بیٹیاں ماں باپ کی شان۔۔۔۔۔۔۔انیس الرحمن

بیٹیاں ماں باپ کی شان۔۔۔۔۔۔۔انیس الرحمن
  • 9
    Shares

چند دن پہلے فیس بک پر ایک دوست نے بتایا کہ اسکے کزن نے شاہدرہ لاہور میں اپنی ننھی کلی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا…
دل تھا کہ خبر سن کر خون کے آنسو بہا رہا تھا پرنم آنکھیں لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا منظر ہوگا…
کہ بچی کا پیر ریل کی پٹڑی میں پھنسا ہوا تھا اور نکالے نہیں نکل رہا تھا اور ٹرین سر پر پہنچ چکی تھی ڈرائیور نے بریک لگانے کی کوشش کی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی بچی کو سامنے موت نظر آرہی تھی اور وہ بس اپنے بابا کا ہاتھ پکڑے کہہ رہی تھی “بابا مجھے چھوڑ کے نہ جانا”
ایک طرف بیٹی کی پکار اور ایک طرف لوگوں کا شور و غوغا کہ بچی کو چھوڑو اور موقع ہے بچ جاؤ…
لیکن پدری محبت غالب آئی اور بچی کی پکار نے لوگوں کے شور کو پست کر دیا اور باپ نے اپنی بچی کو گلے لگایا اور دونوں باپ بیٹی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے…
یہ سوچتے ہوئے لوگوں کی کہی بات ذہن میں آئی کہ بیٹیاں باپ سے زیادہ پیار کرتی ہیں لیکن اس واقع نے ثابت کیا کہ باپ کی محبت بھی بیٹی کیلئے کسی طرح سے کم نہیں ہوتی…
ابھی اسی واقع کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ پاکستان اور کشمیر میں دو دلخراش سانحہ ہویے۔…
7 سالہ ننھی زینب کو کسی درندہ نے اغواء کے بعد درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے اس ننھی کلی کو مثل دیا…۔ جب کہ ایسی ہی ایک ننحی جان جو کشمیر وادی کے دور دراز علاقے سے وابستہ ہے کو بحی درندگی کا نشانہ بنا کر مثل دیا گیا۔
یقیناً بیٹیوں کی محبت بیٹیوں والے ہی جانتے ہیں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے؟؟؟؟؟ تو دل و دماغ ایک ہی جواب دیتا ہے نہیں نہیں نہیں.. ایک انسان کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتا…
یا شاید ہمارے اندر سے انسانیت ختم ہو چکی ہے یا ہماری انسانیت کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ ان ننھی کلیوں کے خون نے ہمیں جنجھوڑا نہیں ہے….
بیٹیوں والوں کے دل میں بیٹیوں کی محبت نہیں جاگی… بہنوں والوں کے دل میں بہنوں کی محبت نہیں جاگی… ؟؟؟
ہم ہیں کہ ٹس سے مس نہیں واقعات کو معمول کے واقعات سمجھ کے اک خبر سن کہ ہم نے شاید ان واقعات کو اپنی یادداشت سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہے…
خدارا زینب آصفہ کو اپنی بیٹی سمجھو
او بیٹیوں والو…! کہ بیٹیاں تو ماں باپ کا مان ہوتی ہیں…
زینب اور آصفہ کو اپنی معصوم بہن سمجھو
او بہنوں والو…!
اور اس درد کو اپنا درد سمجھو…
اک شعور پیدا کرو معاشرے میں کہ ہم آئندہ ایسی انسانیت سوز درندگی نہیں ہونے دینگے…
ہم معاشرے سے ایسے درندوں کو بے نقاب کرینگیں…
اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان الگ الگ دو ایک جیسے واقعات کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ پھر کسی ماں کی گود نہ اجڑے اور پھر کسی بھائی کی معصوم بہن نہ لٹے…

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published.