دیہی ہندوستان کو بااختیار بنانے کے لیے وکتا بھارت جی رام جی-روزگار گارنٹی اسکیم

شیوراج سنگھ چوہان

فلاحی اصلاحات پر عوامی بحث نہ صرف ضروری ہے بلکہ صحت مندانہ بھی ہے۔ وکست بھارت-روزگار کے لیے گارنٹی اور اجیوکا مشن (گرامین) (وی بی-جی رام جی)کےحوالے سے جو خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، وہ ایک جائز اندیشے سے جنم لیتے ہیں: کہ کہیں روزگار کی تاریخی ضمانت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی محنت کشوں کے ان حقوق کو کمزور نہ کر دے ۔ اس تشویش کا احترام کیا جانا چاہیے۔تاہم، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وکست بھارت جی-رام جی بل میں حقیقی طور پر کیا تجاویز کی گئی ہیں، انہیں بغور پڑھا جائے،  نہ کہ محض قیاس آرائیاں کی جائیں۔  اس بل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر دیہی کنبے کو ایک سال میں 125 دن کا اجرت کے ساتھ روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ بل میں درخواست کے 15 دن کے اندر روزگار فراہم نہ ہونے کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس کا بھی التزام ہے ، جس کے لیے منریگا کے  دور کی بے روزگاری کی تجاویز کو  ہٹا دیا گیا ہے ۔

ہندوستان  کے دیہی روزگار کے فریم ورک کی کمزوری اس کی ارادیت میں نہیں بلکہ اس کے ڈھانچہ جاتی خامیوں میں تھی،  جن میں اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ وکست بھارت جی-رام جی  کو اسی زمینی حقیقت کے تناظر میں پرکھا جانا چاہیے۔حقوق کو کمزور کرنے کے بجائے، مجوزہ فریم ورک براہِ راست ایم جی نریگا کی خامیوں کو دور کرتا ہے۔ بے روزگاری سے متعلق دفعات کو ختم کر کے، جن کے نتیجے میں مزدوروں کو ان کا جائز حق نہیں مل پاتا تھا اور شفافیت، سماجی آڈٹ اور شکایات کے ازالےسے متعلق قانونی ذمہ داریوں کو مضبوط بنا کر، یہ بل روزگار کی ضمانت کے نظام کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جواب دہی  کے مضبوط طریقۂ کار اور مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے  کو محض ضمنی پہلو نہیں سمجھا گیا، بلکہ انہیں اس حق کو زمینی سطح پر بامعنی بنانے کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔

ان معنوں میں وی بی- جی رام جی سماجی تحفظ سے پیچھے ہٹنے کے بجائے، ایک ایسے حق کو، جو اکثر عمل درآمد میں ناکام رہتا تھاحقیقی اور قابلِ نفاذ قانونی ضمانت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

کاغذی حقوق سے حقیقی بااختیاری تک

وی بی – جی رام جی  کے بارے میں سب سے عام تنقیدی پہلو یہ ہے کہ اس سے دیہی روزگار کی مانگ  پر مبنی نوعیت کمزور ہوتی ہے۔ تاہم، بل کا سرسری طور پر  مطالعہ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا ہے۔  اس بل کی شق 5(1)  حکومت پر ایک واضح قانونی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ ہر مالی سال میں کسی بھی دیہی کنبے کو،جس کے بالغ افراد غیر ہنرمند جسمانی کام کرنے  کے کارکن  ہوں، کم از کم 125 دن کےاجرت کے ساتھ روز گار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

مانگنے کے اس حق کو کمزور کرنے کی بجائے ، یہ بل ضمانت شدہ روزگار کو 125 دن تک بڑھا کر اور منریگا کے دور کی عدم استحقاق کی دفعات کو ہٹا کر اسے مضبوط کرتا ہے ، اس طرح بے روزگاری الاؤنس کو حقیقی قانونی تحفظ کے طور پر بحال کرتا ہے ۔ وہ حق جو قانونی ضمانتوں اور قابلِ نفاذ احتسابی طریقۂ کار میں پیوست ہو، فطری طور پر زیادہ مضبوط ہوتا ہے- اور وی بی-جی رام جی  دراصل عملی طور پر یہی کام کرتا ہے۔

