ادب اور عوامی ذرائع ترسیل۔۔۔۔محمد محسن رضا

ادب اور عوامی ذرائع ترسیل۔۔۔۔محمد محسن رضا
  • 9
    Shares

ادب میں ادیب اور قاری کی اہمیت اور مقام و مرتبہ کا مسئلہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ مگر آج کے اطلاعاتی، صنعتی اورجدید ٹکنالوجی کے دور میں خود ادب کی شناخت اور اس کا وجود ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے جس کو شمیم حنفی نے اپنے ایک مضمون ’’اردو ادب کی موجودہ صورت حال‘‘ میں اشوک باجپئی کے اداریے کے حوالے سے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
’’خبر ادھر عرصے سے یہ پھیلتی رہی ہے کہ اکیسویں صدی میں ادب اور زبانوں کا خاتمہ قریب ہے۔ جو نیا اطلاعاتی سماج بنے گا، جسے علم پر مبنی سماج بھی کہاجاسکتا ہے، اپنے لیے ایک عالمی زبان گڑھے گا اور اس میں تخلیقیت کا اظہار ادب سے مناسبت رکھنے والے روایتی وسیلے کے بجائے کسی زیادہ مستقبل شناس کا انتخاب کرے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کتاب نامی انقلابی ایجاد کی موت کا وقت آگیا ہے۔ـ‘‘
سائنس و ٹیکنالوجی نے زندگی اور سماج کے ہر شعبے کو بے حد متاثر کیا ہے اور ان پر اس کے مثبت و منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ صنعتی ترقی و جدید سائنسی ایجادات و انکشافات نے انسان کو ایک طرح سے ماضی و مستقبل کے دوراہے پرلا کھڑاکیا ہے جہاں ایک طرف اپنے ماضی اور اپنی تہذیب و ثقافت سے بچھڑنے کا درد و غم ستا رہا ہے تو دوسری طرف مادی ترقی، خوش حال زندگی اور روشن مستقبل کی خواہش بھی سر اٹھا رہی ہے۔ اور انسان اسی دوراہے پر کھڑا ماضی و مستقبل کے پیچ و خم میں الجھ کر کشمکش بھری زندگی گذارنے پرمجبور ہے۔ وہ ان دونوں میں توازن قائم کرنے میں ناکام ہے۔ انسانوں کے اندر یہ کیفیت پیدا کرنے میں جدید سائنسی ایجادات و انکشافات اور غیر متوازن صنعتی و معاشی ترقی کا رول سب سے اہم اور زیادہ ہے۔ جس میں عوامی ذرائع ترسیل خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا شامل ہیں۔
ادب لفظوں کے ذریعہ حسن ترتیب و تنظیم کے ساتھ جذبات و احساسات اورافکار و خیالات کے اظہار کا نام ہے۔ ادب سماج کا پروردہ بھی ہوتا ہے اور سماج کا رہنما اور پیش رو بھی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو نہ ’’انگارے‘‘ کو ضبط کیا جاتا اور نہ ’’سوز وطن‘‘ کو۔ اور نہ ہی ہٹلر کے ذریعہ جرمنی کے ادب کا معیار متعین کیا جاتا یہاںتک کہ افلاطون بھی شاعری کو ملک بدر نہیں کر پاتا۔ بہرکیف، ادب فکر و فن کے مجموعے کا نام ہے جس میں ایک کو جسم اور دوسرے کو اس کی روح قرار دیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک واقعہ اگرکوئی رپورٹر بیان کر رہا ہے تو وہ واقعہ خبر ہے، اور وہی واقعہ اگر کسی فنکار کا موضوع بن جائے تو ادبی شاہکار ہے۔ ادب میں فکر و فن دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔ ادب کا مقصدکیا ہے اور کیا ہونا چاہیے قطع نظر اس سے ادب اپنے مقصد سے اسی وقت ہم آہنگ ہو سکتا ہے جب اس کی ترسیل ممکن ہو۔
تحریر کے وجودمیں آنے سے قبل انسان اشاروں کے ذریعہ یا مکمل زبانی بول کر ابلاغ و ترسیل کا کام انجام دیتا رہا اور اپنے جذبات و احساسات اور خیالات و تجربات کو ایک دوسرے سے شیئر کر تا رہا۔ پھر حروف، الفاظ اور رسم الخط کے وجود میں آنے کے بعد تحریری ترسیل کا دور شروع ہوا۔ یہ تحریری ترسیل اشاراتی اور زبانی ابلاغ و ترسیل پر بہت جلد حاوی ہوگئی اور ایک عرصۂ دراز تک ذرائع ابلاغ پر اپنی بالادستی قائم رکھی۔ اس تحریری ترسیل کی بالادستی کو سب سے پہلے طباعتی ترسیل نے متاثر کیا جس کا دور تقریباً 1500ء سے 1900ء تک ہے جس میں چھاپہ خانے کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ پھر میڈیا اور صحافت کا دور شروع ہوا جس میں پرنٹ میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے تحریری ترسیل کی بالادستی تقریباً ختم کردی اور عوامی ذرائع ترسیل و ابلاغ میں سر فہرست آگئی۔
