یہ “جنگ بندی” نہیں ” حملہ بندی ” ہے ۔۔۔۔ ایس احمد پیرزادہ

یہ “جنگ بندی” نہیں ” حملہ بندی ” ہے ۔۔۔۔ ایس احمد پیرزادہ
  • 141
    Shares

تقدس مآب رمضان کے دوسرے جمعہ المبارک کو شہر خاص سری نگر کی مرکزی وتاریخی جامع مسجد نوہٹہ میں پولیس اور فورسز اہلکاروں نے مسجد کے اندر نہ صرف آنسوآورگیس شیلنگ کی تھی بلکہ عینی شاہدین کے مطابق پیلٹ اور گولیوں کا بھی بے تحاشا استعمال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کئی نمازی زخمی ہوگئے اور مسجد کے اندر افراتفری مچ گئی، مسجد کے اندر جہاں رب کے حضور ماتھے ٹیک دئے جاتے ہیں، وہاں سربسجود بندوںکا خون بکھیر دیا گیا۔حد تو یہ ہے کہ مسجد کے جس حصے میں خواتین نماز ادا کرتی ہیں، وہاں پر بھی شلنگ کی گئی۔پھر کئی دن تک مسجد کو نمازاور نمازیوں کے لیے بند کرنا پڑا تاکہ اندر انسانی خون کے داغ دھبوں کو صاف کیاجاسکے۔جو نوجوان رضاکارانہ طور پر مسجد کی صفائی میں پیش پیش تھے اْن میں ایک۲۲؍سال کی عمر کا قیصر احمد بھی تھا جنہیں ٹھیک ایک ہفتے بعد اگلے ہی جمعہ یعنی یکم جون کو سی آر پی ایف کی ایک تیز رفتارجپسی نے ایک اور نوجوان کے ساتھ کچل ڈالا۔اْنہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں چند ہی گھنٹوں بعد وہ حیا تِ جاودانی کا جام پی گئے۔یہ دلدوزسانحہ اْس وقت پیش آیا جب نماز جمعہ کے بعد نوجوان نوہٹہ میں جمع ہوکر احتجاج کرنے لگے تھے۔ شہر خاص کے محلہ فتح کدل کے رہنے والے قیصر احمد کا المیہ یہ تھا کہ اْن کے والدین پہلے ہی اس جہانِ فانی سے رحلت کرچکے تھے ، وہ اپنی دو چھوٹی بہنوں کے ساتھ نانیہال ڈلگیٹ میں رہتے تھے۔ ان دو چھوٹی بہنوں کے اکلوتا بھائی اور واحد سہارے کو بڑی بے دردی کے ساتھ چھین لیا گیا۔ یوں ا ن کوتاہ نصیبوں کو دیگر ہزاروں کشمیری بچوں اور بیٹیوں کی طرح بے یارو مدد گار حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اس دلدوز سانحہ کی جو تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں اْنہیں دیکھنے سے ہی چنگیزیت اور بربریت کا جدید روپ ظاہر ہوجاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر انجام دینے والی ان حیوانی حرکات کے لیے پھر طرح طرح جواز پیدا کیے جاتے ہیں۔ انہیں سنگ بازی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے یا پھر سڑک حادثہ کہہ کر ان المناک اور غم انگیز وارداتوں کو تاریخ کی بھولی بسری یادیں بنادیا جاتا ہے۔
سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو نہ صرف شہر خاص سرینگر میں بلکہ پوری ریاست میں مرکزی مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں جمعہ ، عیدین اور دوسرے مقدس آیام میں دور دراز علاقوں ، دیہات اور اضلاع سے لوگ نماز ادا کرنے آجاتے ہیں۔ یہ کشمیری قوم کی روحانی توانائی اور سیاسی بیداری کے لیے بھی بڑی ہی اہمیت کا حامل مرکز رہا ہے۔ یہ تاریخی مسجد اور اس کو حاصل مرکزیت کے ساتھ ساتھ عام کشمیریو ں کی اس کے ساتھ دلی وابستگی ہر دور میں ظالم حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اس مرکزیت کو کمزور کرنے کے لیے طرح طرح کے فریب، حربے اور ہتھکنڈے استعمال میں لائے گئے لیکن ان تمام حربوں ، ہتھکنڈوں اور سازشوں کے باوجود کشمیری عوام کا تاریخی جامع مسجد سے والہانہ لگاؤ اور وابستگی قائم و دائم رہی ہے۔ ۲۰۰۸ء؁سے ہی وقت کے حکمرانوں نے اس مرکزی مسجد کو نشانہ بنانے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کیے ہیں، جن میں جمعہ کے موقعے پر مسجد کے اردگرد سخت فورسزحصار اور تعیناتی کے علاوہ نماز کے بعد نوجوانوں کو اشتعال دے کر اْنہیں سنگ بازی کے لیے مجبور کرنا، اور پھر اس کی آڑ میں نمازجمعہ کے مواقع پر مسجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کرنا قابل ذکر ہے۔ ۲۰۰۸ء؁سے درجنوں مرتبہ اس تاریخی اہمیت کی حامل مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔دنیا کی واحد مقدس مسجد، مسجد اقصیٰ بدترین قبضے میں ہے، یہودی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں، ان کی اسلام دشمنی اْنہیںہر آن فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ برسر جنگ رہتی ہے لیکن عالم اسلام کے اس بدترین دشمن نے بھی کبھی مسجداقصیٰ میں جمعہ کی نماز ادا کرنے پر پابندی عائد نہیں کی ، حالانکہ جن کے زیر تسلط مسجد اقصیٰ ہے، وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ یہودی اور مسلم دشمن لوگ ہیں۔ اس کے بجائے تاریخی جامع مسجد سرینگر کو تالا بند کرنے والے لوگوں کی پہلی صف میں وہ ریاستی حکمران شامل ہیں جو خود کو مسلمان کہلاتے ہیں اور اس کی ناکہ بندی کرنے والے وردی پوش بھی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اْمتی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اگر جمعہ کے موقع پر جامع مسجد کا محاصرہ نہ کیا جاتا تو نوجوان نماز کے بعد جائز طریقے سے کچھ وقت کے لیے احتجاج کرکے منتشر ہوجاتے اور یوں زندگی کے معمولات اپنی فطری رفتار سے رواں دواں ہوجاتے۔ احتجاج کے دوران جان بوجھ کروردی پوشوں کا جامع مسجد کے چپے چپے پر موجود رہنا اور پھر احتجاجی مظاہرہ شروع ہونے سے قبل ہی شلنگ اور طاقت کا بے تحاشا استعمال بہرحال احتجاجی نوجوانوں میں اشتعال پیدا کرکے اْنہیں سنگ بازی پر مجبور کرتا ہے ، گویا وردی پوشوں کی جانب سے بلاضرورت طاقت کا استعمال حالات کو بگاڑ دیتا ہے اور بے گناہ و معصوم انسانی جانوں کا زیاں ہوجاتا ہے۔
تصویر کا یہ رْخ بھی قابل غور ہے۔ماہ رمضان سے قبل بڑے ہی طمطراق طریقے سے پہلے ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی آل پارٹیز میٹنگ طلب کرتی ہیں، پھر یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ایک وفد وزیر اعظم ہندنریندر مودی کی خدمت میں جائے گا اور اْنہیں رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر خیر سگالی کے طور پر سیئز فائر کرنے کی استدعا کرے گا۔ بی جے پی کی ریاستی شاخ اس پروپوزل کی جان بوجھ کرمخالفت کرتی ہے تاکہ بعد میں یہ اْن کی سیاسی حلیف مجبوبہ مفتی کا سیاسی کارنامہ ثابت ہوجائے اور لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ وزیراعلیٰ نے لڑکر کشمیری عوام کے لیے حکومت ہند کو سیز فائر کے لیے قائل کیا ہے۔اسی سیاسی داؤ پیچ کے دوران سیاسی ایوانوں میں رمضان سیزفائز کو ایشو بنایا جاتا ہے کہ پھر ایک دن اچانک بھارتی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ رمضان اور امر ناتھ یاترا کے پیش نظر یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کرجاتے ہیں۔ ریاستی سرکاری میں شامل لوگ اس طرح خوشیوں کااظہار کرتے ہیں کہ جیسے اْنہوں نے کشمیریوں کے لیے کوئی معرکہ سر کرلیا ہو۔