امریکہ اور افغان طالبان: مشروط مذاکرات؟ ۔۔۔۔جی ایم عباس

امریکہ اور افغان طالبان: مشروط مذاکرات؟ ۔۔۔۔جی ایم عباس
  • 44
    Shares

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو آج کی دنیا کا سب سے طاقتور اور ترقی یافتہ ملک مانا جاتا ہے. اسے عرف عام میں یونائٹڈ سٹیٹس  بھی کہتے ہیں. تقریباً 37 لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا اور 50 ریاستوں پر مشتمل یہ ملک دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جس میں کل تیس کروڑ سے زائد باشندے آباد ہیں. روس کے زوال کے بعد جب سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکہ دنیا کی واحد سپر پاؤر  کے طور پر ظاہر ہوا اور اب جسکی لاٹھی اسکی بھنیس محاورہ کے مصداق دنیا کے بیشتر بالخصوص مسلم ممالک کے داخلی و خارجی معاملات میں بےجا مداخلت کرتا آرہا ہے. ستمبر 1945 میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین سپر پاوز بن کر ابھرے اور انکے درمیان جاری کشمکش نے سرد جنگ کا روپ اختیار کرلیا.امریکہ  نے عوام کی آذادی اور سرمایہ داری کو فروغ دیا جبکہ روس  نے کمیونزم اور مرکزی منصوبہ شدہ معیشت کو پروان چڑھایا. اسکا نتیجہ کئی بلواسطہ جنگوں میں نکلا اور بالآخر 1991 میں سوویت یونین افغان جنگ میں شمولیت کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا. اسطرح سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ملک کے طور پر ابھرا.تب سے آج تک امریکہ پوری دنیا میں اپنا دبدبہ قائم رکھا ہوا ہے اور اسرائیل سے مل کر دنیا کے ترقی پزیر ممالک بالخصوص مسلم ممالک  میں ڈکٹیٹرشپ سے بالواسطہ مداخلت کرتا رہا. امریکہ کا یہ عروج کب تک رہے گا ، اسکا علم اللّہ ربّ العزت کو ہی ہے. البتہ ایک بات ثابت ہے کہ ہر عروج کے بعد زوال لازمی ہے. قرآن گواہ ہے (سورہ الرعد آیت 11) کہ جب کسی مغرور اور گمراہ قوم کے زوال کا وقت آتا ہے تو اس کو بچانے والا کوئی نہیں ہوتا ہے.” فرعون اور نمرود نہیں رہے ، عاد اور ثمود نہیں رہے ، اللہ تعالی کی مہلت مخصوص وقت تک ہوتی ہے . ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان متحد ہوجائیں اور امریکہ کے سامنے دامن پھلانے کے  بجائے اپنے ربّ کے حضور عاجزی اور انکساری سے امداد طلب کریں ، تو وہ وقت دور نہیں کہ مسلمان پھر پوری دنیا میں زبردست قوت کے ساتھ ابھر آیں گے. بقول شاعر مشرق علامہ اقبال:
یہ عیش فراواں یہ حکومت یہ تجارت
دل سینئہ بے نور میں محرومِ تسلی
تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے
یہ وادی ایمن نہیں شایانِ تجلی
ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جوانمرگ
شاید ہو کلیسا کے یہودی متولی

