سید مودودی سے متاثر کیوں؟ ۔۔۔۔۔جی ایم عباس

سید مودودی سے متاثر کیوں؟ ۔۔۔۔۔جی ایم عباس
  • 318
    Shares

مولانا سید ابو الاعلی مودودی علیہ رحمہ سے کون واقف نہیں ہے. بر صغیر پاک و ہند کے علاوہ تقریباً ساری انسانی دنیا میں ان کا نام بحیثت ایک عالمِ دین (Islamic Scholar) اور مفکر دین بڑے ادب و اعزاز کے ساتھ لیا جاتا ہے. دراصل دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہوئے آپ سے اللہ تعالی نے اپنے محبوب دین کو دنیا میں عام اور غالب کرنے کے لیے  ہی منتخب کیا. یہ مولانا کی روحانیت ، ذہانت اور قرآن و حدیث کے مقدس علوم پر عبور حاصل ہونے کے علاوہ دین کے کاموں میں عظم و استقامت (determination) کی واضع دلیل پیش کرتا ہے. انکی عظیم تفسیر “تفہیم القرآن” کا مطالعہ کرکے کون متاثر نہیں ہوگا. “تفہیم الاحادیث” کے مطالعے کے بعد کون انکی ذہانت کو چلینج کرسکتا. انکے بیش قیمت دروس پر کتاب “خطبات” سے کون آنکھیں موڑ سکتا. “دینیات” کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد کیوں غیر مسلم متاثر نہیں ہوسکتا. “الجہاد فی الاسلام” کا جو بھی مطالعہ کرتا ہے وہ یقیناً اغیار کی عیاریوں سے مقابلہ کرسکتا ہے. “رسائل و مسائل” کے مطالعہ کرنے سے واقعی ایک عام پڑھا لکھا مسلمان دین کے فقہی علوم سے روشناس ہوکے دین کو آسانی سے سمجھتا ہے. 5-اے ذیلدار پارک” کا ایک بار ضرور مطالعہ کرکے دیکھیے… آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ بالمشافہ مولانا سے ہم کلام ہے….مولانا مرحوم کی کس کس تصنیف یا کتاب کا ذکر کروں…. “یہودیت و نصرانیت” کا مطالعہ ایک بار ضرور کیجیے. آپ کو یہود و نصاری کی تواریخ پورے حوالہ جات کے ساتھ  گھر بیٹھے ملے گی اور انکی مسلمانوں کے خلاف عیاریوں کا مدلل خاکہ آپ ضرور اس میں پائیں گے. تفہیمات ، تنقیہات ، خلافت و ملوکیت وغیرہ کتب سے انکے قلم کی طاقت کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں کس قدر قابلیت اور ذہانت بخشی تھی.”تحریک اور کارکن” جیسی بیش قیمت کتاب کا مطالعہ جب تک نہ ہر ایک رفیق و کارکن جماعت کرکے گا میری ناقص رائے میں تب تک آپ جماعت اسلامی میں داخل ہونے کے باوجود بھی بہت سارے اوصاف سے محروم ہیں. مولانا مرحوم کی یہاں چند اہم تصانیف کا ذکر کیا….ایسی ہی انکی تقریباً 120 کتابیں و تصانیف ہیں جن کا مطالعہ کرنے سے یقیناً دل کی کلی کھل جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واقعی انسان کسی برگزیدہ عالم دین کی تحریروں سے دین اسلام سے قریب تر ہوتا جارہا ہے.یسوی صدی کے اہم اور نمایاں اسلامی مفکرین میں مولانا مودودی کا شمار انکی شاہکار تصانیف کی وجہ سے ہوتا ہے. قرآن مجید کے ممتاز مفسر کی حیثیت سے انہوں نے تمام شعبوں بالخصوص سیاسی ، معاشی ، قانونی ، عمرانی ، اخلاقی اور تہذیب و ثقافت کے پہلوؤں کو اپنی تحریروں و تقریروں کے ذریعے اجاگر کیا. ہم بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ درحقیقت اللہ ربّ العزت کا اپنے بندوں پر نہایت فضل و احسان ہے کہ اپنے محبوب دین یعنی اسلام کے غلبہ کے لیے ہر دور میں پیغمبر اسلام حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں عظیم مفکرین دین کو پیدا کیا اور تا قیام قیامت پیدا ہوں گے. انہی میں ایک مبارک شخصیت مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ رحمہ تھے جو عصرِ حاضر کے ایک ممتاز مفکر دین  شمار ہوتے ہیں اور جنہوں نے بطور ایک اجتماعی نظام اسلام کے تعارف پر اپنی ساری توجہ مرکوز کی اور مختلف پہلوؤں سے اس بحث کی تحقیق و تصنیف کا موضوع بنایا. بلکہ دین اسلام کے  غلبہ کے لیے جسطرح مولانا نے اپنی پوری زندگی وقف کی تھی ، اس ضمن میں مولانا کو دین اسلام کا زبر جد کہنا یقیناً بجا ہوگا.
