ویکسین میں “اثر پیدا کرنے والی قوت” 60 فیصد سے زیادہ ہے،ویکسین لینے کے بعد انفیکشن جان لیواہ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔من کی بات میں ڈاکٹر نوید نے وزیر اعظم کو بتایا

ویکسینوں کے ضمنی اثرات کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے باوجود 15 سے 16 لاکھ افراد نے ویکسین کے ٹیکے لگائے ہیں

مہلک وائرس کی دوسری لہر سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں،اگر ایس او پیز پر عمل کریں گے تو کام کاج معمول کے مطابق جاری رکھ سکتے ہیں

کے این ایس ۔۔۔۔سرینگر میں سینے کے مرض کے اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر نوید شاہ نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو” من کی بات پرگرام ” میں بتایا کہ ویکسین کے بارے میں تمام غلط فہمیاں بے بنیاد ہیں کیونکہ ویکسین میں اثر پیدا کرنے والی قوت 60 فیصد سے زیادہ ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ویکسین لینے کے بعد انفکشن کا شکار ہوتا ہے تو انفیکشن جان لیوا نہیں ہوسکتاہے۔کے این ایس کے مطابق بھارت میں کوویڈ ۔19 کی دوسری لہر کی وجہ سے تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور اس مہلک وائرس میں مبتلا مریضوں میں غیر معمولی اضافے نے پورے ملک میں ہنگامی صورتحال پیدا کردی ہے ۔اس دوران اتوار کو “من کی بات” کے پرگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی سے سرینگر میں قائم واحد سی۔ڈی ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر نوید نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عالم گیر وبا کورونا وائرس کے آغاز پر سرینگر میں سی ڈی ہسپتال کشمیر کا پہلا نامزد کویڈ اسپتال ہے اور ابتداء میں لوگوں میں خوف اور ڈر کی فضا موجود تھی اور یہ تاثر تھا کہ کویڈ انفیکشن کا مطلب حتمی طور موت ہے۔ڈاکٹر نوید نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہسپتال میں کام کررہے طبی و نیم طبی عملے میں کوویڈ انفیکشن کی وجہ سے موت کا کوئی ڈر اگرچہ نہیں تھا بلکہ اسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف میں مریضوں کے علاج کے دوران انفیکشن ہونے کا خدشہ ضرور تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ اگر ہم مناسب حفاظتی لباس کا استعمال کریں اور حفاظتی رہنما خطوط پر عمل کریں گے تو ہم اپنی حفاظت کو یقینی بنا سکے گے۔
ڈاکٹر نوید نے اپنے مشاہدات اور تجروبات کے بارے میں وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا کہ کورونا وائرس مریضوں کی علاجہ معالجہ کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ بہت سارے مریض بغیر دوائی کے صحتیاب ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی کویڈ کے بارے میں خوف بہت حد تک کم ہو گیا۔ پورے ملک میں کویڈ-19 کی دوسری لہر میں غیر معمولی اضافے پر ڈاکٹر نوید نے وزیر اعظم کو بتایا کہ “ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ہم تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کریں گے، ماسک اور سنیٹئزر کا استعمال کے ساتھ ساتھ سماجی اور جسمانی فاصلے کو برقرار رکھنے کے علاؤہ بڑے بڑے اجتماعات پر جانے سے گریز کریں گے تو ہم خود کو انفیکشن سے بچاتے سکتے ہیں اور روزمرہ کے معمولات کو ہم اچھی طرح جاری رکھ سکتے ہیں ۔کے این ایس کے مطابق
جب وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں میں ویکسین کے حفاظتی طاقت کے بارے میں پائے جارہے خدشات کے بارے میں اور ویکسین میں اثر پیدا کرنے والی قوت کے بارے میں ڈاکٹر نوید پوچھا تو انہوں نے وزیر اعظم کو بتایا جب سے کورونا انفیکشن منظر عام پر آیا ہے تب سے کویڈ-19 کا کوئی موثر علاج دستیاب نہیں ہے اور ہم شروع ہی سے کہتے آرہے تھے کہ اگر کوئی موثر ویکسین سامنے آجائے تو ہوسکتا ہے کہ اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے میں یہ مدد گار ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے وزیر عظم کو مزید بتایا کہ چونکہ ہمارے پاس اب دو ویکسین دستیاب ہیں اور آزمائش کے دوران ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ مزکورہ ویکسینز میں اثر پیدا کرنے والی قوت 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ڈاکٹر نوید نے وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا کہ جموں و کشمیر میں ویکسینوں کے ضمنی اثرات کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پیدا کرنے کے باوجود آج تک 15 سے 16 لاکھ افراد نے ویکسین کے ٹیکے لگائے ہیں۔ڈاکٹر نوید نے وزیر اعظم کو ویکسین کے کسی ممکنہ مضر اثرات کے خدشات کے بارے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ “اس پورے عمل میں آج تک ہمیں کوئی “منفی اثرات” دیکھنے کو نہیں ملے تاہم انہوں نے کہا کہ بخار ، پورے جسم میں درد اور ویکسینیشن کی جگہ پر درد کا ہونا اصل میں صرف معمول کے ضمنی اثرات ہیں جو ہر ٹیکے لگانے سے منسلک ہوتے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا کہ لوگوں کو ایک اور خدشہ ہے کہ ویکسین لگانے کے بعد بھی کچھ لوگوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تاہم ڈاکٹر نوید نے کہا کہ ویکسین تیار کرنی والی کمپنیوں نے اپنی ہدایت نامے میں کہا ہے کہ لوگوں کو ویکسینیشن کے بعد بھی انفیکشن ہوسکتا ہے لیکن اس بیماری کی شدت جان لیوا نہیں ہوگی۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق کہ من کی بات کے پرگرام کے اختتام پر ڈاکٹر نوید نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ہمیں حفاظتی ٹیکوں سے متعلق تمام غلط فہمیاں دور کرنی چاہئے جبکہ ڈاکٹر نوید نے کہا کہ چونکہ یکم مئی سے پورے ملک میں 18 سال سے اوپر ہر ایک فرد کی ویکسینیشن کی مہم شروع ہونے والی ہے تو اس حوالے سے میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے معاشرے اور برادری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی حفاظتی کے لئے ٹیکے لگائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.