نفرت کے بیج کیوں بوئے جارہے ہیں؟۔۔۔ایس احمد پیرزادہ

نفرت کے بیج کیوں بوئے جارہے ہیں؟۔۔۔ایس احمد پیرزادہ
  • 6
    Shares

تاریخ میں ہمارے عروج و زوال کی داستاں اس طرح عیاں و بیان ہے کہ دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص اسلامی دنیا کے اُتار چڑھاو¿،عروج و زوال اور حالات کو ماہ و سال کے حساب سے بآسانی جان سکتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں مسلمانوں کے آفتابِ عروج کے غروب ہو جانے کی جہاں بہت ساری وجوہات درج ہیں وہیں سب سے اہم وجہ یہ بھی بتا گئی ہے کہ مسلمان آپسی تضاداور رسہ کشی کے شکار ہوکر بڑی آسانی کے ساتھ دشمنوں کا نوالہ بن گئے۔ قوم پرستی، وطن پرستی، لسانیت، گروہ اور قبیلہ پرستی کے علاوہ مسلکی منافرت نے اس عظیم مسلم ملت کا شیرازہ بری طرح بکھیر کررکھ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔گزشتہ ادوار میں مسلکی اور مکتبی لڑائی نے اُمت مسلمہ میں اس قدر شدت اختیار کرلی تھی کہ مسلمانوں کا ایک فرقہ یہ پسند کرتا تھاکہ بے شک کوئی غیر مسلم دشمن دین فاتح بن جائے لیکن مخالف فرقہ نہ صرف اقتدار سے ہی محروم ہوجائے بلکہ اُنہیں زک بھی پہنچ جائے۔ چنگیز خان کے لشکر جب ایران کے شہر” قم“ پہنچے تو وہاں مسلمانوں کے دو گروہ موجود تھے، فروعی مسائل میں جن کے آپسی اختلاف آسمان کو پہنچ چکے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ ایک مسلک کے ماننے والوں نے تاتاری لشکر کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ وہ لوگ قم میں دوسرے مسلک کے لوگوں کا خاتمہ کردیں تووہ شہر تاتاریوں کے حوالے کردیں گے۔ تاتاریوں نے یہ شرط قبول کرلی، پہلے مسلک کے ماننے والوں نے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کے خلاف تاتاری لشکر کو ہر طرح کی مدد بہم پہنچائی، اُنہیں شہر کے راستے دکھائے، اپنے” حریف“ مسلک کے لوگوں کی نشاندہی کی،جب تاتاریوں نے شہر کو مکمل طور پر فتح کیا تو پھر اُنہوں نے بلا تفریق بغیر یہ دیکھے کہ کس کا تعلق کس مسلک سے ہے سب کا قتل عام کردیا۔اسی طرح کی مثال اس دور کے عالی شان شہر”رے“ کی ہے، جہاں فقہی مسلک میں اختلافات رکھنے والے دو بڑے گروہ حنفی اور شافعی رہتے تھے۔ جب تاتاری یورش کرتے ہوئے وہاں پہنچے تو اس وقت وہاں حنفی اور شافعی گروہوں کے درمیان ایک مسجد کے نذر آتش کیے جانے پر سخت کشیدگی پائی جاتی تھی۔ شافعیوں نے حنفیوں کی عداوت میں تاتاری لشکر کا خیر مقدم کیا اور ان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ وہ”رے“ شہر حوالے کرنے پر تیار ہیں بشرطیکہ حنفیوں کو تباہ کرنے کا وعدہ کیا جائے۔ تاتاریوں نے یہ شرط بخوشی قبول کرلی اور شہر میں داخل ہوگئے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے حنفیوں کو چن چن کر قتل کیا، اس کے بعد ایک بہانہ بناکر شافعیوں کا بھی صفایا کردیا۔ ایسا ہی کچھ خوارزم شاہی سلطنت سمر قند میں ہوا تھا۔ جب چنگیز خان کی قیادت میں تاتاری لشکر نے اس شاداب شہر کی جانب رُخ کیا تووہاں مسلمان علماءکے درمیان شدید رسہ کشی چل رہی تھی، وہ مسلکی لڑائیوں میں اس قدر اندھے ہوچکے تھے کہ وہاں علماءکے ایک گروہ نے جن کی سربراہی قاضی شہر کررہا تھا ملت اسلامیہ کے مجموعی مفادات کو بھلا کر چنگیز خان سے رابطہ کرکے اُن کے لشکر کے لیے شہر کے دروازے کھول دئیے۔
