2017کی کہانی ،اعداد و شمار کی زبانی

2017کی کہانی ،اعداد و شمار کی زبانی
  • 18
    Shares

شیخ ولی محمد

گذشتہ27برسوں کی طرح کشمیر میں سال 2017 بھی خونین واقعات ، معرکہ آرائیوں، ظلم و تشدد، مار دھاڑ، محاصروں و گرفتاریوں اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ہم سے رخصت ہوا۔ نویں کی دہائی کے دوران اگر چہ ہلاکتوں کا گراف بڑھتا گیا تاہم2008سے اس میں کمی واقع ہوتی رہی جب عوامی تحریک کے ذریعے لوگوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرنا شروع کردیا ۔2008، 2009 اور 2010میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے جب عوام نے اقوام عالم کے سامنے اپنے مطالبات رکھے تو بھارت نے عوامی خواہشات اور جذبات کو دبانے کی بھر پور کوشش کی ۔ چنانچہ2010میں 100سے زائد عام شہر یوں کو جاں بحق کر دیا گیا۔5برس بعد8جولائی 2016میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کو ابدی نیند سلا دینے کے نتیجے میں دبے ہوئے جذبات اس طرح اُبھر کر سامنے آگئے جیسے ایک آتش فشاں پہاڑنے اپنے اندر جمع شدہ لاوا کو باہر پھینک دیا۔ 5ماہ کی تاریخی کرفیو، ہڑتال اور بندشوں کی وجہ سے کشمیر ہر پہلو سے متاثر ہوا۔ اس دوران سرکاری ایجنسیوں نے ایک بار پھر عوامی جذبات کو دبانے اور کچلنے کے لئے تمام موثر ذرائع اور حربے استعمال کیے۔ یہاں تک کہ جنگلی جانوروں کا شکار کرنے والا پیلٹ گن کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی بینائی بُری طرح متاثر ہوئی ۔ کئی افراد کی دونوں آنکھیں ناکارہ بن گئیں جبکہ سو کے قریب افراد جابحق ہوئے ۔2016کے نامساعد حالات نے ایک طرف ہرذحس اور باشعور انسان پر گہرے نقوش ڈالے تو دوسری طرف حکومت نے2017کے آغاز میں ہی پارلیمنٹ کی دو سیٹوں کے لئے انتخابات کا نوٹفکیشن جاری کیا جس کار د عمل خونین واقعات کی صورت میں سامنے آیا۔ 2016 کی مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں سرکار کے خلاف غم و غصہ اتنا شدید تھا کہ 9 اپریل 2017 کو وسطی کشمیر میں نہ صرف عوام نے الیکشن سے عدم دلچسپی ظاہر کی بلکہ کئی جگہوں پر نوجوانوں نے بیکاٹ کی اپیل کو عملانے کے لئے فورسز اور پولنگ بوتھوں کو نشانہ بنایا ۔ جس کے نتیجے میں الیکشن کے روز8معصوم افراد کی جانیں گئیں۔ سرینگر بڈگام کی پارلیمانی حلقہ میں رائے دہی کی شرح فقط7 فیصد رہی جس کے نتیجے میں جنوبی کشمیر میں الیکشن عمل کو ملتوی کیا گیا۔ 2016کے واقعات نے نوجوانوں پر ایسے اثرات ڈالے کہ ایک طرف وہ عسکریت پسندوں کو فورسز سے بچانے کے لئے بے خوف و بے پرواہ ہو کر معرکہ آرئیوں کی جگہوں پر فورسز کے خلاف پتھراومیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے دوسری طرف بہت سارے نوجوانوں نے عسکریت کا راستہ اختیار کیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق2010سے 2013 تک کے درمیان مقامی عسکریت کی بھرتی میں گراوٹ آتی گئی۔ 2010 ، 2011 ، 2012اور2013میں بالترتیب 54, ،23، 21 اور 16 مقامی نوجوان عسکریت پسندوں کے ساتھ شامل ہوئے۔ 2014سے عسکریت میں شامل ہونے کے رحجان میں اضافہ ہوا۔ 2014، 2015 اور 2016 میں بالترتیب53 ، 66، اور88مقامی نوجوان نے عسکریت پسندوں کا ساتھ دیا۔ تاہم 2017میں یہ تعداد 118تک پہنچ گئی ۔ اس طرح فقط ایک سال میں 34%کا اضافہ ہوا ۔ یہ سب کچھ” عمل “ کارد عمل ہے ۔ جب جمہوری طریقے سے کسی قوم کی آواز کو دبا یا جاتا ہو تو پھر نوجوان نتائج سے بے پرواہ ہو کر پُر خطر راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ دوسری طرف 2017 میں فورسزکی تمام ایجنسیوں نے عسکریت پسندوں کو زیر کرنے کےلئے تمام حربے استعمال کئے آپریشن آل آوٹ کے نام پر وادی کے بہت سارے مقامات بالخصوص جنوبی کشمیر میں معرکہ آرائیوں کے دوران ہلاکتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تا ہنوز جاری ہے ۔ معرکہ آرائیوں کے دوران جانی ومالی نقصان ہوا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سال2017میں ریاست میں مختلف واقعات میں 371افراد جان بحق  جن میں212 عسکریت پسند،65 شہریوں کے علاوہ 94 فورسز اہلکار بھی شامل ہیں ۔ دیگر غیر سرکاری کے مطابق اموات کی تعداد 391 ہے جن میں 215 عسکریت پسندوں کے علاوہ 97عام شہری بھی شامل ہیں ۔ اس طرح سال کے365دنوں کے دوران اوسط ایک ہلاکت روزانہ ہوتی رہی ۔ 2017گذشتہ 4سالہ عرصہ میں سب سے زیادہ پُر تشدد رہا جس کے دوران350پُر تشدد واقعات رونما ہوئے ۔ جبکہ 31دسمبر کو لیتہ پورہ میں سی آر پی ایف کے بٹالین ہیڈ کواٹر پر عسکریت پسندوں کے فدائین حملہ سے 2017اختتام پذیر ہوا۔ سب سے کم جانیں (13) جنوری کے مہینے میں جبکہ جون کے مہینے میں سب سے زیادہ جانیں (51)تلف ہوئیں جن میں 30 عسکریت پسند بھی شامل ہیں ۔ عام شہریوں میں ایک بچی سمیت9خوتین بھی شامل ہیں ۔ فوج کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے ”آپریشن آل آوٹ“ کے دوران خونین معرکہ آرائیوں میں حزب المجاہدین کے آپریشن کمانڈر محمو غزنوی ،لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو دجانہ اور ابو اسمائیل کے علاوہ جیش محمد کے کمانڈر خالد بھائی ، حزب کے کمانڈر سبزار احمد بٹ ، بشیر لشکری ، جنید متو ، عبدالقیوم نجار ، نور ترالی اور دیگر اعلیٰ کمانڈر بھی جابحق ہوئے۔ فوج ، پولیس اور سی آر پی ایف کے 200کے قریب اہلکار زخمی بھی ہوئے اسی سال معروف اخوانی کمانڈر رشید بلا کو بھی ہلاک کیا گیا ۔

