں۔ معصوم صرف انبیاءکرامؑ ہوتے ہیں۔ ہمیں ولی کے مفہوم کو سمجھنا چاہیے یعنی وہ شخص جو اللہ کے دین کا محافظ اور مدد گار ہو۔ صحابہ کرامؓ سب سے بڑے اولیا کرام تھے، جنہوں نے اپنے خون سے دین کی حفاظت کی اور اس کو نافذ کیا۔

ماضی میں بعض خانقاہیں اور درگاہیں ایسی تھیں جہاں ایمان اور توحید کا بھولا ہوا سبق یاد کروایا جاتا تھا۔ لیکن آج کے دور میں یہ امور ناپید ہیں۔ آج معاملہ برعکس ہے۔ ایسے مقامات پر بعض ایسے امور انجام پاتے ہیں جن کی شریعت اجازت نہیں دیتی ہے۔ ایسے مقامات کے کثیر حضرات توحید کے مسائل سے ناآشنا ہیں۔ ان کے ہاں عقیدہ توحید کا فہم غیر واضح ہے۔ حالانکہ اسلام کا پہلا سبق توحید اور ختم نبوت ہے۔ معاشرے کی اکثریت توحید ربوبیت سے ناواقف ہے۔ توحید الوہیت تو اس سے اگلا قدم ہے۔ ایک مسلمان کی حقیقی پہچان توحید ہے۔

یہ بات درست ہے کہ تزکیہ نفس کے لیے شیخ کی اہمیت ضرور ہے لیکن یہ کوئی ایسا لازمی امر نہیں کہ شیخ کے بغیر تزکیہ نفس ہو ہی نہیں سکتا۔ جب ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی محفوظ کتاب قرآن مجید اور اس کے حبیب کی سنت موجود ہے تو ہم ان دو ذرائع سے تعلق استوار کر کے تزکیہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی اتنا پیچیدہ معاملہ نہیں ہے کہ تزکیہ نفس کو سمجھا نہ جاسکے۔ ہمارا دین آسان ہے۔ اس میں بنیادی طور پر صرف اللہ اور اس کے رسول کی احتیاج ہے۔ لیکن امت کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے۔ اس سے جدا ہونے کی صورت میں ہم کئی مسائل اور فتنوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جس قدر شیخ کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے اس قدر اس کی اہمیت نہیں ہے۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ صحیح مرشد سے منسلک رہنے سے ہم کئی فتنوں سے بچ سکتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میں جماعت کے ساتھ رہنے میں عافیت بتائی گئی ہے۔

ہمیں تزکیہ نفس کے لیے وہی راستہ اپنانا چاہیے جو مسنون ہو۔ اس کام کے لیے غیرمسنون راستے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تزکیہ کے عمل کو ہمیں دشوار نہیں بنانا چاہیے۔ بلکہ لوگوں کو اس عمل کی آسانیوں کے بارے راہنمائی کرنی چاہیے۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.