جھوٹ کا رقصِ نیم بسمل۔۔۔۔۔ایس احمد پیرزادہ

جھوٹ کا رقصِ نیم بسمل۔۔۔۔۔ایس احمد پیرزادہ
  • 11
    Shares

موجودہ دور پروپیگنڈے کا دور ہے۔ مثبت کم اور منفی پروپیگنڈے پر زیادہ زور رہتا ہے۔ غلط کو صحیح، جھوٹ کو سچ اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے پروپیگنڈے کے مختلف طریقوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں’’جھوٹ اتنی مرتبہ بولو کہ سچ لگنے لگے‘‘ اور ’’کتے کو بُرا نام دو اور مار ڈالو‘‘ جیسے ذہنیت اور نعروںکے ساتھ مغرب اور دنیا بھر میں اُن کے حواری مسلمانوں اور انصاف پسند اقوام کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ اُمت مسلمہ سے تعلق رکھنے والی کئی مملکتوں کو تخت و تاراج کیا گیا۔عراق کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں سفید جھوٹ بولا گیا اور پھر ’’weapon of mass destruction‘‘ کے نام پر ایک مضحکہ خیز جھوٹ کی اس قدر تشہیر کی گئی کہ نصف دنیا کو عراق کے خلاف لاکھڑا کیا گیا اور پھر بآسانی اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ ایک دہائی گزرنے کے بعد کہا گیا کہ اس ملک کے پاس کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں تھے بلکہ یہ سب اسرائیل کو محفوظ بنانے کے لیے ڈراما رچا یاگیا۔ آج بھی اسلام دشمنوں قیاس آرائیاں کرکے مسلمان کو انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک دوسری اقوام کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔ اُمت مسلمہ کے بارے میں ایسے سوچ پروان چڑھائی جارہی ہے کہ ہر کوئی مسلمانوں سے دور بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھ بیٹھتا ہے اور مسلمانوں پر اب اگر دنیا بھر میں کہیں کوئی حملہ آور ہوجاتا ہے تو اُن حملہ آوروں کو مجرم ٹھہرانے کے بجائے شاباشی مل جاتی ہے، اُن کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ گجرات انڈیا میں کیمرے کے سامنے ایک مسلمان کا قتل اور پھر قاتل کے ساتھ ایک مخصوص ذہنیت کی ہمدردی اس کی تازہ مثال ہے۔ مسلمان اپنے ممالک میں قتل و غارت کی دُہائیاں دیں، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوںکو لے کر آسمان سر پر اُٹھا لیں ، دنیا ئے باطل کے مکارحکمران میں سے کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا ، اس کے برعکس مغرب ومشرق کے اسلام دشمن عناصر جھوٹ پر مبنی خیالی خطرات کو تخلیق کرکے اس کا اتنا پرچار اور پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہر کوئی بغیر سوچے سمجھے اُن کے اردگرد جمع ہوجاتا ہے، اُن کے سپورٹ میں پوری دنیا کھڑی ہوجاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پروپیگنڈا جس قوم کے خلاف ہوتا ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بے قصور ہیں وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگ جاتے ہے۔ پروپیگنڈے کی طاقت کا اندازہ کشمیر کی اُس ضرب المثل سے لگایا جاسکتا ہے ، جس کے مطابق ایک شخص جو کہیں سے ایک بکرا خرید کرلایا تھا، راستے میں تین ٹھگوں نے اُسے دیکھ کر اُن کا یہ بکرا اُن سے چھینے کی پلاننگ کی۔ زور زبردستی کرنے کے بجائے اُنہوں نے پروپیگنڈے کا سہارا لیا۔ پہلے ایک بندہ اُن کے پاس گیا اور کہا کہ آپ اس کتے کو کہاں لے جارہے ہو، پھر تھوڑی دور جاکر دوسراٹھگ ملا اور کہا کہ بھائی آپ اِس کتے کو کہاں لے جارہا ہے، جب مزید آگے بڑھا تو تیسرا ٹھگ مل گیا اور بولا کہ بھائی آپ اس کتے کو کہا ں سے لائے ہو؟ پہلے شخص نے جب کہا تو اس شخص نے سمجھا کہ کوئی پاگل ہے، دوسرا نے کہا تو اس کے ذہن میں شک پیدا ہوا کہ کہیں یہ واقعی کتا توخرید کرنہیں لایا ہے جب تیسرے نے کہا تو اِس کا شک یقین میں بدل گیا، جانتے ہوئے بھی کہ اُس نے ایک بکرا خرید کر لایا ہے، پروپیگنڈے کا شکار ہوگیا اور کتا سمجھ کر بکرے کوکھلا چھوڑ دیا۔ملی ،ملکی اورعلاقائی سطح پر بھی اُمت مسلمہ کی یہی حالت ہے۔اسلام دشمن ہم پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کریں ، اُن کے الزامات سے پہلے ہم خود یقین کرنے لگتے ہیں کہ ہم واقعی میں ’’دہشت گرد‘‘ ہیں، وہ ہمیں شدت پسندی کا طعنہ دیں ، پہلی آواز ہماری اپنی صفوں سے اُٹھنے لگتی ہیں کہ ہمیں مدارس پر تالا چڑھانا چاہیے کیونکہ یہاں سے ’’شدت پسندی‘‘ کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے، ہم پر خواتین کے حقوق سلب کرنے کا الزام لگتا ہے، صفائی پیش کرنے کے ساتھ سا تھ ہم اپنے یہاںدینی قوانین میں’’ اصلاحات اور تجدید کاری‘‘ کرنے کی گستاخانہ جسارت کرنے لگتے ہیں۔ہم کہیں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کرتے ہیں تو کہیں سینما ہال اور ڈانسنگ تھیٹر کھولنے کا اعلان کرکے اپنی نام نہاد ’’بنیاد پرستی ‘‘ سے اعلان برأت کرتے ہیں۔ اسی معذرت خواہانہ ذہنی کلچر سے ہمارے زوال کا آغاز شروع ہوجاتا ہے، ہم مکاروں اور عیاروں کے جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثرہوجاتے ہیں، ہم چیزوں کو اپنے دشمن کی آنکھ سے دیکھنے لگتے ہیں، اُن کے طرز فکر کی کسوٹی پر اپنے حقائق کی چھان پھٹک کر نے لگتے ہیں، اُن کے صحیح اور غلط کو معیار سمجھنے لگتے ہیں، اُن کے پیمانوں پر اپنے سماجی، تہذیبی اور ثقافتی معاملات کو پرکھنے لگتے ہیں، اس کا مطلب ہی یہ ہوا کہ ہم نے اپنی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحتوں کو مقفل کر کے اغیار کو اپنا فکری امام اور نظریاتی پیشوا بنا رکھا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم اشاروں پر کام کرنے والے روبوٹ بن چکے ہیں، ہم ذہنی غلامی کا شکار ہوچکے ہیں، ہمیں حق او ر باطل کو پرکھنے کی جو تعلیم اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، ہم وہ تعلیم ہی سرے سے بھول چکے ہیں۔ شاید اِسی لیے دنیا بھر میں ذلت اور رسوائی کا شکار ہیں، پٹ رہے ہیں اورجسمانی و ذہنی غلامی کے ایسے خوف ناک بھنور میں پھنس چکے ہیں کہ جہاں سے نکلنے کی تمام راہیں ہمیں مسدود دکھائی دیتی ہیں۔
یہ صورت حال مسلمانوں کو دنیا میں ہر جگہ درپیش ہے۔ جہاں مسلمان بیرونی طاقتوں کے زیر تسلط ہیں وہاں ایسی حالت کا ہونا قابل سمجھ ہے ،البتہ جو مسلم ممالک آزاد ہیں، جہاں دولت کی ریل پیل بھی ہے، جہاں ظاہری ترقی اور خوش حالی بھی ہے ،وہاں کے حکمرانوں اور انتظامیہ کے کل پرزوں کی حالت بھی ایسی گئی گزری ہی ہے ۔ مسلمان ممالک میںدرون خانہ اسلام پسند قوتوں کے خلاف مغربی پروپیگنڈہ سے متاثر ہونے والے’’ روشن خیال اور لبرل مسلمانوں‘‘ نے محاذِ جنگ کھول رکھا ہے۔ بیرون خانہ پروپیگنڈے کی جو جنگ امامانِ کفر نے اسلام کے خلاف چھیڑ رکھی ہے، درون خانہ یہی جنگ روشن خیال اور نام نہاد لبرل مسلمانوں نے اسلام پسندوں بالخصوص تحریکات اسلامی کے خلاف شروع کررکھی ہے، بلکہ اگر کہا جائے کہ اسلام اور اسلام پسندوں کے خلاف مغرب اور پیشوایانِ کفر کی جنگ یہی نام نہاد لبرل مسلمان لڑ رہے ہیں تو بے جانہ ہوگا۔