افغانستان دنیا کے نقشے پر بلند پہاڑوں کی خوبصورتی والا ایسا ملک ہے جو اکثر جنگ زدہ حالات میں رہا ہے. سوویت یونین یا روس سے تقریباً نو سال تک خون ریز جنگ کے دوران ھزاروں قیمتی انسانی جانیں تلف ہوئیں اور شہر و دیہات جنگ کی وجہ سے کھنڈرات بن گئے. امریکی سی آئے اے کی کھل کر افغان مجاہدین کی معاونت سے ہی روس شکست کھا کر افغانستان سے دُم دبا کے چلا گیا. مختصراً روس کو شکست دینے کے بعد افغان مجاہدین کے آپسی اختلافات اور چپقلش کے باعث 1994 میں تحریک اسلامی طالبان وجود میں آئی جسے مرحوم ملا محمد عمر نے قائم کیا اور انہی کی سربراہی میں طالبان نے تقریباً افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا. ملا عمر نے اپنی حکومت کو امارت اسلامیہ افغانستان کے نام سے قائم کی تھی اور اسے وہ اسلامی خلافت قرار دیتے تھے. اسطرح روس کے انخلا کے بعد طالبان افغانستان کی سب سے مؤثر و سیاسی قوت بن کر ابھرے. لیکن چند سال کے بعد ہی امریکہ میں  11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے طالبان کے عملداری والے افغان علاقوں پر القاعدہ کو تعاون اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا جواز بنا کے نیٹو ممالک کے تعاون سے زبردست فوجی چڑھائی کردی. جس دوران ھزاروں بے گناہ افغانی جان بحق ہوئے اور طالبان کو بھی زبردست نقصان ہوا یہاں تک کہ چندہ مہینوں میں ہی طالبان حکومت کو ہٹانے میں امریکہ کامیاب ہوا. گو کہ امریکہ اب افغانستان مین کوئی وسیع لڑائی نہیں لڑ رہا ہے پھر بھی طالبان کی گوریلا کارروائیوں سے نپٹنے کے لیے وہاں اپنی 14000 فوجیوں کے ساتھ خومخواہ موجود ہے. یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں اپنی فوجیں رکھنے کا واحد مقصد طالبان کو ابھرنے اور اسلامی حکومت بنانے سے ہٹانا ہے. امریکہ افغانستان میں امن اور استحکام لانے کے بہانے سے ابھی بھی وہاں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہورہا ہے. لیکن زمانہ شاہد ہے کہ امریکی فوجی مداخلت سے ہی افغانستان  بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہے. اس دوران امریکہ کو بھی افغانستان پر ٹھونسی جنگ میں کافی جانی اور شدید  مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے. ملک کے اندرونی دباؤ سے امریکی سیاست دان اپنی چناوی مہیموں کے دوران افغانستان سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کے وعدے کرتے رہے اور انہی سیاسی و چناوی وعدوں کے بلوبوتے پر صدر ٹرمپ اقتدار پر برجمان ہوئے. اور اپنے ایک تازہ بیان میں افغانستان سے اپنی آدھی فوج واپس بلانے کا چونکا دینے والا اعلان بھی کیا. 
دراصل واشنگٹن کو اب یقین ہونے لگا ہے کہ 17 سال سے افغان جنگ کو وہ جیت نہیں سکتا ہے. اسلیے اب امن مذاکرات اور بات چیت زور و شور سے چھیڑ دی. جس کے لیے مختلف فریقین کو آگے کیا جارہا ہے. افغان مجاہدین کی ہمت ، طاقت اور استقامت کو روس کم سے کم نو سالوں میں سمجھ گیا ،  امریکہ کو اپنے نیوکلائی طاقت کے نشے میں سترہ (17) سال گزرنے کے بعد اب سمجھ میں آنے لگا ہے کہ طالبان کو بزور بازو شکست دینا انکے بس کی بات نہیں ہے. سوال یہ ہے کہ طالبان سے امریکہ مذاکرات شرائط کے تحت کیوں کرنا چاہتا ہے؟ برسوں پرانے مطالبات جو نہیں مانے جارہے تھے ، اب ان پر غور کیوں کیا جارہا ہے؟ کیپٹن ٹام گریبیک کا یہ تسلیم کرنا کہ جنگ صرف فوجی اقدامات سے نہیں  جیتی جاسکتی ، طالبان مصالحت کریں…..! کیا معنی رکھتا ہے؟ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرس کا اپنے عہدے سے ہٹنا یا ہٹانا کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ اسطرح اور بہت سے سوالات ہیں جو ٹرمپ اور اشرف غنی انتظامیوں میں تبدیلی کی نئی لہر اور سوچ کے لچکدار زاویوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں. رواں برس افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کرکے کہا کہ ہمیں جنگ جیتنی نہیں بلکہ اسے ختم کرنا ہے. لیکن طالبان نے ایسی تمام پیشکشیں مسترد کیں اور اپنے دیرینہ مطالبے پر ڈٹے ہیں کہ جب تک نہ  افغانستان سے امریکہ سمیت تمام غیر ملکی افواج کا انخلا ہو تب تک مذاکرات کا عمل بےسود ہے. ادھر افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ – طالبان مذاکرات کرانا افغان امن عمل میں پاکستان کا عملی قدم ہے. اسلیے پاکستانی تعاون فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے. دوسری جانب افغانستان میں امریکی ترجمان نے وائس آف امریکہ ریڈیو سے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ طالبان سے مذاکراتی عمل میں پاکستانی تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے. واضع رہے  پاکستان کا امن افغان امن سے بالواسطہ یا بلاواسطہ جڑا ہے اور امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے  پاکستان نے طالبان کے ہاتھوں امریکہ اور افغانستان سے بھی زیادہ نقصان اٹھایا ہے اسلیے پاکستان افغان امن مذاکرات میں بہت زیادہ پیش رفت دکھاتا ہے. یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کیا بھارت افغان امن کی اس مذاکراتی عمل سے خوش ہوگا؟ کیونکہ بھارت افغانستان کا ایک اہم دوست ملک ہے جبکہ پاکستان سے کشمیر تنازعے پر اسکی کئی جنگیں ہوچکی ہیں. کچھ بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ امریکہ کی اندرونی سیاست سے تعلق رکھتا ہے اور صدر ٹرمپ کی “امریکہ سب سے پہلے” پالسی سے ہے. چونکہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں امریکیوں سے افغانستان سمیت دیگر جنگ زدہ ممالک سے اپنی فوج واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس وعدے پر صدر ٹرمپ عمل کرے بلکہ انکو اپنے لوگوں کی فکر کرنی چاہیے. دوسرے ممالک کی فکر کرکے انکو شدید فوجی و مالی نقصان اٹھانے کے علاوہ کیا حاصل ہوا ہے. یہ قیاس بالکل غلط ہے  کہ امریکہ ایک امیر ملک ہے اور وہاں عام لوگ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں. شاید وہاں لوگوں میں غربت نہیں ہے. امریکی تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ امریکہ میں ھزاروں نہیں بلکہ  لاکھوں لوگ غربت اور مفلسی کی زندگی بسر کررہے  ہیں. جو دو وقت کی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں. امریکہ کو انکی فکر کرنی چاہیے اور شاید اب امریکی حکمرانوں کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ دوسرے ممالک میں بلاجواز جنگ چھیڑ کر انہیں شدید  جانی و مالی نقصان اٹھانے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگتا ہے.اسی لیے اب امریکہ ایک پالسی کے تحت آہستہ آہستہ عراق ، شام اور اب افغانستان سے فوجی انخلا پر مجبور ہورہا ہے. ادھر ظاہر ہے طالبان بھی مذاکراتی عمل سے خوش ہوں گے کیونکہ یہ انکا دیرینہ مطالبہ ہی نہیں بلکہ اہم شرط بھی ہے کہ افغانستان سے تمام غیرملکی افواج کا انخلا ہو. اگر یہ فیصلہ واقعی متحدہ عرب امارات میں ہونے والے مذاکرات سے جڑا ہے تو یقیناً افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے اچھی خبر ہوسکتی ہے. ہوگا وہی جو کائنات کا حقیقی مالک اللہ ربّ العزت چاہیے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.