مسلمانوں کے لیے راہِ اعتدال۔۔۔۔۔عاصم رسول کنہ/سرینگر

مسلمانوں کے لیے راہِ اعتدال۔۔۔۔۔عاصم رسول کنہ/سرینگر

عالم اسلام کے عظیم داعی و مفکر مولانا ابوالحسن علی میاںندویؒ نے اپنی کتاب ”مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں“کے آغاز میں انگریز کے ایک بڑے شاعر رڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) کا یہ قول نقل کیا ہے :

East is East and West is West  and never the twain shall meet

” مشرق مشرق رہے گا اور مغرب مغرب، دونوں کبھی مل نہیں سکتے“

متذکرہ بالا قول کو مدنظر رکھ کر اگر آج کے عالمی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات الم نشرح ہوجاتی ہے کہ مغرب کا کل طبقہ اور مشرق کا ایک اکثریتی حصہ اسی شاعر کے فلسفے پر عمل پیرا ہے،اسی فلسفے نے انسانیت کو مشرق اور مغرب کی دو مختلف قسموں میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے،مغرب کا تو شروع سے ہی یہ رویہ رہا ہے کہ وہ مشرق کو ادنیٰ درجے کی حیثیت دیتا ہے ،اس سے کوئی گلہ بھی نہیں،کیوں کہ ان کے ہاں عظمت اور برتری کا دارومدار مادہ پرستی اور نسلی عصبیت پر قائم ہے۔قبل اس کے کہ ہم مغرب کی ترقی سے مشرق پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیں،یہ جاننا ضروری ہے کہ مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گزشتہ چار صدیوںکے دوران یورپ میں ابھری۔موجودہ یا جدید مغربی تہذیب کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا۔یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے۔ مسلم ہسپانیہ پر عیسائیوں کے قبضے تک یورپ جاہلیت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ہسپانیہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا تو ان کے علوم کا خزانہ عیسائیوں کے ہاتھ آیا اور یوں یورپ صدیوں کی گہری نیند سے بے دار ہوا۔یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ ایجادات ہوئیں،جن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت دور ہوگئی، بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے نکل کھڑی ہوئیں۔ان کی حریص نظریں ایشیا اور افریقہ کے ممالک پر مرکوز ہوئیں اور تھوڑے ہی عرصے میں ان اقوام نے ایشیا اورافریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخشی کہ محکوم ممالک کا اس نئی تہذیب نے حتی المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو خیرہ کردیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے۔ترکی،مصر ،حجاز، فلسطین، مراکش ،تیونس ،لیبیا، سوڈان، عراق اور شام وغیرہ ،غرض تمام مسلم ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور برصغیرہندوپاک پر قبضہ کرکے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے کاٹنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

انیسویں صدی میں جب مغرب نے صنعت و حرفت اور سائنس و دیگر علوم میں ترقی کی اور صدیوں پر محیط ان کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں تو دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا، نئے نئے کارخانے وجود میں آگئے، نئے تجربات شروع ہوئے، ایجادات مارکیٹ میں آگئیں۔ سائیکل کا سفر جہاز تک پہنچ گیا۔ زمین پر جوتیاں چٹخاتے پھرنے والا انسان چاند پر قدم رنجہ ہوا۔مغرب کی اس ترقی کے نتیجے میں مشرق تین گروہوں میں تقسیم ہوگیا۔ پہلا گروہ مغرب کے تسلط کو رضائے خداوندی سمجھ کر اس کے سامنے ڈھیر ہوگیااور اس نے اعلان کیا کہ اب مغرب کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ اس گروہ نے مغرب کی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی فکری و تہذیبی اقدار کو بھی اپنے لیے نمونہ اور آئیڈیل بنایا۔ یہ گروہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پایا کہ مغرب جو صنعتی ترقی کے اعتبار سے اوج ثریا پر پہنچ چکا ہے ، اخلاقی طور پر تحت الثریٰ تک گر چکا ہے۔دوسرا وہ طبقہ تھا جو مغرب کی مخالفت میں حد سے گزر گیا ، یہ طبقہ مغرب کو شر محض قرار دے کر اسکے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آیا۔ اس گروہ نے مغربی ترقی کے آلات کا استعمال بھی گوارا نہیں کیا۔ غرض اس طبقے کی بنیاد اندھی دشمنی پر قائم تھی۔ اس طبقے کے جذبات اور ان کی قوت ایمانی سے انکار ممکن نہیں، مگر زمینی حقائق کے تناظر میں ان کا طریقہ ¿ کار درست نہیں تھا۔ان دو گروہوں کے مقابلے میں ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس کا نظریہ یہ ہے کہ مغرب نے جو ایجادات کی ہیں، ان کی تعریف کی جائے اور نظریاتی طور پر وہ جس تباہی کی طرف جارہا ہے، اس سے اس کو بچاتے ہوئے جرا ¿ت کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے اور اگر وہ انکار کرے تو اسی کے تیار کردہ وسائل و ذرائع اور آلات کو اس کے خلاف استعمال میں لایا جائے۔ یعنی اس گروہ نے نہ مغرب کو خیر محض قرار دے کر ہر شعبے میں اس کی تقلید کی اور نہ شرِ محض قرار دے کر اس کو پس پشت ڈالا، بل کہ ”خذ ما صفا دع ما کدر“کے اصول کے تحت اس کی اچھائیوں کو لیا اور برائیوں کی نشان دہی کی۔ان تین صورتوں پرغور و فکر کے بعد آج کے مسلمانوں کے لیے راہ اعتدال یہی نظر آتی ہے، جو تیسرے گروہ نے اختیار کر رکھی ہے، اسی راہ کو اپناتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.