تحریکوں میں جلد بازی کی ذہنیت ۔۔۔محمد قطب

تحریکوں میں جلد بازی کی ذہنیت ۔۔۔محمد قطب
  • 15
    Shares

زیر نظر مضمون انکی کتاب’ واقعناالمعاصر‘ سے لیا گیا ہے۔

ایک بات جلد بازی کا شکار ہوجانے والوں سے اکثر سننے کو ملتی ہے :”تربیت بہت ہوچکی اب کچھ کرنے کا وقت ہے“

یہ جملہ کہ ، اب کچھ کرنے کا وقت ہے ، بہت مختصر ہونے کے باوجود دو انتہائی خطرناک قضیوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق اسلام کے تحریکی او ر دعوتی عمل سے ہے۔ یہ دونوں قضیے شدیدطور پر وضاحت طلب ہیں:

پہلا قضیہ:کیا واقعتا تربیت بہت ہوچکی ہے ؟اور وہ کونسا معیار ہے جس سے ہم یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ تربیت جتنی ہونی چاہیے تھی وہ اب تک ہوچکی ہے یا ابھی مزید تربیت کی ضرورت ہے؟۔

دوسرا قضیہ:یہ ہے کہ کچھ ’کرنے‘ سے ہمارے جلد باز لوگوں کی کیا مراد ہے؟

میں دوسرے قضیے سے ہی بات شروع کرونگا کیونکہ اس کا واضح ہونا پہلے قضیے سے آسان تر ہے ۔ کیونکہ یہ کہنے والوں کے ذہن میں ایک متعین قضیہ ہے ۔ جہاں تک پہلے قضیے (تربیت) کی بات ہے تو شاید وہ ان کے ذہن میں ابھی تک کوئی متعین شکل نہیں رکھتا۔

بنیادی طور پر یہاں دو قسم کے انداز فکر پائے جاتے ہیں ۔ جنکی بنیاد پر دو قسم کے ’کام‘ ہیں جو جلد بازی کا شکار ہوجانے والوں کے ذہن میں آتے ہیں ۔ ایک انداز فکر نوجوانوں کا ہے اور دوسرا بزرگ اور عمر رسیدہ حضرات کا۔

جہاں تک نوجوانوں کا تعلق ہے جوکہ جذبات سے بھرے ہوتے ہیں اور خود کوجلد بازی پر مجبور پاتے ہیں تو ان کی سوچ اس بات کے گرد گھومتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح طاقت کااستعمال کر کے اقتدار تک پہنچا جائے اور قوم کی تربیت کاکام اقتدار سے مدد لے کر کیا جائے نہ کہ دعوتی عمل کے ذریعے سے ۔ کیونکہ دعوت کی راہ سے قوم کی تربیت ایک بے انتہا دشوار کام ہے اور اس کےلئے بے انتہا وقت درکار ہے۔ خصوصاًچونکہ دشمن راستے میں ہر جگہ گھات لگائے بےٹھے ہیں۔ اسلامی تحریک کےلئے یہاں جگہ جگہ رکاوٹیںکھڑی کی جاتی ہیں اور جب بھی یہ اکٹھی ہونا چاہتی ہے دشمن قوتیں اسے تتر بتر کرکے رکھ دیتی ہیں

اور جہاں تک بزرگ اور عمر رسیدہ اصحاب ہیں ، جو کہ ایک طویل سفر طے کرآتے ہیں اور اس راہ میں پے درپے بہت ضربیں سہہ آتے ہیں ان کی سوچ کا محور ایک ایسی پر امن دعوت ہے جوارباب اختیار کےساتھ کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں نہ الجھتی ہواور جسکی کوئی نہ کوئی ذیلی شاخ پارلیمان اور انتخابات کا راستہ اپنا کر رکھے اور یہاں کی سیاست پر اسی کے اندر سے اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔ یا کم از کم بھی یہ کہ یہاں کے سیاسی اداروں کے اندر جاکر اسلام کی بات کرے کیونکہ یہی ادارے اس وقت لوگوں کی زندگی پر اصل تاثیر رکھتے ہیں او ر یہیں پر اٹھائی ہوئی آواز ان کے خیال میں لوگوں کو محسوس ہوسکتی ہے۔

سب سے پہلے تو ہم ان دونوں فریقوں کی بابت یہ گمان رکھیں گے کہ ان میں مکمل اخلاص پایاجاتا ہے۔یہ ضرور ہے کہ اخلاص تنہا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ بصیرت ناگزیر ہے۔ بصیرت کی شرط پوری نہ ہو تو اخلاص کے شجرپر پھل نہیں آیا کرتا!

