شوپیان ….نسلی کشی کا یہ سلسلہ کب تھمے گا؟۔۔۔۔ایس احمد پیرزادہ

شوپیان ….نسلی کشی کا یہ سلسلہ کب تھمے گا؟۔۔۔۔ایس احمد پیرزادہ
  • 25
    Shares

۷۲جنوری کو شوپیان کے گنو پورہ دیہات میں بھارتی فوج نے بغیر کسی اشتعال کے نہتے عوام پر فائرنگ کرکے دو معصوم نوجوانوں کو جان بحق کردیا جبکہ دیگر ایک درجن کے قریب افراد کو شدید زخمی کردیا۔ زخمی ہونے والے افراد میں ایک نوجوان کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ جان بحق ہونے والے نوجوانوں میں بال پورہ شوپیان کا جاوید احمد بٹ (عمر ۳۲سال)، اور سہیل احمد لون ساکن گنو پورہ (عمر ۰۲سال)شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں سے ۱۲سالہ رئیس احمد گنائی کی حالت کئی دن تک نازک رہنے کے بعد بالآخر وہ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اسی ضلع میں ایک اور دس سالہ کمسن بھی بھارتی فوجیوں کے جانب سے پھنکے گئے شل سے زخمی ہوجانے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا۔اس سے قبل جس وقت پورا بھارت یوم جمہوریہ منانے کی تیاریوں میں مصروف تھا اور دلی میں ریڈ کارپٹ بچھانے کی تیاریاں شدو مد سے جاری تھیں ، دنیا کے مظلوم ترین خطہ کشمیر کے اسی ضلع شوپیان میں ۴۲جنوری کی شام کو ایک فوجی محاصرہ اور انکاونٹر کے دوران حسب عادت وردی پوشوں نے معصوم اور نہتے لوگوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کردئے۔ ۷۱برس کے ایک معصوم نوجوان شاکر احمد میر کو فوج نے راست گولی مار کرجان بحق کردیا جبکہ دو معصوم اور کم سن لڑکیوںسمی جان دختر غلام حسن بٹ اور صبرینہ دخترہلال احمد بٹ پر بھی گولیاں چلاکر اُنہیںشدید زخمی کردیا۔ یہ دونوں بچیاں تادم تحریر ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور اُن کی حالت نازل بنی ہوئی ہے۔۷۱۰۲ئ کے ابتداءسے ہی انکاونٹر والی جگہوں کے ساتھ ساتھ عام احتجاج کے موقعوں پر نہتے اور عام شہریوں پر بندوق کے دھانے کھولنے کا چلن عام ہوا اور انسانی حقوق کی ان شدید نوعیت کی خلاف ورزیوںکو یہ کہہ کر جواز فراہم کیا جارہا ہے کہ عام لوگ فوجی آپریشنوں میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں، جہاں انکاونٹر نہ ہو وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ فوج نے عام اور نہتے لوگوں کے”قہر“ سے بچنے کے لیے اپنے”دفاع“ میں گولی چلائی ہے۔ قوم کشمیر کا المیہ یہ ہے کہ اب یہاں کی گلیاں انسانی لہو سے لال ہونا روز کا معمول بن چکا ہے۔ معصوموں او رنہتے نوجوانوں کے جنازے آئے روز اُٹھائے جاتے ہیں۔ ماو¿ں کی کھوکھ اُجاڑنے کی مختلف ایجنسیوں میں دوڑ لگ چکی ہے اور حکومت وقت کے تمام کارندے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کادعویٰ کرنے والی طاقت کی ظلم و زیادتیوں کو نہ صرف جواز فراہم کررہے ہیں بلکہ ایسے گھناو¿نے فعل کا ارتکاب کرنے والے وردی پوشوں کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔آئے روز ان انسانیت کش سانحات کی یہ قوم عادی بن چکی ہے اور اب کسی معصوم کا سینہ چھلنی ہونے کی خبرسے کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے برسراقتدار طبقہ اور حکومتی ادارے عوام کو اس طرح الجھا کر رکھ رہے ہیں کہ اُن کا یہاں ہورہی نسل کشی کی جانب جیسے دھیان ہی نہیں جاتا ہے۔