حالانکہ کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اِسے ’’سیئز فائر‘‘ کے بجائے’’ حملہ بندی‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ بھارتی فورسز اہل کار اور حکمران ہمیشہ ہمیشہ اس قوم کے ساتھ حالت جنگ میں تھے اور آج بھی ہیں اور جو وہ عسکریت پسندوں کے خلاف بستیوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں فی الحال اْس پر نام نہاد روک لگا دی گئی، اس لیے یہ’’ جنگ بندی‘‘ نہیں بلکہ’’ حملہ بندی‘‘ کہلائی جائے گی۔کشمیر اعظمیٰ کے اِسی کالم میں سیز فائر کے حوالے سے پہلے ہی یہ لکھا جاچکا ہے کہ سیز فائرکشمیریوں پر کوئی احسان کرنے کے بجائے ریاستی حکومت کی اپنی مجبوری ہے کیونکہ اْن پر لازم ہے کہ وہ دلی کی خوشنودی کے لیے اس ماہ شروع ہونے والی یاترا کو پرامن طریقے سے انجام تک پہنچائیں۔ یہ یاترا اب گزشتہ کئی برس سے ’’مذہبی رسم ‘‘کے بجائے ’’سیاسی مہم‘‘ میں تبدیل ہوچکی ہے،جب کہ کشمیری عوام یاتر ا یا یاتریوں کے تئیں ہمیشہ فراخ دلی اور مہمان نوازی کے جذبے سے کام لیتے رہے ہیں۔یا ترا کی سیاسی مہم کو انجام تک پہنچانے کے لیے یہاں حکومتی سطح پر جنگی پیمانے پرکام کیا جاتا ہے۔ریاستی بجٹ کی ایک کثیر رقم یاترا کے انتظامات اور حفاظت پر خرچ کی جاتی ہے۔ نام نہادجنگ بندی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما نظر آتی ہے کہ جنوبی کشمیر کے پْر امن رہنے سے ہی یاتریوں کا آنا جانا ممکن ہوسکے گا، اس لیے بستیوں پر فوجی آپریشنوں کے ذریعے کی جانے والی یلغار کو فی الحال محدود پیمانہ پرروک دیا گیا تاکہ ظلم و جبر کے خلاف ہر آن کھڑا ہوجانے والی جنوبی کشمیر کے عوام کو کچھ وقت تک کے لیے خاموش رکھا جائے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ فورسز کی حملہ بندی سے وقتی طور کشمیری عوام کو کسی حد تک آرام نصیب ہوا ہے، قتل و غارت گری کے بڑے بڑے واقعات رونما نہیں ہوئے ہیں، انکاؤنٹر اور پھر اس کی آڑ میں بے گناہ اور معصوم نوجوانوں پر گولیاں برسانے کا سلسلہ فی الوقت عارضی طور پر رْک سا گیا ہے لیکن ظلم و زیادتیوں اور دیگر جنگی حربوںکوزمینی سطح پر بدستور استعمال میں لایا جارہا ہے۔یہ کہاں کی جنگ بندی ہوئی کہ جس میںرات کے دوران چھاپے اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ہنوز جاری رکھا گیا ہے،دور دراز کے علاقوں میں فوجی ناکوں پر عوام کی جامہ تلاشی اور ہراسانیاں بھی جاری ہیں؟حقیقی معنوں میں جنگ بندی ہوتی تو پھر شوپیان کے دیہات میں فوج کی افطار پارٹی سے انکار کرنے پر عوام پر گولیاں نہیں برسائی جاتیں اور چار معصوم بچیوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ مضروب نہ کیا جاتا، جنگی بندی ہوتی تو عسکریت پسندوں کے قبروں کی بے حرمتی نہ کی جاتی، اْن کے گھروں کی توڑ پھوڑ نہ کی جاتی، جیسا کہ شوپیان کے ایک عسکریت پسند کے گھر اور اْس کے پڑوس میں موجود دیگر درجنوں گھروں میں کیا گیا ہے۔ گھر کے ساز و سامان کو تہس نہس کرنا، قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کرنا، پیسے اور لیپ ٹاپ چوری کرنا اور کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کر نے یا ناقابل استعمال بنانے کی حرکتیں استعماریت اور رذالت کی بدترین شکلیں ہیں۔یہ کہاں کی جنگ بندی ہے کہ کھڑی فصلوں کو تباہ کیا جائے، میوہ باغات میں موجود درختوں کو کاٹ دیا جائے اور مظالم کی ایسی داستانیں رقم کی جائے کہ جس کی مثال موجودہ دور کے بدترین جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہیں۔