فکر اقبال ؒ کا ایک اہم پہلو ـ ’خودی‘۔۔۔۔۔زاہدنبی کھاہ کولگام

فکر اقبال ؒ کا ایک اہم پہلو ـ ’خودی‘۔۔۔۔۔زاہدنبی کھاہ کولگام
  • 49
    Shares

٭…زاہدنبی کھاہ،کو لگام(شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی)
مولانا شبلیؒنے ندوہ کی ایک تقریب میں فرمایا:
’’یورپ کا تو کوئی ماضی نہیں اس لئے وہ مستقبل کے اندھیرُں میں جدھر چاہے ٹھوکریں کھاتا پھرے لیکن اسلام کاماضی اتِنا شاندار ہے کہ مسلمانوں کی ترقی آگے بڑھنے کے بجاے پیچھے ہٹنے میں ہے یہاں تک کہ ہٹتے ہٹتے خیرالقران عہد صحابہؒ بلکہ خود حضور ﷺ کے عہد مبارک پہنچیں یہی ہماری ترقی کا اصل راز ہے‘‘۔
اقبالؒ کی شاعری کا خلاصہ جو ہر اور لُب لباب عشق رسول ﷺ اور اطاعت رسول ﷺ ہے اقبالؒ کی شاعری کے کسی بھی پہلویا موضوع کو زیر بحث لانے کی خاطر اقبالؒ کے فکری اور شعری میلانات مطالبعات اور اس نوح کے دیگر عناصر کا مطالعہ کرنا ازبس ضروری ہے۔ ایک عظیم فن کار کی طرح اقبالؒ کی شاعری اپنے اندر بڑی وسعت تنوع ہمہ گری اور تہہ داری رکھتی ہے۔ اقبالؒ ایک بڑے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے مفکر کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا بیشتر حصہ ایسا ہے جس میں براہ راست مسلمانوں سے خطاب کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ’’بانگ درا‘ ‘سے لیکر کے ان کی آخری مجموعہؔ کلام ’ ارمغان حجاز‘ تک جاری رہا ہے۔ اسی سبب کے تحت علامہ مرحومؒ کو مسلمانوں کا شاعر کیا گیا ہے۔ اقبالؒ جب مسلمان سے مخاطب ہوتے ہیں تو مسلمان سے ان کی مراد وہ انسان ہے جو نہ صرف نام کے اعتبار سے مسلمان ہو بلکہ جس کے اعمال مسلمان کے ہوں ؎
یہ شہادت کہ اُلفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ سمجھتے ہیں کہ آسان ہے مسلمان ہونا
یہ بات مسلّم ہے کہ اقبالؒ مسلمانوں کے تئیںایک والہانہ جذبہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک حساس اور باشعور مسلمان ہونے کے ناطے وہ مسلمانوں کے انحطاط وزوال پر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرتے رہے۔ اور اس کے سد باب کے لئے راہیں تلاش کرتے رہے۔انہیں شدید احساس تھا کہ مسلمانوں کا ماضی بڑا پُر شکوہ اور شاندار رہا ہے جب وہ موجودہ دور کے مسلمانوں کی حالت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو انہیں بڑا دکھ ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی حالت زار پر ان کی شاعری میں شدید ردعمل ملتا ہے۔ یہ درعمل کہیں ’’جواب شکوہ ‘‘کی شکل میں ظاہر کیا گیا ہے۔ علامہ اقبالؒ کا یہی مقصود ہے کہ وہ مسلمان جو ایک زمانے میں کبھی بُت شکن تھا جو کبھی پوری دُنیا کے لئے ایک نمونہ تھا وہی مسلمان جواب اپنے اخلاق اور کردار کی پستی ، یاگراوٹ کے لحاظ سے یہودو نصاریٰ سے بھی بدتر ہو چکا ہے۔ از سرنواپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لئے سر گرم ہو۔ چنانچہ یہی مسلمان جب اپنے خدا کے حضور مسلمانوں کو نظر انداز کرنے اور غیروں پر فیض و کرم کی بارش کرنے پر شکوہ سنج ہوتا ہے۔ تو اقبالؒ اُسے اُس کی نکو کاری آئینہ رکھا کر اُسے شرمسار ہونے کا موقع دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر حقیقی معنوں میں مسلمان کہلانے کا اہل ہوسکے
