پیروکاری: لیڈر شپ کا دوسرا نام۔۔۔۔۔ہلال احمد تانترے

پیروکاری: لیڈر شپ کا دوسرا نام۔۔۔۔۔ہلال احمد تانترے
  • 17
    Shares

ایک ہوتا ہے لیڈر لیکن دوسرا ہوتا ہے پیروکار (Follower) من پسند لیڈر کی تلاش میں یا موجودہ لیڈر کو من پسند بنانے میںہم اُن لوگو ں کو بھول جاتے ہیں جو کسی لیڈر کے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں، یا چلنا چاہتے ہیں، یا چلنے کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اِن لوگوں کا لیڈر کے پیچھے چلنا پیرو کاری (Followership)کہلاتا ہے۔ دنیا کی کثیر آبادی سکے کے اِس رُخ سے بے خبر ہے، جب کہ یہ لیڈر اور پیرو کار کے باہم میل ملاپ سے بننے والے سکے کا جزو لاینفک ہے۔ دونوں کو متوازن طور چلنا ہوتاہے، دونوں کی ذمہ واریاں اگر چہ الگ الگ ہیں، لیکن ہیں تو برابر کی اہمیت کے حامل۔ چلیے آج تھوڑا سا وقفہ نکال کر ہم سکے کے اِس نایاب رُخ کی سرسری سیر پر جائیں اور دیکھنے کی کوشش کریں کہ یہ پیروکاری ہے کیا، اس کی اہمیت کیا ہے اور، اس کے تقاضے کیا ہیں، یہ کیسے ہمیں مقصد کو حاصل کرنے میںمدد گار ثابت ہو سکتی ہے؟

لیڈر شپ کا ہونا انتہا درجے کی چہ معنیٰ خیز بات ہے۔ لیڈر شپ کو لیڈر سے موسوم کیا جاتا ہے اور لیڈر کے بغیر منزل کو پار نہیںکیا جاسکتا۔ لیڈر کا ہونا ہر

اُس جگہ پر ضروری بن جاتا ہے، جہاں ایک سے زیادہ اشخاص ایک ساتھ کسی کام کے واسطے جڑے ہوں۔ ایسا اگر نہ کیا جائے تو نہ امن رہے گا اور نہ ہی امن حاصل کرنے کا طریقہ کار۔ ہمیں کوئی مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی ایک شخص کے ہاتھ میں اپنا اعتماد ضرور دینا ہوتا ہے، جس پر ہمیں بھروسہ ہو کہ وہ مقصد کو حاصل کرنے کی راہ میںہمارے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائے گا۔ لیکن اعتماد دینا ہی پیروکاروں کا کام نہیں ہے، بلکہ اعتماد دینے کے بعد اُس اعتماد کے متقضیات کی پاسداری کرنا بدرجہ اُتم ضروری بن جاتا ہے۔ ہم نے اپنے گھر میں بزرگ و تجربہ کار فرد کے ہاتھ گھر کی رزم گاہ تھما دی، وہ ہماری ہر ایک ضرورت کو پورا کر رہے ہیں، بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال کر رہے ہیں، ہمارے لئے باقی اشیاءضروریہ مہیا رکھ رہے ہیں، لیکن ہم اُن کی ایک نہ سنتے ہوئے اپنی من مانیا ں کر رہے ہیں، ہروقت لڑائیاں اور جھگڑے کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں گھر کا کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، گھر کو آباد کرنے کی خاطر اپنی ذ مہ واریاں تن دہی سے پوری کرنے کی ہدایا ت دے رہے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت کے ساتھ پیش آنے کا سبق سکھلا رہے ہیں، لیکن ہم اُن پر بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ الزامات کی بارش کر رہے ہیں ۔ ذرا تصورکریں کیا ایسا گھر آباد ہو سکتا ہے؟ کیا ایسے گھر میںکوئی سکھ شانتی کے ساتھ جی پائے گا؟ کیا ایسے گھر میں کوئی ترقی ہو سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔

 ہمارے ہاں عوامی حلقوں میں لیڈر شپ کے بارے میں جب کہ بہت کچھ بولا اور کُریدا جارہا ہے، پیرو کاری اور اِ س سے وابستہ اعمال کو سرے سے ہی نظر انداز کیا جارہا ہے، جیسے کہ وہ کہیں وجود تک میں نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں یہاں تو ہر کوئی اپنی انفرادی لیڈری کی دکان چمکانے پر تُلا ہوا ہے۔ حالانکہ یہ ایک منطقی بات ہے کہ پیر وکاری کے بغیر کوئی لیڈر شپ وجود میں نہیں آسکتی اور کسی ایک مقصد کولے کر ایک سے زیادہ لیڈروں کا ہونا خروج کے مترادف ہے ۔ لیڈر او ر پیروکار ایک ہی سکے کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنا یا صرف ایک ہی رُخ کے اوپر زیادہ زُور دینا سکے کے وجود کو ہی ختم کر دیتاہے۔ اس طرح سے دونوں میں مساوات اور باہمی ربط ہونا بھی لازمی ہے۔ سکے کے ایک رُخ کے متعلق اگر سوالات اٹھائے جائیں، لامحالہ دوسرے رُخ کو بھی اُسی سوالی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اِس سکے کی مثال کھلی فضا میں لٹکائی ہوئی اُس نادرتصویر کی سی ہے، جسے ہر روز ہزاروں کی تعدار میں لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہوں۔ اِس تصویر کے دونوں رُخ باہم اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ایک رُخ کو سنوارا جائے لیکن دوسرے رُخ کو جوں کا توں چھوڑا جائے تو یہ پوری تصور کی بدصورتی کا ضامن بن جائے گا۔

پیروکاری لیڈرشب کا دوسرا نام ہے۔ کسی مقصد کو پار کرنے کے لئے لیڈر کا ہونا ضروری ہے، لیکن لیڈر کا ہونا بذات خود پیروکاروں کو جنم دیتا ہے۔ اس طر ح سے لیڈر کو اپنے پیروکاروں کی راہنمائی کرنے کی ذمہ واری ہوتی ہے وہی پیروکاروں کو بھی کچھ مخصوص ذمہ واریاں انجام دینی ہوتی ہیں۔ جبھی پیروکار اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں تبھی مقصد کے تئیں کچھ حاصل کرنے کی آس باندھی جاسکتی ہے۔ عظیم لیڈر ہمیشہ باصلاحیت و باہمت پیروکاروں کے بیچ میں ہوتے ہیں۔ یہی وہ اشخاص ہوتے ہیں جو اپنے لیڈر کو کسی ناگہانی آفت سے بچنے کی سبیلیں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ موقع و محل کو دیکھتے ہوئے اپنے لیڈر کا ساتھ دے کر اپنے مقصد کی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں۔یہ باہمت پیروکار ہی ہوتے ہیں جو مخدوش حالات میں اپنے لیڈر کو آئینہ دکھا کر اِس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ وہ اُن سب میں سے نمایاں ہےں۔ایسے پیروکاروں کا ربط و تعلق اپنے لیڈر سے کبھی نہیں ٹوٹتا، چاہے حالات کتنے بھی خطر ناک ہوں۔ اُن کی مخلصی و جانفشانی ہی لیڈر کو اُنہیں مقصد کے قریب لانے میں معاون و مدد گار ثابت ہو تی ہیں۔ بھروسے مند پیروکار اچھے سننے والے ہوتے ہیں۔ اُن کی چاہت ہمیشہ امیدوں، معیاری خواہشات اور نقطہ نظر کو یکسر تبدیل کرنے والے بیانیوں پر ہوتی ہے۔اُن کی توجہ باتوں سے زیادہ عملی اقدامات پر ہوتی ہے۔ اپنے مقرر کئے ہوئے دستور سے وہ روح کی غذا حاصل کرتے ہوئے جذباتوں سے سرشار اپنے مشن کی آبیاری کرنے میں محو تن ہوتے ہیں۔ اُن کے اندر صبر اور نظم و ضبط کا مادہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اُنہیں نہ اپنے چھوٹے رہنے کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی بڑا بننے کی خواہش۔ اپنے لیڈر کو ساتھ ہو لے کر وہ جس مقام پر ہوتے ہیں ،بس اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی فکر کر رہے ہوتے ہیں۔