ہم اس سے پہلے جو بات کرچکے ہیں اس کو یہاں پھر دہراتے ہیں۔ یہاں پر اگر کسی اسلامی قوت کواقتدار مل جاتا ہے ظاہر ہے کہ اسے باہر سے کسی دشمن اسلام سے مدد ملنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ نہ روس کا سہارا نہ امریکہ کا۔ نہ کسی صلیبی طاقت کااورنہ صہیونیت کا۔شرک کے پورے بلاک سے ظاہر ہے کہ اس کی کہیں سے کوئی ایسی پشت پناہی نہ ہوگی جیسا کہ ہمارے دیکھنے میں آج تک ایسے ہرانقلاب کو میسر آجاتی رہی ہے۔ جو کسی اشتراکی یا قومی مقصد کےلئے یہاں کسی ملک میں برپا کیا گیا اور جس سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ اگر اورانقلاب کامیاب ہو جاتے رہے اور ان کی کہیں سے پشت پناہی ہوجاتی رہی تو پھر اسلامی انقلاب بھی اسی طرح کیوں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سو یہ بات طے ہے کہ اس مسلم اقتدار کو معاشرہ کے اندر سے ہی سہارا چاہیے ہوگا۔ مگر یہ سہار ایہاں کہاں ہے؟

کیا یہاں وہ مضبوط ایمانی جتھہ ہے جو معاشرے پر پوری طرح اثر انداز ہوسکتا ہو اور اسلام کے اقتدار کو پہلے قائم کرنے اور پھر قائم رکھنے کےلئے اتنے مضبوط سہارے کا معاشرے کے اندر سے ہی انتظام کرسکتا ہو، جس کے بغیر آج کے حالات میں اسلامی اقتدار کا وجود ممکن نہیں؟

چلیں ہم کچھ دیر کےلئے فرض کرلیتے ہیں کہ عالم اسلام کے کسی خطے میں جذباتی نوجوانوں کا کوئی گروہ کوئی ایسا کامیاب منصوبہ بنا لیتا ہے اور اس کی بنا پر ’انقلاب‘ بھی لے آتا ہے اور اسلامی حکومت بھی قائم کردیتا ہے [یہ کتاب طالبان کے تجربے سے کوئی دس بارہ سال پہلے شائع ہوئی ہے ۔ افغانستان میں جوہوا وہ مصنف کی دور اندیشی کی دلیل سمجھی جانی چاہیے۔ (مترجم)] سوال یہ ہے کہ اس انقلاب کو سہارا کہاں سے ملے گا؟!

بطور مثال مصر ہی کو لے لیں ۔ ہم اس کتاب میں مصر کے اسلامی ’تجربہ‘ پر اس سے پہلے بات کرچکے ہیں۔ اس وقت پورے عالم اسلام میں سب سے مضبوط اسلامی تحریک بلا شبہ مصر ہی میں پائی جاتی ہے۔ مگر کیا یہ تحریک بھی اپنی موجودہ حالت میں اسلامی اقتدار کو معاشرے کے اندر سے وہ مطلوبہ سہارا فراہم کرسکتی ہے اور کسی متوقع صلیبی ، صہیونی جارحیت سے دفاع کرنے میں ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہوسکتی ہے؟

حتی کہ ہم یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ امریکہ براہ راست کوئی حملہ کرنے نہیں آتا جس کی کہ امریکی عزائم سے زیادہ تر توقع رکھنی چاہیے ۔حتی کہ امریکہ اسرائیل کو بھی اس پر حملہ کرنے کےلئے نہیں اکساتا جس کا کہ ہمیشہ اور ہر وقت ہی امکان ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا بس صرف مصر کوگندم کی سپلائی بند ہوجاتی ہے!

مصر کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کیا خیال ہے کہ مصری قوم اسلام کے اقتدار کے قائم رہنے کی خاطر آخری لمحے تک بھوک برداشت کرنے پر تیار ہوجائے گی؟ یا آپکے خیال میں کچھ ہی دنوں بعد مظاہرے ہونے لگیں گے!؟ اشتراکیت پسند ، سیکولر اور لادین جب سڑکوں پرآئیں گے تو ان کے پیچھے بھو ک کے مارے عوام بھی ’روٹی‘ اور ’آزادی‘ کے نعرے لگاتے نکل آئیں گے؟

حقیقت پسندی کے بغیر چارہ نہیں ۔ یہ مانے بغیرمفر نہیں کہ ایسی کوئی معاشرتی بنیاد ابھی موجود ہی نہیں جواتنے مطلوبہ حجم کو پہنچ چکی ہو۔