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہوکر نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیانہ پیچو جو مل چائیں صنم پتھر کے۔؟
اقبالؒ کو شکوہ ہے کہ مسلمان کا قلب سوز سے عاری ہے۔ انہیں یقین ہے کہ مسلمان قرآن کو اپنا رہبر بنائے۔ قانوں الٰہی کی پابندی کرے اور سِنت رسولﷺ کی پیروی کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ پھر سے دنیا میں عزت وسرخرویؔ حاصل نہ کرے۔ اقبالؒ کے فکر کا سر چشمہ قرآن پاک ہے انہوں نے ایک مقام پر حلفیہ بیان دے کر کہا ہے کہ ’’اگر میں نے اپنی شاعری میں قرآن کے سواکسی اورچیز کو پیش کرنے کی کوشش کی ہو تو خداروز محشر کو نبی برحقﷺ نے نازنین کے بوسے سے مجھے محروم کردے‘‘
(اقبال نقش ہائے رنگ رنگ ص۷۵)
علامہ مرحوم کے فلسفہ خودی نے مختلف بلکہ متضاد تشریحوں اور تعبیروں کے باعث ایک چشیاں کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اور معاملہ بالکل وہی ہوا ہے کہ’’شُدیر شاں خواب من از کثرت تعبیریا‘‘…آسان تفہیم کے لے یوں کہا جاسکتا ہے کہ علامہ کے فلسفے کا بنیادی پتھر انسان کی ہستی کی نفی کے بجاے اثبات ذات خویش ہے۔ نتیجہ ً ان کے پیش نظر اسلوک کی انتہائی منزل ’’فنا فی اللہ‘‘ نہیں بلکہ ’’بقا باللہ‘‘ ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کہتے ہیں اس نکتے کی وضاحت کے لئے علامہ مرحوم کی اس تحریر کئے بعض حِصّے آپ کو سناتا ہوں جو انہوں نے پروفیسر نکلسن کی اس فرمائیش پر کہ علامہ اپنے فلسفیانہ خیالات ایک مختصر لیکن جامع مضموں کی صورت میں بزبان انگیریزی تحریرے کردیں، سپر د قلم کی تھی۔ اور جیسے پروفیسر موصوف نے ’’مثنوی اسرار خودی‘‘ کے ترجمے”Secrets of The Self”کے شروع میں شائع بھی کردیاتھا اپنی اس تحریر میں علامہ فرماتے ہیں :’’ظاہر ہے کہ کائنات اور انسان کے بارے میںمیرا یہ نظریہ ہیگل اور اس کے ہم خیالوں اور ارباب وحدت الوجمود سے بالکل مختلف ہے جن کے خیال میں انسان کا مہنتائے مقصود یہ ہے کہ وہ خُدا یاحیات کلیّ میں جذب ہو جائے اور اپنی انفرادی ہستی کومٹادے ____میری رائے میں انسان کا اخلاقی اور مذہبی منتہائے مقصود یہ نہیں کہ وہ اپنی ہستی کو مٹادے یا اپنی خودی کو فنا کردے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ا نفرادی ہستی کو قایم رکھے —-قرب الٰہی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خداکی ذات میں فنا ہوجائے بلکہ اس کے بر عکس یہ کہ خدا کو اپنے اندرجذب کرلے ……میں نے افلاطون کے فلسفے پر جو تنقید کی ہے اس سے میرا مطلب ان فلسفیانہ مذاہب کی تردید ہے جو بقا کے عوض فنا کو انسان کا نصیب العین قرار دیتے ہیں…..ان مذاہب کی تعلیم یہ ہے کہ مادہ کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس سے گریز کرنا چاہئے حالانکہ انسانیت کا جوہر یہ ہے کہ انسان مخالف قوتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرے اور انہیں اپنا خادم بنائے اس وفت انسان ’’خلیفہ اللہ‘‘ کے مرتبے کو پہنچ جائے گا…..اقبال اور ہم ص(19, 18
اگر اس حقیقت کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی کوشش کروں تو وہ یوں ہوگی کہ اس پورے سلسلہ کائنات مادّی اور تمام عالِم کون و مکان کی طرح خود انسان کا مادّی وجود یا اس کا وجود حیوانی بھی خالص وہمی و خیالی اور اعتبار محض ہے ،سوائے اس کی انا یا من یا ذات یا خودی کے جو دراصل عبادت ہے۔ اس کی اُس رُوح سے جواس کے وجود حیوانی میں پھونگی گئی اور جس کی اضافت اللہ تعالٰی نے خود اپنی ذات کی طرف ہے۔
