جہاد اور روح جہاد۔۔۔۔۔۔۔ ایک تبصرہ

جہاد اور روح جہاد۔۔۔۔۔۔۔ ایک تبصرہ
  • 87
    Shares

مصنف: مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی

صفحات: ۳۸۴،

قیمت: ۳۰۰روپے

اشاعت: ۲۰۱۷

ناشر: ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی۔ ۲۵۔

تبصرہ::امتیازعبدالقادر

”جہاداورروحِ جہاد“ ہندوستان کے کہنہ مشق،زُودنویس اسلامی مفکرمولاناعنایت اللہ اسدسبحانی کی تازہ تصنیف ہے۔جوکہ مصنف نے پیرانہ سالی کے باوجودمحنتِ شاقہ سے تحریرمیںلائی اورمعاصردنیامیں اسلام،جہاد،دہشت گردی،بنیادپرستی کے حوالے سے داخلی وخارجی سازشوںکاپیرہن چاک کرنے اورحقیقی روحِ جہادکومبرہن کرنے کی سعیِ جمیلہ کی ہے۔موصوف علمی دنیاکاجاناپہچانانام ہے۔مصنف علمی وادبی ذوق،عمیق نظراورنکتہ سنجی کے مالک ہیں۔ موصوف نے چالیس سے زائدتحقیقی وتنقیدی کتابیں لکھی ہیں،جن میںآٹھ کتابیں عربی زبان میںہے۔مولانا عربی زبان کے شناسابھی ہیں اورعربی کی کچھ اہم کتابوں کواردوئے مبین میں ترجمہ کرکے پیش کیاہے۔

انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے، دنیا کے سارے مذاہب میں احترامِ نفس کا یہ اصول موجود ہے اورجس مذہب اورقانون میں اس دفعہ کو تسلیم نہیں کیاگیاہے، اس مذہب اور قانون کے تحت رہ کر کوئی انسان پرامن زندگی نہیں گذارسکتا ہے اور اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے، تو اس لحاظ سے بھی کسی ذاتی مفاد کی خاطر اپنے بھائی کو قتل کرنا، بدترین جرم ہے، جس کا ارتکاب کرکے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا کرنا تو در کنار، اس کا درجہ انسانیت پر قائم رہنا بھی ناممکن ہے۔

دنیا کے سیاسی قوانین، تو انسانی احترام کو صرف سزا کے خوف سے قوت کے بل بوتے پر قائم کرتے ہیں، مگر ایک سچے دین ومذہب کا کام انسانی دلوں میں اس کی صحیح قدر وقیمت پیدا کردیتا ہے تاکہ جہاں انسانی تعزیر کا خوف نہ ہو، وہاں بھی ایک انسان دوسرے انسان کا خون کرنے سے پرہیز کرے۔ اس نقطئہ نظر سے احترامِ نفس کی جیسی صحیح اور موثر تعلیم اسلام میں دی گئی ہے، وہ دوسرے ادیان ومذاہب میں ناپید ہے۔قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز وپیرایہ سے اس تعلیم کو انسانی دلوں میں دل نشیں کیاگیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اور جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہیں، ہاں مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا۔“(الفرقان:۸۶)

اس تعلیم کے اولین مخاطب وہ لوگ تھے، جن کے نزدیک انسانی جان ومال کی کوئی قدر وقیمت نہ تھی اور جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے اولاد جیسی عظیم نعمت کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے خود بھی ہمیشہ احترامِ نفس کی تلقین کیاکرتے تھے۔احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اس قسم کے ارشادات وبیانات سے پُر ہے، جس کے اندر ناحق خون بہانے کو گناہِ عظیم اور بدترین جرم بتایا گیا ہے، جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان مارنا، والدین کی نا فرمانی کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا ہے۔“ (مشکوٰة:۷۱، باب الکبائر وعلامات النفاق)

