غوطہ (شام) میں ظلم و جور کی انتہا….!۔۔۔۔۔جی ایم عباس( زینہ گیر سوپور)

غوطہ (شام) میں ظلم و جور کی انتہا….!۔۔۔۔۔جی ایم عباس( زینہ گیر سوپور)
  • 9
    Shares

غوطہ (شام) کے مسلمانوں کی مظلومیت اور بربریت کی داستانیں آئے روز سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر خاص خبر ہوتی ہیں. کم و بیش ہر طرح کے میڈیا میں شامی مسلمانوں پر ڈھائے جائے ظلم و جور کی رپورٹیں اور مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں. سوشل میڈیا websites پر شامی مسلمانوں کے قتل و غارت کے عبرت انگیز اور انسانیت سوز ویڈیوز دیکھ کر انسانیت کانپ اٹھتی ہے اور یہی پیغامات سوشل میڈیا ویبسائٹز جیسے فیس بک، ٹیویٹر اور واٹس ایپ پر upload ہوتے ہیں کہ شام (syria) کو بچاؤ. شام کے بچوں کی زندگی کو بچاؤ. وہ معصوم ہیں. وہ بےقصور ہیں. وہ ہمارے بچوں کی طرح ہیں. شام کے صدر بشر الاسد اپنے تخت کے نشے میں اتنے گمراہ اور مغرور نظر آرہے ہیں کہ وہ بےکس و مجبور مسلمانوں پر ذرائع ابلاغ کی رپوٹوں کے مطابق کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے بھی ہچکچاتے نہیں ہیں. وہ اپنے ہی معصوم شہریوں پر ظلم و جور کے ایسے پہاڑ ڈھارہے ہیں کہ قلم لکھنے سے قاصر ہے. اس وقت شامی مسلمان اپنے ہی ملک میں کسمپرسی اور مظلومیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. شام کے شہر غوطہ پر شام کے اتحادی دوست روس اپنے ہتھیاروں کی مشق کرکے معصوم بچوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار رہا ہے . یہ ظلم دیکھ کر انسانیت شرمسار ہورہی ہیں. سینکڑوں بچے غوطہ کی حالیہ وحشیانہ بمباری میں شہید ہوئے ہیں. ان کی بےبسی ، بےکسی اور مظلومیت کا حال اس قدر خستہ ہے کہ اسکا اعتراف اقوام متحدہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے مغرب نواز ادارے بھی کرتے ہیں.
شام کے معصوم مسلمان اس وقت تکلیف میں ہیں. انہیں اپنا ہی ظالم حکمران بےدریغ اور تباہ کن بمباری سے تہہ تیغ کررہا ہیں. غوطہ کے معصوم بچے اقوام عالم کے مسلمان بھائیوں سے تعاون اور مدد کی اپیلیں کررہے ہیں. وہ زندگی کی جنگ سے لڑ رہے ہیں. وہ بےبس و بے سروسامان ہیں. وہ پکار پکار کہتے ہیں ہمارا کیا قصور ہے …. ہمیں اس ظلم و بربریت سے بچاؤ ….ہمیں ان ظالم و جابر حکمرانوں سے نجات دلاؤ…. کوئی مسلمان ہمارے دکھ و درد اور عذاب و قہر کو محسوس کرے …لیکن افسوس…! مسلم اقوام سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے سربرہان مملکت شامی مسلمانوں پر ہورہے اس بےانتہا ظلم و جور کے خلاف خاموش ہیں. غیر مسلم ممالک کو چھوڑ کر دنیا کے کم از کم ستاون مسلم ممالک کے سربرہان پر کیا یہ فرض نہیں بنتا کہ اپنا کردار ادا کرکے ان مظلوم شامی مسلمانوں کو بے انتہا ظلم و تشدد سے نجات دلائیں ؟ کیا انسان کا ضمیر اتنا مردہ ہوچکا ہے کہ ہر نئے دن ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا websites میں نشر ہوتی شامی مسلمانوں پر ہورہے ظلم کی رپورٹیں اور عبرت انگیز ویڈیوز دیکھ رہا ہے لیکن اس ظلم و استبداد کے خلاف اُف تک نہیں کرسکتا ہے؟ کیا انسانیت مر چکی ہے کہ شامی مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ہورہے ظلم کو دیکھ کر ظالموں اور جابروں کی مذمت میں بین الاقوامی سطح پر احتجاج نہیں کرسکتی؟ مزید برآں OIC کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے . ایسا لگ رہا ہے جیسے OIC کو شامی مسلمانوں پر ہورہے ظلم و تشدد سے آنکھیں چرا رہی ہے ؟ غوطہ کے معصوم بچوں کی درد بھری آہیں بھی انہیں سنائی نہیں دیتی…! اگر واقعی OIC مسلمانوں کی بین الاقوامی سطح پر نمائندہ تنظیم ہے تو شامی مسلمانوں پر ہورہے بے انتہا ظلم و جور پر خاموش کیوں ہے؟ کہیں یہ OIC تنظیم انگریزی جملے ! Oh I see تک ہی محدود نہیں رہی ہے؟
اسلام چونکہ دین حق اور دین عدل ہے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے اس لیے مسلم اقوام پر لازم بنتا ہے کہ وہ اپنے ان مظلوم بھائیوں کی فکر کرکے اور کم سے کم اخلاقی امداد کرکے اور بین الاقوامی سطح پر احتجاج بلند کرکے عنداللّہ اپنے فرض کو ادا کریں. بخاری شریف میں حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “تو مسلمانوں کو آپس میں رحم کرنے ، محبت کرنے اور ایک دوسرے کی طرف جھکنے میں ایسا دیکھے گا جیسا کہ جسم کا حال ہوتا ہے کہ اگر ایک عضو کو کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو جسم کے بقیہ اعضاء بے خوابی اور بخار کے ساتھ اسکا ساتھ دیتے ہیں”. مسلمانوں میں وہ جزبہ ایثار کیوں نہیں رہا ہے جو صحابہ کرام کی سیرت طیبہ میں ہمیں ورثہ میں ملا ہے. متاع دنیا میں غرق ہوکر مسلمان گمراہی کی طرف گامزن کیوں ہورہے ہیں؟ مسلمانو….ذرا ہوش کے ناخون لے لو…..! ظالموں کا ساتھ دے کر آپ کو کیا ملے گا….؟ قرآن پاک کے ارشادات اور فرمودات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے منھ کیوں موڑا ؟ ذرا غوطہ کے ان معصوم بچوں کی دردبھری پکار سن کر ان پر ترس کھاؤ اور ظالموں کو اس ظلم و بربریت سے اپنا تمام تر اثرورسوق استعمال کرکے روکنے کی کوشش کرو. یہ مسلمانوں کے لیے آزمائیش کی گھڑی ہے….ورنہ اللہ تعالی رحمٰن و رحیم اور حلیم و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ جبار و قہار بھی ہیں. وہ ظالموں کو دنیا میں ہی اپنے کئے کہ عبرتناک سزا دینے پر قادر ہیں. فرعون و نمرود کے قصے اور قوم عاد و ثمود کے کھنڈرات کیا اللہ تعالی کے عذاب کی نشانیاں ہماری آنکھوں کے سامنے آج بھی دنیا میں موجود نہیں ہیں؟ یاد رکھو…! ظلم پھر ظلم ہے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے …. اسلیے وقت کی ضرورت ہے کہ ہر ایک کلمہ خواں بالخصوص ذمہداران دنیا میں مسلمانوں پر ہورہے ظلم و جور کے خلاف ایک ہو جائیں اور اپنے منصب کے مطابق حق ادا کریں. اللہ تعالی مسلمانوں کو ظلم و جور سے نجات عطا کرکے دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے.
رابطہ: 9797082756

Leave a Reply

Your email address will not be published.