عوامی ذرائع ترسیل سے مراد ابلاغ و ترسیل کے وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعہ عوام و خواص بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کے خیالات و نظریات، جذبات و احساسات اور واقعات و حادثات سے آگہی حاصل کرتے ہیں، اسے ماس میڈیا اور پاپولر کلچر بھی کہاجاتا ہے۔ اس میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں شامل ہیں۔
عوامی ترسیل و ابلاغ ایک دوطرفہ عمل ہے اس کے مثبت پہلو ہیں تو منفی اثرات بھی ہیں۔ یہ ایک دو دھاری ہتھیار کے مانند ہے جس کا استعمال ایک طرف سماجی، معاشی ترقی کو تیز کرنے اور آزادی و جمہوریت کے آفاق کو وسعت دینے کے ساتھ بین الاقوامی ربط و ضبط اور اپنے وقار کو قائم کرنے کے لیے کیا جاسکتا ہے تو دوسری طرف آزادی کو کچلنے، جمہوری نظام کی جڑیں اکھاڑنے، ملک اور اقوام کے درمیان نفرت و دشمنی پیدا کرنے اور عوام کو کسی خاص رجحان یا نظریے کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ عوامی ذرائع ترسیل سے جہاں علوم و فنون، سائنس اور تعلیم و تفریح کے وافر سامان مہیا ہو رہے ہیں۔ وہیں یہ انسانی جذبات و احساسات اور فکر و خیالات کو بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر متاثر کر رہی ہے۔ جس میں ادب بھی شامل ہے۔
آج ہم جس دور میں اور جس سماج میں زندگی بسر کر رہے ہیں اسے اطلاعی سماج کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ زندگی اور سماج کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو انفارمیشن ٹکنالوجی سے متاثر نہ ہوا ہو۔ اخبارات، رسائل، اشتہارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، کیسٹ، سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ نے ترسیل و ابلاغ کی دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے دنیا میں نشریات کا ایسا جال بچھا دیا ہے کہ وسیع و عریض دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
زندگی کے ہر شعبے کی طرح ادب پر بھی جدید عوامی ذرائع ترسیل کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ ماس میڈیا ادب کے فروغ میں نمایاںکردار ادا کر رہا ہے۔ اس نے ادب کو درباروں اور مجلسوں کی چہار دیواری سے نکال کر عوام کے گھروں میں داخل کر دیا۔ آج سینکڑوں اخبارات، ادبی رسائل شائع ہو رہے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، سوشل سائٹسsocial sitesکے ذریعہ بھی ادب کو فروغ مل رہا ہے اور انٹرنیٹ نے تو ان سب کو یکجا کر کے عوام کی رسائی کو مزید آسان کر دیا ہے۔ ان کی مدد سے ادبی تخلیقات عوام تک بآسانی پہنچ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ادب کے قارئین کی تعداد میںبھی آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ ادب کی تخلیق میں اضافے کا سبب بن چکا ہے۔ یہ عوامی ذرائع کی مدد سے ادب کے فروغ کا مثبت پہلو ہے۔
بلاشبہ ادب کی نشرو اشاعت میں عوامی ذرائع ابلاغ و ترسیل کلیدی رول ادا کر رہا ہے اور اس سے زبان و ادب کا ارتقا ہو رہا ہے اگرچہ ان کا بنیادی مقصد ادب کی ترویج و اشاعت نہیں ہے پھر بھی ضمناً ادب کا فروغ ہو رہا ہے مگر فائدہ سے کہیں زیادہ ادب کا نقصان ہو رہا ہے، کئی زاویے سے ادب پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ادب کی روح مجروح ہو رہی ہے اور سنجیدہ ادب اور قارئین کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔
