منتخب امیر مبارکبادیوں کا نہیں استقامت کی دعاؤوں کا مستحق۔۔۔۔عنایت اللہ نجار

منتخب امیر مبارکبادیوں کا نہیں استقامت کی دعاؤوں کا مستحق۔۔۔۔عنایت اللہ نجار
  • 166
    Shares
جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے تنظیمی الیکشن برائے میقات2021 -2018 کے نتائج سامنے آنے کی دیر تھی کہ فیس بک ،سوشل ویب سائٹوں اور دیگر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر نئے منتخب امیر جماعت ، وادی کے معروف اسلامی اسکالر اور شعلہ بیان مقرر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض صاحب کی ذات کے لئے مبارکبادیوں کی بھرمار پر مبنی پوسٹس اپلوڑ ہونے شروع ہوئے اور تادمِ تحریر جاری ہے
اس ضمن میں میری ان لوگوں کی خدمت میں پرخلوص استدعا ہے جو اس امیری کو مبارکبادی کی وجہ تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے شاید تحریک اسلامی کے مزاج اور نظریے کو سمجھنے میں غلطی کی ہے تحریک اسلامی نہ کوئی  سیکولر جماعت ہے نہ ہی خالصتاً کوئی سیاسی جماعت (پولیٹکل پارٹی) کہ وہاں امیر یا لیڈر بننے کیلئے دوڑدھوپ اور جدوجہد کی جائے یا پھر اس مقام کو حاصل کرنے والا اپنے آپ کو کسی بھی صورت خوش نصیبی یا مبارکبادی کا مستحق سمجھے، اسلام میں امیر یا سربراہ ہونے کا تصور اس سے بالکل مختلف ہے جو تصور مروجہ باطل نظاموں میں رائج ہے
کہ سربراہی دنیاوی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے اور اس اقتدار کے حصول کی خاطر جنگیں ہوتی ہیں، اس کو پانے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کردیئے جاتے ہیں اور عام انسانوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے ۔ بڑے بڑے فسادات کروائے جاتے ہیں ،جن میں ہزاروں لوگوں کی جانیں اور عزتیں لٹ جاتے ہیں، عوامی سرمایہ تلف ہوجاتا ہے اور مکان اور املاک خاکستر کردیے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس اسلام میں امیر یا سربراہ مبارکبادی کا نہیں بلکہ ہمدردی کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ اسلام کی نظر میں امیر یا سربراہ کا تصور احساس ذمہ داری اور امانت داری سے وابستہ ہے جس پر اس شخص کی اخروی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہونا ہے اسلام میں ہی یہ نظریہ آپ کو تخصیصاً ملے گا کہ “قوم کا امیر دراصل قوم کا خادم ہوتا ہے” اور اس ذمہ داری کو حتی الامکان اور حتی الوسع نہ نبھانے کی جو وعید احادیث میں آئی ہے اس کے پیش نظر کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہے گا کہ وہ امیر بنا دیا جائے اور ہماری تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ ہمارے اسلاف اسی وجہ سے قیادت کی باگ ڈور کو تھامنے سے ڈرتے تھے اور خود کو کمزور اور عاجز سمجھ کر اس ثقیل ذمہ داری کا بار اٹھانے سے کتراتے تھے۔ کوئی اس کے لیے جلدی تیار نہیں ہوتا تھا
ذیل میں نمونے کے طور پر چند احادیث نبوی نقل کر دیتا ہوں جن میں اس ذمہ داری سے رعایت نہ کرنے والے امیر کیلئے رونگھٹے کھڑا کرنی والی وعید ملتی ہیں :
“حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کو بھی کسی رعیت کا نگران بناتے ہیں خواہ رعیت تھوڑی ہو یا زیادہ تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں قیامت کے دن ضرور پوچھیں گے کہ اس نے ان میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کیا تھا یا برباد کیا تھا یہاں تک کہ خاص طور پر اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھیں گے۔”
“حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو امیر مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بن کر مسلمانوں کی خیر خواہی میں کوشش نہ کرے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اس گھر میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ! جو شخص میری امت کے (دینی و دنیاوی) معاملات میں سے کسی بھی معاملہ کا ذمہ دار بنے پھر وہ لوگوں کو مشقت میں ڈالے تو آپ بھی اس شخص کو مشقت میں ڈالئے۔ اورجو شخص میری امت کے کسی بھی معاملہ کا ذمہ دار بنے اور لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے آپ بھی اس شخص کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایئے۔