جب تک معاشرے پر براہ رست اثرانداز ہونے کا اتنا کافی انتظام نہیں کرلیا جاتا تب تک حصول اقتدار کےلئے کسی حکومت وغیرہ سے الجھنے کی کوئی بھی کوشش نری بے سود اور عبث ہے نہ کہ بصیرت اور دانشمندی کا تقاضا۔ اس کی ایک واضح ترین مثال حمات کا واقعہ ہے(حمات شام کا ایک شہر ہے جس میں اسلام پسند نوجوانوں نے حافظ الاسد کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کوشش کی تو پورے شہر کوبلڈوز روں سے ملیا میٹ کردیا گیا۔ ہمارے ہاں بھی مالا کنڈ ایجنسی میں خاصی چھوٹی سطح پر یہی کچھ ہوا ’خاص چھوٹی سطح سے مراد‘ ہے شام کے شہر حمات کی نسبت جوکہ قریب قریب کھنڈر بنا دیا گیا تھا۔ مترجم) یہ ایک ایسا نمونہ ہے جو کسی اسلامی تحریک کے غور و فکر کےلئے بہت کچھ اپنے اندر رکھتا ہے۔ ۔ اس کے مضمرات کا اندازہ کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کس بے رحم دشمن سے پالا پڑا ہے۔ ایسا واقعہ کبھی بھی کسی بھی قیمت پر دہرایا نہیں جانے دینا چاہیے۔

اب اگر ہمارے جلد باز نوجوان یہ پوچھتے ہیں کہ یہ جس معاشرتی بنیاد کی تم بات کرتے ہو اور معاشرے پر براہ راست اور بغیر اقتدار کے حاصل ہوسکنے والے گروہ کی ضرورت بیان کرتے ہو جب تک اس کی تعمیر نہیں ہوتی تب تک کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھے رہیں؟ تب تک کچھ’کیا‘ ہی نہ جائے!؟ تو ہمارا جواب ہوگا کہ یہ معاشرتی بنیاد کوئی شک نہیں کہ آہستہ آہستہ ہی وجود میں آئے گی لیکن ایک بار اس کی بنیاد پڑجائے اور اس پر کام ہونے لگے تو یہ وسعت اختیار کرنے میں کچھ ایسی سست رو بھی نہ ہوگی۔ اس کی نشوو نما ہونے لگے تو اس کوروکا نہیں جاسکتا۔ اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خودبخود نوجوان آ آ کر شامل ہوتے رہیں گے، جن کو پہلے سے راستے کی مشکلات کا اندازہوگااور وہ راستے کی اذیت ناکیوں حتی کی موت تک کےلئے تیار ہو کر اس سے آملتے رہیں گے۔ ان کو یہ بھی بخوبی اندازہ ہوگا کہ یہ ایک طویل سفر ہے۔ پھر اس قافلے کی زندگی میں ایک دن ایسا آجائے گا__ جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں__ جب یہ معاشرتی بنیاد مطلوبہ حد تک پختہ بھی ہو چکی ہوگی اور وسیع بھی ۔جب اس ایمانی جتھے کو کسی کےلئے چلانا ممکن رہے گا اور نہ جھکانا۔ یہ عین وہ وقت ہوگا جب __اللہ کی ایک طبعی سنت کے تحت__ معاشرے میں لوگ فوج در فوج اس جتھے میںشامل ہونے لگیں گے۔ تب دشمن اپنے آپ کو ایک ایسی صورتحال میں پائے گا جہاں اس کے سامنے تنہائی کا شکار کوئی محض ایک دینی جماعت نہیں، ایک پوری قوم ہوگی جویک آواز ہوکر وہی شہادت دے رہی ہوگی اور وہی صدا بلند کررہی ہوگی جو یہ ایمانی جتھا اس سے پہلے بلند کرنے کی کوشش کرتارہا ۔ تب کوئی ایک جماعت نہیں پوری قوم اس دعوت کے پیچھے کھڑی ہوگی۔ جب کوئی دعوت اتنا کچھ کرچکی ہوگی تب اللہ کی وہ مشیت بھی حرکت میں آئے گی جس سے دنیا اللہ کی سنتوں او ر اس کے طبعی قوانین کو عمل پذیر ہوتا دیکھ سکے اور یہی دن مومنوں کی خوشی کادن ہوگا!

یہ کہنا کہ اس معاشرتی بنیاد کے بننے تک نوجوان کیا فارغ بیٹھے رہیں اور کچھ نہ کریں؟ تو یہ بات اس لیے کہہ دی جاتی ہے کہ ایسا کہنے والوں کے ذہن میں کچھ’کرنے‘ کا ایک خاص معنی اور تصور ہے اور یہی تصور نوجوانوں کی دلچسپیوں کا محور بناد یا گیا ہے۔ چنانچہ کچھ’کرنے‘ کے لفظ سے ان کے ذہن میں سوائے ہتھیار اٹھانے اور دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے کے کچھ نہیں آتا۔ اس کے سوا ہر چیز ان کے خیال میں ’فارغ بیٹھ رہنے‘ اور ‘کچھ نہ کرنے‘ کے مترادف ہے!