روزی روٹی کی ضمانت کو تقویت دینے کی کوشش

ایک اور تنقید سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اصلاح روزگار کے بجائے  اثاثوں کی تخلیق کو ترجیح دیتی ہے ۔  یہ بل واضح طور پر روزگار کو پیداواری اور پائیدار عوامی اثاثوں کی تخلیق سے جوڑتے ہوئے قانونی روزی روٹی کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔

 شق 4 (2)، جسے   شیڈول  ایک کے ساتھ پڑھا جانا چاہئے ،  یہ چار موضوعاتی شعبوں -پانی کا تحفظ، ضروری  دیہی بنیادی ڈھانچہ ، روزی روٹی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ اور شدید موسمیاتی واقعات کو کم کرنے کے لیے کام  کی نشان دہی کرتا ہے۔  یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اجرت پر روزگار نہ صرف فوری آمدنی میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں طویل مدتی استحکام اور پیداواری صلاحیت میں بھی مدد کرتا ہے ۔  لہذا ، روزگار اور اثاثے مسابقتی مقاصد نہیں ہیں ؛ وہ باہمی طور پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، جو ایک خوشحال اور مضبوط  دیہی  ہندوستان  کی بنیاد رکھتے ہیں ۔

مرکزیت نہیں بلکہ ہم آہنگی کے ذریعے غیر مرکزیت کی کوشش

مرکزیت کے برعکس، بل کی 4(1) سے لیے کر 4(3) شقیں تمام کاموں کو وِکست گاؤں پنچایت پلان (وی جی پی پی) میں مربوط کرتی ہیں، جو گاؤں کی سطح پر مقامی ضروریات کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں اور گرام سبھا کی منظوری کے بعد نافذ ہوتے ہیں۔ یہ بل سابقہ نظام کے ایک گہری ساختی خامی-یعنی ٹکڑوں میں تقسیم  کرنا-کو بھی دور کرتا ہے، کیونکہ یہ تمام کاموں کو وِکست بھارت قومی دیہی بنیادی ڈھانچے کے بندوبست میں  یکجا کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جس سے منصوبہ بندی اور شفافیت کے لیے ایک متحدہ فریم ورک بنتا ہے۔

یہ کسی فرمان کے  ذریعے مرکزی کنٹرول  کی کوشش نہیں ہے۔ بل کی شق 16، 17، 18اور 19 پنچایتوں، پروگرام افسران اور ضلعی حکام کو منصوبہ بندی، عملدرآمد اور نگرانی کا اختیار مناسب سطحوں پر فراہم کرتی ہیں۔ بل جو اصل  سہولت فراہم کرتا ہے، وہ شفافیت، ہم آہنگی اور مربوط کاری ہے – نہ کہ یہ  فیصلہ سازی کے اختیار کی مرکزیت  کی کوئی کوشش ہے۔گرام سبھا مقامی ترجیحات کی بنیاد پر منصوبہ بندی جاری رکھتی ہے۔

کارکنان کا تحفظ اور زرعی پیداوار میں توازن

مصروف ترین سیزن کے دوران زرعی مزدوروں کی کمی سے متعلق خدشات کو واضح طور پر حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔بل کی   شق 6 ریاستی حکومتوں کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مالی سال میں 60 دنوں تک کی مدت کو پیشگی طور پر مطلع کریں جس میں بوائی اور کٹائی کے مصروف  ترین سیزن   کا احاطہ کیا جائے جس کے دوران  اس بل کے تحت کام نہیں کیا جائے گا ۔

اہم بات یہ ہے کہ شق 6 (3) ریاستوں کو زرعی آب و ہوا کے حالات کی بنیاد پر اضلاع ، بلاکس یا گرام پنچایتوں کی سطح پر مختلف نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دیتی ہے ۔  بل کے اندر  موجود  یہ  لچک اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ روزگار کی بہتر ضمانت زرعی کاموں میں خلل ڈالنے کے بجائے تکمیل کرتی ہے-ایک ایسا  متوازن  نقطہ نظر جو چند ہی فلاحی قوانین  حاصل کرتے ہیں۔