اُمت مسلمہ کی نااتفاقی اور آپسی رسہ کشی کی اس کمزوری سے آج کی اسلام دشمن طاقتیں نہ صرف واقف ہیں بلکہ ایک اہم ہتھیار کے طور پرمسلکی جنگ کے اس اندرونی خلفشار کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔2009 ءمیں ایک معروف امریکی مصنفGeorge Friedman نے ایک کتابThe Next 100 Years تصنیف کی جس میں انہوں نے آنے والی صدی سے متعلق بیشتر پیشین گوئیاں کی ہیں۔یہ کتاب سال 2009 میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب کا ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔منصف موصوف اپنی اس کتاب میں رقمطراز ہیں کہ ”9/11 نے خاموشی کے اُس دور کا خاتمہ کیا ہے جو Cold War کے بعد پیدا ہوا تھا اور یہاں سے امریکہ اور جہادی جنگ کا آغازہوا ہے، جس میں جہادی کبھی نہیں جیتیں گے یعنی وہ اب دوبارہ خلافت کا نظام قائم نہیں کرپائیں گے۔“اپنی اس بات کی دلیل میں جارج فرایڈمین جو اہم وجہ بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ”مسلمانوں کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ وہ تاقیامت ایک نہیں ہوسکتے ہیں۔“اُن کے بقول اگر دنیا میں امریکی دبدبہ ختم بھی ہو جائے ، اس کے باوجود مسلمان پائیدار سیاسی بنیاد قائم نہیں کرپائیں گے کیونکہ اُن کے درمیان نسلی اور مذہبی دوریاں سمندر کی گہرائیوں سے بھی گہری ہیں۔اسی طرح کی باتیں ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بی جے پی کے فرقہ پرست لیڈر سبھرامنیم سوامی نے گزشتہ کئی برس سے بار بار کہیں ہیں۔ اُن کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی”گھر واپسی“ کا خواب اُن کے درمیان آپسی مسلکی خلیج کو ہوا دے کرپورا کیا جاسکتا ہے۔ سوامی نے کئی مرتبہ ٹی وی مباحثوں میں سینہ ٹھونک کے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیداکرکے اُنہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔یہ درون خانہ کی وہ بدترین صورتحال ہے جو ہر دور کی طرح آج بھی اُمت کے جسد واحد کو سانپ کی طرح ڈس رہی ہے۔کسی عالم دین نے کیا خواب کہا ہے کہ :”آخرت کی طرح دنیا میں کامرانی کی پائیداری اور استحکام کا تعلق ہتھیاروں کی بہتات اور عددی کثرت سے نہیں بلکہ اخلاقی برتری، کردار اور آپسی اتحاد و اتفاق سے ہوتا ہے۔“موجودہ زمانے میں کامیابیوں، کامرانیوں اور ہماری منزل میں ہمارا یہی آپسی اتحاد کا نہ ہونا سد راہ بنا ہوا ہے۔ جوں ہی ہم کامیابی کے زینے طے کرنے لگ جاتے ہیں دشمن بڑی ہی عیاری اور مکاری کے ساتھ اُمت کی صفوں میں گروہی، مسلکی، مکتبی، نسلی اور لسانی اختلافات کی ہوا کھڑا کرکے ہماری جیتی ہوئی بازی پر پانی پھیر دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
مسلمانانِ کشمیر کو ایک کریڈت جاتا تھا کہ یہاں ہر زمانے میں لوگوں نے مسلکی اختلافات کو ابھرنے کا ذرا بھی موقع نہیں دیا ہے، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، ایک دوسرے کی بات سننا اور مسلکی اختلافات کو اپنے حدود سے باہر نہ آنے دینا یہاں کے ذی حس عوام اور علمائے کرام کا شیواہ رہا ہے۔بے جا فتویٰ بازیوں سے یہاں کے دین دار حلقے بالخصوص علمائے کرام نے ہمیشہ احتیاط برتا ہے۔ علمی سطح کے مسائل کو عوامی سطح پر موضوع گفتگو بنانے کا یہاں کبھی چلن ہی نہیں رہا ہے۔ لاحاصل مناظرہ بازی کی ہر دور میں یہاں کے علمائے کرام نے نہ صرف حوصلہ شکنی کی ہے بلکہ اس طرح کی حرکتوں کو مسلمانوں اور دین کے خلاف سازش سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اب مسلکی اور گروہی تعصب کے بیج یہاں بوئے جارہے ہیں۔ فروعی نوعیت کے اختلافات کو بڑھا چڑھا کر اسلام اور کفر کی جنگ سے بھی افضل جنگ قرار دیاجارہا ہے۔ اپنے آپ کو صحیح اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے مختلف مکاتب کے لوگ اس حد تک جاتے ہیں کہ وہ اخلاقی حدود وقیود کو بھی بالائے طاق رکھ لیتے ہیں۔مسلمان ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا گھناو¿نا کام سر انجام دیتا ہے۔بعض ناعاقبت اندیش لوگ کفر، ملحد اور نہ جانے کیا کیا فتویٰ دیگر مسلک کے لوگوں کے خلاف صادر کرتے رہتے ہیں، جو علمائے کرام، مجتہدِ عظام اور امام حضرات دین اسلام کے لیے کارہائے نمایاں انجام دے کر اس دنیا سے صدیوں پہلے رخصت ہوچکے ہیں دس دس بار میٹرک کے امتحان میں فیل ہوجانے والے دین کا لبادہ اوڑھے کچھ لوگ اُن الوالعزم ہستیوں کے خلاف سب وشتم کرکے سادہ لوح عوام کے درمیان نفرت اور خلیج پیدا کررہے ہیں۔ایک بات طے ہے کہ اس طرح کا انتشار پھیلانے میں کوئی تنظیم، کوئی مکتبہ فکر یا دین کا کام کرنے والا کوئی ادارہ ملوث نہیںہے بلکہ ہر گروہ میں موجود کچھ کم ظرف اور نادان لوگ مذہبی فریضہ سمجھ کر اُمت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا یہ گھناو¿نا کام کرتے ہیں۔ اکابرین اور دینی انجمنوں کے ذمہ داران کا کام یہ تھا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اثر میں موجود لوگوں کو اس طرح کا زہر پھیلانے سے سختی کے ساتھ روک دیتے اور اُن کے دلوں میں دوسرے مسلک او رمکتبہ فکر کے لوگوں کے تئیں عزت پیدا کریں لیکن المیہ یہ ہے کہ اس جانب غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
کشمیری عوام کے دینی و سیاسی جذبات سے نبرد آزما ہونے کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے ہزار ہا نسخے آزمائے جاچکے ہیںلیکن مخالف طاقت کاپرامن عوامی طاقت کو توڑنے کا خواب کبھی شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہوسکا۔ چند سال پہلے سرکاری اعداد و شمار کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دلی سرکار ریاست میں کئی مدارس کو مالی امداد فراہم کررہی ہے، حالانکہ جو فہرست اخبارات کی زینت بن گئی ہے اُس میں حقیقی معنوں میں دینی خدمات انجام دینے والا ریاست کا کوئی بھی نامی گرامی مدرسہ شامل نہیں تھا البتہ ایسے نام ضرور شامل تھے جن کا زمینی سطح پر کوئی وجود نہیں تھا۔ آپریشن سدبھاو¿نا کے تحت گزشتہ برسوں میں مساجد کے اماموں کے کئی وفود کو بھارت درشن کرائے گئے جب مقامی سطح پر معلوم کیا جاتا ہے تو ”درشن“ پر جانے والے ان افرادمیں دینی شخصیات کے بجائے مفاد خصوصی رکھنے والے نیم ملا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔چند سال پہلے دلی میں ایک نام نہاد صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیر سے ایسے لوگ دین اسلامی کی نمائندگی کرنے کے لیے گئے جن کا دین اور دینداری سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ یہاں یہ بات تمام مکاتب فکر سے وابستہ لوگوں بالخصوص ہمارے ذی عزت علمائے کرام کو سمجھ لینی چاہیے کہ کشمیر میںیہ تمام سرگرمیاں ”اسلام “ کے نام پر ہی کیوں انجام دی جاتی ہے۔ کئی سدبھاو¿نا کا یہی مشن رنگ تو نہیں دکھا رہا ہے؟ کئی کشمیر مخالف عناصر کی جانب سے دین کے نام پر کھڑا کیے جانے والے یہ نام نہاد لوگ مسلمانوں کی صفوں میںآپسی کدورت کے بیج اغیار کے کہنے پر تو نہیں بوتے ہیں؟