کشمیرمیں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کے لیے راہ ہموار کی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے منفی پروپیگنڈا کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پوری کشمیری قوم ”انتہا پسند“ بن چکی ہے۔ بیرونی دنیا پر یہ باور کرایا جارہا ہے کہ کشمیری انسانیت کے لیے”مہلک“ ثابت ہوسکتے ہیں اگر اُنہیںپہلے ہی قابو نہ کیا گیا۔ گزشتہ کئی سال سے بالخصوص جب سے دلی میں بی جے پی کی سرکار وجود میں آئی، ہندوستانی سیاست دانوں سے لے کر فوج کے اعلیٰ افسران تک کے بیانا ت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور میڈیا کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کوباریک بینی سے دیکھا جاتا ہے تو یہ صاف طور پر واضح ہوجاتا ہے کہ منصوبہ بندی ، حکمت اور تسلسل کے ساتھ کشمیریوں کو بدنام کرنے کی منظم کوششیں کی گئی ہیں اور ایک ایسا ماحول تیار کیا گیا ہے جس میں ہر کشمیری کو موت کی گھاٹ اُتار دینا جائز لگتا ہے۔حال کے عرصے میں بھارتی فوج کے سپاہ سالار جنرل بپن روات نے کئی ایسے بیانات دئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، جس کا تجزیہ کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ کشمیریوں کے حوالے سے بھارت کے اعلیٰ اداروں کی مجموعی ذہنیت کس طرح کی بن چکی ہے۔ گزشتہ سال ۰۲اکتوبر کو جنرل روات نے جموں میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ”کشمیر میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو آرمی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اس انتہا پسندی کے فروغ میں سوشل میڈیا کا نمایاں رول ہے۔“ رواں ماہ کے ابتدا میں موصوف نے ایک اور بیان میں کہا کہ ”ریاست جموں وکشمیر کے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو دیکھنے کی ضرورت ہے، یہاں ہندوستان کے نقشے کے ساتھ ساتھ کشمیری نقشہ بھی رکھا جاتا ہے، کشمیر کی تاریخ الگ سے پڑھائی جاتی ہے۔ اسکولوں کے ساتھ ساتھ دینی اداروں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔“بقول اُن کے کشمیر کے نصاب تعلیم ہی انتہا پسندی کے بیج بو رہا ہے اور کشمیری نسلوں کی تشدد اور بھارت مخالف راہ پر ڈال رہا ہے۔ اس بیان کے اگلے ہی روز انہوں نے کہا کہ ”کشمیر میں سوشل میڈیا پر قدغن کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور ہونا چاہیے کیونکہ سوشل میڈیا ہی یہاں کے نوجوانوں کو انتہا پسندی کے قریب کررہا ہے۔“اسی طرح کے ایک اور بیان میں جنرل بپن روات نے ایک ایسی بات کہی جس کو کشمیر کے حساس طبقے کافی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ ”سیاسی جدوجہد کرنے والوں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا رویہ اختیار کرلیا جانا چاہیے۔“گویا نہتے احتجاجی نوجوانوں اور عام لوگوں پر گولیاں برسانے اور اُن کی زندگیاں لینا جائز قرار دیا گیا۔ حالانکہ حقائق یہ ہیں کہ عملی طور پر گزشتہ تین دہائیوں سے یہاں یہی پالیسی چل رہی ہے۔ ۰۹۹۱ئ سے لے کر آج تک سینکڑوں ایسے سانحات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جن میں عام کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ اجتماعی قتل عام کے درجنوں سانحات کی یادیں عام کشمیریوں کے ذہنوں میں ابھی بھی تازہ ہی ہیں۔