یروشلم ….. فلسطین کا ہے۔۔۔جی ایم عباس(زینہ گیر سوپور)

یروشلم ….. فلسطین کا ہے۔۔۔جی ایم عباس(زینہ گیر سوپور)

اسرائیل دنیا کا ایک ایسا متنازعہ یہودی اکثریت والا ملک ہے جو انگریزوں اور امریکیوں کی ملی بھگت سے اور ایک منصوبہ بند سازش کے تحت فلسطین کو تقسیم کرکے معرض وجود میں آیا ہے. تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917 کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی. یہود و نصارا کی بدترین سازش کے تحت نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بہت عیاری اور دھاندلی سے کام لیتے ہوئے یروشلم کو فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا. جب 14 مئی 1948 کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا تو پہلی عرب – اسرائیل جنگ چھڑ گئی. اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اپنے طاقت کے بل بوتے اور امریکیوں کے سپورٹ سے تقریباً 78 فی صد رقبے پر قابض ہوگیا. تیسری عرب – اسرائیل جنگ جون 1967 میں اسرائیل ظلم، جارحیت اور استبداد سے بیت المقدس پر مسلط ہوا. یوں مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے اور بقیہ عرب ممالک کافی دولت مند ہونے کے باوجود بھی آج تک اپنے قبلہ اوّل کو یہودیوں کے جابرانہ تسلط سے آذاد نہ کرسکے. جبکہ نہتے فلسطینی اپنی خودمختاری اور بیت المقدس کی آذادی کے لیے ہرطرح کی جانی و مالی قربانی پیش کررہے ہیں یہاں تک کہ انکے معصوم بچے بھی اسرائیلی عتاب اور بے انتہا ظلم سے شہید ہورہے ہیں. یوں اسرائیل – فلسطین تنازع ایک ختم نہ ہونے والی کہانی بن گئی ہے.
یروشلم یا القدس فلسطین کا شہر ہے اور فلسطین کا تسلیم شدہ دارلخلافہ بھی ہے. مسلمانوں ، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں طبقوں کے نزدیک بہت مقدس ہے…تینوں اقوام کی مذہبی روایات اس شہر سے وابسطہ ہے. اسرائیل تقریباً 85 لاکھ نفوس کی آبادی والا ایسا ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے. اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو جابرانہ طور پر بنایا ہے. تاہم آج تک بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے. اب امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم مخالف پالسیوں اور اقدامات کے بطور یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت سرکاری سطح پر تسلیم کرنا ایک نیا تنازعہ بن گیا ہے. مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کے شرمناک اعلان کے خلاف توقع کے مطابق عالمی سطح پر بالخصوص مسلم اقوام میں زبردست ناراضگی اور احتجاجی مظاہروں کی جائز لہر پھل گئی. اقوام متحدہ سمیت عرب لیگ اور OIC کے ہنگامی اجلاسوں کے بیچ عرب و عجم میں مسلمانوں اور دیگر امن پسند لوگوں نے سڑکوں پر اپنا احتجاج درج کروایا اور سخت غم و غصے کا اظہار کیا. اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیوگرتیس نے یروشلم پر اسرائیلی جارحیت اور حاکمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد بھی کیا ہے. سعودی عرب کے شاہی بیان میں امریکی صدر کے فیصلے کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے. جبکہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اعلان کو ناقابل قبول اور شرم ناک بتا کر اسے مسترد کیا. یورپی عہدے داروں نے بھی صدر ٹرمپ کے اس احمقانہ فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا ہے اور اس سب بیانہ بازی کے بیچ اس وقت کی دنیا کے نڈر مسلمان رہنما ترقی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس فیصلے کے خلاف اجتجاج کرکے اسرائیل کے ساتھ تمام طرح کے سفارتی تعلقات اور روابط ختم کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے امریکی صدر کے اعلان کو سختی سے مسترد کیا. پاکستان سمیت دنیا کے دیگر مسلم اقوام نے بھی صدر ٹرمپ کے اس غیرذمہدارنہ بیان پر بجاطور برہمی کا اظہار کرکے اسکو سرے سے مسترد کیا ہے. کیا ان زبانی بیانات اور احتجاجی اعلانات سے امریکی صدر پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے ؟ ٹرمپ کا یہ بیان تاناشاہی بیان ہے….اگرچہ وہ اسکو اپنے ملک کےلیے بہترین مفاد کہہ کر اپنے فیصلے کا دفعہ بھی کرتے ہیں لیکن اسکے اپنے ملک کے عوام کی اکثریت ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہے. ماضی میں بھی صدر ٹرمپ نے کچھ مسلم ممالک کے باشندوں پر امریکہ میں سفر کرنے پر یہ کہہ کر پابندی لگائی کہ یہ ممالک دہشت گردی کو پنپنے میں معاون و مددگار ہیں. اصل میں صدر ٹرمپ صہیونی ریاست اسرائیل کو خوش رکھنے کے لیے کسی بھی انتہا تک جاسکتے ہیں چاہیے بین الاقوامی سطح پر اسکی کتنی ہی مذمت کیوں نہ کی جایے. یہاں اس بات کا ذکر کرنا لازمی سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کا ہر طرح کا ساتھ دے کر نہتے فلسطینیوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہی سیخ پا کیوں ہورہے ہیں ؟ اجارہ داری کی حد کو پار کرتے ہوئے فلسطینیوں کو انکے جائز حق سے محروم کیوں کرتے ہیں؟ وہ خود یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ امریکہ نے گزشتہ لگ بھگ ڈیڑھ دہائی کے دوران اپنے شہریوں کی حفاظت کے نام پر اور دہشت گردی کے خلاف جو عسکری کارروائیاں کیں اور لاکھوں بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرتا گیا اور انہی عرب ممالک نے انکا ساتھ دیا جو اسرائیل سے گزشتہ نصف صدی کے زیادہ عرصے سے کسی نہ کسی طریقے سے نبردآزما ہیں … کیا اسرائیل سے بڑھکر دنیا میں اور کوئی دہشتگرد ملک ہے ؟ خود امریکہ اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھیں کہ اصل دہشت گرد کون ہے؟ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دوشہروں پر ایٹم بمب گرا کر لاکھوں بے گناہ شہریوں کا قتل کیا دہشت گردی نہیں ہے؟ عراق اور افغان جنگ میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا بمباری کے ذریعے قتل ناحق کرنا کیا دہشت گردی نہیں ہے ؟ کشمیر میں دہشت گردی کے نام پر بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرنا کیا دہشتگردی نہیں ہے؟ نہتے روہنگیائی مسلمانوں پر برمی ظلم و جارحیت کیا دہشتگردی نہیں ہے؟ اور تو اور شام جیسے ملک میں اپنے ہی غاصب اور جابر حکمران کے ذریعے عام اور مصوم شہریوں کا بے دردی سے تہ تیغ کرنا کیا دہشت گردی نہیں ہے…؟ امریکہ تمام مسلمانوں کو دہشت گرد گردانتا ہیں اور خود جو ظلم و جبر دنیا کے غریب اقوام پر ڈھاتا رہا ہے وہ دہشت گردی نہیں اور کیا ہے….؟ اسرائیل بےگناہ فلسطینیوں پر جو ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے اور جابرانہ تسلط سے القدس کو حاصل کرنا چاہتا ہے. اس ساری اسرائیلی جارحیت کے لیے امریکہ اپنے سب سے پسندیدہ دوست ملک کو مالی، و اخلاقی سپورٹ کررہا ہے اور دنیا کو انسانیت کا درس دے رہا ہے….!.کیا اسی کا نام عدل ہے ؟
مسلمانوں کو بالخصوص مسلم حکمرانوں کو عقل اور ہوش کے ناخون لینے چاہیئے. کب تک وہ امریکہ کے سامنے دامن پھیلاتے رہیں گے ؟ کچھ دوست یہ سوچتے ہوں گے یا بہت سارے دوستوں کو کہتے ہوئے سنا بھی کہ امریکہ کے پاس جدید technology ہے ، زبردست نیوکلائی ہھتیار ہے ، اس لئے مسلمان مجبور ہیں. ان دوستوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ قرآن شریف(سورہ آل عمران آیت 28) میں اللّہ تعالی نے واضع الفاظ میں مسلمانوں کو خبردار کیا کہ کفار کو (ظاہراً و باطناً)اپنا دوست مت بنالیں اور (سورہ المائدہ آیت 51) میں ایک بار پھر خبردار کیا کہ تم یہود و نصاری کو دوست مت بنانا…اور یہ بھی فرمایا کہ مسلمانوں میں جو شخص انکے ساتھ دوستی کرے گا ، وہ ان ہی میں سے ہوگا….” مشکوٰۃ شریف (باب الظلم ص 436) میں ایک حدیث شریف میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظالم کو ظالم سمجھتے ہوئے بھی اس کا ساتھ دے وہ اسلام سے نکل گیا.
اگر مسلمان گمراہی سے بچتے ہوئے قرآن اور سنت رسول مقبول صلی اللّہ علیہ وسلم کے عین مطابق زندگی گزارتے تو کیا مجال کہ اغیار کی جارحیت مسلمانوں پر جاری رہتی . یہ مسلمانوں کو اپنے ہی بداعمالی کی سزا اور دین اسلام سے دوری کا خمیازہ اٹھانا پڑتا ہیں کہ غاصب اور جابر حکمران ہم پر مسلط ہورہے ہیں . جب بداعمالی رواج پا جاتی ہیں تو اسکا نتیجہ عذاب الہی ہوتا ہے اور اس عذاب کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں جو قرآن مجید کی آیات بینات اور احادیث رسول (ص) سے ثابت ہیں . اس سب کے باوجود پھر بھی مسلمان یہ سوچ رہے کہ شاید امریکہ کے بغیر نعوذ باللہ ہم زندہ رہ ہی نہیں سکیں گے!
اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر یروشلم کو سن 1950 سے ہی اپنا دارلحکومت قرار دے رکھا ہے. جبکہ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ یروشلم فلسطین کا شہر ہی نہیں بلکہ دارلخلافہ بھی ہے. امریکہ کے بغیر تمام اقوام عالم القدس کو فلسطین کا شہر تسلیم کرتے ہیں. تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور اب انٹرنیٹ پر visit کرکے معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم فلسطین کا شہر ہے جبکہ اسرائیل کو قابض ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے. بیت المقدس صیہونی نرغے میں جب سے بھی آیا ہے بین الاقوامی برادری نے آج تک اس قبضے کو غیرقانونی سمجھا ہے. لیکن جسکی لاٹھی اسکی بھنیس کے مصداق اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی برادری کو الگ تھلگ چھوڑ کر یکہ طرفہ فیصلے سے یروشلم کو زبردستی اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک تاناشاہ حکمران ہے. انکو اپنے مفادات سے غرض ہے اور اسرائیل کو خوش رکھنا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ اب اسرائیل کی مرضی پر چل رہا ہے تو بےجا نہ ہوگا. یہ بات کم سے کم مسلمان اقوام کو سمجھنی چاہیے. اگر اب نہیں تو پھر کب ؟ اللہ تعالی فلسطین سمیت تمام مسلمان اقوام کو ظلم و استبداد سے نجات عطا کرے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.