’ترکِ نادان سے ترکِ دانا تک‘‘۔۔۔کتاب پر تبصرہ از فیصل اقبال

’ترکِ نادان سے ترکِ دانا تک‘‘۔۔۔کتاب پر تبصرہ از فیصل اقبال
  • 77
    Shares

دورِ جدید میں اسلامی انقلاب کے راستے متعدد گنوائے گئے ہیں۔ اُمتِ مسلمہ میں ہر ایک کی تمنا ہے کہ وہ پھر ایک بار اُسی انقلاب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرے جورسول اللہ ؐ نے اپنے پیچھے چھوڑا تھا۔ کیوں نہ ہو اس آخری انقلاب کے حوالے سے قرآن و سنت میں بہت سی بشارتیں موجود ہیں اور یہ دنیا میں آ کر رہے گا(ان شاء اللہ)
فرق صرف اتنا ہے کہ انقلاب کے راستوں میں جو اختلاف موجود ہے، اس کو کسی مسلک، جماعت یا نظریاتی تنظیم سے اختلافات کے باوجود اُن کے مستحسن اور صحیح اقدام کی سراہنا اور ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ جدید ترکی اسلامی انقلاب کی اور گامزن ہے۔ رجب طیب اردگان پر اسلام پسندوں کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ امت مسلمہ کے مختلف مسائل میں ترکی کی دلچسپی یقینا ایک قابلِ غور امر ہے۔ طیب اردگان نہ تو امت مسلمہ کے امیر المومنین ہیں اور نہ وقت کے خلیفہ اور ان کو ایسا سمجھنا بھی نہیں چاہیے۔ البتہ ان کے اقدامات ، دلچسپیاں، اسلام سے محبت اور ’’ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے‘‘ کے انداز حسن ظن کے متقاضی ہیں۔ اگرچہ ابھی وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتاہے۔ رجب طیب اردگان کا ترکی وہی ترکی ہے جہاں تُرک ناداں یعنی مصطفی کمال اتاترک نے عربی رسم الخط، اذان، حجاب اور بہت سے دینی شعائر پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ ترکی مغربی دنیا کا دروازہ ہونے کی حیثیت سے بہت زیادہ Vulnurable ہے کہ وہاں کسی بھی قسم کے انقلابی قدم کو Sabotage کرنے یا کچلنے کی کوشش کی جائے۔
اسی قدیم سے جدید ترکی کے سفرِانقلاب کو مفتی ابو البابہ شاہ منصور صاحب نے اپنی کتاب ’’ تُرکِ ناداں سے تُرکِ دانا تک‘‘ میں دکھانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔علاوہ ازیں کتاب میں اُمت مسلمہ کو اپنے مقصدِ وجود سے بھی آشنا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’’ تُرک ِ ناداں سے تُرکِ دانا تک‘‘ جدید ترکی کا غیر روایتی، مشاہداتی اور نظریاتی سفرنامہ ہے اور یہ سفر نامہ مقدمہ کتاب کے علاوہ ۴۵ چھوٹے چھوٹے ابواب پر مشتمل ہے جس میں ترک کی تاریخ ، شخصیات اور مختلف مقامات کے حوالے سے سبق آموز چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ چند ابواب یوں ہیں: دو چہرے ایک ملک، زندان سے پارلیمان تک، داستان اسلام پسندوں کی، اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، دنیا کا دروازہ ، سیسی سے گولن تک، اسلامی تاریخ کے چند المناک ورق، تاریخ کے چند سبق اور تین مسائل تین سبق۔
