اسلامی نظام اخلاق کے احیاء کی ضرورت۔۔۔صفیہ نسیم

اسلامی نظام اخلاق کے احیاء کی ضرورت۔۔۔صفیہ نسیم
  • 10
    Shares

 20ویں صدی کی دوسری دہائی میں امریکا میں شراب کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے شراب پر پابندی کے قانون کا اجراءکیا گیا جس کی رو سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کی حدود میں شراب کی خرید و فروخت، درآمد برآمد اور ساخت و فروخت جرم قرار دے دی گئی تھی۔ یہ قانون جس کی 46 ریاستوں کے ایوان نمائندنHouse Of Representation اور اراکین سینیٹ نے توثیق کی تھی صرف چودہ سال نافذ العمل رہنے کے بعد دسمبر 1933ءمیں کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کی تنسیخ کی وجہ یہ نہ تھی کہ شراب کے مضمرات منفعت میں بدل گئے تھے بلکہ یہ رہی کہ عوامی اکثریت کی رضا و تائید اس میں شامل نہ تھی حالاں کہ قانون کے نفاذ سے قبل پانچ سال تک اینٹی سیلون لیگ (Anti Saloon League) نامی تحریک کے تحت مختلف رسائل و جرائد، تقاریر، سنیما، تصاویر اور دوسرے طریقوں سے مضمرات شراب اہل امریکا کو ذہن نشین کروائے گئے اس کے باوجود شراب پر پابندی کے اس قانون کے نتائج یہ رہے کہ جگہ جگہ خفیہ شراب خانے قائم ہوئے یہاں تک کہ نفاذ قانون کے محض سات سال کے اندر اندر 80ہزار کارخانے دار پکڑے گئے اور 90ہزار بھٹیاں ضبط کی گئیں۔ اس ناقص شراب کی بدولت بیمار ہونے اور مرنے والوں کی تعداد 1918 میں بالترتیب 3ہزار اور 2سو سے بڑھ کر 1926ءمیں گیارہ ہزار اور ساڑھے سات ہزار تک ہوگئی۔ پھر شراب کا استعمال اور زیادہ ہوگیا۔ اندازاً اس زمانے میں امریکی باشندے 20کروڑ گیلن شراب پینے لگے جو نفاذ قانون سے قبل کی مقدار سے بہت زیادہ تھی حتیٰ کہ بعض علاقوں میں 8سال کے اندر مے خواری میں دو سو فی صد تک اضافہ ہوا۔ حالاں کہ قانون پر عمل درآمد کروانے کے لیے تقریباً 5لاکھ افراد قیدکیے گئے، ایک کروڑ سات لاکھ پاو¿نڈ کے جرمانے عائد کیے گئے اور چالیس کروڑ پونڈ مالیت کی املاک ضبط کی گئیں۔ اس کے باوجود چودہ سال میں ناقص و خفیہ شراب کے کاروبار اور بڑھتی ہوئی شرح مے خواری سے تنگ آکر 1933ءمیں امریکا کی نیشنل کرائم کونسل کے ڈائریکٹر جنرل مورس کو کہنا پڑا کہ ”اس وقت امریکا کے تین آدمیوں میں سے ایک آدمی جرائم پیشہ ہے اور ہمارے ہاں جرائم کی شرح میں ساڑھے تین سو فی صد اضافہ ہوا۔“ واضح رہے یہ نتائج اس ملک میں حاصل ہوئے جو بیسویں صدی میں مہذب ترین قوم سمجھی جاتی اور جس کے باشندے اعلیٰ تعلیم یافتہ، روشن دماغ اور اپنے نفع و نقصان کا ادراک رکھنے والے سمجھے جاتے تھے۔
اب ذرا اس ملک کی حالت زار پر توجہ کیجیے جو ساڑھے چودہ سو سال قبل جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ جس کے باشندے جاہل، ان پڑھ، غیر مہذب، علوم و فنون سے ناآشنا تھے۔ جہاں نہ وسائل موجود تھے نہ نظام حکومت شراب کے ایسے عاشق کہ اپنی زبان میں شراب کے ڈھائی سو کے قریب نام رکھے ہوئے تھے۔ ایسے میں حضور اکرمسے پوچھا جاتا ہے کہ شراب کے متعلق کیا حکم ہے؟ کہا گیا ”برائی کا پہلو غالب ہے۔“ (سورہ بقرہ) اسی وقت قوم کے ایک گروہ نے مے نوشی چھوڑ دی۔ دوبارہ حکم ہوا ”جب نشے کی حالت میں ہو تو نماز نہ پڑھو۔“ حکم سنتے ہی لوگوں نے مے خواری کے اوقات مقرر کر لیے۔ آخر کار قطعی حکم نازل ہوگیا (سورہ المائدہ)