سال کے دوران20ہفتوں تک تاریخی جامع مسجد سرینگر بھی مقفل رہی جبکہ شب قدر کے دوران پولیس کے ایک آفیسر کو زیر چوب مارا گیا ۔ شہر خاص کے حساس علاقوں میں 40مرتبہ جزوی یا سخت پابند یاں اور بندشیں عائد رہی ۔ اس سال نے گیسو تراشی کی حیثیت سے اپنے نقوش چھوڑے دئے ۔ نویں کی دہائی میں آپریشن گو سٹ کی طرز پر امسال ستمبر میں لڑکیوں اور خواتین کی چوٹیاں کاٹنے والے نمودار ہوئے اور قریب2ماہ تک دہشت پھیلاتے ہوئے تقریباً200کے قریب خواتین کی چوٹیاں کاٹ ڈالیں ۔ یہ سال اپنے ساتھ جبر و قہر اور خون آشامی کی خوفناک لہر یں لے کر آیا ۔ ایک طرف الیکشن کا بگل بجایا گیا اور دوسری طرف این آئی اے کا جال بچھا یا گیا۔ 9اپریل الیکشن کے روزوسطی کشمیر میں نہ صرف 8نوجوان کا قتل عام ہوا ۔ بلکہ فوج کی ایک گشتی پارٹی نے میجر گگوئی کی قیادت میں ژھل براس بڈگام کے فاروق احمد ڈار کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے ایک فوجی جیپ کے ساتھ باندھ کر علاقے میں گھمایا ۔ بعد میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے ریاستی حکومت کو متاثرہ فرد کو10لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کی ہدایات جاری کئے تاہم متاثر ہ فاروق احمد ڈار کو انصاف فراہم کیے بغیر سال2017ختم ہوا اور دوسری طرف میجر گگوئی کو توصیفی میڈل سے نواز ا گیا ۔ 2016 کے نامسائد حالات کی وجہ سے تعلیمی سیکٹر پہلے سے ہی بہت متاثر ہواتھا جبکہ 2017 تعلیمی اداروں میں سرکاری ہڑتالوں کا سال ثابت ہوا۔ جب بھی کوئی تشدد یا ہلاکت کا واقعہ پیش آیا حکام نے اسکول اور کالج بند کرنے کا حکمنامہ صادر کیا ۔ اس طرح2016-17 کے تعلیمی سال میں طلبہ کوصرف 100سے بھی کم ایام میسر ہوئے ۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.