حرمت نفس کی یہ تقسیم کسی فلسفی یا معلم اخلاق کی نہ تھی کہ اس کا دائرئہ کار صرف کتابوں کی حد تک محدود رہتابلکہ وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تھی، جن کا ہر ہر لفظ مسلمانوں کے لیے ایمان ویقین کا درجہ رکھتا ہے، جن کی پیروی ہر اس شخص پر واجب اور ضروری ہوجاتی ہے، جو کلمہ توحید کا اقرار کرتا ہو۔چنانچہ ایک چوتھائی صدی کے قلیل عرصہ میں ہی اس تعلیم کی بدولت عرب جیسی خونخوار قوم کے اندراحترامِ نفس اور امن پسندی کا ایسا مادہ پیداہوا کہ ایک عورت رات کی تاریکی میں تنِ تنہا قادسیہ سے صنعا تک سفر کرتی تھی اور کوئی اس کی جان ومال پر حملہ نہ کرتا تھا اور بہ حفاظت وہ اپنی منزل تک پہونچ جایا کرتی تھی حالانکہ یہ انھیں درندوں اور لٹیروں کا شہر اور ملک تھا، جہاں بڑے بڑے دل گردے والے بھی گذرتے ہوئے لرزجایا کرتے تھے، گویا کہ حیوانیت اور قساوتِ قلبی ان کے لیے عام بات تھی۔ایسے سنگین حالات میں اسلام نے ببانگِ دہل یہ آواز بلند کی”انسانی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے،اس کو ناحق قتل مت کرو مگر اس وقت جب کہ حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے“ (بنی اسرائیل)اس آواز میں ایک قوت وطاقت تھی۔ اس لیے دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہونچی اور اس نے انسانوں کو اپنی جان کی صحیح قدر وقیمت سے آگاہ کیا، خواہ کسی قوم وملت نے یا کسی ملک وشہر نے اسلام کو اختیار کیا ہو یا نہ کیاہو، اجتماعی تاریخ کا کوئی بھی انصاف پسند انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا کے اخلاق وقوانین میں انسانی جان کی حرمت وکرامت قائم کرنے کا جو فخر اسلام کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے ادیان ومذاہب کو حاصل نہیں۔

