موجودہ دور میں رجوع الی القرآن اوراعتدال کی راہ۔۔۔عمر سلطان

موجودہ دور میں رجوع الی القرآن اوراعتدال کی راہ۔۔۔عمر سلطان
  • 315
    Shares

احیائے اسلام کے لیے اٹھنے والی کوئی بھی تحریک تب تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک نہ قرآن کو بنیاد بنا لیا جائے۔ عصر حاضر میں بھی رجوع الی القرآن ہی میں امت کے مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔ یہ کسی مفکر، فلسفی، مصلح یا کسی عالم دین کا تجزیہ نہیں ہے بلکہ داعی¿ اعظم رسول اللہﷺ کا فرمان ہے جو اس امت کے لیے مقدر بن چکا ہے۔
(اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کے ذریعہ اُن قوموں کو عروج عطا کیا جنہوں نے اس کی حق ادائی کی اور اُن کو رسوا کیا جنہوں نے اس سے تغافل کیا)
(عن عمر بن خطابؓ، صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین)
امت مسلمہ کے عروج و زوال کے عوامل میں امت کا قرآن کے ساتھ تعلق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ جب مسلمانوں نے قرآن کے سائے میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کی تعمیر میں قرآن ہی کو ضابطہ ¿ حیات تسلیم کیا، تو دنیا میں ان کو عزت و وقار نصیب ہوا اور جب قرآن کو پس پشت ڈال دیا گیا تو ذلت اور رسوائی کی ناقابل بیان حالت مسلمانوں پر طاری ہوگئی۔ ہمارے حصے میں امت مسلمہ کا یہی آخری دور آیا ہے، جس میں ہم اپنے آپ کو بے بس ، مظلوم اور اخلاق و ادب کے اسلامی تصور سے عاری پاتے ہیں۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قرآن کو اپنا دستور نہیں سمجھتے،وہ اسے اپنی بہت ساری مذہبی کتابوں میں سے ایک مذہبی کتاب تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک امت مسلمہ کے عروج و زوال کا قرآن کے تئیںمسلمانوں کے رویّے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ مادی عوامل میں ہی مسلمانوں کی ترقی اور عروج کے راز کو دیکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں ایک طبقہ، جو دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے، رجوع الی القران میں امت کے مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسی طبقے نے امت کے مرض کی صحیح تشخیص کی ہے ۔ امت کی چودہ سو سالہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ علمائے حق اور خیر خواہان دین مصطفیﷺ نے ہمیشہ قرآن ہی کو بنیاد بنا کر احیائے دین کی دعوت پیش کی ہے۔ یہ سلسلہ موجودہ دور میں بھی جاری ہے۔ تحریک اقامت دین بھی دراصل رجوع الی القرآن ہی کی دعوت ہے۔ اسی طرح آج کے زمانے میں بہت سے ناموں کے تحت رجوع الی القرآن کی تحریکات سرگرم ہیں ،جو مسلمانوں کو قرآن سے جوڑنے کی کوششیں کرتی ہیں۔ بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو اکیلے اس حوالے سے قرانک سنٹرس اور دروس کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ ان سب کوششوں کے باوجود رجوع الی القرآن کے نام پر کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو اعتدال کے راستے سے ہٹ کر فتویٰ با زی فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی صاحب کی کتاب ” موجودہ دور میںرجوع الی القرآن کی دعوت: انحراف اور ان کا تدارک“ اس موضو ع پر ایک محققانہ کوشش ہے۔ کتاب دراصل ایک مقالہ ہے جسے فاضل محقق نے ”ادارہ¿ علوم القرآن علی گڑھ“ کے ایک سیمینار میں پیش کیا تھا۔رجوع الی القرآن کی دعوت میں انحراف کس قدر غور طلب معاملہ ہے اس کا اندازہ کتاب کے اس اقتباس سے کیا جا سکتا ہے :