مفتی ابو البابہ شاہ منصور حنفی دیوبندی اور جہادِ افغانستان( طالبان) کے زبردست حمایتی ہونے کے باوجود ترکی کے سفرِ انقلاب کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ مفتی صاحب کے نظریات کے تناظر میں کتاب کی بہت زیادہ اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ کوئی نظریاتی طور ایک الگ سوچ اور مکتب فکر رکھتا ہواور پھر بھی کسی دوسرے نظریہ کی حمایت اور افادیت سمجھائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک تو مصنف تعصب سے بالا تر ہو کر لکھتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس انقلابی سفر میں ضرور کچھ نہ کچھ ایسا ہے کہ جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور سبق حاصل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ مفتی ابولبابہ شاہ منصور کا میدان فقہ، افتاء اور صحافت ہے۔ سیر و سیاحت کا بیشتر حصہ تفریح کے بجائے سیکھنے سکھانے میں استعمال میں لاتے ہیں۔ آپ کی ایک کتاب جو تین جلدوں میں ہے اور ’’ دجال کون، کب اور کہاں؟‘‘ کے نام سے موسوم ہے کافی مقبول ہوئی ہے۔
واضح رہے زیر تبصرہ سفر نامہ ترکِ نادان یعنی مصطفی کمال اتاترک سے تُرکِ دانا یعنی رجب طیب اردگان تک، ترکی کے انقلاب سفر، کی روداد ہے۔ مفتی صاحب کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’بے جا حمایت یا مبالغہ آمیز تعریف نہ ہمارے بڑوں کا وطیرہ ہے نہ طبیعت کو بھاتی ہے۔ مستقبل میں نہ جانے کیا ہو؟ کیونکہ تحریکوں پر ہر طرح کا وقت آتا ہے۔ ان پر شب خون بھی مارا جاتا ہے۔ اور ان کے ’’ فضائی اغوا‘‘ کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ پھر چونکہ ’’ دانا ترکوں‘‘ کا سفر دھیما ، نہایت پھونک پھونک کر ہے۔ اس لیے عام آدمی کو ترکی کی آنکھ سے نظر آنے والے حالات کے پیچھے پیچھے آنکھوں سے نظر نہ آنے والے حالات کا علم نہیں ہو پاتا۔ وہ ترکی میں اسلامی مظاہر کے بجائے مغربی لباس و اطوار کو دیکھ کر ستر سالہ جبر سے گزری قوم کی مجبوریاں نہیں سمجھ پاتا اور وہاں کے تحریکی لوگوں کے متعلق باتوں کو اسلام پسندوں کی بڑھک یا مبالغہ قرار دیتا ہے۔(صفحہ، ۸ )
ایک اور جگہ مقدمہ میںہی رقمطراز ہیں:
’’ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے والوں پر فرشتے نہیں، شیطان اُترتے ہیں، ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ فرشتہ نہ بنیں تو شیطان کے خلاف جنگ سے پیچھے بھی نہ رہیں۔ ترک دانا فرشتے نہیں لیکن انسان بننے کی کوشش ہم سے بہتر انداز میں کر رہے ہیں‘‘۔(صفحہ،۹)
یہ کتاب بہت سلیس آسان اور دلچسپ واقعات پر مبنی سفر نامہ ہے۔ آدمی ایک بار ہاتھ میں لے تو پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا ۔ کتاب میں مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک لوگ پاکستانیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ اس محبت کی وجوہات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اسی محبت کی بنیاد پر ترک پاکستانیوں کو ’’ اکادرش‘‘ کہتے اور سمجھتے ہیں۔ ’’ اکادرش‘‘ ترک زبان میں اس چچیرے بھائی کو کہتے ہیں جو آپ کی پیٹھ سے پیٹھ ملا کر دشمن سے لڑے اور پشت سے ہونے والے وار کو خود پر لے لے۔ اس ضمن میں صاحبِ کتاب ایک جگہ یوں رقمطراز ہیں:
