گاندبل ضلع میں “ندرو” کی کاشت سے کسانوں نے روزگار کے نئے وسائل پیدا کرکے سب کو حیران کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

سرکاری امداد نہ ملنے کے باعث ندرو کی پیدوار میں اطمنان بخش اضافہ نہیں ہوپا رہا ہے ۔۔۔عوامی حلقے۔۔۔

گاندبل ضلع میں “ندرو” کی کاشت سے کسانوں نے روزگار کے نئے وسائل پیدا کرکے سب کو حیران کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
الحاق خبر ۔۔
مبشر کاشانی ۔۔۔۔۔۔۔
ڈھل جھیل میں کشمیری “ندرو” کی پیدوار میں کمی واقع ہونے کے بعد ضلع گاندربل کے متعدد دیہات میں اسکی کاشت شروع کرکے کسانوں نے نہ صرف اپنے لئے روزگار کے نئے وسائل پیدا کئے بلکہ گاندبل ضلع کی اقتصادی حالت بہتر بنانے میں ایک اہم اور قلیدی رول ادا کرنے کا عمل شروع کیا ہے تاہم ایگریکلچر یا دوسرے منسلک اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث کسانوں کو اگرچہ” ندرو” کی کاشت میں مشکلات تو درپیش ہیں لیکن کسی بھی طور پر کسانوں مایوسی نظر نہیں آرہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق سال 2014 کے تباہ کن سیلاب کے بعد شہر سرینگر میں موجود بین الاقوامی شہرت یافتہ جھیل ڈھل میں ندرو کی فصل کو تشویشناک حد تک نقصان پہنچا تھا جس کے بعد کسانوں میں ایک قسم کی بے یقینی اور بے چینی پیدا ہوئی تھی تاہم گاندربل ضلع کے متعدد دیہات جن میں بہہامہ ،صفہ پورہ ،پہلی پورہ ،واری پورہ ،برکاتی محلہ اور دیگر کئی درجنوں دیہات شامل ہیں کے تجربہ کار کسانوں نے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاکر گاندربل ضلع میں ندرو کی کاشت شروع کی اور حریت انگیز طور پر مزکورہ کسان پہلے ہی سال کسی سرکاری امداد یا ماہرانہ صلاح مشوروں کے بغیر ہی اپنے موصد میں کامیاب ہوئے اور دیکھتے دیکھتے ہی گاندربل ضلع کے بیشتر علاقہ جات میں اسطرح کا دلچسپی بڑھ گئی اور مقامی لوگوں نے بڑے پیمانے پر “ندرو” کی کاشت کرکے اپنے لئے روزگار کے نئے وسائل پیدا کئے اور آنے والی نسل کےلئے نہ صرف جد وجہد کی ایک منفرد مثال قائم کی بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کو معاشی طور پر بھی خود کفیل کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ۔الحاق کے اس نمائندے نے گاندربل کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ ایگیکلچر کے کئی ایک ماہرین کے ساتھ بات کرکے نہ صرف ان سے ایگریکلچر کے حوالے سے ان سے جانکاری حاصل کی بلکہ” ندرو” کی کاشت کرنے سے انہیں حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں بات کی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ” ندرو” کی فصل کاشت کرنے کےلئے جس طرح کا ماحول موافق ہونا چاہئے اسکے لئے گاندربل کا ایریا سب سے موضون ہے اور سب سے اہم اور فائدہ مند بات یہ ہے کہ ایک بار آپ نے  “ندرو” کھیت میں لگائے تو اسکے بعد ہر سال صرف اور صرف کسانوں کو فصل حاصل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ”ندرو” کا ایک بار ہی لگا کر ہر سال صرف فصل حاصل کرنا ایک قدرتی عمل ہے اور صرف سال میں ایک دو بار کھاس نکالنے کے لئے کچھ وقت کےلئے مزدوروں کا استمال عمل میں لانا پڑتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے ندرو سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس نمائندے کو بتایا کہ ستمبر سے ہی کھیتوں سے بدرو نکالنے کا عمل شروع ہوتا ہے اور نومبر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور کھیتوں سے نکالنے کے بعد 7 ہزار روپئے سے لیکر ساڑھے 8 ہزار روپئے فی کونٹل کے حساب سے ہول سیل مارکیٹ مارکیٹ میں ندرو کو فروخت کیا جاتا ہے اور بعد میں یہی ندرو پرچون مارکیٹ میں اڑھائی ہزار سے لیکر 3 ہزار روپئے فی کونٹل صارفین میں فروخت کی جاتی ہے ۔کسانوں نے بتایا کہ 20 ہزار سے 25 ہزار روپئے تک کی آمدنی ایک کنال اراضی سے حاصل ہوتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ سرکار کا اس پورے نظام پر نہ کوئی کنٹرول ہے اور نہ ہی کسانوں کو کسی قسم کی ٹیکنیکی صلاحتوں کے بارے میں روشناش کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسانوں کو کسی بھی منسلک ادارے کی جانب سے امداد فراہم کی جاتی ہے جو یقینی طور پر قابل توجہ بھی ہے اور قابل افسوس بھی ۔اس دوران سیول سوسائٹی سے وابستہ کئی ایک شخصیات کے ساتھ ساتھ زرعی ماہرین نے اس نمائندے کو بتایا کہ ندرو کے کاشت کے ساتھ ہی ضلع گاندربل میں شالی کی فصل کاشت کرنا کسانوں نے آہستہ آہستہ بند کرنا شروع کیا ہے جو اس پورے علاقے کےلئے نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ آنے والی نسل کےلئے خطرے کی علامت ہے اور اس پورے معاملے پر اگر ریاستی سرکار کے ساتھ ساتھ شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی شلمار کے ماہرین نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو مستقبل قریب میں اس پر پھر کنٹرول کرنا ناممکن بن جائے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.