ہم ان سے پوچھناچاہیں گے کہ آخر یہ معاشرتی بنیاد یہی نوجوان نہیں تو پھر کون اٹھائے گا؟ یہ نوجوان اگر امت کی تعمیر کے عمل میں اپنی تمام تر صلاحیتیں کھپارہے ہوں تو یہ ’فارغ‘ کیسے سمجھ لئے جائیں گے؟ ایسے نوجوانوں کے بارے میں یہ تاثر کیونکرذہن میں آتا ہے کہ وہ کچھ نہیں’کر‘رہے؟

جلد باز نوجوانوں کے منہ سے یہ بات اس لیے نکل آتی ہے کہ ایک تو ان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کرایا گیا کہ تربیتی عمل کی وسعتوں اور غایتوں کی حد کیا ہے اور پھر دوسرا اس لیے کہ تربیتی عمل کی غایت نہ جاننے کی وجہ سے وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ تربیت کا کام کرلیا گیا ہے اور اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس سے اگلے مرحلے کو منتقل ہوا جائے جو کہ ہتھیار اٹھانا اور دشمن سے بر سر پیکار ہونا ہے

ہم تربیت پر بات کرنا چاہیں گے مگر جلد بازی کے منہج پر عمل پیرا باقی دونوں گروہوں پر بھی بات کرلینے کے بعد (تربیت پر محمد قطب کی گفتگو کسی آئندہ شمارے میں دینے کی کوشش کی جائے گی انشااللہ ،مترجم)

جہاں تک دوسرے فریق ، یعنی بزرگ حضرات کے منہج کا تعلق ہے تو ایک بات ہمارے ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہمارے یہ بزر گ حضرات بھی اسی مرحلے سے گزر کر آئے ہیں جس سے اس وقت کے نوجوان گزر رہے ہیں ۔ گویا یہ گذشتہ کل کے نوجوان ہیں جوآج کے نوجوانوں کی طرح اپنے دور میں یہی سمجھا کرتے تھے کہ بس ایک ضرب یا پے درپے چند ضربوں کی ضرورت ہے کہ سب طاغوت گھٹنے ٹیک دیں گے اور اسلام کی حکمرانی ہوجائےگی!

بہت سے نوجوان تھے جو درمیان میں کہیں جھڑ گئے مگر ہمارے یہ بزرگ حضرات دراصل گذشتہ کل کے وہ نوجوان ہیں جو ابھی تک چل رہے ہیں اور درمیان میں کہیں ہٹ کر بیٹھ جانا جن کو گوارا نہیں تھا۔

یہ لوگ پیچھے نہیں ہٹے البتہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ صرف دعوت دیتے چلے جانے کا راستہ بند ہوچکا ہے سو اب راستے کوذرا بدلنے اور آسان کرنے کی ضرورت ہے!

اپنے طور پر ان کا اس انداز سے سوچنا ایک حد تک بنتا بھی ہے۔ جوانی کے دور میں ان کو یہی سکھایا جاتا رہا تھا کہ باطل کوہٹانے کےلئے بس ایک خو ب یا چند ضربیں لگانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد دشمن شکست کھا کر میدان چھوڑ جائے گا اور اسلام کی جیت ہوجائیگی بس چند سال کی بات ہے۔

مگر عملاً یہ ہو اکہ یکے بعد دیگرے جو ضرب لگی انہی کولگتی رہی۔ ہر بار دشمن ہی میدان جیت لے جاتے رہے۔ ان کاکام یہاں ایک کے بعد ایک ہزیمت اٹھانا رہ گیا ہے اور قریب قریب راستہ ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ چنانچہ انکے خیال میں کسی ایسے راستے کی تلاش ہونی چاہیے جومسدود نہ ہو۔

اب جو راستہ ان کے خیال میں بند نہیں ہے جس کی جانب ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں یعنی پارلیمنٹ اور انتخابات میں شمولیت کا راستہ اور ایوانوں کے اندر سے اسلام کی آواز اٹھانے کا منہج۔ کیونکہ اسلام کی بات سنی جانے کا اور کوئی راستہ نہیں رہ گیا۔

ا ب جس طرح پےچھے ہم جلد بازنوجوانوں سے ان کے اس منہج پر گفتگو کر آئے ہیں جوہتھیار اٹھانے اور دشمن کے ساتھ جنگ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اور اس گفتگو میں ہم واقعاتی صورتحال سے اورخصوصاً حمات (شام کا شہر) کے سانحے کی روشنی میں اس امر کی نشاندہی کر آئے ہیں کہ ایک مطلوب اور معقول حدتک معاشرے پر براہ راست اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے جب تک پوری طرح لیس نہیں ہولیا جاتا تب تک برسر اقتدار قوتوں سے الجھنا سراسر عبث اور بے سود ہے اور اس سے اسلام کے تحریکی عمل کے ہاتھ سوائے اس کے کچھ اور ہاتھ آنے کا نہیں جو سانحہ حمات میں ہوا۔