’’ ترک عوام کی پاکستانیوں سے محبت معاصر دنیا کا عجوبہ ہے۔ اس وقت جب کہ ہمارے اجتماعی اور عالمی کرتوتوں کے سبب ’’ گرین پاسپورٹ‘‘ کے حاملین کو دنیا بھر سے فضائی اَڈوں پر شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، احترام و اکرام تو دور کی بات ۔ ہمارے مسلمہ بنیادی حقوق بھی پامال کیے جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں دنیا کے صرف دو ایسے ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کو عزت و احترام حاصل ہے۔ ایک سری لنکا اور دوسرا ترکی۔‘‘(صفحہ،۱۳۷)
ترک لوگوں کے اس عزت و احترام کو مصنف نے مذہبی و مسلکی موافقت کو بھی اور روحانی و سیاسی یگانگت کو بھی گردانہ ہے۔ کیونکہ برصغیر میں تحریکِ خلافت ، تحریکِ ترکِ موالات اور تحریکی ریشمی رومال جیسی تحریکیں اصل میں تحریکِ عثمانی خلافت کے تحفظ و بقاء کی قربانیوں کا ہی تسلسل تھا۔
رجب طیب اردگان کی معاملہ فہمی، حق شناسی، اپنے تہذیب و تمدن سے محبت اور سیکولر ، لبرل اور اسلام پسندوں کے بیچ سب کو ساتھ چلنے کی کمال کی تدابیر کو کتاب میں بارہا نمایاں کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سب کے باوجود رجب طیب اردگان مغرب کو کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔مصنف طیب اردگان کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ اردگان صرف ہمارے ہاں آکر ترکی میں ہی نہیں بولتا، دنیا بھر میں اپنی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور گفتگو سے پہلے مسنون عربی کلمات بھی بولتا ہے۔ نیز تجزیہ نگاروں کے مطابق گفتگو موضوع سے ایسی براہِ راست اور دو ٹوک ہوتی ہے گویا دلی کی ٹکسالی زبان کو منطق و فلسفہ کے عرق میں بھگو بھگو کر شائستہ و شگفتہ بنایا گیا ہو‘‘۔(صفحہ،۴۵)
وزیر اعظم طیب اردگان کے صلیبی نسخے، بڑے مشہور ہوئے ہیں ترکی میں۔ اس لیے’’صلیبی نسخے‘‘ باب کے تحت مصنف اردگان کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ طیب اردگان کے طیّبی نسخے بہت مشہور ہیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ ان کا جو چَین سموکر(Chain Smoker) دوست ان سے ملتا ہے، یہ اس کے ہاتھ سے سگریٹ کا ڈبہ لے کر کچرے کی ٹوکری میں خالی کرتا اور خالی ڈبہ پر اپنے دستخط ثبت کر کے دے دیتا۔ یہ گویا ایک خاموش معاہدہ ہوتا کہ جس طرح میں نے تمباکو نوشی چھوڑدی ہے۔ میرے دستخط تمہیں یاد دلاتے رہیں گے کہ تم بھی یہ بُری عادت ترک کر دو۔ اردگان کی مقبولیت اتنی تھی کہ اس کا دستخط حاصل کرنے کے لیے لوگ دھویں سے نجات حاصل کرنے کا عزم کر لیتے۔ رفتہ رفتہ اس طرح کے ڈبے اتنے جمع ہو گئے کہ ان کی باقاعدہ نمائش ہوئی۔‘‘(صفحہ،۱۲۷)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’ معاصر دنیا میں ونزویلا کے ہوگو شاویز کے بعد اگر کسی نے ان قوتوں کا آلۂ کار بننے سے انکار کیا ہے اور پھر کامیابی سے ان کی سازشوں بشمول حکومت گرانے یا قتل کرنے کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے تو وہ ترکی کا رجب طیب اردگان ہے۔ اس پر سات سے زیادہ بار قاتلانہ حملے اس لیے ہوئے کہ وہ ترکی کی معاشی و صنعتی ترقی کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے کیوں نہیں لیتا۔ اپنے وسائل پر انحصار کیوں کرتا ہے؟‘‘(صفحہ،۱۳۱)