ایسی بہت ساری خصوصیات جو ہم لیڈر کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں، پہلے ہمیں اپنے اندر لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثبت اقدامات، آزادی اظہار، اپنے مقصد کے تئیں مخلصی، ہمت و حوصلہ، وغیرہ کچھ ایسی جانفشانی سے لبریز امدادی خصوصیات ہو سکتی ہیں، جن سے سرشار ہوکر ایک مامور اپنے لیڈر کے ہاتھ پاﺅں بننے پر فخر محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اپنے مقصد کے حصول میں جتنے زیادہ سوالات ایک لیڈر کے اوپر کئے جا سکتے ہیں، اُسے کئی زیادہ اشکالات مامورین پر بھی وارد ہو جاتے ہیں۔ بات یہی ختم نہیںہو جاتی، اپنے لیڈر کو مثبت اسپورٹ دینے کے علاوہ اُسے لائحہ عمل فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرکہیں لیڈراپنے مقصد سے ہٹ جائے، اُسے بر وقت سیدھے راستے کی طرف موڑ دینا ہی مامورین کا کام ہوتا ہے۔ عوام سے رابطہ کٹ جانے کی صورت میں احتمال ہو سکتا ہے کہ لیڈر کچھ ایسی ہدایات جاری کرے ، جو عوامی مفاد کے برخلاف ہو، اُس وقت یہ اُن کے مامورین اور ساتھیوں کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کو اصل راہ کی طرف گامزن کریں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ملک کے ذہین وفطین لوگ لیڈری کو پسند نہیںکرتے، اس طرح سے مسندِ لیڈری پر وہ لوگ فائز ہو جاتے ہیں، جنہیں عوامی مفاد کا ذرا سا بھی ادراک نہیںہوتا۔ وہاںپر ذمہ داری عالم و فطین لوگوں کے اوپر پڑ جاتی ہے کہ لیڈر کو روحانی غذا فراہم کر کے اُسے سیدھے راستے کی طرف موڑ دیں۔ لیڈر ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ عمومی طور یہ اللہ کی طرف سے عنایت کردہ ایک گُن ہوتا ہے، جسے کم ہی لوگوں کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اِ س گُن کو اخلاقی حدوں ، دیانت داری اور خشیت الٰہی کے رموزات سے سر شار کرانا ملک کے اہلِ دماغ پیروکاروں کا کام ہوتاہے۔ غلط اقدام اُٹھاتے وقت لیڈر کو ٹوکنا، پالیسی بناتے وقت راہنمائی کرنا، عوامی مفاد کو برقرار رکھنے میں اُن کی مدد کرنا ہر ایک پیروکار کا کام ہوتاہے۔ ایسا قطعی طور پر نہیںہو سکتا کہ کسی ایک انسان پر اندھی تقلید کر کے اُسے لیڈری کا تاج پہنا کر رابطہ مقطع کرنا اور اُس کے بعد یہ امید رکھنا کہ وہ ہمارا کوئی بھلا کرے۔

لیڈری گو کہ ایک اعزاز ہوتا ہے، لیکن سمجھنا چاہے کہ یہ اصل میںذمہ واریوں کا سنگین بوجھ ہوتا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ پیروکاراپنے لیڈر کو جواب دہی کا احساس نہ دلاتے ہوں اور وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام نہیں دے پاتا ہو اور جس کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا کہ لیڈر سے رابطہ منقطع کیا گیا ہوتا ہے۔ اگر لیڈر کو یہ احساس دلایا جائے کہ آپ ایک کثیر آبادی کے نمائندے ہو اور آپ سے عوامی عدالت میں ہر ایک بات پر باز پُرس ہوگی، ہماری نگاہیں آپ کے ہر ایک کام پر لگی ہوئی ہیں، اُس کے بعد ہی عوام کے بھلے کی امید کی جا سکتی ہے ۔