اسی طرح ہم جلد بازی کی راہ پرعمل پیرا بزرگوں سے بھی کچھ گفتگو کرنا چاہیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے تحریکی عمل کو آگے بڑھانا اب اسی پارلیمانی راستے سے ممکن ہے اور یہ کہ ایک یہی راستہ ایساہے جو آگے جا کر کہیں بند نہیں ہوتا اور اسی سے اہل اسلام کی امیدیں اور آرزوئیں روئے عمل میں آسکتی ہیں۔

ان حضرات کوبھی ہم وہی بات کہیں گے یہ راستہ بھی عبث ہے اور معاشرے پر اثرانداز ہونے کے عمل کو ایک خاصی مطلوبہ سطح تک پہچانے سے پہلے اس سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوسکتا۔

ذرادیر کےلئے چلئے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ پارلیمینٹ میں سو فیصد اسلام پسند اکثریت لے آنے میں کامیابی حاصل کرلی جاتی ہے اور اور پارلیمنٹ کے سب ارکان اللہ کی شریعت کا نفاذ چاہنے والے آجاتے ہیں۔ اب اگر نیچے معاشرے پر اثر انداز ہونے والی وہ ”قوت“ نہ ہوجو کہ اسلامی اقتدا ر کےلئے اصل سہارا فراہم کرنے کےلئے نا گزیر ہے۔ ایسی کوئی معاشرتی اور تربیتی بنیاد جواسلام کے اقتدار کو وجود میں لانے اور پھر برسر وجود رکھنے کےلئے ضروری ہے اگر نہ ہو تو اس کے بغیریہ پارلیمنٹ کیا کرے گی؟

ایک فوجی انقلاب پارلیمان کو برخاست کرکے اسلام پسند ارکان پارلیمان کو جیلوں میں ٹھونس دے اور سب کیا دھرا وہیں کاوہیں رہ جائے کیا ناممکن ہے؟

چاہے ایسا منہج اختیار کرنے کی کوئی بھی وجوہات ہوں مگر اس کی کامیابی کاخیال محض سادہ خیالی ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اس میں بہت سے شرعی نقصانات مضمر ہیں اور یہ اتنے بڑے بڑے نقصانات ہیں جو دعوت کے دل میں جا کر لگنے والے تیر کے مترادف ہیں اور باوجود اس کے کہ بظاہریہ چیز دعوت کو ایک بڑا میدان ملنے اور اسے تیز ی کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دیتی نظر آتی ہے مگر حقیقت میں یہ دعوت ہی کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔

سب سے پہلا نقصان تو یہ ہے کہ یہ عقیدے کے ساتھ متعارض ہے۔

ایک مسلمان جسے اس کے دین کا حکم ہے کہ انسانی زندگی کے ہر مسئلہ کا فیصلہ صرف اور صرف اللہ کی شریعت سے کرائے، جسے اس کا دین بتائے کہ اللہ کی حکمرانی کے سوا حکمرانی کی ہر قسم جاہلیت ہے اسے نہ قبول کرنا جائز ہے، نہ اس پر رضامند ہونا اور نہ اس میں شریک ہونا ایک ایسے مسلمان کےلئے آخر یہ کیونکر جائز ہوگا کہ وہ ایک ایسے ایوان میں شمولیت رکھے جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کی بجائے خود قانون صادر کرنا اپنے لئے روارکھتا ہے اور جو مجموعی طور پر اپنے عملی رویے سے ہر موقع پرببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہوتا ہے کہ اسے ہر ہر معاملے میں اللہ سے فیصلہ کروانا قبول نہیں!؟

اس کے لیے کیونکر جائز ہے کہ وہ اےسے ایوان میں شرکت کرے؟ کجا یہ کہ وہ اس سے حلف و فاداری اٹھائے، اس کی پاسداری کا عہد کرے، اور اس دستور کا بھی حلف اٹھائے جس سے یہ ایوان اپنے وجود کےلئے وجہ جواز حاصل کرتا ہے؟ جبکہ اللہ فرماتا ہے :

”وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ“(النساء۱۴۰)

”اللہ تمہیں اس کتاب میں اس سے پہلے بھی یہ حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر ہورہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ یہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو“۔

جبکہ ان کا تو صبح شام کام ہی اللہ کی شریعت کے خلاف چلنا اور اس سے اعراض ورو گردانی کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس ایوان کا اور کیا کام ہے جس میں ان کے مصروف ہونے کا آدمی انتظار کرے! ایسے میں ان کے ساتھ کس طرح بیٹھا جاسکتا ہے؟

وہ تمام عذر جو اس سلسلے میں بیان کئے جاتے ہیں :کہ ”ہم ان کو وہاں اسلام کی بات پہنچاتے ہیں“” ہم بار بار یہ واضح کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے سوا کوئی قانون سازی قبول نہیں“”ہم ایک باقاعدہ اور رسمی فورم پر جاکے بات کرنا چاہتے ہیں اور شریعت سے فیصلے کروانے کی دعوت دینے وہاں جاتے ہیں“