عام طور پر تاثر یہ ہے کہ جو لوگ اسلام پسند ہوتے ہیں اور اسلامی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں، وہ دنیا کے دوسرے معاملات میں نسبتاً سُست اور کمزور واقع ہوتے ہیں۔ مگر رجب طیب اردگان اور ان کی انقلابی پارٹی نے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے۔ ترکی کی عالی شان عمارتیں، نفاست والی پارکیں، مسجدیں، سڑکیں اور تفریح گاہیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اردگان نے سکیولر لوگوں کی زبانیں ملک میں بہترین خدمات فراہم کرکے بند کی ہیں۔ وہ لوگ اگر اردگان کی اسلام پسندی سے خائف ہیںمگروہ ترقیاتی(Developmental) کاموں کی وجہ سے اردگان کو ہی بہتر رہنما سمجھتے ہیں۔ کتاب میں اس کی جا بجا مثالیں ملتی ہیں۔
’’ترک نادان سے ترک دانا تک‘‘ کا یہ سفر کسی عجوبے سے کم نہیں۔ اس لیے کتاب کے مصنف نے’’ عجوبے کا ظہور‘‘کے نام سے ایک باب قائم کیا ہے اور ہرطرح کی سازشوں ،ناکامیوں ،محرومیوں اور مشکلات کے باوجود اس سفر کی مختصر مگر جامع روداد پیش کی ہے۔ اس ’’ عجوبے کا ظہور‘‘ باب کے تحت صاحبِ کتاب لکھتے ہیں کہ دوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی میں بھی سبق چھپا ہوتا ہے۔ ہمیں موجودہ معرکے سے سبق لینا چاہیے اور جو یہ سبق پڑھ لے وہ ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ رجب طیب اردگان اور اسکی انقلابی پارٹی کے سفر کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ انتخاب سے پہلے استنبول کے آخری جلسے میں جس میں ریکارڈ تعداد کے مطابق ۲۰ لاکھ افراد شریک ہوئے ۔۔۔۔۔اس نے ترکی کے عظیم شاعر ضیاء غوک اللب کے وہی اشعار پڑھے جن کو پڑھنے کی بنا پر اس سے چند سال قبل نام نہاد سیکولر قانون کے تحت دو سال کی سزا ہوئی تھی۔ محض چند سالوں میں جہدِ مسلسل سے دنیا بدل چُکی تھی۔ جگر بھی وہی تھا، شعر بھی وہی اور شعر خوان بھی وہی۔ اردگان نے جذبات کی طوفان برپا کرتے ہوئے ایمانی کیفیت سے بھر پور یہ اشعار دوبارہ پڑھے اور دنیا کو پیغام دیا کہ ہماری اصل طاقت اپنے رب پر ایمان کی ہے۔ اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔
’’مسجدوں کے مینار ہمارے نیزے ہیں
مسجدوں کے گنبد ہماری آہنی ٹوپیاں ہیں
مسجدیں ہماری چھاونیاں ہیں
اہلِ ایمان ہمارے لشکر ہیں‘‘
ہمارے ایمان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
اس مرتبہ اس کو سزا کیا ہوتی؟ استنبول کا ۲۰ لاکھ کا مجمع اس کے ساتھ مل کر یہی اشعار دہرا رہا تھا۔ اور دنیا کو بتا رہا تھا کہ دیانت و خدمت جس حکمران کا شعار ہو اسے خداداد کامیابی اور مقبولیت سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘(صفحہ،۲۷۰)
کتاب کا آخری باب تین مسائل تین سبق ہے اور بقول مصنف اس باب میں کتاب کا عرق کشید کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ باب حقیقت میں ہے بھی کتاب کا نچوڑ۔اس باب میں محترم صاحبِ کتاب لکھتے ہیں۔