فوجی او رنیم فوجی دستوں کے سامنے ریاستی حکومت کی بے بسی کس حد تک ہے اس کا اندازہ ڈی سی شوپیان کے حالیہ بیان سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے گھروں کی توڑ پھوڑ اور میوہ باغات میں درختوں کو کاٹنے کے واقعات کی روشنی میں دیا ہے اور جس میں انہوں نے کہا کہ:’’ فوج خصوصی اختیارات کی وجہ سے حدود پھلانگ رہی ہے، ہم نے اْنہیں بار بار کہا ہے کہ وہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں اپنے کیمپوں سے باہر نہ آئیں، بستیوں میں افطار پارٹیاں منعقد کرنے کے لیے نہ جائیں لیکن وہ سول انتظامیہ کے حکم ناموں کو کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے ہیں۔ ہم اْن کی حرکتوں کے سامنے بے بس ہیں۔‘‘
کشمیر میں بھارتی جنگ بندی ’ہاتھی کے دانت کھانے اور دکھانے کے اور‘ والی بات ہے۔ دنیا کو دکھایا جارہا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ افہام تفہیم چاہتے ہیں اور اسی لیے رمضان جیسے مقدس مہینے کے احترام میں سیز فائر کیا ہے، پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے اس نام نہاد جنگ بندی کی خوف تشہیر کی گئی اور دلی کے مقامی تنخواہ خور دن رات اس مصنوعی اقدام کے گن گاتے رہتے ہیںلیکن زمینی سطح پر عوام کے خلاف وہ تمام کارروائیوں ہورہی ہیں جنہوں نے عام کشمیری کا جینا حرام کررکھا ہے۔ریاست عملاً ایک پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے، انسانی حقوق کے تحفظ کا یہاں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ظلم و جبر کی انتہا اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ اب اگر بندوقوں کے دہانے دنیا کو دکھانے کے لیے عارضی طور بند ہیں لیکن گاڑیوں کے نیچے معصوم کشمیری بچوں کو کچل کر قتل کرنے کا سلسلہ جاری وساری ہے۔جس طریقے سے پہلے صفاکدل میں اور پھر اب نوہٹہ میں معصوم نوجوانوں کو پولیس گاڑیوں کے نیچے کچل کر ابدی نیند سلا دیا گیا وہ حیوانیت اور بہودگی کی بدترین مثال ہے۔
بحیثیت کشمیری ہمیں اور مزاحمتی قیادت کے لیے لازمی بن چکا ہے کہ ناانصافیوں اور زیادتیوں پر خاموش نہ رہیں بلکہ ظلم و جبر کے آوارہ ہاتھی کی پیش قدمی روکنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بندی کریں۔ ہمارا ظلم سہہ لینا اور ظلم کے نتیجے میں ہورہی انسانی جانوں کے زیاں پر صبر کرلینا ، ظالم کے لئے طاقت ور ہونے کی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کشمیری قوم کے صبر کو اْن کی کمزوری سے تعبیر کرکے ڈھیٹ ہوجاتے ہیں اور یوں کشمیری نوجوان نسل کے قتل عام کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اس قوم کو مظالم کا جواب جمہوری طریقے پر دے کر دنیا پر واضح کرنا ہے کہ زیادہ دیر تک ظلم سہنے والی قوم کے پیمانہ صبر بھی لبریز ہوسکتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ مہذب دنیا حالات بد سے بدتر ہوجانے سے قبل ہی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے آجائیں۔ کشمیری عوام کی اجتماعی تعذیب کے بد ترین مظاہروں کے باوجود قانونِ قدرت کے عین مطابق وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ قوم ان تمام مصائب سے نجات حاصل کرلے گی کیونکہ اللہ کے یہاں دیر اندھیر نہیں ، مگر اس کے لئے بنیادی لازمہ اور ناقابل التواء شرط یہی ہے کہ ہم اللہ سے رجوع کریں اور حق کے لیے چٹان بن کر کھڑا ہوجائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.