”رجوع الی القرآن“ کے بعض داعیوں کے افکار میں بسا اوقات انحراف کا مشاہدہ ہوتا رہتاہے ۔ وہ جو نتائج تحقیق پیش کرتے ہیں اور اپنی تائےد میں قرآن سے جو دلائل لاتے ہیں وہ اسلام کی بنیادی اقدار اور قرآن کی حقیقی تعلیمات سے میل نہیں کھاتے ۔ تارےخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ۔ جس طرح ماضی بعید و قرےب میںقرآن کے نام پر اُٹھنے والے فرقے اور تحرےکیں گمراہی کا شکار تھیں ، ان کے افکار و خیالات قرآن کی حقیقی تعلیمات سے کوسوں دور تھے، اس طرح موجودہ دور کے منحرفےن بھی قرآن کے نام پر جو افکار و خیالات پیش کر رہے ہیں ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔منحرفےن کی یہ آوازیں اگر چہ ابھی کمزور ہیں، ان کی کوئی مضبوط اجتماعیت بھی نہیں ہے لیکن اندیشہ ہے کہ اگر ان پر گرفت نہ لگائی گئی تو ان کی لَے بڑھتی جائے گی اور ان سے اسلام کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔“(ص۲۲)
مصنف نے ماضی بعید اور ماضی قریب میں تحریک رجوع الی القرآن کو صحیح نہج پر چلانے والوں اور منحرفین کی چند مثالیں بھی پیش کی ہیں ۔ ماضی بعےد کے مصلحین اورمجددین کی مثال دیتے ہوئے مصنف نے شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے کارناموں کا تذکرہ کیا ہے جب کہ ماضی قریب میں علامہ حمید الدین فراہی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا سید ابو الاعلی مودودی ، مولانا اشرف علی تھانوی، مفتی محمد شفیع، علامہ شبیر عثمانی، مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمہم اللہ وغیرہ کے نام قرآنی فکر کو عام کرنے والوں میں لیے ہیں۔
فرقہ¿ ضالّہجنہوں نے قرآنی آیات کی بے جاتا ویلات کیں، کے تعلق سے مصنف نے ماضی بعید میں خوارج کا ذکر کیا، جن کا ظہور حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی فوجوں کے درمیان معرکہ¿ صفین (۷۳ھ) کے بعد واقعہ تحکیم کے موقع پر ہوا۔ مصنف نے اعتزالی فکر کے حامل زمخشری، شیعی تفاسیر میں حسن کو بھی کئی دوسری تفاسیر کے ہمراہ انحراف کا شکار قرار دیا ہے۔ ماضی قریب میں منحرفین کی مثال دیتے ہوے مصنف موصوف نے چودھری غلام احمد پرویز (م ۵۸۹۱ئ) اور ان کے ہم فکر اصحاب کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن مکمل ہے ، اس لیے اس کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، یہاں تک کہ حدیث کی بھی نہیں۔ ان کے نزدیک پیغمبر ﷺ کی حیثیت عام انسانوں کے مثل ہے جس کی ذمہ داری بس یہ تھی کہ وہ اللہ کا کلام دوسرے انسانوں تک پہنچادےں، ورنہ اس کا فہم دوسرے انسانوں سے بڑھ کر نہیں، اس لیے واجب الاتباع بھی نہیں ہے۔ “(ص۷۱)
مصنف نے اس کتاب میں منحرفین کے افکار اور ان کے طریقہ¿ واردات کی پانچ صورتوں کا ذکر کیا ہے، جن کو اختصار کے ساتھ یہاں قارئین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
۱….ایک آیت سے استدلال، دیگر آیات سے صرف نظر
۲….الفاظ قرآنی کی بے جا تاویل
۳….نئی بات کہنے کا خبط (یا شوق)
۴….احادیث کا انکار اور استخفاف
۵…. قرآن میں صریح حکم کی تلاش
آخر میں مصنف نے تدارک کی بعض صورتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ کتاب کی ایک اور خصوصیت آخر میں ”حواشی و مراجع“ کے تحت تمام روایات کا حوالہ دینا ہے۔
دعوت دین اور رجوع الی القران کا کام کرنے والوں کے لیے اس مختصر سی کتاب کا مطالعہ نہاےت ہی اہمےت کا حامل ہے۔ چالیس صفحات پر مشتمل اس کتاب کو اسلامک بک فاونڈیشن والوں نے بہت خوبصورت انداز میں طبع کیا ہے۔ جو اسے قاری کے لیے اور زیادہ پر کشش بنا دےتا ہے۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.