فَاِذا سَوَّ یّتُہ ونَفخُتُ فِیہِ مِن رُّوحیُ فَقَعُوالَہ سَاجِدِینَ،الحجر آیت ۲۹،
’’یعنی جب میں اس کو پوری طرح درست کردوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تب گر پڑنا اس کے لئے سجدے میں‘‘—– یہ روح انسانی نہ وہمی و خیالی ہے نہ عارضی وفانی بلکہ حقیقی اور واقعی بھی ہے۔ اور دائم و باقی بھی خدایا روح کائنات یا انائے کبیر اور اس روح انسانی یا انائے صغیر میںایسا قریبی رابط اور لازم وملزوم کا رشتہ ہے۔ کہ انسان اسے پہچان لے تو خدا کو جان جاتا ہے۔
مَن عَرَفَ نَفسَہُ فَقَد عَرَفَ رَبَّہُ۔اور اگر اسے نہ پہچان پائے تو کبھی خداکی معرفت بھی حاصل نہیں کرسکتا یا یوں کہہ یں کہ اگر کوی خدا کو پہچان لے تو اپنی عظمت سے واقف ہو جاتا ہے اور اگر خُدا کو بھلا دے تو اپنی حقیقت بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
وَلَاَ تکُو نوا کاِلّذِینَ نَسُواللّٰہَ فَاَنسھُم اَنفسُھُم اُولٰئک ھُمُ الفٰسقُوَنَ
’’ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خُدفراموش میں مبتلا کردیا یہی لوگ فاسق ہیں(الحشرآیت۱۹)‘‘
خایق ومخلوق اور عبدو معبود یا انائے مطلق(Infinite Ego)اور اناے محدود (Finite Ego)کے مابین اصل رشتہ باہمی عشق اور محبت کا ہے۔
والِذَّین امُنُو اَشَدُّ حُباًلِلّٰہِ
’’اور (حقیقی ) ایمان والے سب سے زیادہ شُدید محبت کرتے ہیں خُدا کے ساتھ (البقرہ۱۶۶)‘‘
اب ظاہر ہے کہ جس کسی کو اسعشق کی حقیقی لذت حاصل ہوگی وہ اس کے دوام و بقا کا خواہشمند ہوگا نہکہ اس کے انقطاع اور خاتمے کا اور فنائے ذات کا لازمی نتیجہ خاتمہ عشق ہے بس یہیں سے علامہ مرحوم ؒ کے فلسفے کا دوسرا اہم نکتہ سمجھ میں آسکتا ہے یعنی عشق خداواندی اور اس کا دوام اور محبت الہٰی اور اس کا ’’سوزناتمام‘‘
تونہ شناسی ہنوز شوق بمیر دزوصل
چیست حیات دوام؟ سوختنِ نا تمام!
دوامِ ماز سوزِ نا تمام است
چُوماہی جزتپشبر ماجرام است!
ہر لحظہ نیاطُور نئی برق تجلّی
اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہوطے!
العرض اثباب ذات خویش اور دوام عشق الٰہی علامہ مرحومؒ کے فلسفہ خودی کے دوستون ہیں اور یہ دونوں ظاہر ہے کہ باہم لازم و ملزوم ہیں ۔ علامہ کے ان دواشعار میں ان کا یہ باہمی لزوم بہت نمایاں ہے
میں انتہاے عشق ہوں تو انتہائے حُسن
دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرئے کویّ!
یہ عرض کرنا تحصیلہے کہ اسی عشق الہٰی کا ایک عکس عشق رُسولﷺ بھی ہے اس لئے کہ کون ہے جو نہیں جانتا کہ اطاعت و محبت دونوں کے اعتبار سے اللہ اور رسولﷺ ایک و حدت کی حیثیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علامہ مرحوم کے کلاممیں عشِق رسولﷺ کا جذبہ تانے بانے کی مانندئپیوست ہے۔
ہر کہ عشِق مصطفٰےﷺ سامان اوست
بحر وبر درگوشہ دامِان اوست!
روح رین کی تعبیر کے ضمن میں علامہ مرحوم ؒ کی دوسری بڑی خدمَت یہ ہے کہ انہوں نے نِری رسم پرستی اور خشک وفقہی وقانونی موشگافی کی پُرزور مذمّت کی اور دین شریعت کے جملہ مظاہر کی اصلروحِ باطنی عشق الٰہی کو قرار دیا۔
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا سجود بھی حجاب! میرا قیام بھی حجاب!