گاو¿ کدل، بجبہاڑہ، زکورہ، ٹینگ پورہ،سوپورہ، ہندواڑہ، کپواڑہ،سنگرام پورہ، پازی پورہ کپواڑہ ، عالمگیری بازار، وندہامہ وغیرہ میں سینکڑوں لوگوں کو دن کے اُجالے میں گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ ۸۰۰۲ئ سے لے کر آج تک یہاں ہر سال اور ہر ماہ عام اور نہتے نوجوانوں کا قتل عام ہوتا رہا ہے۔اس لیے کشمیریوں کی نسل کشی کوئی نئی بات نہیں ہے البتہ اس مرتبہ جنرل بپن روات نے کھلے عام یہ کہہ کر کہ سیاسی حقوق کی بازیابی کی بات کرنے والے ہر شخص کے ساتھ اُسی طرح نپٹنے کی ضرورت ہے جس طرح عسکریت کے ساتھ بھارتی فوج برسر پیکار ہیں،کشمیری عوام کے خلاف اپنی پالیسی کو دنیا کے سامنے عیاں کردیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ کشمیر کی پوری آبادی اپنے سیاسی حقوق کی باز یابی کے لیے جدوجہد کررہی ہے، خود بپن روات نے بھی یہ کہہ کہ”کشمیریوں کو اب اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ اُنہیں وہ چیز نہیں ملنے والی ہے جس کے لیے وہ جدوجہد کررہے ہیں“اعتراف کرلیا کہ پوری قوم ِکشمیر اپنے ساتھ کیے گئے وعدوں کا وفا کرنے کی مانگ کررہی ہے۔فوجی سربراہ کی یہ بیان بازی کشمیری عوام کے خلاف ہے۔یہ انتہا پسندانہ سوچ ہے اورایسی سوچ عالمی سطح کے اُن قواعد و ضوابط کو پیروں تلے روندنے کے مترادف ہے جن میں عام لوگوں کو اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے کا حق فراہم کیا گیا ہے۔
مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کی انفرادیت اور متنازعہ حیثیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام کی فکری ہوشیاری اور مزاحمت کے جذبے کو کچلنے کے لیے طاقت کا سہارا لیا جارہا ہے۔ منظم اور سوچے سمجھے انداز میں یہاں نسل کشی کی جارہی ہے۔ نوجوانوں نسل کو تنگ طلب کیا جارہا ہے، اُنہیں فوجی کیمپوں اور پولیس اسٹیشنوں میں بلا بلا کر اس حد تک پریشان کیا جارہا ہے کہ وہ انتہائی اقدام پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ اس سوچھی سمجھی منصوبہ بندی کی آڑ میں کشمیریوں کو موت کی گھاٹ اُتار دینے ، اُنہیں پیلٹ کے چھروں کا نشانہ بنانے اور اُنہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے کے لیے جواز فراہم کیا جارہا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کی حکمت عملی سے کیا دلی کے پالیسی سازوں کو کچھ حاصل ہوگا؟ کیا وہ بندوق کے نوک پر عوام کو خاموش کراسکتے ہیں؟ کیا وہ خوف و ہراس کے ذریعے یہاں قبرستان کی خاموشی قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ گزشتہ تین دہائیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے بظاہر کمزور نظر آنے والی کشمیر قوم زیر ہونے والی نہیں ہے۔ نوے کی دہائی میں لاقانیت اور مار دھاڑ کا جو سلسلہ یہاں جاری رکھا گیا ،اُس کو دیکھتے ہوئے اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرنے کی کشمیریوں کو کبھی جرا¿ت نہیں ہوتی لیکن زمانے نے یہ بھی دیکھ لیا کہ بیسویں صدی کی آخری دہائی کے تمام تر ظلم و ستم سے ابھرکر اس قوم نے اکیسویں صدی میں ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ انصاف اور حقوق کی بات کی۔ دبانے کی ہزار کوششوں کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد جاری ہے اورآج حالات نوے کی دہائی سے بھی بدتر ہیں۔