اسلامی تحریکات ، افراد اور اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اُن کی شبیہ مسخ کرنے کے لیے منظم انداز میں رات دن کام کیا جاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ اصلاحی اور دعوتی تحریکات سے وابستہ لوگ تک بھی ان نام نہاد روشن خیال ، لبرل اور سیکولر مسلمانوں کے مذموم پروپیگنڈوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان تحریکات سے وابستہ افراد بھی اپنی رائے اور عندیے اخباری کالموں کو پڑھ کر قائم کرلیتے ہیں۔ اُن کا ذہن لبرل اورروشن خیال قلم کاروں کی سوچ سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا، اسلامی تحریکوں کو ہمیشہ سے یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اُن سے وابستہ لوگ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر معاملات اور مسائل کا تجزیہ کرتے ہیں، وہ زمینی حقائق پر خودسوچتے ہیں، اُن کے نزدیک معاملات کو جانچنے اور پرکھنے کا کوئی اپنا ایک معیار ہوتا ہے۔یہ سماج کا ایک ایسا طبقہ ہوتا تھا جو عام لوگوں کو بھی نظام باطل کی سازشوں سے باخبر کرتے ہیں اور خود بھی مسلم دشمن پالیسیوں کو برملا رد کرکے مسلم سماج پر اُن کے اثرات کو زائل کرنے کا کام کرتے ہیں۔
گزشتہ ۲۶؍برس کے ریاستی حالات ہمارے سامنے ہیں، ہم اِن حالات کے چشم دید گواہ ہیں۔ کب کیا ہوا؟ کس نے کیا کیا؟ کس میں کتنا خلوص تھا اور کس نے اپنے تنظیمی، تحریکی وجود کے ساتھ ساتھ جان ، مال، اولاد اور سب کچھ داؤ پر لگا لیا ، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ اسلام اور اسلام پسندوں کا ہماری اجتماعی کاوشوں میںکیا رول رہا ہے ،دن کے اُجالے کی طرح روشن یہ تمام صورت حال ہمارے سامنے عیاں وبیاں ہے۔گویا اسلام کے نام لیواہی یہاں برے حالات کے بھینٹ چڑھ گئے۔ اب آج بعض غرض پرست عناصر اکثریتی طبقے کو یہ سبق پڑھایا جارہاہے کہ تمہیں اپنے اُن اقلیتی ہمسائیوں اور پڑوسیوں کی فکر کرنی چاہیے جو تین دہائیاں قبل یہاں سے بوجوہ فرار ہوگئے۔ اس وقت ان تارک وطن لوگوںنے اکثریتی طبقے کے بھائی بند یا دوست احباب کو نامساعد حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود اپنی زندگی بچانے کی راہ اختیار کرلی اور ایک بار بھی کشمیری مسلمانوں کے درد وکرب پر دکھاوے کی ہمدردی بھی نہ دکھائی لیکن یک چشمی میڈیا اور اقتداری سیاست دانوں کا پروپیگنڈا اس کمال کا رہا کہ جیسے ساری آفت کشمیر سے جانے والے اقلیتی طبقے پر ہی آپڑی ہو۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سطحی سوچ رکھنے والے ہمارے اپنے کالم نویس اور واقعات و سانحات کے چشم دید گواہ اس بے ہودہ پروپیگنڈے کا شکار ہوکر کشمیر سے ترک مکانی کرنے والی کیمونٹی کو دنیا کی مظلوم ترین قوم قرار دیتے رہے ۔ اس طرح کا خود غرضانہ پروپیگنڈہ جان بوجھ کر وہ حضرات کرتے رہے ہیں جن کے بارے میں یہ ایک کھلا رازہے کہ وہ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں، وہ اپنے مفادات کے یار ہیںاور اس کے لئے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کا فن جانتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے سواد اعظم نے ہمیشہ پنڈتوں کی غیر مشروط وطن واپسی کی حامی بھرلی اور آج بھی وہ ان کے لئے چشم براہ ہیں مگر ان کے خلوص اور انسانیت کے علی الرغم پنڈتوں کی گھر واپسی کو سیاسی رنگت دے کر الٹا مسلمانانِ کشمیر کو ہی کوسا جاتا رہاہے۔