یہ سب کے سب عذر اس بات کےلئے وجہ جواز نہیں بنتے کہ یہ کام کرنے میں عقیدہ توحید سے جو واضح تعارض لازم آتا ہے، اس کی اجازت نکل آئے

کہتے ہیں:” کیا اللہ کے نبی قریش کی مجلس (ندوہ) میں ان کواللہ کا کلام پہنچانے کےلئے تشریف نہیں لے جایا کرتے تھے“!؟

بالکل:اللہ کے نبی ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرانے کےلئے ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے تھے مگر وہ ان کی مجلس کی رکنیت اختیار نہیں کرتے تھے!

ہاں آج بھی کوئی مسلمان جو اس بات کی دعوت دینا چاہتا ہے کہ انسانی زندگی کے سب فیصلے اللہ کی شریعت سے کروائے جائیں ، ایسا کوئی موقعہ اگر پالیتا ہے کہ اس دور کی جاہلیت کی ندوہ(مجلس) میں چلا جائے او ر اس کو وہاں اپنی بات رکھنے کی کم از کم اس قدر اجازت مل جائے جتنی کہ پرانے دورکی جاہلیت رسول اللہ کو اپنی مجلس میں بات کرلینے کی اجازت دے دیا کرتی تھی تو اس پر یقینا واجب ہوگا کہ وہ وہاں جائے اور اللہ کا پیغام پہنچا کر آئے۔ کیونکہ اس صورت میں وہ اس ندوہ(ایوان) کا رکن اور باقاعدہ حصہ نہ ہوگا۔یہ وہاں باہر سے آئے ہوئے بس ایک داعی کی حیثیت سے جائیگا۔ یہاں وہ یہ دعوت دےگا کہ جو اللہ کے ہاں سے اترا ہے یہ لوگ اس کے پیروکار بن جانے پر عمل پیرا ہوں۔ نہ تو ایوان کسی صورت اس کو اپنا حصہ جانے اور نہ وہ خود اپنے آپ کو اس کار کن سمجھے یہ ایک ایسا شخص ہوگا جو وہاں اپنے رب کی بات پہنچانے آیا تھا اور اپنا کام کر کے وہاں سے چل دیا

رہا یہ کہ اس ندوہ(ایوان) کی رکنیت اختیار کرنے کےلئے دوڑ دھوپ کی جائے اور دلیل یہ ہو کہ اس سے حق کی بات پہنچانے کا موقعہ ملتا ہے ، تو اس بات پر اللہ کے دین سے کوئی سند موجود نہیں!

ہم ہر موقعہ پر عوام کو یہی بتاتے ہیں کہ ہر وہ نظام جو اللہ کی شریعت پر قائم نہیں باطل ہے اور یہ کہ کسی ایسے نظام کو دنیا میں وجود رکھنے کا کوئی حق نہیں جو اللہ کی شریعت پر نہیں چلتا پھر دوسری طرف یہی عوام دیکھتے ہیں کہ ہم اسی نظام کا جاحصہ بنتے ہیں جس کوختم کردینے کی ہم عوام میں ہر وقت بات کرتے ہیں! اس کا نتیجہ!؟

اگر ہمیں اپنے لیے بالفرض ایسے دلائل مل بھی جاتے ہیں جس سے ہمارے لیے اس نظام کا حصہ بننا جائز ہوجائے ۔جس نظام کو عوام میں ہم صبح شام باطل باطل کہتے ہیں تو آخر عوام سے یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ وہ اس نظام کا حصہ نہ بنیں یا اس نظام کو اسی قدر برا جانیں جتنا کہ جاننا ضروری ہے اور جسے جانے بغیروہ زوردار معاشرتی بنیاد اٹھائی ہی نہیں جاسکتی جو اس نظام کے خاتمے پرمنتج ہو؟ آخر اس صورت میں معاشرے کی ذہنیت کا رخ سرتا پیر تبدیل کردینے کا وہ کام کیسے مکمل ہوگا جس پر اسلام کے اقتدار کی اصل بنیاد رکھی جانا ہے!؟ پورے کے پورے معاشرے کو ذہنی اور شعوری طور پر عزم و یقین کی اس سطح تک لے جانا جہاں اللہ کے حکم اور نظام کے سو ا ہر جاہلی حکم اور نظام کا وجود مکمل طور پرناقابل برداشت اور نفرت کی آخری حد کو پہنچ جائے، اس نظام کا حصہ بن جانے کے بعد کیسے ممکن رہ جاتا ہے!؟

ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں شامل ہوکر ہم اسلام کی معاشرتی بنیاد اٹھانے کا کام آسان کرتے ہیں کیونکہ اس طریقے سے ہم ملک کے ایک مقتدر فورم پر جاکر بات کریں گے اور لوگوں کےلئے اس کی صدائے باز گشت سننا آسان ہوجائیگا لیکن حقیقت میں ہم اس معاشرتی تبدیلی اور اس معاشرتی بنیاد اٹھانے کے عمل کو کہیں مشکل کرلیتے ہیں۔ کیونکہ اسلام کا اس جاہلیت کے ساتھ ازل سے جو تنازعہ ہے کہ یہاں صرف اللہ کی چلے گی، یہ جھگڑا اور یہ تنازعہ کہیں بے جان ہوکر رہ جاتا ہے۔

عوام کو ضرورت ہے کہ ان کے ذہن و تصور کے ہر گوشے میں اس باطل نظام کو بالکل ایک قطعی اور دو ٹوک انداز میں مسترد کردینے اور اسے آخری حد تک ناقابل برداشت سمجھنے کا رویہ پروان چڑھایا جائے۔ ہمارے ایوان میں جا بیٹھنے سے اب اس بات کا امکان ہی ختم ہوجاتا ہے۔

معاشرے پر اثرانداز ہونے اور معاشرے کا تمام تر رخ جاہلیت سے ہٹا کر اسلام اور اسلامی قیادت کی طرف موڑ دینے کا دشوار عمل اپنے اس مطلوبہ حجم کو پہنچ ہی نہیں سکتا ، جہاں یہ اسلامی اقتدار کےلئے مضبوط اور حتمی سہارا بنے، جب تک عوام کے شعور میں اس حد تک پختگی نہ لائی جائے اور جب تک معاشرے کو اس معاملے میں یقین کی آخری حد تک نہ پہنچا لیا جائے کہ معاشرے پراسلام کی جانب سے ازروئے عقیدہ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر صرف اور صرف اللہ کا حکم قائم کروائے اور اس کے علاوہ اپنے اوپر کسی اور نظام کے وجود کا سوال تک باقی نہ رہنے دے۔ عوام کو اس نظام کے ساتھ ترک موالات میں اس حد تک آگے لے جانا ممکن ہی نہیں رہتا جب آپ خود اس کے اندرچلے جاتے ہیں۔

اس منہج کو اپنانے کا تیسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ سیاست کا یہ کھیل ، جیسا کہ تجربات نے ثابت کردیا ہے ، ایک ایسا کھیل ہے جس میں کمزور کھایا جاتا ہے اور طاقتور اسے نگلتا ہے۔ اس میں کمزور کےلئے ایسا کوئی موقع نہیں رہنے دیا جاتا کہ وہ طاقتور کو کسی وقت غافل پاکر اور اسکی آنکھ بچا کر اس کے ہاتھ سے اقتدار لے جائے!

سیاست کے اس کھیل میں حقیقت یہ ہے کہ ضعیفی اور طاقتوری کا ’حق اور باطل‘ کے مسئلے سے بالکل کوئی تعلق نہیں۔ حتی کہ آپ یقین کریں گے کہ اس کا کثرت اور قلت سے بھی کوئی تعلق نہیں!

کتنی بار آپ دیکھتے ہیں کہ ان ملکوں میں کوئی بہت چھوٹا سا طبقہ جسے لوگ منہ لگانے کو بھی تیار نہیں ہوتے کبھی کبھار اس کا بھی یہاں نصیب جاگ اٹھتا ہے ۔ ملک کے اندر عسکری قوت کا سہارا اور بیرونی سطح پر اس وقت کی عالمی شیطانی قوتوں میں سے کسی کی سرپرستی حاصل ہوجائے تو آپ دیکھیں گے کہ ایسا طبقہ بھی یہاں ناقابل تسخیر ہوجاتا ہے چاہے معاشرے میں اس کی بالکل بھی جڑیںگہری نہ ہوں دوسری طرف آپ دیکھیں گے کہ ایک بہت بڑا طبقہ بھی یہاں مجبور اور مقہور بنا ہوتاہے چاہے ملک میں اس طبقے کی بہت بڑی اکثریت ہی کیوں نہ ہو!