زمانہ ہذامیں مغرب کی بعض قومیںیہ عَلم لے کر اٹھیں ہیں کی وہ دنیامیں تہذیب وانسانیت کی ترقی،درماندہ قوموں کی اصلاح اورامن وامان کے قیام کی خاطرجنگ لڑرہی ہیں۔مگرصورتِحال بالکل برعکس ہے۔کمزورقوموںکی آزادی پرشب خون مارنا،انسانیت اورانسانی شرافت کی تمام خصوصیات کاتہہ وبالاکرنا،ان کااصل مقصدہے۔شومیِ قسمت کہ عالمِ اسلام میں بھی اس وقت ایسے’مصلحین‘ میدان میںآگئے ہیں جن کی زبان پراصلاح کاوظیفہ ہے اورہاتھ میں فتنہ وفسادکی تلوار۔بزعمِ خویش وہ اسلام کے غلبہ کے لئے سربکف ہیں لیکن ان کے حرکات سے اسلام بہت بدنام ہورہاہے۔جودین امن وسلامتی کااوراخوت وہمدری کوقائم کرنے آیاہے اورخیروالقرون میں اس کی مثال قائم کرچکاہے۔جس میںاتنی وسعت(Accomodation (کہ رسالتمآبﷺ رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کوبھی مسجدنبوی کی صفِ اول میں جگہ دیتے ہیں۔امیرالمومنین حضرت علیؓ نے ایک باغی گروہ ’خوارج‘ کے بارے میں فرمایاتھا:”اِخوانُنا بغواعلینا“(بیہقی)۔’وہ ہمارے بھائی ہیں،جوہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئی ہیں۔‘جنھوںنے ناگزیرحالات میں،قیامِ حق کے لئے تلواراٹھائی اورپھربھی بے جاخون خرابے سے مجتنب رہے۔جنھوںنے سروں کونہیں،دلوںکومسخرکیاہواتھا۔ان کے نام پرجہادجیسی پاک اصطلاح کواس وقت نفس کے یہ غلام ذاتی ومادی مفادات کی خاطرعرب وعجم میں مسموم کررہے ہیں۔اسلام کے احکامِ جنگ کے حوالے سے متعصب مصنفوںاوران کے جاہل مقلدین سیاسی لیڈروں نے دنیاکو جس قدردھوکے میںرکھاہے اورغلط فہمیوں میں مبتلارکھاہے،اسلامی جہادکے نام پرمسلمان اس وقت جس طرح سے سروںکے ڈھیرلگارہے ہیں،اس سے ان غلط فہمیوں کوہَوا مل رہی ہے۔ہرکہہ ومہہ جہاد کاعلم بلندکرکے اسلام کے پیامِ حیات وروح پرورکو،پیغامِ موت بناکرپیش کررہاہے۔ایسے میں علماءکرام اوردینی اسکالرزکافرض بنتاہے کہ اسلام میں جہادکی صحیح حیثیت اور اس کی حقیقت کوواضح کرے۔نوجوان قوم کااثاثہ ہیں ،جان دے کریاکسی کی جان لے کراسلام کی تشہیرنہیںہوگی بلکہ پیغامِ آفریں ،مہروفا کوعام کرکے ہی کردارکے غازی پیداہونگے۔بیسویںصدی کے تیسرے دہے میںمولاناسیدابوالاعلٰی مودودی مرحوم نے’الجہادفی الاسلام‘لکھ کر ایک بہترین کارنامہ انجام دیاہے۔عصرحاضر میں بھی اس چیزکی اشدضرورت ہے۔اسی ضرورت کے پیشِ نظرمصنف نے قلم کوجنبش دی اورجہادکی اصل حقیقت کوواضح کرنے کی کوشش کی ہے۔تشدداورعدم برداشت کی موجودہ موہوم فضاکوسلامتی،آشتی اورسکون کی تلاش ہے ،جوکہ صرف اسلام کی سچی اورصحیح ترجمانی سے ہی ممکن ہے۔

زیرتبصرہ کتاب تیرہ ابواب پرمشتمل ہے۔مولانائے محترم نے بھی دنیابھرمیں جہادکے بارے میں غلط فہمیوں کاازالہ کرنے کے لئے یہ کتاب تحریرکی،لکھتے ہیں:

”موجودہ عالمی صورت حال بتاتی ہے کہ اس دین کے بارے میں،خاص طورسے جہادکے بارے میںغیرمسلم قومیں،چاہے وہ مشرق کی ہوںیامغرب کی،بری طرح غلط فہمیوں کاشکارہیں۔بہت سی وہ قومیں بھی غلط فہمیوں کاشکارہیں،جوکہنے کوتومسلمان ہیں،مگران کی وفاداریاں اللہ اوررسول کے لئے نہیں بلکہ دشمنانِ اسلام کے لئے ہیں۔ان کے دل ودماغ کتاب وسنت کے سانچوں میں نہیں بلکہ تہذیب حاضرکی فیکٹریوں میںڈھلے ہیں۔ضروری ہے کہ ان سارے لوگوںکی غلط فہمیاں دورکی جائیں تاکہ عالمی فسادوخوںریزی کایہ سلسلہ ختم ہو۔“(ص ۲۵)

دوررسالت میں اسلام کی تبلیغ وتشہیرکیونکرکامیاب ہوئی،اس حوالے سے مصنف رقمطرازہیں:

”لوگوںکااسلام میںفوج درفوج داخل ہوناجہادی کاروائیوں کاثمرہ نہیں بلکہ اس وجہ سے تھاکہ اب ظلم واستبدادکادیوپاش پاش ہوچکاتھا….وہ اللہ کے دین میںفوج درفوج اس وجہ سے داخل ہوئے کہ وہ مکے میں بھی رحمت عالمﷺاورآپ کے جاںنثاروں کابلند کیریکٹردیکھ چکے تھے،جبکہ آپ اورآپ کے ساتھی کمزوری اورمظلومی کی حالت میںتھے۔“(ص۶۲)