اصل بات یہ ہے کہ عالمی اور مقامی سطح پر ہمارے حریفوں نے اپنی پوری مشینری اس کام پر لگا رکھی ہے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جائے، اُن کی ہر آواز کو غلط ثابت کیا جائے، اُن کی تمام باتوں کو نقار خانے میں طوطے کی آواز بنایا جائے، اُنہیں جنونی قرار دیا جائے، اُن کے نوجوانوں کو انتہا پسند قرار دیا جائے، اُنہیں پہلے اشتعال دیا جائے پھر برا نام دے کر اُن کا صفایا کیا جائے۔ اُن کے مذہبی عقائد کو مسخ کیا جائے، اُن کی سنجیدہ اور بالغ نظر سوچ کو پاگل بن قرار دیا جائے۔ اس کے لیے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہر قوم یک جٹ اور متحد ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلمان یہ سب جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی ایک نہیں ہوپاتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے کہ جب اسرائیلی اور امریکی گٹھ جوڑ اور یارانے کے خلاف استنبول میں او آئی سی کے ممبران ممالک کے سربراہان کی میٹنگ بلائی گئی تو چند اہم ممالک کے سربراہان نے اس کانفرنس میںاس لیے شرکت نہیں کی کہ وہاں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بولنا پڑے گا یا اُن کے خلاف کسی بڑے فیصلے کا حصہ بننا پڑے گا۔ جب مسلم حکمرانوں کی حالت یہ ہو، جب وہ اس قدر خوف یا تذبذب اور مرعوبیت میں مبتلا ہوں ، جب اُنہیں ملت کے مفادات کے بجائے اپنے حقیر ذاتی مفادات پیارے ہوں تو پھر اُمت مسلمہ کی ابتری اور ذلت کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں رہتا ہے ۔عام مسلمانوں کو حق بات سمجھنی ہوگی، ملت کے ہر فرد کو اغیار کی سحر آنگیزی سے باہر آنا ہوگا، اُن کی چالبازیوں کو سمجھنا ہوگا۔ جس دن اسلام کے نام لیوا عوامی سطح پر بیدار ہوجائیں گے ، ہماری تقدیر کی کایا پلٹ جانی شروع ہوجائے گی۔ عام مسلمان ہی اُمت مسلمہ کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں، اپنے حکمرانوں کو راہ راست پر لاسکتے ہیں۔ حق اور باطل کی کشمکش میں حق کے جھنڈے کو لہرا سکتے ہیں۔
ہمیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہورہے ان عالمی اور مقامی سطح کے پروپیگنڈوں کا توڑ کرنے کے لیے ہر مرحلے پر کمال ہوشیاری سے کام لینا ہوگا، یہ ہماری منصبی ذمہ داری ہے۔یہاں یہ بات یاد رہے کہ پروپیگنڈے کا توڑ سنی سنائی باتوں سے نہیں کیا جاتا ہے، نہ ہی جہالت پر مبنی بحث و مباحثے سے سامنے والے کو زیر کیا جاسکتا ہے بلکہ علمی سطح پر اپنے آپ کو اس قدر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کہ مخالف سمت سے آنے والی کسی ایک غلط بات کو رد کرنے کے لیے ہماری جانب سے سو باتوں پر مشتمل دلیل ہونی چاہیے۔ اپنے دین، اپنے جذبات ، اپنے حقوق اور اپنی بقاء وتشخص کا پُر امن طریقے سے دفاع کرنے کا ہمیں پیدائشی حق حاصل ہے، ہم دلائل کے ذریعے موجودہ زمانےکے اسلام اور مسلمان دشمن مہم بازوں، بولہبوں اوربوجہلوں کی ریشہ دوانیوں کا توڑ کرسکتے ہیں۔ہمارے لیے لازمی ہے کہ ہم مقامی حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ رکھتے ہوں،ہمارے پاس پس پردہ اور پیش پردہ ہونے والے تمام واقعات کا علم ہو،ہمیں اپنے وطن کشمیر کی سیاسی تاریخ کا بخوبی علم ہو ۔ جبھی ہم اُن طاقتوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جنہوں نے اسلام اور اسلام پسندوں پر پر وار کرنا اپنا مشن بنارکھا ہے۔ پروپیگنڈہ پر مبنی موجودہ زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے ہوشیاری، چالاکی اور حالات سے باخبر رہنا مسلمانوںکے لیے ایسا ہی ہے جیسا زندہ رہنے کے لیے آکسیجن۔جدید دور کے تقاضائے حیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور جدیددور کے دین دشمن طاقتوں کو شکست فاش دینے کے لیے لازمی ہے کہ اُن کے ساتھ اُنہی کی زبان میں بات کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.