آصفہ :بھارتی سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت۔۔۔۔عبدالواحد

آصفہ :بھارتی سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت۔۔۔۔عبدالواحد

۱۰ جنوری ۲۰۱۸کو صوبہ جموںکے ضلع کٹھوہ کے رسانہ علاقے کی رہنے والی آصفہ بانو اس وقت لاپتہ ہوگئی جب وہ مقامی جنگلات کی طرف اپنے گھوڑے چرانے گئی تھی۔والد محمد یوسف کے گھر جب اس کے گھوڑے اکیلے آگئے تو وہ اپنی ننھی بیٹی آصفہ بانو کی تلاش میں نکل گیا۔ جب وہ کوئی سراغ لگانے میں ناکام ہوگیا تو اگلے روز یعنی ۱۱ جنوری کو محمد یوسف نے تھانہ پولیس ہیرانگر میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ ۱۷ جنوری یعنی ایک ہفتے بعد آصفہ بانو کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تو گھر والوں نے فوراً پولیس کو مطلع کرکے لاش کو پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے پر پتہ چلا کہ آصفہ کے ساتھ عصمت ریزی کی گئی ہے اور لاش دریافت ہونے کے محض ۲۴ گھنٹے قبل ہی اس کی موت واقع ہوئی ہے اس معاملے میں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق آصفہ کے ساتھ جنسی اور جسمانی زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ والدین کے مطابق اس کے نازک جسم پر تشدد کے نشانات تھے، اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھی ۔تقریباً چھ دن تک اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد جب ان درندوں کا پیٹ بھر گیا تو اس پر جسمانی تشدد کرکے اسے ابدی نیند سلایا گیا۔ درندہ اور شیطان صفت انسانوں نے اس ننھی کلی کو اس طرح مسل دیا کہ انسانیت شرمسار ہوگئی۔

 اس طرح کا یہ پہلا سانحہ نہیں ہے بلکہ یہاں آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ نے ہندوستانی نظام کی دوغلی پالیسی اور جھوٹے دعوو ¿ں کی پول کھول کر رکھ دی۔ اس سانحہ کا ابتدا میں نہ کسی ہندوستانی چینل پر تبصرہ دیکھنے کو ملا، نہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا واویلا دیکھنے میں آیا، نہ موم بتیاں جلانے والے نظر آئے اور نہ کسی سیاسی لیڈر نے چند مذمتی بول بولنے کی تکلیف کی۔ بلکہ ہندو انتہا پسندوں نے اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت اس وقت پیش کیا جب ہندو ایکتا منچ نے ملزم دیپک کھجوریہ کی گرفتاری کے خلاف ہندوستانی جھنڈے لہراتے اور’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ریلی نکالی۔ریلی کو دیکھ کر ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی کہنے پر مجبور ہوئی کہ” ایک قاتل اور زانی کو بچانے کےلئے بھارتی جھنڈے کو ہتھیار کے طور استعمال کرتے ہوئے دیکھ کر میں خوف زدہ ہوگئی۔“ ۲۱۰۲ میں دہلی میں رونما ہونے والے ایسے ہی ایک دلدوز سانحہ کے خلاف جب پورا بھارت سیخ پا ہوسکتا ہے تو آج ان کی وہ انسانیت کہاں مر گئی وہ صرف اس وجہ سے چپ ہوگئے اور ملزموں کے حق میں ریلیاں نکالنے لگے کہ اس ظلم کی شکار ہونے والی بچی مسلمان تھی۔کیا اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہمدردی کے مستحق بھی نہیں ہیں۔ معاملہ یہیں پر نہیں رکا بلکہ ۹ اپریل کو کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم متاثرین کے ہمراہ جب کٹھوہ کی عدالت میں اس کیس کا چارج شیٹ داخل کرنے کےلئے پیش ہوئی تو وہاں کے وکلاءنے چارج شیٹ داخل کرنے کے خلاف احتجاج کیا ۔ احتجاج کی تائید کے لئے جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاءنے ۱۱ اپریل کو جموں بند کی کال دی۔ بار کے صدربوپھندر سنگھ سلاتھیا نے آصفہ بانو کے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ دیپکاسنگھ رجاوٹ جو اس کیس کی وکیل ہے کو ڈرا دھمکا کر کیس کی پیروی سے باز رہنے کی وارنگ تک دے دی۔

وکلاءکا کام لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں معاونت فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن جب وہی وکلاءانصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرکے ایسے سنگین مجرموں کو بچانے کی کوشش کرےں تو ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ان قاتلوں اور زانیوں کو بچانے کی منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہے صرف اسلئے کہ متاثرہ لڑکی ایک مسلمان باپ کی بیٹی ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایسے سنگین معاملے میں مذہب ، ذات پات اور نسلی تعصب کو بالائے طاق رکھ کر اس بے گناہ معصوم بچی کے گھر والوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا جاتا اور انصاف کی فراہمی میں ان کی ہر ممکن مدد کی جاتی، لیکن کیا وجہ ہے کہ ان کی مدد کرنے کے بجائے قاتلوں کو بچانے کی منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہےں۔معصوم آصفہ کااجتماعی عصمت دری اور قتل بھی اسی گندے منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت صوبہ جموں کے مسلمانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنے کےلئے جس مذہبی اور نسلی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں اور اس کے لئے جو ماحول تیار کیا جارہا ہے وہ اس ملک کے لئے ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کےلئے یہاں سات لاکھ فوجوں کا جماوقائم کیا گیا اور آئے دن نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی جاتی ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کا بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے ۔ جس ملک میں تقریباً چالیس کروڑ لوگ فٹ پاتھ پر سونے اور ایک ہی وقت کا کھانا کھانے پر مجبور ہوں۔ جس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بیت الخلا کی سہولیت سے ہی محروم ہو، وہاں کی آبادی اپنا سرمایہ دنگا فساد اور قتل و غارت گری کو ہوا دینے میں کبھی ضائع نہ کرتی، لیکن بھارت کی برسراقتدار جماعت کے لیڈروں کی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں رہنے والے سوا سو کروڑ لوگوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اُن کے سیاسی لیڈران ہوش کے ناخن لے کر کشمیر کے مسئلہ کو اولین فرصت میں حل کرنے کی سعی کریں اور اپنی اقلیتوں کا تحفظ یقینی بناکر انہیں بنیادی انسانی حقوق بہم پہنچانے کی فکر کریں۔

٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.