اس حکم کا آنا تھا کہ شراب کے رسیاوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے، گلیوں میں شراب بہہ گئی ،تحریم خمر کے بعد مے نوشی ایک جرم بن گئی جس پر چالیس کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی۔ یہاں تک کہ مے خواری کا نام و نشان تک مٹ گیا۔
ایک مثال امریکا کی ہے اور دوسری عالم اسلام کی اور دونوں کا فرق صاف ظاہر ہے۔ ایک دنیاوی قانون تھا جس کا انحصار سراسر انسانی رائے پر تھا جس کے رجحانات، خارجی اسباب و عوامل اور علم و عقل کے تحت متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرا الہامی قانون تھا جس کی اساس خدا اور رسولکے مقرر کردہ غیر تغیر ضابطوں پر تھی یہاں انسانی رائے کا اختیار بس یہی ہے کہ بدلتے حالات کے ساتھ اصول شرح کے مطابق حسب توقع استنباط و اجتہاد کرتے رہیں۔ یہاں انسان کی رضا محض یہ ہے کہ وہ ایمان لائے یا نہ لائے اگر ایمان لائے تو اس کی رضا و عدم رضا کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں جو کام اربوں روپوں کے اصراف، تبلیغ و اشاعت، حکومتی کوششوں کے باوجود نہ ہوا وہ عالم اسلام میں خدا کے قطعی حکم اور رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پکار سے ہوگیا۔
چناں چہ واضح ہوا کہ جہاں مذہب و الہامی ہدایات کو بالائے طاق رکھ کر کسی قانون کو معرض وجود میں لایا جائے یا کسی مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ نہ نکلے گا۔ کیوں کہ دینی و الہامی تعلیمات جو انسان اپنی رضا و رغبت سے اپناتا ہے اس کو عمل پر اکساتی ہیں جس کی تہہ میں ایمان کی بیج اور خوف خدا کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ یوں قانون الٰہیہ پر عملدرآمد ایسے افراد کے معاشرے میں ایک ایسا حسن لے آتا ہے جس سے کفر کے معاشرے بہرہ ور نہیں ہوسکتے۔
مغرب جنسی تعلیم دے کر بھی اپنے معاشرے کو جنسی آوارگی و ہیجان خیزی سے نہیں بچا رہا۔ قوانین کے ہزارہا دفتر تیار کر کے بھی وہ اس حسن عمل اور رعنائی کردار سے محروم ہے جو مسلم معاشروں کا خاصہ رہی ہے کیوں کہ انسان میں اخلاقی حیات پیدا کرنا، اس کے ضمیر کی تشکیل کرنا، اس کی ذہن سازی کرنا اور اس کی نفسانی خواہشات کو غلط کاریوں سے بچانا نہ تو فلسفہ و سائنس کے بس کی بات ہے نہ عقل و فرد پر مبنی کسی تعلیم کی، یہ کام الوہی ہدایات و تعلیمات کے سوا کسی اور چیز کے ذریعے سے انجام نہیں پا سکتا۔
یہ بات بھرپور قوت و طاقت اور جدوجہد کے ساتھ کہ ہمارے معاشرے کو جنسی تعلیم جس کے بارے میں رائج الوقت نظام تعلیم میں اسباق موجود ہیں کے بجائے اسلامی نظام اخلاق کے بنیادی تصورات و تعلیمات کے احیاءکی ضرورت ہے، یہ کام سرکاری تعلیمی اداروں اور حکومتی نصاب تعلیم سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے دینی اداروں، پرائیوٹ تعلیمی اداروں، صباعی و مسائی درسگاہوں کے ساتھ ساتھ والدین اور معاشرے کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.