طاقت آخری حربہ ہوتا ہے اور جس جدوجہد کی بنیاد اخلاقیات پر قائم ہو، جو اصولوں اور حقائق پر مبنی ہو اُس میں طاقت کی نہیں بلکہ حقائق کو تسلیم کرکے سدھ بدھ کا مظاہرہ کرنا ہی عقل مندی کی بات ہے۔کشمیر اور کشمیریوں کی وجہ سے ہی ہندوستان اور پاکستان میں ایٹمی جنگ کی باتیں ہورہی ہیں۔ کشمیریوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھنے والے فرقہ پرست طاقتوںکو اس بات کا ادراک حاصل کیوں نہیں ہوجاتا کہ اگر کشمیریوں کی وجہ سے ہی نیوکلیر جنگ چھیڑ گئی تو تباہی کا منظر ریاست جموں وکشمیر تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسی کسی بھی جنگ کے نتیجے میںپورے خطے کی تباہی و بربادی طے ہے۔ ووٹ بینک کے خاطر مسائل کوحل نہ ہونے دینا اور اقتداری سیاست کے لیے کشمیر جیسے حساس مسئلے کو اُلجھاکر رکھنا دراصل اُن کروڑوں لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے جنہیں ”دیش بھگتی“ اور ” مذہب “ کے نام پر گمراہ کیا جارہا ہے۔ہندوستانی عوام کو اپنے سیاست دانوں کی موقعہ پرستی اور مفادات پر مبنی سیاست کو سمجھنا چاہیے، اُنہیں دور اندیشی کا مظاہر ہ کرکے کشمیر کے مسئلہ کے بارے میں نہ صرف جاننا چاہیے بلکہ یہاں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر غیر جانبداری کے ساتھ آواز بلند کرنی چاہیے۔ آج ریاست جموں وکشمیر ہے کل کسی اور ریاست کے باشندوں کو اپنے حقوق کی بات کرنے پر فوجی طاقت کے بل بوتے پر کچلا اور دبایا جاسکتا ہے۔
یہ اکیسویں صدی ہے، قوموں اور انسانوں کو غلام بنانے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اقوام ”انسانی آزادی“ کا بڑا دعویٰ کررہے ہیں لیکن عملی طور پر حالت یہ ہے کہ آج بھی دور جاہلیت کی طرح طاقت اور طاقت ور کی پوجا ہوتی ہے۔ زیادتی کا ارتکاب طاقت کے نشے میں بدمست قومیں کریں تو پوری دنیا آنکھ موند لیتی ہے اور اگر کوئی کمزور قوم اپنے حقوق کی بات کرتی ہے تو اُنہیں شدت پسند اور انتہا پسند قرار دیا جاتا ہے۔یہ دنیا کو تباہی کی جانب دھکیل دینے کی ذہنیت ہے۔ عالمی طاقتیں کیوں خاموش ہیں؟ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار کہاں ہیں؟ دنیا میں اپنے آپ کو مہذب اور انسانیت کے خیر خواہ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو کیوں سانپ سونگھ گیا؟ جمہوریت کا دعویٰ کرنا والا ملک اپنی دس لاکھ فوج کے ساتھ ایک کمزور اور نہتی قوم پر سوار ہوچکا ہے۔ اُن کی نسل کشی کر رہا ہے، آئے روز یہاں کی نوخیز نسل کو گولیوں سے بھون کر چنگیزیت اور بربریت کو بھی شرمسار کررہا ہے اور عالمی چودھریوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ دوہرا معیار صرف اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کیونکہ مظلومیت کے سائیڈ میں اُمت مسلمہ کھڑی ہے۔ یہ تمام تر مظالم کشمیری مسلمانوں پر روا رکھے گئے ہیں۔ اس لیے ان طاقتوں سے اُمیدیں وابستہ کرنے کے بجائے ہمیں اللہ رب العزت سے مدد کی فریاد کرنی چاہیے۔ بحیثیت مجموعی ہمیں اللہ کی جانب رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ جبھی ہم اپنی نسلوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹے جانے کی وحشیانہ کارروائیاں کرنے والے کے ارادوں کو ناکام کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.