اور یوں ہی زندگی تمام ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد یونس ڈار

اور یوں ہی زندگی تمام ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد یونس ڈار
  • 10
    Shares

کہتے ہیں زندگی خوابوں اور امیدوں کے بھروسے چلتی ہے۔ وہ خواب جنہیں حقیقت کا جامہ پہنانے کے لیے انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔زندگی کی محبت میں ہر جاندار ریگستان میں پانی کے بلبلوں کی پرچھائی دیکھ کر اپنے سفر کو جاری وساری رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ محض ایک سراب ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی اس میںایک امید بھی پیوستہ ہوتی ہے۔ کوئی طالب علم اپنی راتوں کی نیند کو پڑھائی پر قربان کر دیتا ہے، اس امید سے کہ کل کو وہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھا سکے۔ ایک عمر رسیدہ شخص کچھ دیر اور زندہ رہنے کے خواب دیکھتا ہے۔ گویا دنیا میں طرح طرح کے لوگ طرح طرح کی امیدوں کے ڈور باندھ کر جستجو میں مگن ہوتے ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی شخص رات کو سوتا ہے۔ اس امید سے کہ کل اٹھ کر پھر سے کار گاہِ دنیا میں اپنے سفر پر رواں ہو جائے۔ گویا امید ہی ایسی شے ہے جو انسان کو آگے چلنے میں مدد دیتی ہے۔ مگر زندگی کے اس سفر پر رواں انسان بالآخر پھر اس ڈگر پرآکے پہنچ ہی جاتا ہے جب یہ ساری امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور صرف ایک امید باقی رہتی ہے۔ وہ امید جو انسان اپنے ربّ کے ساتھ منسوب رکھتا ہے۔ گویا زندگی کی شام امیدیں اور خواب ٹوٹنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ زندگی کے آخری پڑاﺅ پر ساری حقیقتیں کھل جاتی ہیں۔ سب چراغ بجھ جاتے ہیں مگر روشنی کی ایک کرن باقی رہتی ہے۔ وہ کرن جو انسان کو اپنے ربّ کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔

گزشتہ دنوں ہمارے یہاں نزدیکی گاوں میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔ یہ خبر سن کر میں بہت مضطرب ہوا۔ میرے سامنے اس شخص کی پوری زندگی تصویر بن کر ابھر آئی۔ بچپن کی وہ ساری یادیں تازہ ہوگئیں جب یہ شخص گھر گھر جا کر ایک تو لوگوں کی حجامت کرتا تھا اور ساتھ ہی سا تھ جلد کی مختلف بیماریوں خاص طور پر چھالوں (blisters) کا تسلی بخش علاج بھی دیسی طریقے سے کرتا تھا۔یہ شخص ایک خاندانی حجام تھا۔ جوانی میں ہی اس کی ازدواجی زندگی اجڑ گئی تھی جب اس کی اہلیہ اسے داغ مفارقت دے کر چلی گئی۔ حالانکہ اس کے ہاں ایک بھائی بھی تھا اور اس کی فیملی بھی۔ مگر یہ شخص مہینے میں کوئی ایک بار ہی گھر جایا کرتا تھا۔ ایک وسیع علاقے میں یہ شخص گاوں گاوں جا کر لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتا تھا۔جہاں کسی شخص کو blisters سے پالا پڑتا تھاوہاں یہ شخص پہنچ کر اس کی مرہم پٹی کرتا تھا۔ ہزاروں ہی ایسے مریض ہونگے جنہیں اس نے ٹھیک کیا ہو گا۔ وہ کچھ مدت کے لیے جنگل جایا کرتا تھا اور وہاں سے جڑی بوٹیاں نکال کر اُن سے مختلف قسم کی ادویات تیار کرتا تھا۔ پچپن سے ہی مجھے اس شخص کے ساتھ خاصا لگاوتھا۔ وہ نہایت ہی نرم مزاج اور صوفیانہ افکار کا مالک تھا ۔ اس دور میں مجھے یاد ہے کہ لوگوں کے گھروں میں اس شخص کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔لوگ اس کو راستے میں دیکھتے تو اسکا بازو پکڑ کر گھر لے جایا کرتے تھے۔مختلف گاوں سے لوگ اس کی تلاش میں آتے تھے اور اسے اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔کسی گھر میں دعوت ہوتی تھی تو اس شخص کو ضرور بلایا جاتا تھا۔نامساعد حالات میں کئی بار اس شخص کو فوج نے پکڑ کر اُس کی شدید مارپیٹ کی کیوں کہ ناخواندہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں اپنا طرز زندگی نہیں سمجھا پاتا تھا۔