’’مذہبی ترکوں کا سب سے بڑا مسئلہ فوج اور اس کی پشت پر موجود مغربی ممالک تھے جو ان کے اسلامی ناموں سے چڑتے اور ان کی ترقی سے خائف تھے۔ اردگان نے فوج سے الجھنے یا سرمایادار مغرب سے ٹھاننے کے بجائے دامن کو کانٹوں سے بچا کر سیدھی سمت سفر جاری رکھی۔ اس نے جماعت کا نام سعادت یا فضیلت پارٹی کے بجائے ’’ترقی و انصاف پارٹی‘‘ رکھا۔ ایسا نام اکثر سیکولر پارٹیاں رکھتی ہیں۔ لیکن اس نام کے اندر چھپے کام کو تن دہی سے انجام دینے پر اس سے سعادت و فضیلت بھی حاصل ہوتی اور اسلام پسندوں کے علاوہ لا دین، بے دین اور درمیانے قسم کے ترکوں کو دلی حمایت بھی ساتھ ہوگئی‘‘۔(صفحہ،۳۲۱)
کتاب میں حاصل کیے گئے سبق کو مصنف نے ایک پیراگراف میں کچھ یوں پیش کیا ہے۔
’’ تیاری کے بغیر طاقتوروں سے ٹکرانے سے اجتناب ، دیانت و امانت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے اور عوام کے معاشرتی مسائل و عملی مشکلات دور کرنے پر اتنا زور دینا جتنا دوسرے مظاہرِ دین پر دیا جاتا ہے۔ اور اسے بھی دین کا حصہ سمجھنا ، وہ تین سبق ہیں جو ہمیں معاصر مذہبی تحریک اور مشاہدے سے ملتے ہیں‘‘۔(صفحہ،۳۲۴)
رجب طیب اردگان نہ تو ساری دنیا کے مسلمانوں کے امیر المومنین ہیں اور نہ معروف معنی میں ترکی کے خلیفہ اور ایسا سمجھنا بھی نہیں چاہیے ۔ مگر بہت ساری کمزوریوں کے باوجود رجب طیب اردگان ایک اُمید ہے اور مستبقل کے انقلاب کی نوید بھی۔ ترکی یورپ کی سرحد پر واقع ہے۔ گویا ایشیا کی جانب سے یورپ میں داخل ہونے کا پہلا اور مرکزی دروازہ ہے۔ حکومت میں سیکولر اور پڑوس میں بھی سیکولر بر اعظم گویا نیم پر چڑھے کریلے جیسے معاشرے میں اسلام پسندوں نے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کی۔ اس کی وجوہات کا جائزہ لینا ان تمام دینی شخصیات اور اداروں و تحریکوں کے لیے ضروری ہے۔ جو روئے زمین پر کسی بھی جگہ احیائے دین اور غلبۂ اسلام کی محنت کر رہے ہیں۔ الغرض ترکی کے اسلام پسندوں کی جاری و ساری جد و جہد کا پسِ منظر اور رُکاوٹوں والے سفر کو فراست و حکمت سے طے کرناپوری دنیا کے معاصر مذہبی تحریکوں کے لیے مکالمے مباحثے کا دلچسپ موضوع اور سبق آموز جگ بیتی ہے۔ کیونکہ اس دنیا کے کام اتفاقات سے نہیں ہوتے بلکہ یہ کام تکوینی قوانین کے تحت ہوتے ہیں۔ا ور قوموں کی تقدیرپروہی تکوینی قانون لاگو ہے جس کا بہت پہلے اعلان کر دیا گیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت خودنہ بدلے۔‘‘(القرآن)
’’تُرکِ ناداںسے تُرکِ داناتک‘‘۳۲۵ صفحات پر مشتمل کتاب ہے جسے ہندوستان میں نیوکریسنٹ پبلشنگ کمپنی دہلی نے چھاپا ہے۔ کتاب پروف کی غلطیوں سے پاک ہے۔ البتہ کتاب کا انتساب فہرست میں ہونے کے باوجود کہیں نظر نہیں آتا۔ کتاب دیدہ زیب ٹائٹل اور خوبصورت گیٹ اَپ اور طباعت کے ساتھ مارکیٹ میں محض ۱۵۰ روپے میں دستیاب ہے۔ جو کہ کتاب کے معیار اور ضخامت کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ اُمید ہے ترکی کے اس نادان سے دانا تک کے سفر کو دلچسپی سے پڑھا جائے گا اور سبق حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے گا۔ ہر اسلام پسند اور تحریک پسند کو سبق حاصل کرنے کے لیے ایک بار تو ضرور اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ موجودہ حالات میں انقلابی کام کو مؤثر، نتیجہ خیز اور حکمت سے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.