بے شک کھلے عام اُمت کے آپسی اختلافات کا فائدہ دین دشمن طاقتوں کو ہوتا ہے، وہ ہماری کمزوریوں کو بھانپ کرصحیح وقت پر صحیح جگہ وار کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور وہ ہماری ہی صفوں میں افراد کو لالچیں دے کر اُنہیں ملت کے اجتماعی مفادات کو زک پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے علمائے کرام اور ذہنی تنظیموں اور اداروں کے پالیسی ساز لوگوں کو باریک بینی سے یہاں کے حالات اور اُمت مسلمہ کی مجموعی حالت کا مطالعہ کرکے اختلافات کو ہوا دینے سے برآمد ہونے والے نتائج کا ادراک کرلینا چاہیے۔ ہمارے سامنے پاکستان، افغانستان، عراق اور شام کی مثالیں موجود ہیں جہاں آپسی رنجشیں اور مسلکی لڑائیوں نے لاکھوںمسلمانوں کو نگل لیاہے۔
جائز حدود میں رہ کرمختلف علمائے کرام کے درمیان دین کے معاملات میں اختلاف کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے رحمت قرار دیا گیاہے۔ اختلاف رائے زندہ قوموں کی علامت ہوتی ہے ، اس طرح کے اختلافات کے نتیجے میں معاملات پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے، علمی دلائل پیش کیے جاتے ہیں توپیچیدہ سے پیچیدہ مسائل تک سلجھ جاتے ہیں،لیکن اختلاف کو اپنے حدود سے باہر نکال کر بغض،حسداور نفرت بنادینااور اختلاف کو عوامی سطح پر دین کی بنیادی تعلیمات سے بے بہرہ عوام میں موضوع بحث بنانا کہاں کی دانشمندی ہے۔خود احتسابی اپنے اعمال اور اپنے رویہ کا جائزہ لینے کا بہترین طریقہ ہوتا ہے ، کیا ہم سب اپنی اپنی جگہ پر خود احتسابی کرکے اس بات کا جائزہ نہیں لے سکتے ہیں کہ لاحاصل مناظرہ بازیوں اور ایک دوسرے کے خلاف میدانِ عمل میں کمر کس لینے سے ہمیں کیا حاصل ہوگا؟اس طرز عمل سے دین کی کون سی خدمت ہوگی؟ مان لیجئے کسی جماعت، گروہ یا مسلک کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے خلاف غلط پروپیگنڈا کا آغاز کیا بھی ہے تو کیا دوسری جماعت یا مسلک کے لوگ صبر سے کام نہیں لے سکتے ۔بدی کا جواب بدی سے دینے کو کیسے جائز ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ آگ پر پیٹرول ڈال دینا کون سی عقل مندی کا کام ہے۔ یہ بھی المیہ ہے کہ جب دو مختلف مسالک کے لوگ لڑ پڑتے ہیں تو تیسرے گروہ کے لوگ تماشہ دیکھ کر محضوظ ہوجاتے ہیں۔ یہ زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جانے کی علامت ہے اور اگر حالت یہی رہی توپھر خدا نخواستہ ہمیں وہ وقت بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے جب ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کا حق کھو دیں گے۔دوسرے لوگ ہماری جگہ پر آکر دین اسلام کو اپنی اصل شکل میں اور اپنی اصل روح کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے دینی مدارس کے بڑے بڑے علمائے کرام، دینی تنظیموں کے سربراہان ایک دوسرے کے قریب آکر بیٹھ جائیں، حالات پر ٹھنڈی دل و دماغ سے غور کریں اور پھر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس میں سماج کے یکجا ہو جانے کی حکمت عملی موجود ہو۔ یہ دینی اکابرین کے لیے امتحان کی گھڑی ہے،پوری قوم یہ اُمید کرتی ہے کہ ہماری دینی شخصیات حالات کی گھمبیرتا کو سمجھتے ہوئے پورے خلوص نیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرکے اتحاد اُمت کو ہر سطح پر یقینی اور ممکن بنائیں گے۔ ان شاءاللہ۔
[email protected]

Leave a Reply

Your email address will not be published.