زندگی گزرتی گئی اور حالات میں تھوڑا سا سدھار بھی ہوا تھامگر اب بھی اس شخص کا طرز عمل نہ بدلا۔blisters ٹھیک کرنے میں اب اسے خاصی مہارت حاصل ہوچکی تھی۔میں اس شخص کا یہ جذبہ ایثار دیکھ کر دنگ رہتا تھا۔میں ڈاکٹر بننے میڈیکل کالج پہنچا۔ مگر جب بھی گھر آتا تو اس شخص سے ضرور گفتگو ہوتی تھی کیوں کہ وہ ہمیشہ گردش میں رہا کرتا تھا۔وہ قریہ قریہ، گاوں گاوں سڑکیوں اور گلیوں کی خاک چھان کر اپنے مریضوں کی خدمت کرتا رہتا تھا۔

2015 میں جب میں MBBS کے آخری سال میں تھا و ہ کئی بار میرے پاس آیا اور کمزوری اور loss weightکی شکایت کی۔کچھ عرصے بعد ہی انہیںThroat Cancer Diagnose ہوا۔یہ جان کر دل مجھ میں ایک عجیب خلش پیدا ہوئی۔ میں اُسے آرام میں دیکھنا چاہتا تھا۔مگراپنی اس مہلک بیماری کی تشخیص کے باوجود بھی وہ ایک جگہ نہ ٹھہر سکا۔بھلا اپنی عادت کو کیسے مدت قلیل میں ترک کر پاتا۔

 اسی دوران میرے مشاہدے میں ایک عجیب بات سامنے آئی۔وہ یہ کہ بیماری کے پتہ چلنے کے بعد ہی لوگوں کا اس کے تئیں رویہ تبدیل ہوگیا۔لوگ اب صرف اس وقت ان کو ڈھونڈتے جب جلد کی کوئی Problem اُنہیں آگھیر لیتی۔باقی اوقات میں لوگ اسے پوچھتے تک بھی نہیں تھے۔میں اس بات کوسمجھ گیا کہ لوگوں کے رویے کو وہ بڑی شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگا۔ اسی لیے ان ایام میں جب کبھی میں انہیں دیکھتا تو اس کا بازو پکڑ کر اپنے گھر لے جایا کرتا تھا۔جوں جوں اس کا مرض بڑھ گیا لوگوں نے اس کے لیے اپنے دروازے بالکل بندکردئے۔یہ بات میرے دل میں کچھ اسطرح چبھ گئی کہ اب تک اس کی تلخی اپنے اندر محسوس کرتا ہوں۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ کچھ دیندار لوگ بھی اس رویہ کو اختیار کر گئے اور بجائے اس کو تسلی و تشفی دے کر اس کا درد بانٹتے، الٹا اسے نہایت ہی تند مزاجی سے کہتے”آپ کو اب اپنے گھر میں بیٹھنا چاہیے۔کیوں اس بیماری میں گاوں گاوں کے چکر کاٹتے رہتے ہو۔“اس دوران کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وہ کسی گھرمیں داخل ہوا مگر گھر والوں نے اسے باہر نکل جانے پر مجبور کیا۔لوگوں کی یہ بے رخی اسے خون کے آنسو رلاتی تھی مگر وہ شکایت نہ کرنے میںہی یقین رکھتا تھا۔

ہر شخص میں کچھ اچھے اور کچھ برے عادات ہوتے ہیں اور ظاہر ہے اس شخص میں بھی رہے ہونگے۔مگر اس شخص میں تین ایسی خوبیاں تھی جومجھے ان پر رشک کرنے پر مجبور کرتی تھیں۔پہلی یہ کہ وہ نماز کا پابند تھا،دوسری یہ کہ وہ ہر وقت خدمت خلق کرنے میں محو رہنے والا تھااورتیسری یہ کہ وہ ہرگھرکے گھریلو راز جانتا تھامگر اس کی پوری زندگی میں یہ ثابت نہیں ہے کہ اس نے کبھی ادھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی بات اِدھر کی ہو۔ مجھے یہ تین خوبیاں بہت خوبصورت معلوم ہوتی تھیں۔

اس شخص کی پوری زندگی کو سامنے رکھ کر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا سے یا اس دنیا میں رہنے والے کسی فرد سے کوئی امید رکھنا عبث عمل ہے۔ یہ دنیا محض رنگینیوں کی عاشق ہے اور اس چمک دمک میں غوطہ زن لوگوں کو کیا معلوم کہ کسی اُجڑی ہوئی پرانی عمارت میں کوئی غریب سسکیاں بھر رہا ہو۔ اسی سراب میں اس زندگی کی صبح و شام ہوتی ہے اور زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.