جدید عوامی ذرائع ترسیل نے نہ صرف ادب کی روح کو متاثر کیا ہے بلکہ ہمارے جذبات و احساسات کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے۔ آج بھی کفن، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہتک جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ بدھیا، سوگندھی، کالوبھنگی، اندو، سکینہ جیسے کردار بھی ہیں اور ان پر کہانیاں بھی لکھی جاتی ہیں مگر ان میں جذبات و احساسات کی وہ شدت نہیں ملتی جو ہمیں متاثر کرسکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے واقعات و حادثات سے عوامی ذرائع ترسیل کی مدد سے ہر روز ہمارا سابقہ پڑتا ہے اس طرح کے واقعات بلکہ کوئی بھی واقعہ اب ہمارے لیے بہت زیادہ اہمیت نہیںرکھتا ہے۔ چوری، ڈکیتی، قتل، ظلم، استحصال، ناانصافی یہ سب عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے یہ ہمارے قوت احساس کو نہیں جگا سکتے۔ یہ اس وقت کے ادب میںبھی ہو تو ایک خبر کے سوا کچھ نہیں جو ہمیں پہلے سے معلوم ہے۔
جدید ذرائع ترسیل نے ہماری ذہنی و فکری آزادی کو غلام بنا کر ادب کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہمارے حال و مستقبل بلکہ روزمرہ کی معمولات کا بھی فیصلہ ماس میڈیا کرتا ہے کہ ہم کیا سوچیں، کیا دیکھیں، کیا کھائیں، کیا پہنیں، کیا خریدیں، کیا پسند کریں، کیا ناپسند کریں، کیا پڑھیں، کیانہ پڑھیں وغیرہ۔ اس میں بھی سیاسی نظام کا اہم رول ہوتا ہے۔ یہ ہمیں بلا واسطہ اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے اور بالواسطہ ماس میڈیا کی مدد سے ہماری رائے کی نوعیت کا فیصلہ خود کرتا ہے۔ یہ ذہنی و فکری غلامی بنام آزادی ادب اور ادیب دونوں کے لیے مہلک ہے۔ یہ برسراقتدار طبقہ میڈیا پر جن کا کنٹرول ہے ادیب کو ایک طرف یا تو صرف تفریح نگار بنا دیتے ہیں یا دوسری طرف محض پرچارک، جو کسی سیاسی پارٹی کی ہر آن بدلتی ہوئی پالیسی کے مطابق اپنی تحریر بدل سکے۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ جبر ادب پیدا نہیں کرسکتا، جب تک ادیب بے ساختگی سے آزادی سے نہیں لکھتا ادبی تخلیق ناممکن ہے۔ ادبی تخلیق کو ذہنی ایمانداری سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ تخیل قید میں بار آور نہیں ہوسکتا۔ جب ذہنی آزادی فنا ہوجاتی ہے تو بقول ممتاز شیریں ’’ادب مرجاتا ہے۔‘‘
عوامی ذرائع ابلاغ و ترسیل کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ بالواسطہ یا بلا واسطہ برسر اقتدار طبقے کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اور ان کی پالیسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں خود غیر جانب دار ہوتے ہوئے بھی جانبداری کا ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ ہم ان سے ادب کی آفاقیت اور غیر جانبدارانہ رویے کو برقرار رکھنے کی امید رکھیں۔ ان کا بنیادی مقصد تجارت و معیشت ہے اور یہ اپنے مقصد میں اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان کے قارئین، ناظرین اور سامعین کی تعداد میں اضافہ ہو۔ اس لیے وہ اپنی ادبی تخلیقات کو قابل نشر و اشاعت سمجھتے ہیں جو ان کے مقصد کے حصول میں معاون ہوں۔ جس سے نہ صرف ادیب و قاری کے جذبات و احساسات اور افکار و نظریات متاثر ہوتے ہیں بلکہ زبان و اسلوب بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جدید عوامی ذرائع ترسیل ادبی تخلیقات کی ترسیل و ابلاغ میں معاون ضرور ہیں مگر یہ فیصلہ کرنا ذرا مشکل ہے کہ یہ کیا ادب کے فروغ میں بھی معاون ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابیات:
(1) دیویندر اسر۔ ادب کی آبرو۔سنجو آفسیٹ پرنٹرز کرشن نگر، دہلی۔ 1996ء
(2) محمد خاور نوازش۔ (مرتب) ادب، زندگی اور سیاست۔ مثال پبلشرز، فیصل آباد۔ 2012ء
(3) دیویندر اسر۔ عوامی ذرائع ابلاغ، ترسیل اور تعمیر و ترقی۔ (مترجم ) شاہد پرویز۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،د ہلی۔ 2002ء

Leave a Reply

Your email address will not be published.