ہاٹیکلچر سیکٹر کو فعال بنانے کےلئے “ہالینڈ “اور” اٹلی” سے 5 لاکھ ہائی ڈینسٹی پلانٹس درآمد کئے جارہے ہیں 

ہاٹیکلچر سیکٹر کو فعال بنانے کےلئے “ہالینڈ “اور” اٹلی” سے 5 لاکھ ہائی ڈینسٹی پلانٹس درآمد کئے جارہے ہیں 
2600 کنال رقبہ پر زینہ پورہ شوپیان میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے میگہ “فارم”قائم کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈائریکٹر ہاٹیکلچر اعجاز احمد بٹ ۔
الحاق خبر ۔۔۔۔ریاست میں ہاٹیکلچر شعبے کو بڑھاوا دینے اور باغ مالکان کو جدید سائنسی ٹیکلوناجی کے ذرئعے” ہائی ڈینسٹی” پلانٹ میڑیل فرائم کرنے کےلئے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جبکہ ہائی ڈینسٹی پودوں کو مقامی سطح پر تیار کرنے کےلئے زینہ پورہ شوپیان میں 2600 کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس حوالے سے بیرن ممالک سے 5 لاکھ “روٹ سٹاک” اور” پلانٹس” درآمد کئے جارہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار ڈائریکٹر ہاٹیکلچر کشمیر اعجاز احمد بٹ نے الحاق کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں 70 فیصدی آبادی برائے راست ہاٹیکلچر اور ایگریکلچر سیکٹر سے وابستہ ہیں اور ریاست کی اقتصادی پوزشن بھی ہاٹیکلچر شعبہ پر منحصر ہے لہذا اس صعنت کے بنیادی ڈھانچے کو مظبوط اور مستحکم کرنے کے لئے سرکار بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھارہی ہے اور باغ مالکان کو جدید سائنسی ٹیکلوناجی کی مدد سے سیب کی پیداوار بڑھانے کےلئے متعدد ضلع مقامات اور قصبہ جات میں تربیتی کیمپوں کے ذرئعے جانکاری فراہم کی جارہی ہے ۔ ڈائریکٹر موصوف نے بتایا کہ شوپیان علاقے میں سیب کی اعلی کوالٹی تیار کی جاتی ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ شوپیان ضلع میں گزشتہ سال 1200 کروڑ روپئے کا کاروبار ہوا ہے جبکہ ریاستی سطح پر فروٹ انڈسٹری نے 2000 کروڑ روپئے کے کاروبار کا حدف پار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زینہ پورہ شوپیان میں ہائی ڈینسٹی کا ایک میگہ فارم بنانے کےلئے 2600 کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے اور ہاٹیکلچر محکمہ بیرون ممالک ” ہالینڈ” سے 3 لاکھ روٹ سٹاک اور” اٹلی” سے 2لاکھ ہائی ڈینسٹی پلانٹس درآمد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اتنے بڑے منصوبے کے پیچھے صرف اور صرف یہی مقصد ہے کہ ہم مستقبل قریب میں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے باغ مالکان کو زینہ پورہ فارم سے ہی ہائی ڈینسٹی پلانٹس فراہم کریں گے اور اس پورے عمل سے نہ صرف ہاٹیکلچر سیکٹر کو بڑے پیمانے پر بڑھاوا ملے گا بلکہ ریاست کے ساتھ ساتھ میواہ صنعت سے وابستہ افراد کی اقتصادی حالت میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی گی جس کے لئے عوام کا تعاون لازمی ہے ۔ڈائریکٹر ہاٹیکلچر کشمیر نے الحاق کو بتایا کہ پہلے مرحلے پر زینہ پورہ شوپیان میں پہلے سے ہی قائم فارم کو جدید سائنسی تقاضوں کے عین مطابق دوبارہ تیار کیا جائے گا اور اس حوالے سے فارم میں نئی روح پھونکنے کےلئے آباشی کا نظام مستحکم کیا جارہا ہے اور اسکے لئے مزکورہ فارم میں بڑی تعداد میں “ٹیوب ویل” نصب کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شوپیان آئی ٹی آئی انسٹچوٹ سے “ہاٹیکلچر سٹریم “سے تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کو اس بارے میں جانکاری فراہم کی جارہی ہے اور ہاٹیکلچر محکمہ کے ماہرین انہیں نئی ٹیکنولوجی سے آراستہ کررہے ہیں تاکہ کل وہ اپنا روز گار کما سکے اور اس طرح کی کاروائی وادی کشمیر کے دوسرے اضلاع میں بھی عمل میں لائی جارہی ہے ۔اعجاز احمد بٹ نے مزید بتایا کہ میں نے شوپیان اور پلوامہ اضلاع کا دورہ کیا ہے اور صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے کئی ایک فارموں کا مشاہدہ کیا، اب میں اپنی ٹیم کے ہمراہ شمالی اور وسطی کشمیر کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جہاں پر باغ مالکان اور کسانوں کو ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کے بارے میں مکمل جانکاری اور امداد فراہم کی جائیگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.