واقعتَامظلومی کی حالت میںاوصاف حمیدہ،صبرجمیل اورعفوودرگزرکامعاملہ کرنامکارمِ اخلاق میں سے ہیں۔موجودہ دورمیںغیرمسلموںکے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں بھی یہ اوصاف عنقاءہیں۔ہمارے افعال وکردارکودیکھ میڈیاکے ذریعے اسلام پربے جابحث ومباحثے کالامتناہی سلسلہ شروع ہوچکاہے۔اغیارکی سازشوں کاموجود ہونابجالیکن کہیں پرہمارے اپنے بھی اس خرمن کوآگ لگانے میں مصروف ہیں۔جزبات کی رومیں بہہ کرعلمی ترقی اورفکری بلندی سے ناآشنارہے۔موصوف لکھتے ہیں:

”کسی صالح اوربابرکت انقلاب کے لئے جہاںجزباتی طورپرعوامی بیداری ضروری ہوتی ہے،وہیں علمی ترقی اورفکری بلندی بھی ضروری ہوتی ہے۔ “

کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت مسئلے کی اہمیت کوواضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے جہادفی سبیل اللہ کامطلب،جہاد کے ضروری عناصر،داعش کااصل چہرہ،خلافت کیاہے،لفظِ خلافت کااستحصال،خلافت کے لئے خوںریزی جائزنہیں،جہاداورامن عالم،نظریہ صلح وجنگ،جہادعصرحاضرمیں وغیرہ۔’داعش کااصل چہرہ‘عنوان کے تحت صاحب کتاب لکھتے ہیں:

”اس نے قیام خلافت اورتاسیس دولہ اسلامیہ کے نام پرمسلم نوجوانوں کوجس طرح ورغلایااورگمراہ کیاہے اوراپنے ظلم وبربریت سے اسلام اوراسلامی نظام کی جیسی گھناﺅنی تصویردنیاکے سامنے پیش کی ہے،پوری اسلامی تاریخ میںاس کی مثال ملنی مشکل ہے۔“(ص۱۵۳)

اسلام پسندوں پراس تنظیم کے منفی اثرات کاتذکرہ کرتے ہوئے موصوف رقمطرازہیں:

”اس کے خلاف عالمی طاقتوں کاساراہنگامہ ،ساری بیان بازیاں اورساری جنگی کاروائیاں محض مسلم دنیاکودھوکہ دینے ،داعش کی تباہ کاریوںکے لئے راستہ صاف کرنے اوراس کی آڑمیں اسلام پسندوںکی طاقت توڑنے کی ایک ذلیل کوشش ہے۔“(ص۱۵۴)

مولاناکے نقطہ نظرمیں مزکورہ تنظیم ایک عظیم فتنہ ہے،جس سے مسلمانوںکوباخبراورہوشیاررہناچاہئے اوران کادعوٰی قیامِ خلافت محض ایک ڈھونگ ہے اورکچھ نہیں۔

خلافت ناحق اسلامی حدودوتعزیرات نافذکردینے سے قائم نہیں ہوتی بلکہ :”خلافت کے لئے حضرت ابوبکرصدیقؓ کی راست بازی ودل سوزی چاہئے۔ان کاعشق رسول اوران کی آہ نیم شبی چاہئے! بھٹکے ہوئے انسانوں کے لئے ان کادردوکرب اورپریشاں حال لوگوں کے لئے ان کی صلہ رحمی چاہئے۔خلافت کے لئے حضرت عمرؓکی بے نفسی اورحق پرستی چاہئے۔ان کی رقتِ قلبی اورسوزوگدازچاہئے۔ان کاخوف خدااوران کاایمانی دبدبہ وجلال چاہئے….“(ص۵۵۔۱۵۴)