حضرت ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا اور وہ مسلمانوں کے حالات، ضروریات اور ان کی تنگدستی سے منہ پھیرے یعنی ان کی ضرورت کو پورا نہ کرے اور نہ ان کی تنگدستی کے دور کرنے کی کوشش کرے توقیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے حالات، ضروریات اور تنگدستی سے منہ پھیر لیں گے (یعنی قیامت کے دن اسکی ضرورت اور پریشانی کو دور نہیں فرمائیں گے۔)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب کہ تم امیر بننے کی حرص کرو گے حالانکہ امارت تمہارے لئے ندامت کا ذریعہ ہوگی۔ امارت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک دودھ پلانے والی عورت کہ ابتداء میں تو بڑی اچھی لگتی ہے اور جب دودھ چھڑانے لگتی ہے تو وہی بہت بری لگنے لگتی ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے عبدالرحمن بن سمرہ امارت کو طلب نہ کرو، اگر تمہارے طلب کرنے پر تمہیں امیر بنادیا گیا تو تم اسکے حوالہ کردیئے جاؤ گے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری کوئی مدد اور رہنمائی نہ ہوگی) اور اگر تمہاری طلب کے بغیر تمہیں امیر بنادیا گیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں تمہاری مدد کی جائے گی۔
جماعت اسلامی جموں و کشمیر بھی بنیادی طور پر ایک نظریاتی جماعت ہے جس کا نظریہ یہ ہے کہ صرف اور صرف اسلام ہی وہ واحد راستہ اور نظام حیات ہے جو انسانیت کی دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا ضامن ہے اور صرف اسلام ہی دنیا کو امن، چین، خوشحالی، آشتی دینے کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے اور صرف اسی نظام کے طفیل ان تمام مسائل کا حل بھی نکل سکتا ہے جن مسائل سے آج تمام دنیا کے ممالک جھوج رہے ہیں چاہے وہ روٹی، کپڑا اور مکان کے مسائل ہوں یا بھر دہشتگردی، ظلم، جبر، عدم برداشت، رنگ نسل اور زبان کے تعصبات وغیرہ سے متعلق مسائل ہوں الغرض ہماری اجتماعی زندگی کے ممتاز شعبہ جات (سیاست،معیشیت اور سماجیات)کے مسائل ہوں یا پھر کہ نجی زندگی سے متعلق مسائل، ان تمام مسائل کا اطمینان بخش، معقول اور حتمی حل اسلامی نظام میں مضمر ہے، تحریک اسلامی کا صرف یہ کھوکھلا دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ اس دعوے کی پُشت پر ایک مضبوط دلیل اور وہ سنہری تاریخ رقم ہے جو تاریخ خاتم النبین، رحمت للعالمین حضرت محمد صلی الله عليه وسلم اور خلفائے راشدین رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرب کی سرزمین میں بالفعل رقم کرکے تمام بنی نوع انسانیت کیلئے تا قیام قیامت ایک ماڈل پیش کر کے دکھایا ہے اور انسانیت اس ماڈل کے ثمرات دیکھ بھی چکی ہے اور چکھ بھی چکی ہے اور تاریخ اس سنہرے دور کی گواہ رہ بھی چکی ہے
تحریک اسلامی اسی نظریے کی حامل تنظیم ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس کرہ ارض میں اسی نظریے کا بول بالا ہوجائے اور اسی مقصد کے حصول کی خاطر تحریک اسلامی تمام مسلمانوں کو مسلکی اور مشربی تعصبات سے بالاتر ہوکر اپنے ہمراہ جدوجہد کرنے کی دعوت دیتی ہے اور دیتی رہے گی ان شاء اللہ تب تک جب تک کہ مقصد کا حصول نہ ہوجائے کیونکہ یہی ملت اسلامیہ کا سب سے اولین اجتماعی فرض ہے اور یہی ان کا مقصد وجود  بھی ہے-
میں ذاتی طور پر منتخب امیر جماعت ڈاکٹر صاحب کے لئے الله تعالیٰ سے دست بہ دعا ہوں کہ الله تعالیٰ اس شخص کے ساتھ اس معاملے میں اپنی خصوصی نصرت کا معاملہ فرمائیں اور اس کو یہ ذمہ داری بحسن خوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور تحریک کو اپنی خصوصی نصرت اور اس شخص کی قائدانہ صلاحیتوں کی مدد سے دن دگنی اور رات چوگنی کامیابیوں سے نوازے تاکہ دنیا میں حق کا بول بالا ہو اور باطل کا خاتمہ ہوجائے آمین
اس موقع پر میری قلبی ہمدردیاں محترم مرشدی امیر جماعت اسلامی کی ذات کے لئے ہے
اللہ تعالیٰ نو منتخب امیر جماعت کو  اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ملت پر تادیر انکا سایہ رہبری رکھے اور ان کو تنظیمی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہمیشہ ثابت قدم رکھے….. آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.