قواعد پر مبنی تقسیم کے ذریعے مساوات

تنقید کرنے والے اکثر مالی دباؤ کے خدشات کا حوالہ دیتے ہیں۔ بل کی 4(5) اور 22(4) شقیں ریاستوں کے لیے معیاری رقم مختص کرنے  کا تقاضا کرتی ہیں، جو کہ قواعد میں دی گئی بامقصد پیمائشوںکی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ فریم ورک ریاستوں کو محض عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے طور پر نہیں بلکہ ترقی میں شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے ۔  ریاستی حکومتوں کو بل میں طے شدہ کم از کم قانونی فریم ورک کے مطابق ریاست کے اندر اپنی اسکیموں کو مطلع کرنے اور چلانے کا اختیار حاصل ہے ۔  یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مختص رقم  قواعد پر مبنی اور مساوی ہونے کے باوجود -عملی طور پر تعاون پر مبنی وفاقیت عمل درآمد کی پائیداری کو برقرار رکھتا ہے ۔

ٹیکنالوجی بطور سہولت، نہ کہ استثنیٰ

ٹیکنالوجی کی وجہ سےاخراج کے بارے میں  ظاہر کئے جانے والے خدشات بل میں بنائے گئے حفاظتی اقدامات کو نظر  انداز کرنے کے سبب ہے ۔  شق 23 اور 24 بائیو میٹرک تصدیق ، جیو ٹیگڈ کاموں ، ریئل ٹائم ڈیش بورڈز اور باقاعدگی سے عوامی انکشافات کے ذریعے ٹیکنالوجی سے چلنے والی شفافیت کو لازمی بناتی ہے-جس میں فرضی  حاضری ، جعلی کارکنان  اورکر   اور ناقابل تصدیق ریکارڈ کے بارے میں خدشات کو دور کرنا شامل ہے۔

ٹیکنالوجی کو سخت نگراں  کے طور پر نہیں بلکہ ایک سہولت فراہم کرنے والے آلے کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس میں استثنیٰ کو سنبھالنے کی صلاحیت بنیادی خصوصیت  کے طور پر شامل ہے۔ شق 20 گرام سبھا کے ذریعے سماجی آڈٹس کو مضبوط کرتی ہے، جس سے معاشرے  کی نگرانی کو تقویت ملتی ہے۔ یہاں ٹیکنالوجی جواب دہی  کو نظر انداز نہیں کرتی بلکہ اسے فعال اور مؤثر بناتی ہے۔

اصلاح بطور تجدید

روزگار کی ضمانت کو مضبوط بنانے، مقامی منصوبہ بندی کو شامل کرنے، مزدوروں کی حفاظت اور زرعی پیداوار میں توازن قائم کرنے، اسکیموں کو ہم آہنگ کرنے، انتظامی معاونت کے ذریعے فرنٹ لائن کی صلاحیت بڑھانے اور حکمرانی کو جدید بنانے کے ذریعے، یہ بل اس وعدے کی بھروسے کو بحال کرنےکی کوشش کرتا ہے جو عملی طور پر اکثر  نا مکمل رہ جاتا ہے۔

انتخاب، اصلاح اور ہمدردی کے درمیان نہیں بلکہ ایک جامد حق جو وعدے پر پورا نہیں اترتااور ایک جدید فریم ورک جو وقار، پیش گوئی اور مقصد کے ساتھ فراہم کرتا ہے،کے درمیان ہے۔ اس روشنی میں،وی بی-جی رام جی سماجی تحفظ سے پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ اس کی تجدیدہے۔

***

(مضمون نگار دیہی ترقیات اور زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر ہیں)

Viksit Bharat G RAM G- Rozgar Guarantee for Empowering Rural India

Leave a Reply

Your email address will not be published.