یہی وجہ ہے کہ یہاں وہ اسلامی جماعتیں جو اسلام کے دشمنوں کے بنائے اور چلائے ہوئے نظاموں میں جاکر حصہ لیتی ہیں، سیاست کے اس کھیل میں ہر بار ہی یہ جماعتیں خالی ہاتھ رہتی ہیں اور ہر بار ہی دشمنوں کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ وہ اس سے بے شمار فوائد سمیٹتے ہیں۔ ایک تو وہ عوام الناس کے سامنے اپنے نظام کی شہرت اچھی کرتے ہیں کہ اسلامی جماعتیں اس میں شامل ہوئیں یاان کے ساتھ انتخابی تعاون یا اتحاد کرتی ر ہیںیا کسی اور پارلیمانی معاملے میں ان کے ساتھ باہمی اشتراک رکھتی رہیں ، دوسرا وہ اسلام پسندوں کے اصل مسئلے اور ان کی اصل دعوت کو بے جان کر لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کیونکہ اس عمل کے نتیجے میں اسلام پسند اب پہلے کی طرح جاہلیت سے الگ تھلگ اور منفرد و متمیز نظر نہیں آتے جیسا کہ سیاست کے اس کھیل میںشامل ہونے سے پہلے ان کی ایک خاص انفرادیت اور امتیاز ہوا کرتا تھا اور ان کا اس نظام میں الگ تھلگ رہناہر ایک کی نظروں میں آجانے کا باعث تھا۔ تب لوگ اس سے یہ تاثر لیتے تھے کہ ان اسلام پسند وں کے پیش نظر ضرور کوئی بہت بڑا اور عظیم الشان مسئلہ ہے جسے یہ تما م تر پارلیمانوں اور ایوانوں سے زیادہ مقدس اور حرمت والا سمجھتے ہیں اور جس کے تحفظ کے خاطر ان کو جاہلیت کے ایوانوں میں قدم رکھنا تک گوارا نہیں۔ سب دیکھنے والوں کو یہ نظرآتا تھا کہ اسلام پسند اقتدار کی اس جنگ میں فریق بننے کےلئے تیار نہیں جس کے لئے دنیا پرمرنے والوں کی جان جاتی ہے جس کے چند روزہ اقتدار پر جان دینے والے لوگ سب اخلاق، سب اقدار اور سب اسلامی روایات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ تب لوگ اسلام پسندوں کی اپنے دل پر ایک ہیبت محسوس کیا کرتے تھے کہ یہ اس میدان سے اس لئے پرے ہیں کہ یہاں جاہلی شعائر کی صدا بلند ہوتی ہے اور اللہ کی شریعت کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

اور ایسا تو سیاست کے اس کھیل میں آج تک کبھی ایک باربھی نہیں ہوا کہ کوئی کمزور طبقہ یہاں انظمام امور کا مالک بن بیٹھا ہو اور اس طاقتور دشمن کا شروع کیا ہوا کھیل کسی کمزور نے جیت لیا ہو۔ پہیا گھومتا ضرور ہے مگر پہیا ہاتھ میں آجانے سے گاڑی کا کنٹرول نہیں ملتا۔ ہاں جہاں سے گاڑی کے سب پرزے چلتے ہیں وہا ں سے پہیوں کو بھی گھمالیا جاتا ہے!

اور جہاں تک ان جزوی قسم کی اصلاحات کا تعلق ہے جو اسلام پسند زندگی کے چند ایک شعبوں کے اندر لے آنے میں کبھی کامیاب ہوجاتے ہیں تو جاہلیت کو وہ بھی برداشت نہیں ہوتیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ کچھ ہی دیر بعدان اصلاحات کا بھی وہ ستیاناس کرکے رکھ دیتی ہے۔ البتہ اسلام اور جاہلیت کے تنازعے کو جو بے جان کردیاگیا ہوتا ہے اس کے منفی اثرات پوری طرح باقی رہتے ہیں۔ ان اثرات کو مٹانا پھر کبھی آسان نہیں رہتا۔ اب یہ اسلام اور جاہلیت کے باہم قریب آنے کا تاثر اتنابرا ہے اور نقصان دہ کہ جزوی اصلاحات اور تبدیلیوں کا جو کوئی بھی فائدہ اس نظام میںجاکر ہوتا ہے وہ اس بڑے نقصان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ قرآن پاک کی یہ بات اس پر ناقابل یقین حد تک فٹ آتی ہے :

”فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا “(البقرہ٢١٩)

”شراب اور جوئے میں بڑی خرابی ہے ۔ اگرچہ ان میں لوگوں کےلئے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے“

رہا یہ سوچنا کہ جاہلیت کو غافل پا کر اسلام پسند پارلیمان میں چپکے سے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے جائیں گے اور حکمران طبقوں کی آنکھ بچا کر کسی دن اقتدار ہاتھ میں کرلیں گے اور یوں اسلام کی حکومت قائم ہوجائے گی تو اس اندازفکر کو سادہ خیالی کہہ دینے سے بھی اس کی پوری تصویر کشی ممکن نہیں! الجزائر میں جو کچھ ہوا، میں سمجھتا ہوں ہمارا یہ وہم دور کردینے کےلئے وہ بہت کافی ہے ۔ اس کے بعد بھی کسی کے ذہن میں کوئی ایسا وہم باقی ہے تو حقائق کی دنیا میں اس کی بہر
کوئی گنجائش نہیں۔

(ماخوذ از واقعنا المعاصر صفحہ٤٣٦)

Leave a Reply

Your email address will not be published.