مولانا مرحوم کی فکر دین میں اسلامی ریاست کا قیام جس کو وہ اپنی مخصوص اصطلاح میں “حکومت الٰہیہ” کا عنوان دیتے ہیں ، بےحد اساسی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے ایک اجتماعی فریضے کا درجہ دیتے ہیں. ان  کی پوری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے پورے نظام حیات کو دینی و عقلی دلائل کے ساتھ دور حاضر کی زبان میں پیش کیا. تفسیر ، حدیث ، سیرت ، معیشت ، معاشرت ، سیاست اور دیگر شعبہ ہائے زندگی اور اسلامی کتب کے علاوہ مغربی تہذیبوں اور افکار و نظریات کے رد میں انہوں نے مدلل انداز بیان میں ایسی کتابیں تحریر کیں جن کی وجہ سے باطل نظریات کے غباروں سے یقیناً ہوا نکل گئی. انکی شاہکار  تصانیف کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں بھی ہوا ہے اور برصغیر کے ساتھ ساتھ ، مغربی اور بالخصوص عرب ممالک میں اسلامی انقلاب کا ذریعہ بنیں. انکی فکر دین ضرور اور ضرور انکی تصانیف سے نمایاں ہوتی ہے. لیکن افسوس انکے ساتھ علمی و دعوتی میدان میں انکے ہم عصر علماء کی طرف سے جسطرح متعصابہ رویہ اپنا کر انکی علمی خدمات پر جابجا اعتراضات کئے گئے ان سے دل بہت افسردہ ہوتا ہے. لیکن انہوں نے اپنے دور کے ہر فتنے اور اعتراضات کا بڑی شائستگی اور صبر سے مقابلہ کیا اور اسلام اور قران و سنت کی برتری و فوقیت کو اپنی تحریروں و تقاریر سے ثابت کیا.
اختلاف رائے کسی بھی معاشرے کی فکری تربیت اور ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے. اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے بلکہ علمی میدان میں ایک حسن ہے. امت میں اختلاف رائے کا ہونا ایک ناگزیر عمل ہے. ہر دور میں ہوتا آیا اور ہوتا رہے گا. اگر اختلاف کا منشا و سبب قبیح ہو اور تعصب پر مبنی ہو تو وہ اختلاف یقیناً مذموم ہوتا ہے. جہاں تک مولانا مودودی علیہ رحمہ کی تصانیف پر اعتراضات و اختلافات کا تعلق ہے ، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان سے اختلافات رکھنے والے لوگ بلکہ انکے ہم عصر علماء کے دلائل و الفاظ سے مسلکی و گروہی تعصب کی بُو آرہی ہے. مولانا مرحوم کی شخصیت کا کمال کا پہلو یہ دیکھیے کہ اپنی کتابوں یا اپنی شخصیت پر مخالفت کرنے والوں کو کبھی بھی جواب دینا گوارا نہیں سمجھا اور نہ ہی اپنی زندگی میں جواب دیا بلکہ اس ضمن میں انکے یہ تاریخی الفاظ ہر زمانے میں قابل غور رہیں گے اور مخالفین کے لیے لمحہ فکریہ ہونگے.” مولانا کہتے ہیں کہ ان کے خلاف میں اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں لڑوں گا. اگر میں نے  اپنے قلم کا رُخ انکی طرف کردیا تو یہ نشان عبرت بن جائیں گے اور میں اپنی قوت اور اپنا وقت ان بحثوں میں صرف کرنا گواراہ نہیں سمجھتا”. ماشاءاللہ…. کیا عالمانہ پختگی! کیا عظیم سوچ! کیا مثبت رویہ! کیا قرآن والے بیانات کے مطابق صبر کا مظاہرہ!  