 موجودہ دور کے تناظر میں ہمیں سمجھنا چاہے کہ کہ وہ دن اب اِس دنیا سے رحلت کر چکے ہیں جب پیروکاروں کا مطلب اپنے لیڈر کے سامنے سر جھکائے اور اُس کی ہر بات پر سمع وطاعت کرنا ہوتا تھا، اب زمانہ آچکا ہے کہ لیڈر کے اوپر اُس کے سامنے سوالات کئے جائیں، اور اگر خدانخواستہ وہ اپنی اصل ڈگر سے ہٹ چکا ہوتو اُسے واپس اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹنے کو کہا جائے۔ اپنے اندر ایسا شعو ر نہ لانے کے بعد کیوں کر یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے لیڈر کو کوستے رہیں۔ لیڈری اس طرح سے بس یہی نہیں ہے کہ کسی ایک انسان کو لیڈر بنا کر اُسے ہر وقت سوالات و اعتراضات کئے جائیں، سوشل میڈیا پر یا اخباری بیانوں میں ، نجی محفلوں میں اُن پر تنقید کی جائے، لیڈری کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ پیروکار کتنے ہوشیار ہیں اور وہ اپنے لیڈر کو کتنا جواب دہ ٹھہر اتے ہوں، جس کے لئے پیروکاروں کا لیڈر کے ساتھ عملی زندگی میں رابطہ استوار کرنا ضروری ہے۔ لیڈر سے رابطہ اختیار کئے بغیر، اُنہیں اُن کے پیچھے اپنی پیروکاری کا ثبوت فراہم کئے بغیر یہ بڑی حماقت ہوگی کہ اُن کے خلاف پروپیگنڈہ کئے جائےں، اُن کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اختلاف و اعتراضات تو ہونے چاہئیں، لیکن اس سے پہلے کہ اُن اختلافات سے متعلقہ لیڈر کواحسن طریقے سے آگاہ کرانا اور اُن کی بھی رائے جاننا ضروری بن جاتا ہے۔ پسِ منظر کو پسِ پشت ڈال کر اپنی فوری ذاتی رائے کسی پر مسلط کرن صحیح نہیںہے۔

 مندرجہ بالا بحث ہمیں پیروکاری کے کچھ اہم نقطوں کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ پیروکار ہوتے کیسے ہیں؟ ایک، بھیڑ بکریوں کی طرح، جو ہر ایک بات پر بلا چون و چرا آمنا و صدقنا کرتے ہیں۔ دوسرا، چمچے لوگ جو ہر ایک بات پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور ہمیشہ اپنے لیڈر کو صحیح ثابت کرنے کی محنت میں مصروفِ عمل ہوتے ہیں ۔ تیسرا، خوارج جو الگ تھلگ اپنی ایک الگ فکر لے کر لیڈر سے اختلافِ رائے رکھتے ہوئے روٹھے اور تخریبی کاروائیاں عمل میں لاتے ہیں۔ چوتھا، مفاد پرست جو موقع کو پاتے ہوئے اپنے آرام و صوابدید کے مطابق باتیں کرنے والے اور اپنی ہانڈی گرمانے والے ہوتے ہیں۔ پانچواں، ایسے خورد بین والے لوگ جو خود بھی سوچتے ہیں اور دوسروں کو بھی سوچنے کی دعوت دیتے ہوئے ہمہ و قت اور ہمہ تن اپنے لیڈر کا ساتھ دئے اُس کی وقت وقت پر راہنمائی کرنے والے ہوتے ہیں۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ہم کون سی پیروی اختیار کرنے والے لوگ ہیں اور ہمیں کون سا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.