منشیات شباب نو کی تباہی ۔۔۔۔۔طالب شاہین

منشیات شباب نو کی تباہی ۔۔۔۔۔طالب شاہین
  • 73
    Shares

اُمت جن بڑے پیچیدہ مسائل سے دو چار ہے، ان میںایک اہم مسئلہ ہماری نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار آیات کے ساتھ ساتھ احادیث نبوی ﷺ ہی، پرامن اور انسان دوست معاشرہ وجود میں لانے کے لئے کافی ہیں اور جن تعلیمات کی بنیاد پر نبی پاک نے اسلامی معاشرہ تشکیل دیا ہے۔ فحاشی,بدکاری, منشیات اور جنسی بے راہ روی, مِلت اسلامیان کشمیر کو لپیٹ چکی ہے, دور دور تک تاریکی نظر آرہی ہے۔شرم و حیا اور خاندانی نظام کا جنازہ خاموشی سے نکل رہا ہے۔خاموش انداز میں نسل نو کی تہذیب، تمدن، اسلامی فکر سے دور کیا جا رہا ہے۔ عریانیت اور فحاشیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ منشیات، کالا دھندا، اغواکاری، بے گناہوں کا قتل عام، اور عصمت ریزی اس معاشرے کے معمول بن چکے ہے۔انسانیت خون کے آنسوو ¿ں رو رہی ہے اور یہ سب امت کے لیے زہر ہلاہل ثابت ہورہا ہے۔ایک سوچی سمجھی چال کے مطابق امت کا راستہ بدلایا جارہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے صرف ان چیزوں کو حلال فرمایا ہے جو انسانی جسم اور روح دونوں کے لئے مفید ہیں اور جو چیزیں انسانی جسم اور روح دونوں کے لئے مضر ہے، جنکے استعمال سے انسان میں فساد وبگاڑ پیدا ہوجائے، ایسے چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں اور ان سے اجتناب کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نشہ آور چیزیں بھی اللہ تعالیٰ نے حرام کئے ہیں کیونکہ اِن میں بھی انسانیت کے لئے تباہی ہے۔ آج کل نوجوان اور طلبہ برادری نشہ آور چیزوں کی طرف زیادہ مائل ہورہی ہے۔ طلباءکی ایک اچھی خاصی تعداد سگریٹ اور دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے روز بہ روز ملت کا سرمایہ ک ±ند ہورہا ہے اور مریضوں میں اِضافہ ہورہا ہے،ہسپتال آباد ہورہے ہیں،نوجوانوں میں حلق کی خرابی، امراضِ قلب،کھانسی، کینسر،بواسیر،اور گردے کی خرابی جیسی مہلک بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

چرس پینے والے اکثر اپنا ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہے۔وہ احساس کمتری کے زیادہ شکار ہوجاتے ہے۔گھروالے، استاد، والدین، دوست اور سماج کا ہر فرد اسے نفرت اور حقیر نظروں سے دیکھنے لگتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر عجیب و غریب فطرت کے ہوتے ہے۔ان میں شعور کی کمی ہوجاتی ہے۔حلال و حرام کی تمیز کرنا انکے لئے مشکل بن جاتا ہے۔وہ ڈپریشن اور پاگل پن کے شکار ہوجاتے ہے۔ان میں سے اکثر زندگی سے مایوس ہوکر ابدی نیند سوجاتے ہے،وہ بلا وجہ گھبراہٹ اور مختلف شکوک و شہبات میں مبتلا ہوتے ہے۔انہیں آرام اور نیند جیسی نعمتیں بہت کم نصیب ہوتی ہے۔ایسے انسان معاشرے کے لئے تباہی کا سامان بن جاتے ہے۔غرض انسان وہاں کھڑا ہوجاتا ہے جہاں سے واپس آنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔انسان کسی کام کا نہیں رہتا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی آخرت بھی برباد کرلیتا ہے۔

اسی طرح شراب بھی ایک وبال کی شکل اختیار کرچکا ہے جسکا استعمال بھی بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔کثرت سے شراب پینے والے مختلف امراض میں مبتلا ہوسکتے ہے جن کی جان تک چلی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کے نزدیک شراب سے انسان کی رگیں سخت ہوجاتی ہے۔انسان میں قوت حافظہ کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔شراب عقل کو فاسد کرتی ہے،روح کو ماردیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذکر خاص کر نماز سے روکتی ہے۔ایسے انسان مکمل طور پر ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہے،ذمہ داریوں سے بھاگتے ہے اور تنہائی اختیار کرتے ہے۔شراب انسان میں جنون کا سبب بنتی ہے جس کے نتیجہ میں انسان کبھی کبھار انسانیت چھوڑ کر جانوروں کی مشابہت اختیار کرتا ہے،ایسے انسانوں کی فکر و قوت متاثر ہوجاتی۔

یہ تو معمولی نوعیت کے نقصانات ہے،مزید تحقیق کے نتیجہ میں انسان بہت کچھ سمجھ پائے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں میں زیادہ سے زیادہ منشیات کے خلاف آواز بلند کی جائے۔تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف دروس کا اہتمام کیا جائے۔علماء،مفتی کرام،ائمہ و خطباءحضرات اور والدین اپنی ذمہ داریاں نبھاکر اسلامی نظام زندگی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں ۔اُمت مسلمہ کے پاس افرادی قوت تمام اقوام کے مقابلے میں زیادہ ہے۔مگر اسکے باوجود ہم پریشان حال ہیں۔طاغوت فتنوں کو فروغ دے رہا ہے اور منشیات بھی انہی فتنوں میں سے ایک مہلک فتنہ ہے۔نوجوانوں کو تعلیم دینی ہے کہ اسلام کا نظام زندگی کتنا روشن ہے،اسلامی خواہشات کے خلاف نہیں ہے مگر اسلام آپکے خواہشات, جذبات اور احساسات کو ایک صحیح راہ پر لگاتا ہے۔منشیات میں مبتلا نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ ہمت مردی سے کام لیں۔پریشان ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے خود کوشش کریں۔ایسے نوجوان اپنی صلاحیتوں پر غوروفکر کرےں۔زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کریں۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہیں,تنہائی ہرگز اختیار نہ کریں، شیطان تنہائی میں زیادہ زور آور ہوتا ہے۔اچھے دوستوں کے ساتھ رہیں اور ٹھوس ارادوں سے منشیات چھوڑنے کا فیصلہ کریں۔اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں اور مسجد سے اپنا تعلق جوڑیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ نوجوان نسل کو برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جہنم کی آگ سے نجات دلائے۔آمین۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.