تمام ترخوبیوں کے ساتھ ساتھ کتاب میں خامیاں بھی راہ پاگئی ہیں۔محاسن ومعائب انسانی علم وفکرکاخاصہ ہے۔مولانامحترم کاجواسلوب ان کی تحریرکردہ سیرت رسول پر کتاب’محمدعربیﷺ‘ میں موجودہے،وہ اس کتاب کوتحریرکرتے ہوئے کہیں گُم ہوچکاہے۔علاوہ ازیں اکثرمقامات پر علماءوبزرگانِ دین کے اقوال اورنقطہ ہائے نظرکوپیش توکیاگیاہے لیکن حوالہ جات کوقلم اندازکیاگیاہے،مثال کے طورپر:

”وقت کے ایک بڑے عالم دین فرماتے ہیں:’جس قوم میں رسول کی بعثت ہوتی ہے۔اس پراللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے۔اس وجہ سے وہ قوم اگراپنے کفرپراڑی رہتی ہے،تواللہ اس کولازمَا ہلاک کردیتاہے۔خواہ وہ قہرِالٰہی سے ہلاک ہویااہلِ ایمان کی تلواروںسے….“

ایسے ہی کچھ اقوال ہیں جن کاحوالہ نہیں دیاگیاہے۔ظاہرہے بلاحوالہ بات کوئی مثبت اثرنہیں چھوڑتااورتحقیق کے میدان میںیہ بہت بڑانقص تصور کیاجاتاہے۔مزید جہادکی روح کے حوالے سے قبلہ مصنف کادعویٰ ہے کہ یہ ساری انسانیت کی خیرخواہی ،بہی خواہی ،مظلومین کی حمایت،کمزوروں کی اشک شوئی اورغم کے مارے ہوئے انسانوںکی غم خواری ہے۔(ص۴۱) لیکن اس کی تفصیلات درج نہیںکی گئی کہ کیسے جہادان صفاتِ حمیدہ سے متصف ہے؟تاریخ کے کچھ واقعات کوبنیادبناکرحال کی تعمیرواصلاح کی ضرورت تھی۔زبان وبیان اگرچہ عام فہم ہے البتہ حلاوت سے عاری۔کہیں کہیں پرغیرضروری کومہ(،)بھی ہیں،جس کی وجہ سے روانی باقی نہیں رہتی۔

محاسن کی فہرست میں ایک حسن یہ ہے کہ مصنف موصوف نے کچھ احادیث کی سند،روایت ودرایت پربحث کی ہے۔جواحادیث اکثرجہادکے حوالے سے یادورِنبویﷺ کے واقعات کے بارے میںواعظین،مقررین بیان کرکے اپنی استعدادکے مطابق کچھ اورہی نتائج بیان کرتے ہیں،ان روایات کے سندکی کمزوریوں کوواضح کیاگیا ہے ۔بعدازاںان کی تفہیم بھی کی گئی ہے۔مجموعی طورپرمزکورہ کتاب موجودہ پُرفتن دنیامیں خاص وعام کے مطالعہ کے لائق ہے۔مولاناقابل صدمبارکبادہیں کہ انھوں نے برمحل ایک اہم موضوع پرخامہ فرسائی کرکے غلط فہمیوں کے ازالہ کی بساط بھرکوشش کی۔ناشرہدایت پبلشرزنئی دلی بھی،دیدہ زیب طباعت اورکتاب کے موزون وزن کے لئے قابل مبارک بادہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب کوہندی اورانگریزی کا پیرہن بھی پہنایاجائے تاکہ ہندوستان اوردیگرممالک کے اکثریتی مشکوک ذہنوں کواس موضوع کے حوالے سے صحیح رہنمائی کی جاسکے۔

امتیازعبدالقادر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریسرچ اسکالر،شعبہ اردوکشمیر یونیورسٹی۔ سرینگر

٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.