بھلا ایسے عالم دین کی سادہ اور اخلاص بھری شخصیت سے کون متاثر  نہیں ہوگا. مولانا کی ذاتی زندگی کو اگر پرکھنا ہے تو انکی بیٹی کی مولانا کی زندگی پر تحریر کردہ کتاب “شجرہ ہائے سایہ دار” کے صفحات کا ایک بار ضرور دل کھول کر مطالعہ کیجیے ، یقیناً آپک مولانا کو مفکر ہی نہیں بلکہ مدبر پائیں گے. اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ہردور میں مسلمان علماء کے درمیان اختلافات رہے ہیں اور تاقیام قیامت رہیں گے. لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اختلاف رائے کے لیے بنیادی اصول دلیل اور شائستگی ہیں جو میرے ناقص مطالعے کے مطابق مولانا مودودی علیہ رحمہ کے معاملے میں نظرانداز کیا گیا ہے کیونکہ جن علماء نے انکی تصانیف و تقاریر پر اختلافات اٹھائے یا اعتراضات کیے ، تو وہ اس بنیاد پر کیے ہیں (یا آج بھی کر رہے ہیں ) کہ انہیں وہ ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں اور ان کے سکول آف تھاٹ کو مناسب نہیں لگ رہے ہیں. اسطرح کا اختلاف رائے کا اسلوب یقیناً منافقانہ رائے میں بدل جاتا ہے جو کہ باعث رحمت اور سچائی کی طرف اقدام بڑھانے کے بجائے دشمنی بن جاتی ہے. اللہ تعالی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور اسطرح کے فتنوں سے نجات عطا کرے.
مولانا مودودی علیہ رحمہ ہمہ جہت اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے. مفکر اسلام اور مفسر قرآن ہونے  کے ساتھ ساتھ آپ ایک عظیم داعی دین اور داعی حق تھے. جماعت اسلامی مولانا مرحوم کی انقلابی فکر و عمل کا حاصل ہے. یہ اسلامی تحریک اللہ تعالی کے دین (اسلام) کو غالب کرنے کے لیے معرض وجود میں آئی ہے. یہ تحریک ہر ایک انسان بالخصوص مسلمان کو دعوت دیتی ہے کہ خدا کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم مان کر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ایک منظم جماعت میں بنے رہو. یہ تحریک ایک مکمل دستور کے تحت کام کرتی ہے جو ہر سطح کے ذمے داروں کو ایک طریقہ کار اور ایک ضابطے کا پابند کرتا ہے. تحریک اسلامی کی نظر عالمگیر ہے لیکن جنوبی ایشیا وہ خطہ ہے جس پر جماعت اسلامی کی گھری چھاپ ہے. جماعت اسلامی برصغیر کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اسلام کو بطور جدید سیاسی نظام متعارف کرایا. مزید برآں جماعت اسلامی نے عقلیت اور مغربیت سے متاثر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عقلی و علمی استدلال (logic) کے ذریعہ اسلام سے متاثر کیا اور دنیا کو جدید مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں بحسن و خوبی پیش کیا. تحریک اسلامی کو بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص پورے برصغیر کی بہترین مذہبی جماعت ہونے کا شرف اور امتیاذ حاصل ہے جو اپنے اندر مضبوط اسلامی روایات رکھتی ہیں. تحریک اسلامی کی کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ لادینی کی حامی طاقتوں کے مقابلے میں ان تمام عناصر اور جماعتوں کے درمیان اتفاق اور باہمی تعاون ہو جو اسلام اور مسلمانوں کی مخالف سرگرمیوں میں کوشاں ہیں. تحریک اسلامی مسلمانوں کو مخاطب ہو کر  کہتی ہے کہ کنویں کے مینڈک نہ بنو ، بلکہ امت کے سمندر کا حصہ بنو. تاکہ اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے دوران آپ پر ناامیدی اور یاس کا سایہ نہ پڑے. وقت کے فرعونوں ، نمردودوں اور شدادوں کے طاغوتی و ابلیسی فریبوں اور ظلم و تشدد کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے مولانا مودودی علیہ رحمہ نے اپنے اصولوں اور جماعت اسلامی کے دستور سے کبھی compromise نہیں کیا. بلکہ تحریک اسلامی کے ذریعہ تمام لوگوں بالخصوص مسلمان جوانوں کو مخاطب ہو کر یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمت کریں ، کمر باندھ کر اٹھیں ، ملت اسلامیہ کو پستی سے نکالنے کے لیے آگے بڑھیں ، مسلمانوں کو زوال سے نجات دلانے کے لیے ایک عظیم الشان انقلاب کے نقیب بن کر تحریک اسلامی کے قافلہ کا حصہ بنیں. ناامیدی کو دل میں جگہ نہ دیں کیونکہ ناامیدی زوال علم و عرفان ہے. استقامت اور سعئی پیہم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا ہے. یہی پیغام قرآن مجید فرقان حمید کا بھی ہے (لا تقنطو من رحمت اللہ)….اللہ کی ذات پر مضبوط عقیدے اور سعئی مسلسل نے قوموں کو بڑے بڑے فرعونوں ، نمرودوں اور شدادوں سے نجات سے ہم کنار کیا ہے. مایوس آدمی مٹی کے اس ڈھیر کی طرح ہوتا ہے جسکے ذرات کو ہلکی سی آندھی اڑا کر فضا میں منتشر کردیتی ہے. یاد رکھئے جماعتی اوصاف میں پیہم سعئی ریڑھ کی ہڑی جیسی ضرورت ہے. اسلیے اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لیے مخلص مسلمان بن کر اسلام کے رنگ میں یک رنگ ہوجائیں. جب تحریک اسلامی کا یہ منشور ہے ، مقصود ہے اور دستور ہے تو اس میں شامل ہونے کے بعد ہر ایک کارکن کو اس شاندار قافلے کا مسافر بنے میں فخر محسوس کرنا چاہیے جو انسانیت کو صحیح منزل کی طرف  راہنمائی کرنے میں  رواں دواں ہے. بلکہ تحریک کے کاز کے لیے اپنی ذات کو بالکل الگ کرنا ہے اور تحریک کے دستور میں یک رنگ ہوکر مرتے دم تک اللہ کے محبوب دین کی دعوت و تبلیغ میں پیغمبرانہ (صلی اللہ علیہ وسلم) صفات پیدا کرکے اور صاف و شفاف معاملات کا مظاہرہ کرکے دوسروں کو اپنے کردار سے متاثر کرکے اس منفرد اسلامی تحریک میں جوک در جوک جوڑنا چاہیے. افسوس! آج ایسے کردار والے کارکنوں کی بہت کمی جماعت میں موجود ہیں جن کے متلاشی مولانا مرحوم تھے. شہر و دیہات میں مقامی سطحوں پر کارکنان کے درمیان اختلافات انکے ناقص کردار کی وجہ ہورہے ہیں اور اسکا بہت ہی برا اثر جماعت کے کام کاج پر پڑتا ہے. نتیجتاً جماعت میں رہ کر اپنوں کی وجہ سے جماعت کا کافی  نقصان ہورہا ہے. مضمون کی طوالت کو مدنظر رکھ کر بس اتنا کہنا کافی ہوگا کہ  تحریک اسلامی اپنی دعوت ، نصب العین اور مقاصد کے حصول کے لیے دعوتی ، تربیتی ، تنظیمی ، سیاسی اور علمی سرگرمیوں کو باضابطہ منظم کرتی ہے. تاکہ کارکنان کے ساتھ ساتھ عام لوگ تحریک کو اپنے خالص کردار سے مضبوط سے مضبوط تر کریں گے اور دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کا ضامن ہر مسلمان بنے. مولانا علیہ رحمہ کی دین حق کے خاطر بےلوث خدمات اور انکے منفرد اسلوب سے میں بہت متاثر ہوا ہوں…بلکہ مولانا مودودی کو میں  ً اپنا روحانی استاد تصور کرتا ہوں. اللہ جل شانہ کے فضل سے جو کچھ بھی قلمی صلاحیتیں نصیب ہوئیں ہیں وہ مولانا مودودی علیہ رحمہ کی بیش قیمت اور شاہکار تصانیف کے مطالعے سے ہی ہوئیں ہیں….ورنہ یہ خاکسار (سائنس کا طالب علم) اس لائق کہاں کہ اخبار کے صفحات میں اپنی قلمی کاوشیں معزز قارئین کے نام کرسکوں. اللہ تعالی مولانا مرحوم کی دین اسلام کے تئین یہ بیش قیمت خدمات قبول فرمائے ، مولانا کو اسکے عوض جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور انکی خدماتِ دین کو امت مسلمہ کے لیے ھدایت راشدہ اور مصیبتوں سے نجات کا ذریعہ بنائے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.