پاکستان اور ہندوستان کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے وہ ہے “کشمیر” 

اگر مودی پھر سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو امن مذاکرات بحال ہونے کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔عمران خان 

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے وہ ہے “کشمیر” 

الحاق مانیٹرنگ ۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ’صرف ایک اختلاف ہے جو کہ کشمیرہے اور انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ متنازع علاقے کشمیر میں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہو گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کر سکتے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آج انڈیا میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔بی بی سی کے مدیر عالمی امور جان سمپسن نے عمران خان سے پوچھا کہ وہ اس موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ توعمران خان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا‘ اور ’یہ مسئلہ ابلتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے۔پاکستانی وزیر اعظم کے مطابق پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم غربت کو کم کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جو کہ کشمیر ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے، اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جائے گا اور ہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی۔ لہٰذا اگر ہم کشمیر کو حل کر سکتے ہیں تو برصغیر میں امن کے زبردست فوائد ہیں۔ عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں بھی بات کی۔جب آپ جواب دیتے ہیں تو کوئی بھی اس بات کی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ کہاں تک جائے گا۔ اگر انڈیا پاکستان پر دوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ان سے پوچھا گیا اگر انڈیا کی حکومت کہے کہ آپ ابھی تک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مناسب کارروائی نہیں کر رہے اور جیشِ محمد کا رہنما ابھی بھی آزاد گھوم رہا ہے۔ آپ اسے گرفتار کیوں نہیں کرتے؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی ان تنظیموں کو غیر مسلح کر رہے ہیں۔
جیش محمد کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ اس میں جیش محمد بھی شامل ہے۔ ’ہم نے ان کے مدارس کا کنٹرول سنھبال لیا ہے، ان کی تنظیمیں بھاگ گئی ہیں۔ یہ جنگجو گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس حوالے سے بیرونی دباؤ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفادات میں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہیں ہے۔پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں بری کی جانے والی آسیہ بی بی کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کہ آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ ابھی تک پاکستان چھوڑ کر کیوں نہیں گئیں؟عمران خان نے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ آسیہ بی بی بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔کیا ہم اس حوالے سے دنوں یا ہفتوں کی بات کر رہے ہیں؟ کے سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ’میرے خیال سے ہفتوں میں۔ ہم ہفتوں کی بات کر رہے ہیں۔کیا یہ آپ کا فیصلہ ہے کے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے اور میں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں کے اندر اندر پاکستان چھوڑ کر چلی جائیں گی۔الحاق مانیٹرنگ کے مطابق کہ ایک دوسرے انٹرویو میں غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا کے انتخابات میں مودی پھر سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو امن مذاکرات بحال ہونے کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا تھا  کہ اگر کانگرس انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو شاید وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں تھوڑی جھجک کا شکار ہو کیونکہ انھیں دائیں بازو کی جماعتوں کے ردِ عمل کا ڈر ہوگا۔
’تاہم اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو جو کہ خود ایک دائیں بازو کی جماعت ہے تو شاید کشمیر کے معاملے پر کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔عمران خان نے کہا کہ انڈیا میں جاری صورتحال کے بارے میں کبھی میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں ایسی صورتحال دیکھوں گا جو انڈیا میں جاری ہے جہاں مسلمانوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے مسلمان کبھی وہاں بہت خوش تھے لیکن کئی برسوں سے وہ ہندو انتہا پسند قوم پرستوں کے باعث کافی پریشان ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نریندر مودی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کی طرح خوف اور قوم پرست جذبات کی بنیاد پر ان

Leave a Reply

Your email address will not be published.