اور فریاد کیا
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
رہ گئی رسم ازان روح بلالیؓ نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالیؒ نہ رہی
اس لے کہ جملہ اعمال کی روح عشق الہٰی ہے ۔اس کی لپک بلال ؓ کی ازان میں تھی اور اس میں دمک تلقین غزالی ؒمیں
اس کی مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق سے اصل حیات موت ہے اس پر حرام
عشق دمِ جبرئیل، عشق دِل مصطفٰےﷺ
عشق خدا کا رسول عِشق خدا کا کلام !
نظام وین حق کی جو تشریح علامہ موخومؒ کے کلام میں نظر آتی ہے اُسے بغرض تفہیم تین اجزا میں تقسیم کیاجا سکتا ہے۔ اور تینوں درحقیقت ایک ہی مرکزی نکتے کی شرح اور ایک ہی نقطہ ’’توحید‘‘ کی توسیع (Extension)کی حیثیت رکھتے ہیں۔
(۱)۔عام تمد نیی اور معاشرتی سطح پر و حدت خالق ہی وہ اساسی تصّور ہے۔ جس سے وحدت انسانیت کا خیال جنم لیتا ہے۔ اور جس میں مزید گہرائی و گیرائی و حدت آدم کے تصوّر سے پیداہوتی ہے اور نتیجہ ً انسانی حریت اخّوت اور مساوات کے اصول مستنبط ہوتے ہیں چنانچہ نظام دین حق کے اس پہلو پر بہت زیادہ زور علامہ کے کلام میں پایا جا تا ہے۔
(ب)۔اسی طرح ہیسّتِ سیاسی کے ضمن میں توحیدالٰہی میں کے اصلُ الاصول سے مستنبط ہوتا ہے یہ اساسی قاعدہ کہ حاکمیت صرف خدا کے لے ہے۔ ماسِویٰ کی حاکمیت پر مبنی نظام سیاسی مجسّم شرک ہے۔
سروری زیبا فقط اس زات بے ہمتا کو ہے۔
حکمران ہے اکِ وہی باقی بتانِ آزوی۔
(ج)۔یہی معاملہ نظامِ معیشت کا بھی ہے۔ تو حید کا اصُول جس طرح حاکَمیّت اور قومیّت کے تمام مروؔجہ تصّورات کی نفِی کلّی ہے۔ اسی طرح ملکیتؔ مطلقہ کے عام تصوؔر کی بھی کامل نفیہے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر’’مُلُک ‘‘ اللہ کا ہے ’’ملِک ‘‘بھی اللہ کی ہے اور اگر زمین و آسمان اور جو کچھ ان دونوں میں ہے اس سب کا ’’مَلِک‘‘ (بادشاہ) اللہ ہے تو یقیناً ’’مالک‘‘ بھی اللہ ہی ہے۔
گویا انسان خود بھی اللہ کا ہے (انَّا للہ) اور جو کچھ اس کے ہے، خواہ وہ اس کی اپنی ذات اور اس میں نحقی قوتیں ، صلاحیتیں اور اس کی مہلت عمر ہوں ، خواہ اس کا مال واسباب یا زمین و جا بیدار سب اصلاًاللہ کی ملکیت میں بقول شیخ سعدی
’’این امانت چند روزہ تردِ ماست‘‘
’’درحقیقت مالکِ ہر شے خداست ‘‘
افسوس کہ جب دین الٰہی کے چہرے پراف مِنہؔ وسطیٰ کے جاگیر دارنہ نظام کی نقاب پڑگئی تو اس کے رُوئے منور کے دوسرے خدوّخال کی طرح یہ حقیقت بھی نگاہوں سے اوجھل ہوتی چلی گئی اور یہ علامہ مرحوم ؒ کی ژرف نگاہی اور حقیقت بینی کا شاہکار ہے کہ انہوں نے نکتہ توحید کی اس لازمی تو سیع(Extension)کو بھی حددرجہ واصح الفاظ میں بیان کر دیا۔
کرتا ہے دولت کو ہر الودگی سے پاک و صاف
منعَموں کو مال و دولت کا بتاتا ہے ۔امین
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمین
نہ صرف یہ بلکہ مرحوم نے اس اصول کو بھی بہت وضاحت کے ساتھ پیش فرمادیا، جو تاریخ انسانی کے دُوران پہلی بار خلافتِ راشدہکے زمانے میں حضرت عمرؓ کی زبان مبارک سے ادا ہو ا تھا، یعنی ریاست کی جانب سے تمام شہریوں کی کفالت عامِہ علام فرماتے ہیں
کس نبا شد در جہاں محتاج کس
نکتہ شرع میں این است وبس!

Leave a Reply

Your email address will not be published.